Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 830

830 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَشِبْلٍ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنْشِدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، وَكَانَ أَفْقَهُ مِنْهُ، فَقَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَإِيذَنْ لِي فَلْأَقُلْ، قَالَ: «قُلْ» : قَالَ أَنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرُتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» ، قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ، فَرَجَمَهَا [ص:57]. قَالَ سُفْيَانُ: «وَأُنَيْسٌ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ»

حضرت زید بن خالدجہنی ؓ، حضرت ابو ہریره ؓ اور حضرت شبل ؓ بیان کرتے ہیں۔ ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے۔ ایک شخص آپ ﷺکے سامنے کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی :یارسول اللہﷺ! میں آپ ﷺکو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ ہمارے درمیان الله تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ د ےگا اس کا مخالف فریق کھڑا ہوا وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا۔ اس نے عرض کی : جی ہاں یا رسول الله (ﷺ)! آپ ﷺہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دیجئے گا۔ لیکن آپ ﷺمجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیجئے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "تم بولو" اس نے عرض کی ۔ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا۔ اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا۔ مجھے یہ بتایا گیا ۔ کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا ،تو میں نے اس کے فدیے کے طور پر ایک سو بکریاں اور ایک خادم دیا۔ پھر میں نے اہل علم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کیا جائے گا اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا ،تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم دونوں کے درمیان الله تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ ایک سوبکریاں اور خادم تمہیں واپس کر دیئے جائیں گے تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اے انیس! تم اس عورت کے پاس جاؤ ،اگر وہ اعتراف کر لیتی ہے، توتم اسے سنگسار کر دینا۔“حضرت انیس ؓاس عورت کے پاس گئے۔ اس عورت نے اعتراف کیا تو انہوں نے اسے سنگسار کروادیا۔ سفیان کہتے ہیں۔ حضرت انیسؓ کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا۔

كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَشِبْلٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 830

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 831

831 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ [ص:58]، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَشِبْلٍ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ، فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ» يَعْنِي الْحَبْلَ مِنَ الشَّعْرِ

حضرت زید بن خالدؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت شبل ؓبیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے آپ ﷺسے ایسی کنیز کے بارے میں دریافت کیا گیا: جو محصنہ ہونے سے پہلے زناء کا ارتکاب کر لیتی ہے، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اگر کسی کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے تو تم اس سے کوڑے مارو۔ اگر وہ دوبارہ ایسا کرے تو پھر اسے کوڑے مارو۔ اگر وہ پھر ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو۔ (راوی کہتے ہیں:) تیسری مرتبہ یا شاید چوتھی مرتبہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: پھر تم اسے فروخت کر دو۔ خواہ ایک رسی کے عوض میں فروخت کرو‘‘ (امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: )روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ "ضفیر" سے مراد بالوں سے بنی ہوئی رسی ہے۔

النَّبِيُّ «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ، فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، ← الأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ ← كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فَسُئِلَ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ وَشِبْلٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ {ص:356}، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 831

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 832

832 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مَنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ فَذَلِكَ الَّذِي آمَنَ بِي، وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا [ص:59] مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ الَّذِي آمَنَ بِالْكَوْكَبِ، وَكَفَرَ بِي أَوْ كَفَرَ نِعْمَتِي ". قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ مَعْمَرٌ حَدَّثَنَا أَوَّلًا عَنْ صَالِحٍ، ثُمَّ سَمِعْنَاهُ مِنْ صَالِحٍ "

حضرت زید بن خالد جہنیؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺکے زمانہ اقدس میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوگئی۔ اگلے دن صبح نبی اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا:کیا تم جانتے ہو؟ تمہارے پروردگار نے گزشتہ رات کیا ارشاد فرمایا ہے؟ اس نے فرمایا ہے:"میں جب بھی اپنے بندوں کو کوئی نعمت عطا کرتا ہوں ،تو ان میں سے کچھ لوگ کافر ہوتے ہیں ،تو وہ کہتے ہیں: ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے لیکن جوشخص مجھ پر ایمان رکھتا ہے تو وہ میرے سیراب کرنے کی وجہ سے میری حمد بیان کرتا ہے ،تو یہ وہی ہے جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کا انکار کرتا ہے ،لیکن جو شخص یہ کہتا ہے ،فلاں، فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔ اور میرا انکار کرتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میری نعمت کا انکار کرتا ہے۔" سفیان کہتے ہیں:معمر نے یہ روایت پہلے صالح کے حوالے سےہمیں سنائی تھی۔ پھر ہم نے یہ روایت صالح کی زبانی سن لی۔

مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحُوا، ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 832

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 833

833 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي زِيدُ بْنُ خَالِدٍ أَمْ لَا، قَالَ: سَبَّ رَجُلٌ دِيكًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ»

عبید الله بن عبد الله بیان کرتے ہیں: (یہاں سفیان نامی راوی کہتے ہیں: مجھےیہ نہیں پتہ کہ انہوں نے یہ روایت حضرت زید بن خالد ؓکے حوالے سے بیان کی ہے یا کسی اور کے حوالے سے بیان کی ہے) وہ بیان کرتے ہیں ۔ ایک شخص نے نبی اکرمﷺکے سامنے مرغ کو برا کہا تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا:مرغ کو برانہ کہو۔ کیونکہ وہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔

النَّبِيُّ «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ» ← سَبَّ رَجُلٌ دِيكًا عِنْدَ النَّبِيِّ ← سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي زِيدُ بْنُ خَالِدٍ أَمْ لَا، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 833

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 834

834 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، فَمَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» ، فَنَظَرُوا فِي مَتَاعِهِ، فَوَجَدُوا فِيهِ خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ، لَا يَسْوَى دِرْهَمَيْنِ

حضرت زید بن خالد جہنی ؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ خیبر میں نبی اکرمﷺکے ساتھ موجود تھے۔ اشجع قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص فوت ہوگیا ،تو نبی اکرم ﷺنے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی ۔ آپ ﷺنے فرمایا:"تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو۔“ جب لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو انہیں اس کے سامان میں یہودیوں کا ایک ہار ملا جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں ہوگی۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي عَمْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 834

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 835

835 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْرِفْ عُفَاصَهَا وَوِعَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنِ اعْتُرِفَتْ وَإِلَا فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ» قَالَ: وَسَأَلهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: «لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ» وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، فَقَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا السِّقَاءُ وَالْحِذَاءُ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأَكُلُ الْكَلَأَ، حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا» قَالَ سُفْيَانُ: " فَبَلَغَنِي أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُسْنِدُهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: الْحَدِيثُ الَّذِي تُحَدِّثُهُ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ فِي اللُّقَطَةِ وَضَالَّةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ [ص:62] فَقَالَ: نَعَمْ، وَكُنْتُ أَكْرَهُهُ لِلرَّأْيِ، فَلِذَلِكَ لَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ وَلَوْلَا أَنَّهُ أَسْنَدَهُ، مَا سَأَلْتُهُ عَنْ إِسْنَادِهِ "

یزید مولیٰ منبعث بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپﷺسے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا: جو کہیں گری ہوئی ملتی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:"تم اس کی تھیلی کو اور اس کی تھیلی کے منہ پر باندھنے والی رسی کو پہچان لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اس کا اعتراف کرلیا جائے ،تو ٹھیک ہے ورنہ تم اسے اپنے مال میں شامل کرلو۔‘‘راوی کہتے ہیں:نبی اکرمﷺسے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا:تو آپﷺنے ارشادفرمایا:وہ یاتمہیں ملے گی، یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی، یا بھیٹر یے کو ملے گی"۔راوی کہتے ہیں:انہوں نے نبی اکرم ﷺسے گمشده اونٹ کے بارے میں دریافت کیا تو آپﷺغضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا۔ آپ ﷺنے فرمایا:تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ اس کا پیٹ اور اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ خودہی پانی تک پہنچ جائے گا اور گھاس کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔سفیان کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات پتہ چلی ہے ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نامی راوی اس روایت کو حضرت زید بن خالد ؓ کے حوالے سے مسند روایت کے طور پرنقل کرتے ہیں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے کہا: وہ حدیث جسے آپ یزید مولیٰ منبعث کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، جو گمشدہ چیز کے، گمشده اونٹ یا بکری کے بارے میں ہے ،تو کیا وہ حضرت زید بن خالد ؓکے حوالے سے نبی اکرم اﷺسے منقول ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔سفیان کہتے ہیں: میں ان کی رائے کی وجہ سے انہیں پسند نہیں کرتا تھا۔ اس لیے میں نے ان سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا ۔ اگر انہوں نے اس کی سند بیان نہ کی ہوتی ،تو میں ان سے اس سند کے بارے میں بھی دریافت نہ کرتا۔

يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 835

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 836

836 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو الْجُهَيْمِ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، مَا سَمِعْتَ فِي الَّذِي يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَأَنْ يَمْكُثُ أَحَدُكُمْ أَرْبَعِينَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي» [ص:63]، لَا يَدْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ سَاعَةً

بسر بن سعید بیان کرتے ہیں:ابوجہم نے مجھے بھیجا تا کہ میں حضرت زید بن خالدجہنی سے یہ دریافت کروں ۔ کہ آپ نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے بارے میں کیاحدیث سنی ہے تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"کسی ایک شخص کا چالیس تک ٹھہرے رہنا اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزر جائے۔ "تاہم یہ پتہ نہیں ہے، اس سے مراد چالیس سال ہیں، چالیس مہینے ہیں، چالیس دن ہیں ،یا چالیس گھڑیاں ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← فِي الَّذِي يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، ← أَرْسَلَنِي أَبُو الْجُهَيْمِ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، مَا ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 836

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 837

837 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، فَقَدْ غَزَا»

حضرت زید بن خالدجہنیؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جوشخص کسی غازی کو سامان فراہم کرے یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کا خیال رکھے تو اس نے بھی گویا جنگ میں حصہ لیا"۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 837

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter