Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 464

464 - أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرْ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْمُؤَدِّبُ قِرَاءَةُ عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ مِنْ سَنَةِ تِسْعٍ وَعِشرينَ وَأَرْبَعِمِائَةٍ، فَأَقَرَّ بِهِ قَالَ: أنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّوَّافِ قِرَاءَةُ عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فَأََقَرَّ بِهِ، قَالَ: ثنا أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: ثني كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الَّتِي أَهْدَاهَا لَهُ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبَّاسُ نَادِ» قُلْتُ: يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَكُنْتُ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ: يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَرَجَعُوا عَطْفَةً كَعَطْفَةِ الْبَقَرَةِ عَلَى أَوْلَادِهَا وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَهُمْ يَقُولُونَ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ قَصَرْتُ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَا بَنِي الْحَارِثِ قَالَ: وَتَطَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ فَقَالَ: " هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ وَهُوَ يَقُولُ: قُدُمًا يَا عَبَّاسُ " ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ ثُمَّ قَالَ: «انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ «وَرَبِّ مُحَمَّدٍ» [ص:422] قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ بِطُولِهِ فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ

کثیر بن عباس اپنے والد(حضرت عباس ؓ) کایہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ تھا۔ نبی اکرم ﷺاپنے اس خچر پر سوار تھے۔ جو جذامی نے آپ ﷺکو تحفے کے طور پر دیا تھا ۔ جب مسلمان پیچھے ہٹنےلگے تو نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا: "اے عباس! آپ بلند آواز میں پکاریں اور کہیں اے درخت !(کے نیچے بیعت کرنے والو) اے سورۃ بقره (پر ایمان رکھنے والو)!‘‘حضرت عباس ؓکہتے ہیں: میں ایک ایساشخص تھا۔ جس کی آواز بلندتھی تو میں نے بلند آواز میں پکارا ۔ اے درخت (کے نیچے بیعت کرنے والو)! اے سورۃ بقرہ پر ایمان رکھنے والو! تو وہ لوگ یکبارگی یوں پلٹے جس طرح گائے اپنی اولاد کی طرف پلٹتی ہے۔ آوازیں بلند ہوئیں اور وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے۔ اے انصار کے گروہ!اے انصار کے گروہ ! پھر دعوت کومختصر کر کے بنوحارث بن خزرج کی طرف کیا گیا اور کہا گیا: اے بنو حارث! حضرت عباسؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺاپنے خچر پر سوار رہتے ہوئے جنگ کا جائزہ لیتے رہے۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: "اب جنگ اچھی طرح بھڑک اٹھی ہے"۔ آپﷺنےیہ بھی ارشاد فرمایا: اے عباسؓ! آپ آگے بڑھیے۔ پھر نبی اکرم ﷺنے چند کنکریاں پکڑیں اور انہیں پھینکا اور فرمایا۔ "رب کی قسم ! یہ پسپا ہوجائیں گے"۔سفیان نامی راوی بعض اوقات یہ لفظ نقل کرتے ہیں ۔ محمدﷺکے پروردگار کی قسم! سفیان کہتے ہیں: زہری نے یہ طویل حدیث ہمیں سنائی تھی، لیکن اس کا یہ حصہ مجھے یاد رہ گیا ہے۔

أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو علي بشر بن موسى ← أسمع فأقر به ← أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّوَّافِ ← أَسْمَعُ مِنْ ← أَبُو طَاهِرْ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْمُؤَدِّبُ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 464

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 465

465 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُولُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ»

حضرت عباس بن عبد المطلب ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ(ﷺ)! جناب ابوطالب آپ ﷺکا خیال رکھا کرتے تھے آپ ﷺکی مدد کیا کرتے تھے، تو کیا اس کا انہیں کوئی فائدہ ہوگا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:”جی ہاں" میں نے انہیں جہنم کے بڑے حصے میں پایا توا نہیں نکال کر اس کے معمولی سے حصے میں لے آیا۔

قُلْتُ ← عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 465

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 466

466 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فَقَالَ: «يَا عَبَّاسُ سَلِ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فَقَالَ «يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فَقَالَ «يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» [ص:423] قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ الْعَبَّاسَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَكْثَرَ ذَلِكَ يَقُولُ عَنِ الْعَبَّاسِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ

حضرت عباس بن عبد المطلب ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول الله (ﷺ)! آپﷺ مجھے کوئی ایسی دعا کی تعلیم دیجئےجسے میں مانگا کروں ، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اے عباس ؓ آپ اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کاسوال کریں۔ انہوںن عرض کی: یارسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺمجھے کسی ایسی دعا کی تعلیم دیئجے جو میں مانگا کروں، نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اے عباس ؓ!اے اللہ کے رسولﷺکے چچا! آپ الله تعالیٰ سےعفو اور عافیت کا سوال کریں ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)!آپ ﷺمجھے کسی ایسی دعا کی تعلیم دیجئے جو میں مانگا کروں ۔ بنی اکرمﷺنے فرمایا : اے عباس ؓ! اے اللہ کے رسول ﷺکے چچا!آپ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کریں۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: سفیان نامی راوی اس روایت کو بیان کرتے ہوئے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کرتے ہیں۔ کہ عبدالله بن حارث نے یہ بات بیان کی ہے حضرت عباس ؓ نے عرض کی یارسول الله(ﷺ)! تا ہم اکثر اوقات انہوں نے یہی بات بیان کی ہے۔ کہ حضرت عباس ؓ یہ بات بیان کرتے ہیں انہوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)!

الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 466

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter