مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 288
288 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَدِّي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِالْحِجْرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيُؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ، فَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ فَلَا يُفْلِتُ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ» فَقَالَ رَجُلٌ لِجَدِّي: فَاشْهَدْ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ وَأنَّ حَفْصَةَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عُمَيْرُ بْنُ قَيْسٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أُمَيَّةَ وَكُنْتُ لَا أَجْتَرِئُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهُ، كَانَ يُجَالِسُ خَالِدَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَيْبَةَ وَكَانُوا مِنْ أَكْبَرِ قُرَيْشٍ يَوْمَئِذٍ وَكَانُوا [ص:304] يَجْلِسُونَ فِي سُوقِ اللَّيْلِ وَهُمْ يَوَمَئِذٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، وَاسْتَعَانَنِي أُمَيَّةُ أَنْظُرُ لَهُ خَالِدَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَمَا أَدْرِي وَجَدْتُهُ لَهُ أَمْ لَا، فَلَمَّا اسْتَعَانَنِي اجْتَرَأْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ
سیدہ حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے: "ایک لشکر اس گھر پر حملہ کرنے کے ارادے سے ضرور آئے گا یہاں تک کہ جب وہ کھلے میدان میں پہنچیں گے ،تو ان کے درمیانی حصے کو زمین دھنسا دیا جائے گا ، تو ان کے ابتدائی حصے کے لوگ پیچھے والوں کو بلند آواز میں پکاریں گے پھر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا صرف وہ شخص بچے گا، جو الگ ہو کر چل رہا تھا اور وہی (دوسرے) لوگوں کو ان لوگوں کے بارے میں بتائے گا۔‘‘ راوی کہتے ہیں: ایک صاحب نے میرے دادا کو یہ کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے سیدہ حفصہ ؓ کےحوالے سے یہ بات غلط بیان نہیں کی ہے اور سیدہ حفصہ ؓ نے نبی اکرمﷺکے حوالے سے غلط بات بیان نہیں کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں : عمیر بن قیس نے روایت امیہ کے حوالے سےنقل کی ہے ، لیکن مجھے یہ جرات نہیں ہوئی کہ میں ان سے اس کے حوالے سے دریافت کروں وہ خالد بن محمد اور عبداللہ بن شعبہ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے یہ اس زمانے میں قریش کے اکابرین میں سے تھے اور یہ لوگ رات کے بازار میں بیٹھا کرتے تھے جو ان دنوں مسجد کے دروازے پر منعقد ہوتا تھا، تو امیہ نے مجھ سے مدد طلب کی کہ میں ان کے لیے خالد بن محمد سے گنجائش حاصل کروں مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا مجھے ان کے لیے یہ چیز مل جائے گی کہ نہیں ملے گی لیکن جب انہوں نے مجھ سے مددطلب کی، تو اس حوالے سے جرات ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیا ،تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔
حفصةَ تقولُ: ← جَدِّي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ← أمية بن صفوان بن عبد الله بن صفوان الجمحي، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،
Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 288
