Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 381

381 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ» قَالَ سُفْيَانُ كَانَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا قَبْلَهُ حَدِيثَ أَنَسٍ ثُمَّ أتْبَعَهُ هَذَا فَقَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ

حضرت ابو ایوب انصاری ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:" کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے یوں کہ کرے یوں کہ جب وہ دونوں ملیں ، تو یہ ادھر منہ کر لے اور وہ ادھر منہ کرلے ان دونوں میں زیادہ بہتر وہ ہوگا ، جو سلا م میں پہل کرے "۔ سفیان کہتے ہیں : ز ہری پہلے یہ روایت حضرت انس ؓکے حوالے سے منقول روایت کے طور پر سناتے تھے لیکن پھر انہوں نے اسے عطاء بن یزید کے حوالے سے سنانا شروع کردیا۔

أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 381

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 382

382 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ [ص:370]، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ نَافِعَ بْنَ عُمَرَ الْجُمَحِيَّ لَا يُسْنِدُهُ، فَقَالَ: لَكِنِّي أَحْفَظُهُ وَأُسْنِدُهُ كَمَا قُلْتُ لَكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْمَكِّيِّينَ إِنَّمَا أَخَذُوا كِتَابًا جَاءَ بِهِ حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ مِنَ الشَّامِ قَدْ كُتِبَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَوَقَعَ إِلَى ابْنِ حَرْحَرَةَ وَكَانَ الْمَكِّيُّونَ يَعْرِضُونَ ذَلِكَ الْكِتَابَ عَلَى ابْنِ شِهَابٍ فَأَمَّا نَحْنُ فَإِنَّمَا كُنَّا نَسْمَعُ مِنْ فِيهِ

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: اخانہ یا پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو۔ بلکہ(مدینہ منورہ کے حساب سے )مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو۔حضرت ابوایوب انصاری ؓبیان کرتے ہیں : ہم لوگ شام آئے ،تو وہاں ہم نے ایسے بیت الخلاء دیکھے۔ جوقبلہ کی سمت میں بنائے گئے تھے، تو ہم ذرا ٹیڑھے ہو کر بیٹھا کرتے تھے اور الله تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ سفیان سے کہا گیا، نافع بن عمر نامی راوی اس کی سند بیان نہیں کرتے ہیں، تو سفيان بولے: مجھے تو یہ روایت یاد ہے اور میں اس کی سند وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے تمہارے سامنے بیان کی ہے۔ پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ مکہ کے رہنے والے جو راوی ہیں انہوں نے ایک تحریر حاصل کی تھی۔ جوحمید نامی راوی شام سے لے کر آئے تھے۔ اور یہ روایات انہوں نے زہری کے حوالے سے نوٹ کی تھی، تو وہ تحریرابن جر جہ تک پہنچی تو اہل مکہ نے اس تحریر کی وجہ سے ابن شہاب سے اعراض کرنا شروع کر دیا تاہم ہم نے تو ابن شہاب کی زبانی یہ بات سنی ہے۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 382

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 383

383 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: امْتَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ بِالْعَرَجِ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ؟ فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ يَغْتَسِلُ، فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلًا جَمَعَ ثِيَابَهُ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَقَالَ «بِيَدَيْهِ فِي رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ» وَقَالَ: هَكَذَا فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمَا فَأَخْبَرْتُهُمَا فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا

ابراہیم بن عبد الله اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں۔ "عرج" کے مقام پر حضرت عبدالله بن عباس ؓاور حضرت مسور بن مخرمہؓ کے درمیان اس بات پر بحث ہوگئی کہ احرام والالشخص اپناسرد ھوسکتا ہے؟ ان حضرات نے مجھے حضرت ابو ایوب انصاری ؓکی خدمت میں بھیج دیا میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں کنوئیں کے کنارے پڑے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے دیکھا۔ جب انہوں نے مجھے آتے ہوئے دیکھا انہوں نے سینے تک اپنے کپڑے اکٹھے کر لیے۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو میں نے گزارش کی ۔ آپ کے بھتیجے حضرت عبد الله بن عباسؓ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تا کہ میں آپ سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم ﷺکو احرام کے دوران اپنا سر دھوتے ہوئے آپ نے کیسے دیکھا ہے تو انہوں نے اپ دونوں ہاتھ ا پنے سر پر رکھے۔اسے آ گے سے پیچھے کیطرف لےگئے پھرپیچھےسے آ گے کی طرف لے کرآے اور بولے: اس طرح اور اس طرح۔ میں ان دونوں صاحبان کے پاس واپس آیا اور ان دونوں حضرات کو اس بارے میں بتایا تو حضرت مسور بن مخرمہؓ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے کہا: میں آپ کے ساتھ کبھی بحث نہیں کروں گا۔

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 383

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 384

384 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ [ص:371]، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ أَوْ قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَهُ قَالَ: اسْكُتْ عَنْهُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں: جوشخص رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے 6 روزہ رکھے تو گویا اس نے ہمیشہ نفلی روزے رکھے۔امام حمیدی ؒ کہتے ہیں میں نے سفیان سے کہا : یا شاید سفیان سے یہ کہا گیا : دیگرلوگ تو اسے "مرفوع "حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں، تو وہ بولے تم اس حوالے سے خاموش رہو میں یہ بات جانتا ہوں۔

اسْكُتْ عَنْهُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ ← أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ أَوْ قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَهُ ← مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ ستا من شوال فكأنما صام الدهر. ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ [ص:371]، ← سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 384

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 385

385 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ» [ص:372]

حضرت ابو ایوب انصاری ؓنبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جوشخص رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے بعد شوال کے 6 روزے رکھ لے ،تو گویا اس نے ہمیشہ نفلی روزے رکھے"۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ وَسَعْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 385

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 386

386 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو ایوب انصاری ؓکے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے منقول ہے۔

النَّبِيِّ بِمِثْلِ ذَلِکَ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إسماعيل بن إبراهيم الصائغ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 386

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 387

387 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا»

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں : میں نے مزدلفہ میں نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں مغرب اور عشاء کی نماز یں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔

«صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا» ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 387

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 388

388 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ الْأَعْمَى يُحَدِّثُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يَقُولُ: خَرَجَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَهُوَ بِمِصْرَ يَسْأَلُهُ عَنْ حَدِيثٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهُ وَغَيْرَ عُقْبَةَ فَلَمَّا قَدِمَ أَتَى مَنْزِلَ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ مِصْرَ فَأُخْبِرَ بِهِ فَعَجَّلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَعَانَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟ فَقَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي وَغَيْرَ عُقْبَةَ فَابْعَثْ مَنْ يَدُلُّنِي عَلَى مَنْزِلِهِ قَالَ فَبَعَثَ مَعَهُ مَنْ يَدُلُّهُ عَلَى مَنْزِلِ عُقْبَةَ فَأُخْبِرَ عُقْبَةُ بِهِ فَعَجَّلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَعَانَقَهُ وَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟ فَقَالَ حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ غَيْرِي وَغَيْرَكَ فِي سَتْرِ الْمُؤْمِنِ قَالَ عُقْبَةُ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى خِزْيِهِ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ: صَدَقْتَ، ثُمَّ انْصَرَفَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَرَكِبَهَا رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا أَدْرَكَتْهُ جَائِزَةُ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ إِلَّا بَعَرِيشِ مِصْرَ

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ایوب انصاری ؓ حضرت عقبہ بن عامر ؓکے پاس گئے ۔ وہ اس وقت مصرمیں تھے۔ انہوں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا: جو انہوں نےنبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی تھی اور اب کوئی بھی شخص ایسا باقی نہیں رہا تھا جس نے نبی اکرمﷺ کی زبانی وہ حدیث سنی ہو۔ صرف حضرت ابو ایوب انصاری ؓاور حضرت عقبہؓ نے وہ حدیث سنی ہوئی تھی۔جب حضرت ابو ایوب انصاری ؓ مصر آئے ،تووہ مسلمہ بن مخلد انصاری کے گھرٹھہر ے۔ جو مصر کا امیر تھا۔ اسے اس بارے میں بتایا گیا، تو وہ تیزی سے نکل کر ان کے پاس آیا۔ اس نے ان کے ساتھ معانقہ کیا۔ پھر بولا:اے ابو ایوب انصاری ؓ!آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟ تو حضرت ابو ایوب ؓ نے بتایا: میں نے نبی اکرمﷺکی زبانی ایک حدیث سنی تھی۔ اب میرے اور عقبہ بن عامر کے علاوہ ایسا کوئی شخص نہیں رہا۔ جس نے نبی اکرم ﷺکی زبانی وہ حدیث سنی ہو، تو تم کسی ایسے شخص کو میرے ساتھ بھیجو جو مجھے ان کے گھر تک پہنچا دے ۔ راوی کہتے ہیں : تو امیر نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے ہمراہ اس شخص کو بھیجا جو انہیں حضرت عقبہ بن عامرکے گھر تک پہنچا دے۔ جب حضرت عقبہؓ کو ان کے بارے میں پتہ چلا تو وہ تیزی سے نکل کر باہرآئے اور ان سے گلے ملے اور دریافت کیا: اے ابو ایوب ؓ! آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے ایک حدیث نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی تھی اب میرے اور آپ کے علاوہ ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہا۔ جس نے نبی اکرم ﷺسے وہ حدیث سنی ہو اور وہ حدیث مومن کی پردہ داری کے بارے میں ہے ،تو حضرت عقبہؓ بولے : "جی ہاں" میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جوشخص دنیا میں کسی مومن کی خامی کی پردہ پوشی کرتا ہے ،تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا"۔ تو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے ان سے کہا: آپ نےسچ بیان کیا ہے ،پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ واپس اپنی سواری کی طرف آئے اس پر سوار ہوئے اور واپس مدینہ منورہ آگئے۔ مسلمہ بن مخلدکی مہمانی مصر کے شہر عریش میں ہی تھی کہ (آپ ؓواپس بھی آ گئے یعنی وہ مہمانی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا)

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبَا سَعْدٍ الْأَعْمَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 388

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 389

389 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ يُصَلِّي أَرْبَعًا وَيَقُولُ: «إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ أَوِ الْجَنَّةِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ»

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺسورج ڈھل جانے کے بعد چار رکعات ادا کرتےتھے اور یہ ارشاد فر مایا کرتے تھے :"سورج ڈھلنے کے وقت آسمان (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں"۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← الْقَرْثَعِ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← عُبَيْدَةَ الضَّبِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 389

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter