Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1284

1284 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ، قَالَ: «فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ» ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ،

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺعبداللہ بن اُبی بن سلول ( کی میت) کے پاس تشریف لائے ،اس وقت جب اسے قبر میں رکھا جا چکا تھا۔ نبی اکرم ﷺکے حکم کے تحت اسے باہر نکالا گیا اور اس کی میت کو آپ ﷺکے گھٹنوں پر رکھا گیا نبی اکرم ﷺنے اپنی قمیص اسے پہنوائی اور اس پر اپنا لعاب دہن ڈالا ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1284

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1285

1285 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو هَارُونَ مُوسَى بْنُ أَبِي عِيسَى، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبَيٍّ، وَكَانَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَانِ: أَلْبِسْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقَمِيصَ الَّذِي يَلِي جِلْدَكَ

ابو ہارون کہتے ہیں :عبد الله بن اُبی کے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ نے نبی اکرم ﷺسے یہ گزارش کی: نبی اکرم ﷺنے اس وقت دوقمیصیں پہنی ہوئی تھیں، اس نے عرض کی تھی: یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺو ہ قمیص اسے پہنا دیجئے جو آپ ﷺکے جسم کے ساتھ مس ہورہی ہے۔

أَبُو هَارُونَ مُوسَى بْنُ أَبِي عِيسَى، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1285

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1286

1286 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ، أَيْنَ أَنَا؟ [ص:334] قَالَ: «فِي الْجَنَّةِ» ، قَالَ: فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ

حضرت جابر بن عبد اللهؓ بیان کرتے ہیں :غزوہ احد کے دن ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺکی کیا رائے ہے؟ اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کرتے ہوئے مارا جاتا ہوں ،تو میں کہاں جاؤں گا؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:جنت میں ۔ راوی کہتے ہیں:اس شخص نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجور یں ایک طرف رکھیں اور پھر جنگ میں حصہ لیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1286

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1287

1287 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ؟ إنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: فَائْذَنْ لِي، قَالَ: «فَأَذِنَ لَهُ» ، فَأَتَى مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ كَعْبًا، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ طَلَبَ مِنَّا صَدَقَةً، وَقَدْ عَنَّانَا، وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَقْرِضُكُ، فَقَالَ: وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلَّنَّهُ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةُ: إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ، فَنَكْرَهُ أَنْ نَتْرُكَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ، فَقَالَ: أَرْهِنُونِي، قَالَ: أَيَّ شَيْءٍ أُرْهِنُكَ؟ [ص:335] قَالَ: أَرْهِنُونِي أَبْنَاءَكُمْ، فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدٌ: يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، يُقَالُ لَهُ: رَهِينَةٌ وَسَقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَنِسَاءَكُمْ، قَالَ: أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ، فَنُرْهِنُكَ نِسَاءَنَا، وَلَكِنْ نُرْهِنُكَ اللَّأَمَةَ، قَالَ: نَعَمْ، فَوَاعَدَهُ أَنْ يَجِيئَهُ، قَالَ: وَكَانُوا أَرْبَعَةً، سَمَّى عَمْرٌو اثْنَيْنِ: مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَأَبَا نَائِلَةَ، فَأَتَوْهُ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ يَنْفُحُ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا كَاللَّيْلَةِ رِيحًا أَطْيَبَ، فَقَالَ: عِنْدِي فُلَانَةُ أَعْطَرُ الْعَرَبِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: ائْذَنْ لِي أَنْ أَشُمَّ؟ قَالَ: شُمَّ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَعُودَ، قَالَ: فَعَادَ، فَتَشَبَّثَ بِرَأْسِهِ، وَقَالَ: اضْرِبُوهُ، فَضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ

حضرت جابر بن عبداللہؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے: کون شخص كعب بن الاشرف سے میری جان چھڑائے گا ؟ وہ الله اور اس کے رسول ﷺکو اذیت دیتا ہے، تو حضرت محمد بن مسلمہ ؓنے عرض کی: یا رسول الله (ﷺ)! کیا آپ ﷺیہ پسند کریں گے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا: جی ہاں ۔ انہوں نے عرض کی : پھرآپﷺ مجھے اجازت دیجئے ،تو نبی اکرمﷺنے اسے اجازت دے دی ۔ حضرت محمد بن مسلمہ ؓکعب بن الاشرف کے پاس آئے اور بولے:یہ صاحب (یعنی نبی اکرم ﷺ) ہم سے صدقہ بھی طلب کررہے ہیں، انہوں نے تو ہمیں مشقت کا شکار کر دیا ہے ،میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں ،تا کہ تم سے کچھ قرضہ حاصل کروں ،تو کعب بولا:اللہ کی قسم!تم ضرور ان سے اکتا جاؤ گے تو محمد بن مسلمہؓ بولے:ہم ان کی پیروی کر چکے ہیں اورہمیں یہ اچھا نہیں لگتا کہ ہم انہیں چھوڑ دیں ابھی ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں، آگے چل کر ان کی کیا صورتحال ہوتی ہے۔ کعب نے کہا:تم میرے پاس کوئی چیز رہن کے طور پر رکھواؤ ! محمد بن سلمہؓ نے دریافت کیا: میں کون سی چیز تمہارے پاس رہن کے طور پر کھواؤں ۔ کعب نے کہا تم اپنے بیٹوں کو میرے پاس رہن رکھوادو ! تو محمد بن مسلمہؓ نے اس سے کہا:کوئی شخص ہم میں سے کسی کے بچے کو گالی دیتے ہوئے کہے گا کھجور کے دووسق کے عوض میں اسے رہن رکھوا دیا گیا تھا۔ کعب نے کہا: پھر اپنی عورتوں کو(رہن رکھوادو) تو محمد بن مسلمہؓ نے کہا: تم عرب کے خوبصورت ترین آدمی ہو، تو کیا ہم اپنی عورتیں تمہارے پاس رہن رکھوا دیں؟ البتہ ہم اپنا اسلحہ (زر ہیں) تمہارے پاس رہن رکھوا دیتے ہیں ۔ کعب بولا:ٹھیک ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے اس کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس آئیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ چار افراد تھے جن میں سے دو کے نام عمرونے بیان کیے ہیں ایک حضرت محمد بن مسلمہؓ تھے اور دوسرے حضرت ابو نائلہؓ تھے۔ یہ چار حضرات کعب بن اشرف کے پاس آئے وہ اس وقت چادر اوڑھے ہوئے تھا، جس میں سے پاکیزہ خوشبو پھوٹ رہی تھی ان حضرات نے کہا:ہم نے آج جیسی پاکیزہ خوشبوبھی نہیں سونگھی ۔ وہ بولا: میری بیوی فلاں عورت ہے ،جو عرب کی سب سے معطر عورت ہے ،تو محمد بن مسلمہؓ نے کہا:تم مجھے اجازت دو کہ میں اس خوشبو سونگھ لوں ،تو اس نے کہا تم سونگھ لو ! پھر حضرت محمد بن مسلمہؓ نے کہا: تم مجھے دوبارہ اجازت دو کہ میں دوبارہ اسے سونگھوں ۔ راوی کہتے ہیں: جب حضرت محمد بن مسلمہؓ کو دوبارہ اس کے قریب ہوئے ،تو انہوں نے اس کا سر پکڑ لیا اور بولے : اس کو مارو! ان حضرات نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1287

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1288

1288 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الْعَسِّيُّ، - قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: كَذَا فِي كِتَابِي الْعَسِّيُّ، وَفِي أُصُولٍ عِنْدِي الْعَبْسِيُّ، وَاللَّهُ وَلِيُّ التَّوْفِيقِ - عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ [ص:336]: قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: إِنِّي لَأَسْمَعُ صَوْتًا أَجِدُ مِنْهُ رِيحَ الدَّمِ، قَالَ: «إِنَّمَا هُوَ أَبُو نَائِلَةَ أَخِي، لَوْ وَجَدَنِي نَائِمًا مَا أَيْقَظَنِي، وَإِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ لَأَجَابَهَا، وَسَمَّى الَّذِينَ أَتَوْهُ مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ، وَأَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاذٍ»

عکرمہ نامی راوی نے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: کعب بن اشرف کی بیوی نے اسے کہا: میں نے ایک ایسی آواز سنی ہے ،جس میں سے مجھے خون کی بومحسوس ہورہی ہے ،تو کعب بن اشرف بولا: یہ تو ابونائلہ ہے ،جو میرا بھائی ہے اگر وہ مجھے سویا ہو پاتا تو مجھے بیدار نہ کرتا اور معزز آدمی کو زخمی کرنے کے لیے بھی بلایا جائے، تو وہ ضرور جاتا ہے۔ راوی نے ان حضرات کے نام بیان کیے ہیں جو یہ ہیں ۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ، حضرت ابونائلہؓ، حضرت عباد بن بشرؓ، حضرت ابوعبس بن جبرؓ اور حضرت حارث بن معاذ ؓ۔

الْعَسِّيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1288

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1289

1289 - حَدَّثَنَا بِشْرٌ قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَرَّ بِأَسْهُمٍ فِي الْمَسْجِدِ: «أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا؟» قَالَ: نَعَمْ

سفیان کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے دریافت کیا: کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے اس شخص سےیہ فرمایا تھا: جومسجد میں اپنے تیر لے کر گزر رہا تھا کہ تم اسے دھار کی طرف سے پکڑ کر رکھو،تو انہوں نے جواب دیا:جی ہاں۔

قُلْتُ لِعَمْرِو بْنَ دِينَارٍ: أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرٌ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1289

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1290

1290 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «فِينَا نَزَلَتْ بَنِي حَارِثَةَ وَبَنِي سَلِمَةَ» {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا} [آل عمران: 122] ، «وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلُ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» : {وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا} [آل عمران: 122]

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: یہ آیت ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنوسلمہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔"جب تم میں سے دو گروہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ بزدلی دکھائیں۔‘‘حضرت جابر ؓکہتے ہیں: مجھے یہ بات پسندنہیں ہے، یہ آیت نازل نہ ہوئی ہوتی کیونکہ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:"اللہ تعالیٰ ان دونوں گروہوں کا ولی (حامی و مددگار) ہے"۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1290

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1291

1291 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: «أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ»

حضرت جابر بن عبد الله ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھلایا ہے اور آپ ﷺنے ہمیں گدھوں کے گوشت سے منع کیا ہے۔

لُحُومِ الْحُمُرِ» ← جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: «أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1291

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1292

1292 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ» قَالَ سُفْيَانُ: " وَكُلُّ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ لَنَا فِيهِ سَمِعْتُ جَابِرًا إِلَّا هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ، يَعْنِي لُحُومَ الْخَيْلِ وَالْمُخَابَرَةَ، فَلَا أَدْرِي [ص:339] بَيْنَهُ وَبَيْنَ جَابِرٍ فِيهِمَا أَحَدٌ أَمْ لَا، وَأَمَّا حَدِيثُ الْأَسْهُمِ فَإِنِّي أَنَا قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ جَابِرًا عَلَى مَا حَدَّثْتُكُمْ "

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے "مخابره"سے منع کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار کے حوالے سے جو بھی روایت سنی اس میں انہوں نے یہی کہا: میں نے حضرت جابر ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ،البتہ ان دو روایات کا حکم مختلف ہے۔ یعنی گھوڑوں کے گوشت والی روایت اور مخابره والی روایت، مجھے نہیں معلوم کہ آیا ان دونوں روایات میں عمرو بن دینار اور حضرت جابرؓ کے درمیان کوئی اور راوی ہے یانہیں؟ جہاں تک تیروں والی روایت کا تعلق ہے ،تو میں نے ان سے کہا:کیا آپ نے حضرت جابر ؓکو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ (انہوں نے جواب دیا: اسی طرح جس طرح میں تمہیں یہ حدیث سنارہا ہوں۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1292

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1293

1293 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ طَارِقًا كَانَ أَمِيرًا بِالْمَدِينَةِ «فَقَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ» ، عَنْ قَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سلیمان بن سیار بیان کرتے ہیں: طارق نامی صاحب مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللهؓ کی نقل کردہ حدیث کی بنیاد پر" عمری ٰ"کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ وارث کو ملے گی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← قَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ طَارِقًا كَانَ أَمِيرًا بِالْمَدِينَةِ «فَقَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ» ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1293

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1294

1294 - قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كُنَّا نَعْزِلُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ»

حضرت جابر بن عبد الله ؓ بیان کرتے ہیں:ہم لوگ عزل کرلیا کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺہمارے درمیان موجود تھے اور قرآن نازل ہوتا رہا (لیکن ہمیں اس عمل سے منع نہیں کیا گیا)۔

«كُنَّا نَعْزِلُ، وَرَسُولُ اللَّهِ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ» ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1294

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1295

1295 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ [ص:340]، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخِي بَنِي سَلِمَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارِيَةً، وَأنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا قَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» ، قَالَ: فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَشَعُرْتَ أَنَّ تِلْكَ الْجَارِيَةَ حَمَلَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓبیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میری ایک کنیز ہے میں اس سے عزل کر لیتا ہوں؟ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: یہ عمل اس چیز کو واپس نہیں کر سکتا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دے دیا ہو۔حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: وہ شخص چلا گیا کچھ عرصے کے بعد وہ دوبارہ نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یارسول اللہ (ﷺ)! مجھے یہ پتہ چلا ہے وہ کنیز حاملہ ہوگئی ہے نبی اکرمﷺنے فرمایا:میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ﷺہوں۔

عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ [ص:340]، ← سعيد بن حسان ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1295

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter