Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 128

128 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُواجِهُهُ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى» قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: مَنْ أَبُو الْأَحْوَصِ؟ كَالْمُغْضَبِ عَلَيْهِ حِينَ حَدَّثَ عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ لَا يَعْرِفُهُ فَقَالَ لَهُ الزُّهْرِيُّ: أَمَا تَعْرِفُ الشَّيْخَ مَوْلَى بَنِي غِفَارٍ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِي الرَّوْضَةِ؟ وَجَعَلَ يَصِفُهُ لَهُ وَسَعْدٌ لَا يَعْرِفُهُ

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو،تو رحمت اس کے مد مقابل ہوتی ہے ، تو وہ کنکریوں پر ہا تھ نہ پھیرے"سفیان کہتے ہیں :سعد بن ابراہیم نے ان سے دریافت کیا: ابو الاحوص کون ہیں؟ گویا سعد نے زہری پر ناراضگی کا اظہار کیا، کہ انہوں نے ایک مجہول شخص کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے ،جس سے وہ واقف نہیں ہیں، تو زہری نے ان سے کہا: کیا آپ بنو غفار کے اس عمر رسیدہ غلام سےواقف نہیں ہیں؟جو باغ میں نماز ادا کیا کرتا تھا، تو زہری اس کا تعارف بیان کرتے رہے ، لیکن سعد بن ابراہیم اس کو نہیں پہچان سکے۔

أَبَا ذَرٍّ ← أَنَّهُ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 128

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 129

129 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ جُعْدُبَةَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مِخْرَاقٍ يَحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ فِي الْجَنَّةِ رِيحًا بَعْدَ الرِّيحِ تِسْعَ سِنِينَ، وَإِنَّ مِنْ دُونِهَا بَابًا مُغْلَقًا، وَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الرِّيحُ مِنْ خَلَلِ ذَلِكَ الْبَابِ وَلَوْ فُتِحَ لَأَذْرَتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ وَهِيَ عِنْدَ اللَّهِ الْأَزْيَبُ وَهِيَ فِيكُمُ الْجَنُوبُ»

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "بے شک الله تعالی نے جنت میں ہوا کو پیدا کرنے کے سات سال بعد جنت میں ایک بو پیدا کی ہے اس کے آگے ایک بند دروازہ ہے یہ ہو اتمہارے پاس اس دروازے میں موجود دروازے کے درمیان میں موجود کشادہ جگہ سے آتی ہے۔ اگر اس دروازے کو کھول دیا جائے ،تویہ ہوا آسمان اور زمین میں موجود ہر چیزتک پہنچ جائے۔ الله تعالی کی بارگاہ میں یہ ازیب یعنی (تیزی سے چلنے والی ہوا) ہے۔تمہارے درمیان (یہ جنوب سے آنے والی ہواہے)" ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← يَزِيدُ بْنُ جُعْدُبَةَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 129

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 130

130 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ هَلْ رَأَيْتَ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيَّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كَانَ يَنْزِلُ عَلَيْنَا فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»

عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سنا :میں نبی اکرمﷺکے پیچھے چلتا ہو اجا رہا تھا آپ ﷺنے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! کیا میں تمہار ی رہنمائی جنت کے خزانے کی طرف نہ کروں؟ میں نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)جی ہاں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا:وہ یہ ہے۔ لا حول ولا قوة إلا بالله . "الله تعالی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا"۔

كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ رَسُولِ اللهِ ← أَبَا ذَرٍّ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← نَعَمْ ← مِنْهُ شَيْئًا. ← نَعَمْ، كَانَ يَنْزِلُ عَلَيْنَا فَقُلْتُ: هَلْ ← قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ هَلْ رَأَيْتَ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيَّ؟ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 130

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 131

131 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانُ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ» [ص:225] قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَغْلَاهَا أَثْمَانًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا» قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَقْدِرْ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: «فَتُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ «فَتَكُفُّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةُ تَصَّدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ»

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟آپ ﷺنے فرمایا: الله تعالی پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی :کون ساغلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: جس کی قیمت زیادہ ہو جو اپنے مالک کے نزدیک عمدہ ہو۔ میں نے عرض کی :اگر میں اس کی قدرت نہ رکھوں۔ آپﷺ نے فرمایا: پھرتم کسی کام کرنے والے کی مددکر د یا کسی جاہل یا(اپاہج) کے لیے کوئی کام کر دو۔ میں نے عرض کی: اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھوں۔ آپ ﷺنے فرمایا: پھرتم لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے بچو،کیونکہ یہ صدقہ ہے، جوتم اپنے آپ پرکروگے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← اَبِیُ مُرَاوِحِ الْغِفَارِیِّ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 131

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 132

132 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُرَقَّعِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «إِنَّمَا كَانَ فَسْخُ الْحَجِّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا خَاصَّةً»

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺکی طرف سے حج کو فسخ کرنے کا حکم ہمارے لیے مخصوص تھا۔

«إِنَّمَا كَانَ فَسْخُ الْحَجِّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ لَنَا خَاصَّةً» ← اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمُرَقَّعِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 132

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 133

133 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَبَقَ أَهْلُ الْأَمْوَالِ الدَّثْرِ بِالْأَجْرِ يَقُولُونَ كَمَا نَقُولُ، وَيُنْفِقُونَ وَلَا نُنْفِقُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَدْرَكْتَ مَنْ قَبْلَكَ وَفُتُّ مَنْ بَعْدَكَ، إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ قَوْلِكَ تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ، وَعِنْدَ مَنَامِكَ مِثْلُ ذَلِكَ

حضرت ابوذر غفاری ؓبیان کرتے ہیں : میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ﷺ)!مالدارلوگ اجر حاصل کرنے میں سبقت لے گئے ہیں وہ اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں لیکن وہ خرچ کرتے ہیں اورہم خرچ نہیں کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:کیا میں تمہاری رہنمائی ایسےعمل کی طرف نہ کروں کہ جب تم اسے پڑھ لو گے تو تم اپنے سے آگے والےتک پہنچ جاؤ گے۔اور اپنے سے پیچھے والے سے آگے نکل جاؤ گے، ماسوائے اس شخص کے جوتمہارے اس پڑھنے کی مانند پڑھ لے۔ تم ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ ، 33 مرتبہ الحمد لله، اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ حمیدی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں :سفیان نے یہ بات بیان کی ہے ان میں سے ایک کلمہ 34 مرتبہ ہے۔ (نبی اکرمﷺ نے یا شاید راوی نے یہ بات بیان کی ہے )تم نے سوتے وقت بھی اسی کی مانند عمل کرنا ہے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← بِشْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 133

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 134

134 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كُنُتُ أَمْشِي مَعَ أَبِي فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى» قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ سَنَةً» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ حَيْثُ أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَإِنَّ الْأَرْضَ كُلَّهَا مَسْجِدٌ»

ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ جارہاتھا انہوں نے سجدے سے متعلق آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا پر انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت ابوذر غفاری ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! روئے زمین پر کون سی مسجد سب سے پہلے بنائی گئی تھی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مسجد حرام۔ میں نے عرض کی : پھر کون سی؟ نبی اکرمﷺ نےفرمایا مسجداقصٰی۔ میں نے دریافت کیا :ان دونوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چالیس سال کا۔ میں نے عرض کی: پھر کون سی؟ آپ ﷺنے فرمایا: پھر نہیں جہاں نماز کا وقت آجائے تم نماز ادا کرو کیونکہ تمام روئے زمین نماز ادا کرنے کی جگہ ہے۔

قُلْتُ ← أَبَا ذَرٍّ ← كُنُتُ أَمْشِي مَعَ أَبِي فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ ثُمَّ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 134

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 135

135 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُرَقَّعِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا كَانَ فَسْخُ الْحَجِّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا خَاصَّةً»

