Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 86

86 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْبَيْتِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا «فَجَعَلَ يَطْعَنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ» وَيَقُولُ: «جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ، جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا»

حضرت عبد الله بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے تو نبی اکرمﷺ نے اپنے دست مبارک میں موجود چھڑی کے ذریعےا نہیں مارنا شروع کیا، تو آپﷺ یہ پڑھتے جارہے تھے۔(’’حق آگیا اور باطل (کسی چیز کا)آغاز کرتا ہے اور نہ ہی دوبارہ کرتا ہے"۔ (بھی پڑھا)"حق آگیا بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 86

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 86.1

86/م- حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِى مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِشِقَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِىُّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: «اشْهَدُوا اشْهَدُوا» . حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ قَالَ قَالَ سُفْيَانُ أَثْبَتَ لَنَا ابْنُ أَبِى نَجِيحٍ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنْ أَبِى مَعْمَرٍ.

أَبِي مَعْمَرٍ ← سُفْيَانُ: أَثْبَتَ لَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ بِشِقَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِىُّ «اشْهَدُوا اشْهَدُوا» ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← 4332م-

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 86.1

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 87

87 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ، أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَتَرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ؟ [ص:200] فَقَالَ الْآخَرُ: يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا، وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا، فَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ} [فصلت: 22] الْآيَةَ " وَكَانَ سُفْيَانُ أَوَّلًا يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: ثنا مَنْصُورٌ أَوِ ابْنُ نَجِيحٍ أَوْ حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ أَحَدُهُمْ أَوِ اثْنَانِ مِنْهُمْ ثُمَّ ثَبَتَ عَلَى مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ

حضر ت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں چاند دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم لوگ گواہ ہو جاو۔ حمیدی ؒ کہتے ہیں ۔ سفیان نے یہ بات بیان کی ہے ابن ابو نجیح نے یہ دورویات ابو معمر کے حوالے سے ہمیں بتائی ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 87

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 88

88 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ غَيْرَ مَرَّةٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا فَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغَلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ، وَمُنَاصَحَةُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ فَإِنَّ الدَّعْوَةَ تُحِيطُ مَنْ وَرَاءَهُمْ "

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ۔ خانہ کعبہ کے پاس تین آدمی اکٹھے ہوئے اس میں سے دو قریشی تھے اور ایک ثقیف قبیلے سے تھا یا دو ثقیف قبیلے کے تھے اور ایک قریشی تھا ان کے دماغ میں عقل کم تھی اور ان کے پیٹ پر چربی زیادہ تھی ۔ ان میں سے ایک نے کہا : اللہ تعالیٰ کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ؟ ہم جو کہتے ہیں :وہ اسے سن لیتاہے ؟تو دوسر ے نے کہا: اگر ہم بلند آواز میں کہیں ، تو پھر وہ سن لے گا اگر ہم پست آواز میں بات کریں ، تو پھر وہ نہیں سنے گا، تو تیسرے نے کہا :اگر وہ ہماری بلند آواز کو سن لیتا ہے ، تو وہ ہماری پست آواز کو بھی سن لے گا۔راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: "اور تم جو کچھ چھپاتے ہو اس کے بارے میں تمہاری بصارت تمہارے خلاف گواہی دیں گے"۔ سفیان نامی راوی اس روایت میں پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ اسے منصور یا ابن ابو نجیح یا حمید نے نقل کیا ہے یا ان میں سے کسی دو نے نقل کیا ہے ، لیکن پھر وہ اعتماد کے ساتھ یہ کہنے لگے کہ یہ روایت منصور سے منقول ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ غَيْرَ مَرَّةٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 88

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 89

89 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَاجِدٍ الْحَنَفِيَّ يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِشَارِبٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ تَرْتِرُوهُ أَوْ مَزْمِزُوهُ وَاسْتَنْكِهُوهُ قَالَ فَتَرْتَرُوا وَمَزْمَزُوهُ وَاسْتَنْكَهُوهُ فَإِذَا هُوَ سَكْرَانُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: احْبِسُوهُ، فَحُبِسَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِيءَ بِهِ، وَجِئْتُ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بِسَوْطٍ فَأُتِيَ بِسَوْطٍ لَهُ ثَمَرَةٌ فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ ثُمَّ دَقَّ طَرَفَهُ حَتَّى آضَتْ لَهُ مِخْفَقَةٌ، قَالَ فَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ كَذَا، وَقَالَ لِلَّذِي يَضْرِبُ: اضْرِبْ وَأَرْجِعْ يَدَكَ، وَأَعْطِ كُلَّ عُضْوٍ حَقَّهُ، وَجَلَدَهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ وَإِزَارٌ، وَقَمِيصٌ وَسَرَاوِيلُ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِوَالِي أَمْرٍ أَنْ يُوتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ اللَّهُ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‍‍‍‍‍‍ إِنَّهُ لَابْنُ أَخِي وَمَالِيَ مِنْ وَلَدٍ، وَإِنِّي لَأَجِدُ لَهُ مِنَ اللَّوْعَةِ مَا أَجِدُ لِوَلَدِي، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بِئْسَ لَعَمْرُ اللَّهِ إِذًا وَالِي الْيَتِيمِ أَنْتَ مَا أَحْسَنْتَ الْأَدَبَ، وَلَا امْتَزْتَ الْخَرِبَةِ [ص:202] ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ مَنَ الْأَنْصَارِ قَدْ سَرَقَ فَقَطَعَهُ، فَكَأَنَّمَا أُسِفَّ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّمَادُ، وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِكَفِّهِ إِلَى وَجْهِهِ وَقَبَضَهَا شَيْئًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ فَقَالَ: " وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ تَكُونُوا أَعْوَانًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ إِنًّهُ لَا يَنْبَغِي لِوَالِي أَمْرٍ أَنْ يُؤْتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ، وَاللَّهُ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} [النور: 22] " قَالَ سُفْيَانُ: أَتَيْتُ يَحْيَى الْجَابِرَ فَقَالَ لِي: أَخْرِجْ أَلْوَاحَكَ، فَقُلْتُ: لَيْسَتْ مَعِي أَلْوَاحٌ فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَأَحَادِيثَ مَعَهُ فَلَمْ أَحْفَظْ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى أَعَادَهُ عَلَيَّ، قَالَ سُفْيَانُ فَحَفِظْتُهُ مِنْ مَرَّتَيْنِ

حضرت عبد الله بن مسعود ؓکے صاحبزادے عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "الله تعالیٰ اس بندے کوخوش رکھے جو ہماری کوئی بات سن کر اسے محفوظ کر لے اسے یادر کھے اور پھر اس کی تبلیغ کرے ،کیونکہ بعض اوقات براہ راست علم حاصل کرنے والا شخص عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات براہ راست علم حاصل کرنے والا شخص اس تک منتقل کر دیتا ہے،جو اس سے زیادہ علم رکھتاہے۔ تین چیزایسی ہیں ، جن کے بارے میں مسلمان کا دل دھوکے کا شکار نہیں ہوتا( یعنی مسلمان کے دل میں یہ تین خصوصیات ہونی چاہئیں )عمل کا خالص ہونا، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ،کیونکہ دعا ان کے پیچھے موجودافراد کوبھی گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔

يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 89

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 90

90 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَكُنَّا لَقِينَاهُ بِمَكَّةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ أَعُودُهُ، فَأَرَادَ غُلَامٌ لَهُ أَنْ يُدَاوِيَهُ فَنَهَيْتُهُ، فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ «شِفَاءٌ عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ»

ابوماجد حنفی بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس موجود تھا ایک شرابی کو لے کر آیا ، تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا : اسے ہلا جلا کر دیکھویا اس کا منہ سونگھو۔ راوی کہتے ہیں: اسے ہلایا جلایا گیا اور اس کا منہ سونگھا گیا، تو وہ نشے میں تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓنے فرمایا: اسے قید کر دو اسے قید کر دیا گیا۔ اگلے دن اس شخص کو وہاں لایا گیا میں بھی وہاں موجود تھا، تو حضرت عبداللہؓ نے کوڑا منگوایا تو ان کی خدمت میں ایک ایسا کو ڑالایا گیا جس پر پھل لگا ہوا تھا ان کے حکم کے تحت اس پھل کو اتار لیا گیا پھر اس کے کنارے کو باریک کیا گیا ،یہاں تک کہ وہ درہ بن گیا۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اپنی انگلی کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا اورکوڑے مارنے والے سے یہ کہا کریم اسے مارو اور اپنا ہاتھ پیچھے لے کے جاؤ اور ہر شو کو اس کاحق دو۔ انہوں نے اسے کوڑے اس طرح لگوائے کہ اس نے قمیض پہنی ہوئی تھی اور تہبند بھی تھا۔(رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) قمیض اور شلوار پہنی ہوئی تھی۔پھر حضرت عبداللهؓ نے فرمایا: جوبھی شخص متعلقہ اہل کار ہو اس کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جب اس کے پاس کوئی قابل حد مجرم لایا جائے، تو وہ حد جاری نہ کرے باقی الله تعالیٰ معاف کرنے والا ہے ،وہ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔ ایک صاحب بولے: اے ابوعبدالرحمن ٰ!یہ میرا بھتیجا ہے میری کوئی اولاد نہیں ہے ،لیکن مجھے اس کے لیے اپنے دل میں و محبت محسوس نہیں ہوتی جو مجھے اپنی اولاد کے لیے محسوس ہوتی ہے ،تو حضرت عبدالله ؓبولے: الله کی قسم ! پھرتو تم یتیم کے انتہائی برے نگران ہو نہ تم نے اس کی اچھی تربیت کی اور نہ اس کی خرابی پر پردہ رکھا۔ پھر حضرت عبداللهؓ نے بتایا :مجھے یہ بات پتہ ہے کہ نبی اکرم ﷺنے سب سے پہلے جس شخص کا ہاتھ کٹوایا تھا(وہ کون تھا؟)انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص لا یا گیا اس نے چوری کی تھی، تو نبی اکرم ﷺنے اس کا ہاتھ کٹوا دیا تو اس وقت آپ ﷺکی کیفیت یہ تھی جس طرح آپ ﷺکے چہرے پرراکھ ڈال دی گئی ہو۔یہاں سفیان نامی راوی نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا اور اپنی ہتھیلی کوکچھ بندکرلیا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول الله (ﷺ)! آپ ﷺکو شاید یہ بات پسند نہیں آئی نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میرے لیے کیاچیزرکاوٹ ہے۔لیکن تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بن جاو۔ کسی والی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس حد سے متعلق کوئی مقدمہ لایا جائے تو وہ اسے قائم نہ کرے باقی الله معاف کرنے والا ہے اور وہ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ،پھر نبی اکرم ﷺنے یہ آیت تلاوت کی۔ "انہیں چاہئے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ الله تعالیٰ تمہاری مغفرت کردے "۔سفیان کہتے ہیں: میں یحییٰ الجابر کے پاس آیا ،تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: تم اپنی تختی نکالو میں نے کہا: میرے پاس کوئی تختی نہیں ہے اس وقت انہوں نے یہ حدیث مجھے سنائی اور اس کے ساتھ دوسری حدیثیں بھی سنائیں ،تو مجھے یہ حدیث یاد نہیں ہوئی، یہاں تک کہ انہوں نے دوبارہ مجھے یہ حدیث سنائی۔ سفیان کہتے ہیں: تو گویا میں نے دو مرتبہ اس حدیث کو یاد کیا ہے۔

دخلت على أبي عبد الرحمن السلمي أعوده فأراد غلام له ← عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَكُنَّا لَقِينَاهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 90

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 91

91 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِئْسَ مَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ»

سفیان بیان کرتے ہیں : عطاء بن سائب کے ساتھ ہماری"مکہ" میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا: ہم ابوعبدالرحمن ٰسلمی کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لیے حاضر ہوئے ،تو ان کے غلام نے انہیں دوائی دینے کا ارادہ کیا میں نے اسے منع کر دیا تو وہ بولے: تم اسے کرنے دو ،کیونکہ میں نے حضرت عبد الله بن مسعودؓ کو نبی اکرمﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: "الله تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دوا بھی نازل کی ہے"۔ سفیان نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "اس کی شفاءبھی نازل کی ہے"۔ "تو جس شخص کو اس کا علم ہوتا ہے وہ اسے جان لیتا ہے اور جس کو اس کاعلم نہیں ہوتا وہ اس سے ناواقف رہتا ہے"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← الَّذِي ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 91

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 92

92 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَنْصُورٌ نا ذَرٌّ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فِإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ» فَقَامَتِ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ» ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «مَا وُجِدَ مِنْ نَاقِصِ الْعَقْلِ وَالدِّينِ أَغْلَبَ لِلرِّجَالِ ذَوِي الرَّأْيِ عَلَى أُمُورِهِمْ مِنَ النِّسَاءِ» قَالَ: فَقِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا وَدِينِهَا؟ [ص:205] قَالَ: «أَمَّا نُقْصَانُ عَقْلِهَا فَجَعَلَ اللَّهُ شَهَادَةَ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، وَأَمَّا نُقْصَانُ دِينِهَا فَإِنَّهَا تَمْكُثُ كَذَا يَوْمًا لَا تُصَلِّي لِلَّهِ سَجْدَةً»

ابووائل کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا: تم اس قرآن کو باقاعدگی سے پڑھتے رہو، کیونکہ یہ انسان کے سینے سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ،جتنی تیزی سے چرنے والا جانور اپنی رسی سے نکلتا ہے، پھر انہوں نے بتایا:نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"کسی شخص کا یہ کہناانتہائی برا ہے کہ میں فلاں اور فلاں آیت بھول گیا ،بلکہ وہ اسے بھلا دی گئی"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← وائل بن مهانة ← ذَرٍّ الْهَمْدَانِيِّ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 92

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 93

93 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ {وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] الْآيَةَ "

حضرت عبداللہ بن مسعودؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"اے خواتین کے گروہ !تم صدقہ کیا کروخوا ہ تم اپنے زیورہی صدقہ کرو ،کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے"۔ تو ایک عورت کھڑی ہوئی جو کسی بڑے خاندان کی نہیں تھی اس نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)!اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :اس کی وجہ یہ ہے کہ تم خواتین لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔پھر حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا : ایسی کوئی مخلوق نہیں پائی گئی ، جو عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہو لیکن سمجھدار مردوں کے معاملات میں ان پر غالب آنے کے حوالے سے خواتین سے بڑھ کے ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو دریافت کیا گیا:اے ابوعبدالرحمنٰ!ان کے عقل اور دین میں کیا کمی ہے؟ توانہوں نے فرمایا: جہاں تک ان کی عقل کی کمی کاتعلق ہے ،تو الله تعالیٰ نے دوخواتین کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دی ہے۔ جہاں تک ان کے دین میں کمی کا تعلق ہے ،تو ایک عورت کئی روز تک الله تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے نماز ادانہیں کرسکتی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 93

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 94

94 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ [ص:206]، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّهُ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ» قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا أَجْوَدُ مَا وَجَدْنَا عِنْدَ عَاصِمٍ فِي هَذَا الْوَجْهِ

حضر ت عبداللہ بن مسعود ؓ راویت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص اپنے مال کی زکو ٰۃادا نہیں کرے گا، تو قیامت کے دن اس کے مال کو اس کے لیے گنجے سانپ کی صورت میں تبدیل کر کے اسے طوق کے طور پر پہنایا جائے گا"۔پھر نبی اکرم ﷺنے اس کے مصداق کے طور پراللہ تعالیٰ کی کتاب کی یہ آیت تلاوت کی۔ "اور وہ لوگ جنہیں الله تعالیٰ نے اپنے فضل کے ذریعے عطا کیا ہے اور وہ اس میں بخل سے کام لیتے ہیں ان کے بارے میں تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے، بلکہ یہ ان کے لیے برا ہے، جس چیز کے بارے میں وہ بخل سے کام لیتے ہیں عنقریب قیامت کے دن وہ طوق کے طور پرا نہیں پہنایا جائے گا"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 94

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 95

95 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، وَجَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ} [آل عمران: 77] الْآيَةَ

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں : حبشہ سے آنے سے پہلے ہم نماز کے دوران نبی اکرمﷺکوسلام کرتے تھے ،تو آپ ﷺہمیں جواب دے دیا کرتے تھے، جب ہم (حبشہ) سے واپس آئے تو میں نے نبی اکرمﷺکو سلام کیا آپ ﷺاس وقت نماز ادا کر رہے تھے آپ ﷺنے میرے سلام کا جواب نہیں دیا تومجھے پریشان کن قسم کے خیالات آنے لگے ،میں وہاں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺنے نمازمکمل کی ،تو میں نے عرض کی:یا رسول اللہ(ﷺ)! میں نے آپ ﷺکو سلام کیا تھا، جب آپ ﷺنماز پڑھ رہے تھے آپ ﷺنے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: الله تعالیٰ کسی بھی معاملے میں جو چاہے نیا حکم دے سکتا ہے اور اس بارے میں نیاحکم یہ ہے کہ تم لوگ نماز کے دوران کلام نہ کرو۔ سفیان کہتے ہیں : عاصم سے ہمیں جو روایات ملی ہیں : یہ ان میں سب سے بہترین ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَعْيَنَ وَجَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 95

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 96

96 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَنْصُورٌ غَيْرَ مَرَّةٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ «سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ [ص:207]، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهَا بَعْدَ السَّلَامِ» قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ طَوِيلًا فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:"جوشخص جھوٹی قسم کے ذریعے کی مسلمان کا مال ہتھیا لے گا، تو جب وہ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، تو الله تعالیٰ اس ہر غضبناک ہو گا"۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے اس کے مصداق کے طور پر اللہ تعالی ٰکی یہ آیت ہمارے سامنے تلاوت کی۔ ”بے شک وہ لوگ جو الله تعالیٰ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسم کے عوض میں خریدتے ہیں"۔

إِبْرَاهِيمَ، ← منصور غير مرة هذا الحديث ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 96

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter