Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 367

367 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَدِمَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْكُوفَةَ عَلَى أَخِيهَا الضَّحَاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَ عَامِلًا عَلَيْهَا، فَأَتَيْنَاهَا فَسَأَلْنَاهَا، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، وَخَرَجَ إِلَى الْيَمَنِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ وَطَلَبْتُ النَّفَقَةَ فَقَالَ بِكُمِّهِ هَكَذَا وَاسْتَتَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ، وَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ كُمَّهُ فَوْقَ رَأْسِهِ، «اسْمَعِي مِنِّي يَا بِنْتَ آلِ قَيْسٍ، إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَلَا سُكْنَى لَهَا وَلَا نَفَقَةَ» ثُمَّ قَالَ لِي: «اعْتَدِّي عِنْدَ أُمِّ شَرِيكٍ بِنْتِ أَبِي الْعَكَرِ» ثُمَّ قَالَ: «تِلْكَ امْرَأَةٌ يُتَحَدَّثُ عِنْدَهَا، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ فَتَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَلَا يَرَاكِ»

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ بنت قیس ؓ کوفہ تشریف لائیں وہ اپنے بھائی ضحاک بن قیس کے ہاں آئی تھیں جو وہاں کے گورنر تھے ،تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے اس خاتون سے سوال کیا ،تو انہوں نے بتایا: میں عمرو بن حفص کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق دی تو طلاق بتہ دے دی ورخودیمن چلے گئے میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضرہوئی میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺسے کیا اور خرچ کا مطالبہ کیا تو نبی اکرم ﷺنے اپنی آستین کو اس طرح کرتے ہوئےفرمایا۔ نبی اکرم ﷺنے اس خاتون سے پردہ کیا تھا۔ امام حمیدی ؒ نے اپنی آستین اپنے سر پر بلند کر کے (یہ کر کے دکھایا) (نبی اکرمﷺنے فرمایا:) اے قیس کی اولاد! کی صاحبزادی ۔ رہائش اور خرچ کا حق اس عورت کو ملتا ہے، جب اس کے شوہر کو اس سے رجوع کرنے کا حق ہو ،لیکن جب شوہر کے لیے اس سے رجوع کرنے کا حق نہ ہو، تو عورت کو رہائش اور خر چ کا حق نہیں ملے گا۔پھر نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا: تم ام شریک بنت ابوالعکر ؓکے ہاں عدت بسرکرو۔ پھر نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: وہ ایک ایسی عورت ہے ،جس کے ہاں لوگوں کی آمد ورفت رہتی ہے تو ابن ام مکتوم کے ہاں عد ت بسر کرو ،کیونکہ وہ ایک نا بیناشخص ہے۔اگرتم اپنی چادر اتار دوگی، تو بھی وہ تمہیں دیکھ نہیں سکے گا۔

الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 367

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 368

368 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَدِمَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةُ الْكُوفَةَ عَلَى أَخِيهَا الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَ قَدِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْهَا فَأَتَيْنَاهَا نَسْأَلُهَا فَقَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَخْطُبْكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَكِنْ لِحَدِيثٍ حَدَّثَنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ مَنَعَنِي سُرُورُهُ الْقَايِلَةَ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ عَنْ بَنِي عَمٍّ لَهُ أَنَّهُمْ أَقْبَلُوا فِي الْبَحْرِ مِنْ نَاحِيَةِ الشَّامِ فَأَصَابَتْهُمْ فِيهِ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَلْجَأَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ فَإِذَا هُمْ فِيهَا بِدَابَّةٍ أَهْدَبَ الْقُبَالِ ? فَقُلْنَا: مَا أَنْتِ يَا دَابَّةُ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ فَقُلْنَا: أَخْبِرِينَا، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلَا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ شَيْئًا، وَلَكِنْ فِي هَذَا الدَّيْرِ رَجُلٌ بِالْأَشْوَاقِ إِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَتُخْبِرُونَهُ، فَدَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ أَعْوَرَ مَوْثُوقٍ بِالسَّلَاسِلِ يُظْهِرُ الْحُزْنَ كَثِيرَ التَّشَكِّي، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: أَفَاتَّبَعْتُمْ، فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قُلْنَا عَلَى حَالِهَا تَسْقِي أَهْلَهَا مِنْ مَائِهَا وَتَسْقِي زَرْعَهُمْ [ص:357]، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عَمَّانَ وَبَيْسَانَ؟ فَقَالُوا: يُطْعِمُ جَنَاهُ كُلَّ عَامٍ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ قَالُوا: يَشْرَبُ مِنْهَا أَهْلُهَا، وَيَسْقُونَ مِنْهَا مَزَارِعَهُمْ قَالَ: فَلَوْ يَبِسَتْ هَذِهِ أَنْفَلِتُ مِنْ وَثَاقِي هَذَا فَلَمْ أَدَعْ بِقَدَمَيَّ هَاتَيْنِ مَنْهَلًا إِلَّا وَطِئْتُهُ إِلَّا الْمَدِينَةَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِلَى هَذَا انْتَهَى سُرُورِي» ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْهَا شُعْبَةٌ إِلَّا وَعَلَيْهَا مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ يَرُدُّهُ مِنْ أَنْ يَدْخُلَهَا» قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَلَقِيتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ «وَمَكَّةَ» وَقَالَ: مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ قَالَ الشَّعْبِيُّ فَلَقِيتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیده فاطمہ بنت قیںؓ کوفہ میں اپنے بھائی حضرت ضحاک بن قیس ؓکے ہاں تشریف لائیں جنہیں وہاں کا گورنر بنایا گیا تھا۔ تو ہم اس خاتون کی خدمت میں ان سے دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے اس خاتون نے بتایا:نبی اکرم ﷺنے عین دوپہر کے وقت ہمیں خطبہ دیا۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں کسی چیز کی رغبت دلانے کے لیے یا کسی چیز سے ڈرانے کے لیے خطبہ نہیں دیا بلکہ ایک واقعے کی وجہ سے میں تمہیں خطبہ دے رہا ہوں جو تمیم داری نے مجھے بتایا ہے۔ اور اس خوشی کی وجہ سے میں نے دوپہر کو آرام نہیں کیا۔ تمیم داری نے اپنے چچازاد کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ وہ لوگ سمندر میں سفر کرتے ہوئے شام کی طرف جارہے تھے۔ اسی دوران تیز ہو ا چلنے لگی ، تو ان لوگوں نے سمندر میں موجود ایک جزیرے میں پناہ لی تو وہاں ایک جانور تھا جس کی بھنویں لمبی تھیں ہم نے کہا: اے جانور !تم کیا چیز ہواس نے جواب دیا: میں جثاثہ ہوں ہم نے کہا :تم ہم کو کچھ بتاؤ۔ اس نے کہا: نہ تو میں تمہیں کچھ بتاو ں گی اور نہ ہی میں تم سے کچھ معلوم کرنا چاہتی ہوں۔تاہم اس عبادت گاہ میں ایک شخص ہے ،جو اس بات کا مشتاق ہے کہ وہ تمہیں کچھ بتائے اورتم اسے کچھ بتاؤ۔(وہ صاحب کہتے ہیں)ہم اس عبادت گاہ میں داخل ہوئے ،تو وہاں ایک کا ناشخص موجودتھا جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، اورغم کا اظہار کر رہا تھا وہ شکایت بکثرت کر رہا تھا، جب اس نے ہمیں دیکھا تو بولا: کیا تم لوگوں نے نبی اکرم ﷺکی پیروی کر لی ہے؟ ہم نے اسے اس بارے میں بتایا۔اس نے دریافت کیا: بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: وہ اپنی اصل حالت میں ہے اس کے آس پاس کے لوگ اس کےپانی سے سیراب ہوتے ہیں اور اپنے کھیتوں کوبھی سیراب کرتے ہیں۔اس نے دریافت کیا: عمان اور بیسان کے درمیان موجود کھجوروں کے باغ کا کیا حال ہے؟ تو ان لوگوں نے بتایا:وہ ہر سال اپنا پھل دیتے ہیں اس نے دریافت کیا: "زرع‘‘ کے چشمے کا کیا حال ہے؟لوگوں نے کہا: وہاں کے لوگ اس کا پانی پیتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ تو وہ بولا : اگر یہ خشک ہو جائے ،تو میں اپنی ان زنجیروں سے آزاد ہو جاؤں گا اور پھر میں پوری روئے زمین کو اپنے قدموں تلے رونددوں گاصرف مدینہ میں نہیں جاسکوں گا۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: "اس بات پر میں بہت خوش ہواہوں"۔ پھر آپﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم !جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہاں (یعنی مدینہ منورہ) کے ہر ایک راستے پر ایک فرشتہ تلوار سونت کر کھڑا ہوا ہے، جو اس (دجال)کو اس میں داخل ہونے سے روک دے گا۔ امام شعبی یہ کہتے ہیں: بعد میں میری ملاقات حضرت ابو ہریرہ ؓ کے صاحبزادے محرر سے ہوئی تو انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکے حوالے سےیہی حدیث مجھے سنائی تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ ز ائد نقل کیے (کہ وہ مکہ میں بھی داخل نہیں ہو سکےگا) انہوں نے یہ بات بھی بیان کی یہ مشرق کی سمت سے ہو گا اور وہ کیا ہے ،جومشرق کی سمت سے ہوگا وہ کیا ہے؟ امام شعبی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی تو انہوں نے سیدہ عائشہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺسے اسی کی مانند روایت نقل کی۔

الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 368

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter