مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 918
918 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأَتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَنْ كَتَمَنَا خَيْطًا أَوْ مِخْيَطًا فَمَا سِوَاهُ، فَهُوَ غُلُولٌ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ قَصِيرٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ مِنِّي عَمَلَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا ذَاكَ؟» ، قَالَ: الَّذِي قُلتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا أَقُولُ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى»
و حضرت عدی بن عمیرہ کندیؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "اے لوگو! تم میں سے جس شخص کو ہم کسی کام کے لیے اہلکار مقرر کریں تو وہ تھوڑی یازیادہ جو چیز بھی ہو اسے لے کر آئے۔ جوشخص دھاگے یا سوئی یا اس کے علاوہ جس چیز کوبھی ہم سے چھپائے گا تویہ خیانت ہوگی، جسےساتھ لے کر وہ قیامت کے دن آئے گا"۔ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک سیاہ فام چھوٹے قد کا ایک شخص کھڑا ہوا، وہ منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ اس نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! آپ ﷺنے مجھے جس کام کے لیے اہلکار مقرر کیا تھا میں اس سے دست بردار ہوتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے عرض کی آپ ﷺنے جویہ فرمایا ہے ،اس کی وجہ سے ،تو نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا: میں اب بھی یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم تم میں سے جس کسی کو جس کام کے لیے اہلکار مقرر کریں، تو وہ تھوڑی یا زیادہ(ہر) چیز کو لے آئے۔ جواسے دیا جائے اسے حاصل کر لے اور جس سے اسے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔
رَسُولِ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ ← قَيْسًا ← إِسْمَاعِيلُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،
Hadith 918