حضرت ابو ذر غفاری ؓفرماتے ہیں نبی اکرمﷺ کی طرف سےحج کو فسخ کرنے کاحکم مخصوص تھا۔

«إِنَّمَا كَانَ فَسْخُ الْحَجِّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ لَنَا خَاصَّةً» ← أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ ← الْمُرَقَّعِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 135

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 136

136 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، وَحَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، سَمِعَاهُ مِنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ أَخْوَالِهِ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالَ لَهُ ابْنُ الْحَوْتَكِيَّةِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ حَاضَرَنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ إِذْ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: أَنَا أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُهَا تَدْمَا قَالَ «فَكَفَّ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا» وَاعْتَزَلَ الْأَعْرَابِيُّ فَلَمْ يَطْعَمُ فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا صَوْمُكَ؟» قَالَ ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَالَ: «أَيْنَ أَنْتَ عَنِ الْبِيضِ الْغُرِّ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ»

ابن حوتکیہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓنے فرمایا:”قاحہ" (ایک مخصوص وادی کا نام ہے) کے دن کون ہمارے ساتھ موجودتھا؟ جب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں خرگوش پیش کیا گیا تھا تو حضرت ابوذرغفاری ؓ نے جواب دیا: میں ۔ ایک دیہاتی نبی اکرم ا کے پاس خرگوش لے کر آیا اس نے عرض کی یارسول الله(ﷺ)! میں نے اسے دیکھا ہے کہ اس کا خون نکلتا ہے (یعنی اسے حیض آتا ہے) راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم نے اس سے ہاتھ روک لیا آپ نے اسےا نہیں کھایا اور اپنے اصحاب کو یہ ہدایت کی کہ وہ اسے کھالیں وہ دیہاتی بھی پیچھے ہٹ گیا اس نے بھی نہیں کھایا ۔ اس نے عرض کی: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا تم کس حساب سے روزہ رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: ہر مہینے میں تین دن ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم چمکدار دنوں میں روزہ کیوں نہیں رکھتے؟ تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔

أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ بِأَرْنَبٍ ← أَبُو ذَرٍّ ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ حَاضَرَنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ إِذْ أُتِيَ النَّبِيُّ بِأَرْنَبٍ ← رَجُلًا مِنْ أَخْوَالِهِ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالَ لَهُ ابْنُ الْحَوْتَكِيَّةِ ← حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، سَمِعَاهُ مِنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 136

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 137

137 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ الْحَوْتَكِيَّةِ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں ابن حوتکیہ کا تذکرہ نہیں ہے۔

النَّبِيِّ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ الْحَوْتَكِيَّةِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 137

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 138

138 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدَ بْنَ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ [ص:228]، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اغْتَسَلَ فَأَحْسَنَ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَوْ تَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ، ثُمَّ لَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ، ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ»

حضرت ابوذر غفاریؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے:۔ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتے ہوئے اچھی طرح غسل کرے(رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) طہارت حاصل کرتے ہوئے اچھی طرح طہارت حاصل کرے (یا اچھی طرح وضوکرے) پھر عمدہ کپڑے پہن کر جو الله تعالی نے اس کے نصیب میں لکھا ہو وہ اپنے گھر میں موجود عمدہ خوشبو استعمال کر کے جمعہ کے لیے جائےاور دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ ڈالے تو اس شخص کے دوجمعوں کے درمیان اور مزید تین دن (یعنی دس دنوں کے) گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے"۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ [ص:228]، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ أُرَاهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 138

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 139

139 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ قَالَ: ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا طَبَخْتَ فَأَكْثِرِ الْمَرَقَةَ، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ أَوِ اقْسِمْ فِي جِيرَانِكَ»

حضرت ابوذر غفاری ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا:اے ابوذر!جب تم سالن پاکاؤ تو شور بہ زیا دہ بنالیا کرو اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھا کرو۔ (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے پڑوسی کو بھی کچھ دے دیا کرو۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 139

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter