Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 151

151 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ: دَخَلَ نَاسٌ عَلَى خَبَّابٍ يَعُودُونَهُ، فَقَالُوا: أَبْشِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تَرِدُ عَلَى مُحَمَّدٍ الْحَوْضَ، فَقَالَ: فَكَيْفَ بِهَذَا وَهَذَا؟ وَأَشَارَ إِلَى بُنْيَانِهِ وَإِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ وَجَانِبَيهِ وَقَالَ: وَكَيْفَ بِهَذَا؟ وَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا مِثْلُ زَادِ الرَّاكِبِ»

یحییٰ بن جمرد بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ حضرت خبابؓ کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لیے حاضر ہوئے انہوں نے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ کو مبارک ہو، آپ کی حوض پر حضرت محمد (ﷺ)!سے ملاقات ہوگی ،تو وہ بولے: اس کی کی اور اس کی موجودگی میں کیسے ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اپنی عمارت کی طرف، گھر کی چھت اور اس کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ اس کی موجودگی میں کیسے ہوسکتی ہے جبکہ نبی اکرمﷺنے ہم سے یہ فرمایاتھا۔تم میں سے کسی ایک شخص کے لیے دنیا میں سے اتنی ہی چیز کا فی ہے جتنا کسی سوارکا زادسفر ہوتا ہے۔“

وَكَيْفَ بِهَذَا؟ وَقَدْ ← فَكَيْفَ بِهَذَا وَهَذَا؟ وَأَشَارَ إِلَى بُنْيَانِهِ وَإِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ وَجَانِبَيهِ ← أبشر أبا عبد الله ترد على محمد الحوض ← دَخَلَ نَاسٌ عَلَى خَبَّابٍ يَعُودُونَهُ، ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 151

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 152

152 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ قَالَ: «شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا»

سعید بن وہب حضرت خبابؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گرمی کی شدت کی شکایت کی تو آپ ﷺنے ہمیں اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يَشْكُنَا ← خَبَّابٍ ← سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← وَكِيعٌ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 152

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 153

153 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا وَكِيعُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ خَبَّابٍ قَالَ «شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّمْضَاءَ فَلَمْ يُشْكِنَا»

حضرت خبابؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گرمی کی شدت کی شکایت کی ،توآپﷺنے ہمیں اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ الرَّمْضَاءَ فَلَمْ يَشْكُنَا. ← خَبَّابٍ ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 153

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 154

154 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: ثنا قَيْسٌ قَالَ: عُدْنَا خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا فَقَالَ «لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «فَإِنَّهُ قَدْ مَضَى قَبْلَنَا أَقْوَامٌ لَمْ يَنَالُوا مِنَ الدُّنْيَا شَيْئًا، وَإِنَّا قَدْ بَقِينَا بَعْدَهُمْ حَتَّى نِلْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا لَا يَدْرِي أَحَدُنَا فِي أَيِّ شَيْءٍ يَضَعُهُ إِلَّا فِي التُّرَابِ، وَإِنَّ الْمُسْلِمَ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ، إِلَّا فِيمَا أَنْفَقَ فِي التُّرَابِ»

قیس نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہم حضرت خباب ؓ کی عیادت کرنے کے لیے گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ نے اگر ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا، تو میں اس کی دعا کرتا پھر انہوں نے فرمایا : ہم سے پہلے کچھ ایسے لوگ(دنیا سے )رخصت ہو چکے ہیں، جنہوں نے دنیا میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا ان کے بعد ہم باقی رہ گئے یہاں تک کہ میں دنیا بھی نصیب ہوئی اوراتنی ملی کہ ہم میں سے کسی ایک کو یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اس کا کیا کرے؟ صرف اسے مٹی میں ہی ڈال سکتا تھا (یعنی اس سے تعمیرات کرسکتا تھا) حالانکہ مسلمان جس بھی چن کوخرچ کرتا ہے، اسےہر چیز میں اجر ملے گا، ماسوائے اس کے جسے وہ مٹی میں خرچ کرتا ہے (یعنی جو تعمیر کرتا ہے)

عُدْنَا خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا فَقَالَ «لَوْلَا ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 154

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 155

155 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ فَقَالَ: إِنَّا هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرِ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ نَمِرَةً فَكُنَّا إِذَا غَطَيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، وَإِذَا غَطَيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ «فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ وَأَنْ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِذْخَرٍ» وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا

ابووائل بیان کرتے ہیں: ہم حضرت خبابؓ کی عیادت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوںنے فرمایا: بے شک ہم نے اللہ کے رسول ﷺکے ساتھ ہجرت کی ہمارا مقصد الله کی رضا کا حصول تھا تو ہمارا اجر الله تعالی کے زمے لازم ہو گیا ہم میں سے کچھ لوگ (دنیا سے)رخصت ہو گئے انہوں نے اپنے اجر میں سے کچھ بھی نہیں حاصل کیا ان میں سے ایک حضرت مصعب بن عمیر ؓ تھے جوغزوہ احد کے دن شہید ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک چادر چھوڑی تھی جب ہم ان کے پاؤں ڈھانپتے تھے، تو ان کا سرظاہر ہو جاتا تھا اور اگر ان کا سرڈھا پنتے تھے تو پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے، تو نبی اکرم ﷺنے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم ان کے سر کوڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر تھوڑی سی اذ خر رکھ دیں جبکہ ہم میں سے بعض لوگ وہ ہیں، جن کا پھل تیار ہو چکا ہے اور وہ اسے چن رہے ہیں۔

أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ، ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 155

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 156

156 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: سَأَلْنَا خَبَّابًا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ «نَعَمْ» فَقُلْنَا: بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ «بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ»

ابو معمر بیان کرتے ہیں: ہم نے حضرت خبابؓ سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺظہر اور عصر کی نماز میں تلاوت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ ہم نے دریافت کیا: آپ کو اس بات کا کیسے پتہ چلتا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا: جی نبی اکرم ﷺکی داڑھی مبارک کے ہلنے کی وجہ سے۔

بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ"1. ← «نَعَمْ» فَقُلْنَا: بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ؟ ← سَأَلْنَا خَبَّابًا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 156

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 157

157 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَا: سَمِعْنَا قَيْسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ خَبَّابًا يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً شَدِيدَةً فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا؟ فَقَعَدَ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ فَقَالَ: «إِنْ كَانَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَيُمْشَطُ أَحَدُهُمْ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ» زَادَ بَيَانٌ «وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ»

قیس بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت خباب بؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اس وقت آپ ﷺ اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ہمیں مشرکین کی طرف سے شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا میں نے عرض کیا: یا رسول الله (ﷺ)! آپﷺالله تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ تو کیا نبی اکرم ﷺسید ھے ہوکر بیٹھ گئے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم سئ پہلے ایسے لوگ بھی تھے جن میں سے کسی ایک پر لوہے کی کنگھی پھیری گئی ۔ جو اس کے گوشت اور پٹھوں میں سے ہو کر ہڈی تک پہنچی لیکن اس چیز نے بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیرا کسی شخص کے سر پر آری رکھ کر اسے دوٹکروں میں کاٹ دیا گیا تو اس چیز نے بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیرا ،الله تعالی اس معاملے کو ضرورمکمل کرے گا، یہاں تک کہ ایک سوار "صنعاء" سے چل کر"حضرموت" تک جائے گا اور اسےصرف اللہ تعالی کا خوف ہوگا۔بیان نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں۔"اور اسے اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑیے کا خوف ہوگا۔“

خَبَّابًا، ← قَيْسًا ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 157

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 158

158 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ [ص:240]: عَادَتْ خَبَّابًا بَقَايَا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: أَبْشِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؛ تَرِدُ عَلَى إِخْوَانِكَ الْحَوْضَ، فَقَالَ: «وَعَلَيْهَا رِجَالٌ إِنَّكُمْ ذَكَرْتُمْ لِي أَقْوَامًا، وَسَمَّيْتُمْ لِي إِخْوَانًا مَضَوْا لَمْ يَنَالُوا مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَإِنَّا بَقِينَا بَعْدَهُمْ حَتَّى نِلْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا نَخَافُ أَنْ يَكُونَ ثَوَابُنَا لِتِلْكَ الْأَعْمَالِ»

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺکے کچھ اصحاب حضرت خباب ؓ کی عیادت کرنے کے لیے آئے انہوں نے کہا: اے ابوعبداللہ آپ کو مبارک ہو کہ آپ حوض کوثر پر اپنے بھائیوں سے مل لیں گے ،تو انہوں نے فرمایا: اس پرکئی لوگ ہوں گے تم نے میرے سامنے کچھ لوگوں کا تذکرہ کیا ہے تم نے انہیں میرا بھائی قرار دیا ہے، حالانکہ وہ لوگ (دنیا سے) رخصت ہوگئے اورانہوں نے اپنے اجر میں سے کوئی بھی چیز حاصل نہیں کی ان کے بعد ہم باقی رہ گئے ہم نے دنیا بھی حاصل کی جس کے نتیجےمیں ہمیں یہ اندیشہ ہے کہیں یہ (ملنے والی دنیا) ہمارے ان اعمال کا بدلہ نہ ہو۔

أَبْشِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؛ تَرِدُ عَلَى إِخْوَانِكَ الْحَوْضَ، ← عَادَتْ خَبَّابًا بَقَايَا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 158

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter