Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 369

369 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ تَقُولُ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ فَقَرَّبَ أَمْرَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْجِنُ لِأَهْلِيَ الْعَجِينَ فَمَا أَظُنُّ أَنْ يَبْلُغَ حَتَّى يَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

سیدہ اسماء بنت یزید ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ہمیں دجال کے بارے میں بتایاتو آپ ﷺنے اس کے معاملے کو قریب کر کے ظاہر کیا۔ میں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! میں اپنے گھر والوں کے لیے آٹا گوندھ کے آئی ہوں اور مجھے یوں لگ رہا ہے کہ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی دجال نکل آئےگا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر وہ اس وقت ظاہر ہوا جب میں تمہارے ان کے درمیان موجود ہوا تو میں تمہاری طرف سے اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو میری جگہ الله تعالی ٰہر مسلمان کا نگہبان ہوگا۔

الدَّجَّالِ فَقَرَّبَ أَمْرَهُ، فَقُلْتُ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ تَقُولُ: ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّهُ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 369

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 370

370 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ» قُلْتُ: وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ؟ قَالَ «لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنِسُ، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ [ص:359] عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا وَيَرْزُقُهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَكْفُرَهَا، فَتَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ مَكَانَ يَوْمٍ بِخَيْرٍ قَطُّ»

سیدہ اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺمیرے پاس سے گزرے میں کچھ خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺنے ہمیں سلام کیا پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا :تم لوگ انعام دینے والوں کی ناشکری سے بچو۔ میں نے دریافت کیا: انعام دینے والوں کی ناشکری سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت بیوہ یا مطلقہ ہو جانے کے بعد ،یا شادی سے پہلے، ایک طویل عرصے تک اپنے ماں باپ کے ہاں رہتی ہے ،پھر الله تعالی ٰاسے شوہر عطا کر دیتا ہے اور الله تعالی ٰاس شوہر کی طرف سے اسے مال اور اولاد عطا کرتا ہے ،لیکن (کسی موقع )پر اس کو غصہ آجاتا ہے اور وہ اس کی ناشکری کرتی ہے اور یہ کہتی ہے: میں نے تمہاری طرف سے ایک بھی دن بھلائی کا کبھی نہیں دیکھا۔

«إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ» قُلْتُ: وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ؟ ← فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 370

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 371

371 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: أَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ فَقَرَّبَتْ إِلِيَّ قِنَاعًا فِيهِ تَمْرٌ أَوْ رُطَبٌ، فَقَالَتْ: كُلْ، فَقُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَصَاحَتْ بِي كُلْ فَإِنِّي أَنَا الَّتِي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَجْلَسْتُهَا عَنْ يَمِينِهِ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا وَطَأْطَأَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ، فَقُلْتُ: خُذِي مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْ فَشَرِبَتْ ثُمَّ قَالَ لَهَا «نَاوِلِي تِرْبَكِ» فَقُلْتُ: بَلْ أَنْتَ فَاشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ نَاوِلْنِي فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَأَدَرْتُ الْإِنَاءَ لِأَضَعَ فَمِي عَلَى مَوْضِعِ فِيهِ ثُمَّ قَالَ «أَعْطِي صَوَاحِبَاتِكِ» فَقُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا» قَالَتْ: فَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ: «أَتُحِبِّينَ أَنْ يُسْوِرَكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ» قَالَتْ: فَأَعْتَوْنَا عَلَيْهِ حَتَّى نَزَعْنَاهُ فَرَمَيْنَا بِهِ فَمَا نَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ؟ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ جُمَانًا مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تَأْخُذَ شَيْئًا مِنْ زَعْفَرَانَ فَتُدِيفَهُ ثُمَّ تُلَطِّخَهُ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ»

شہربن حوشب بیان کرتے ہیں: میں سیدہ اسماء بنت یزیدرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک تھال میری طرف بڑھایا جس میں خشک اور تاز ہ کجھوریں تھیں انہوں نے فرمایا تم کھاؤ! میں نے گزارش کی مجھے اس کی خواہش نہیں ہے ،تو انہوں بلند آوازمیں مجھ سے فرمایا:تم کھاو !میں نےگزارش کی مجھے اس کی خواہش نہیں ہے'تو انہوں نے بلند آواز میں مجھ سےفرمایا:تم کھاو !میں وہ عورت ہوں 'جس نے سیدہ عائشہ ؓکو (شادی کے موقع پر)نبی اکرم ﷺکے لیے تیار کیا تھا۔ میں سیدہ عائشہ ؓ کو ساتھ لے کر نبی اکرمﷺکے پاس آئی میں نے انہیں نبی اکرم ﷺکے دائیں طرف بٹھادیا پھرنبی اکرم ﷺکی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں دودھ موجودتھا نبی اکرم ﷺنے اسے پیا پھر آپ ﷺنے سیدہ عائشہ ؓکی طرف بڑھایا تو انہوں نے اپنا سر جھکا لیا اور وہ شرما گئیں۔ میں نے کہا: آپ نبی اکرم ﷺکے ہاتھ سے اسے حاصل کر لیں انہوں نے اسے لیا اور پی لیا پھر نبی اکرم ﷺنے ان سے فرمایا: تم اسے اپنی ہم عمرلڑ کیوں کی طرف بڑھادو۔ میں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! آپ ﷺاسے نوش فرمالیں پھر مجھے عطا کر دیئجے گا، تو نبی اکرم ﷺنے اسے پیاپھرآپ ﷺنے مجھے عطا کیا ،تو میں نے برتن کو گھمایا ،تاکہ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھوں جہاں نبی اکرم ﷺنے رکھا تھا۔ پھرنبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: تم اپنی سہیلیوں کو بھی دو۔ ان خواتین نے عرض کی :ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غلط بیانی اور بھوک کو جمع نہ کرو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے ان لڑکیوں میں سے ایک خاتون کے ہاتھ میں سونے کے کنگن دیکھے تو ارشاد فرمایا:کیاتم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالی ٰاس جگہ آگ سے بنے ہوئے کنگن تمہیں پہنائے؟وہ خاتون بیان کرتی ہیں'تو ہم نے اسے اتار دیا اور ایک طرف رکھ دیا، ہمیں نہیں معلوم کہ اب وہ کہاں ہوگا؟ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: کیا کسی عورت کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ چاندی کا بنا ہوادانہ حاصل کرے ،پھر تھوڑا سا زعفران لے اور وہ دانہ اس میں ملادے اور اسے اس میں لت پت کر دے تو وہ سونے کی مانند ہو جائے گا۔

الَّتِي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَجْلَسْتُهَا ← كُلْ، فَقُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَصَاحَتْ بِي كُلْ فَإِنِّي ← أَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ فَقَرَّبَتْ إِلِيَّ قِنَاعًا فِيهِ تَمْرٌ أَوْ رُطَبٌ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 371

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 372

372 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ: «فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنَا فَقَالَ: «إِنِّي لَا أُصَافِحُكُنَّ إِنَّمَا آخُذُ عَلَيْكُنَّ مَا أَخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»

شہربن حوشب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ اسماء بنت یزیدؓکو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں نے چند خواتین سمیت نبی اکرمﷺ کی بیعت کی آپﷺ نے ارشادفرمایا: جہاں تک تمہاری استطاعت اور طاقت ہوگی (تم ان احکام پر عمل کروگی) ہم نے عرض کی :یا رسول ﷺ !آپ ﷺہم سے بیعت لے لیں ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ مصافہ نہیں کروں گا۔ میں نے تم سے وہ عہد لیا ہے ،جو الله تعالی ٰنے لینا تھا(یا جس کا اللہ تعالی ٰنے حکم دیا تھا)

«فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ» فَقُلْنَا: ← أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نِسْوَةٍ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّهُ ← ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 372

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter