Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 595

595 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، قَالَ: «فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا وَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا» ،

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں آپﷺکی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں ،تا کہ ہجرت پر آپ ﷺکی بیعت کروں ۔ اور میں اپنے ماں ،باپ کوروتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا:"تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔“

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 595

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 596

596 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّائِبِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»

حضرت عبدالله بن عمرو ؓکے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں ۔ "تم ان دونو ں کی اچھی طرح خدمت کرو۔"

ففیھما فجاھد۔ ← النَّبِيِّ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ السَّائِبِ بْنِ فَرُّوخَ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 596

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 597

597 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثَنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرْ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا»

حضرت عبد الله بن عمرو ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حق کو پہچانتا نہیں ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ أَنَّهُ: ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 597

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 598

598 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صُهَيْبٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ عُصْفُورَةً فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ قَتْلِهَا» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: «يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلَهَا، وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهَا، فَيَرْمِيَ بِهَا» [ص:501]، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ فِيهِ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ صُهَيْبٍ الْحَذَّاءِ، فَقَالَ سُفْيَانُ: " مَا سَمِعْتُ عَمْرًا قَالَ قَطُّ: صُهَيْبٌ الْحَذَّاءُ مَا قَالَ إِلَّا: صُهَيْبٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ "

حضرت عبداللہ بن عمرو العاص ؓ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"جوشخص چڑیا یا اس سے چھوٹے کسی جانور کو ناحق طورپر ماردیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس مارنے کے بارے میں اس سے حساب لے گا۔ لوگوں نے عرض کی:یارسول اللہ(ﷺ)! اس کا حق کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "یہ کہ اسے ذبح کرکےکھالے اور یہ کہ اس کا سر مکمل طور پر الگ کرے اسے پھینک نہ دے۔ " سفیان سے کہا گیا: حماد بن زید اس روایت میں یہ کہتے ہیں : عمروؓنے یہ روایت صہیب الخذاءکے حوالے سے نقل کی ہے، تو سفيان بولے : میں نے عمرو کو کبھی بھی صہیب الخذاء کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں سنا۔ وہ تو صرف یہ کہتے تھے صہیب ،جوعبداللہ بن عامر کے غلام ہیں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← صُهَيْبٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 598

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 599

599 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ [ص:502]، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ، وَمَا وُلُّوا»

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:"انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن الله تعالیٰ کی بارگاہ میں نور کے منبروں پر رحمان کے دائیں طرف ہوں گئے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جووالی (یعنی حاکم یا قاضی) نہیں بنائے گئے ۔لیکن وہ اپنے فیصلے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں انصاف سے کام لیتے ہیں۔“

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ [ص:502]، أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 599

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 600

600 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيْقُومُ ثُلُثَهُ، وَيْنَامُ سُدُسَهُ»

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا: "الله تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسند ید ہ روزہ حضرت داود ؑ کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔ وہ ایک دن روزه رکھتے تھے اور ایک دن روز ہ نہیں رکھتے تھے۔ اور الله تعالی ٰکے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت داو دؑ کی نماز ہے وہ نصف رات سوئے رہتے تھے۔ پھر ایک تہائی رات نوافل ادا کرتے رہتے تھے۔ پھر رات کا چھٹا حصہ سوئے رہتے تھے۔“

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 600

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 601

601 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْأَعْمَى، يَقُولُ [ص:503]: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ» ، قُلْتُ: إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًا، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنُكَ، وَنَفِهَتَ نَفْسُكَ، فَقُمْ، وَنَمْ، وَصُمْ، وَأَفْطِرْ»

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:"مجھے یہ پتہ چلا ہے ، تم رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو روزانہ دن کے نفلی روزہ رکھ لیتے ہو؟ انہوں نے عرض کی :میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ایسانہ کرو تمہاری دونوں آنکھوں کا بھی تم پرحق ہے۔ تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہاری بیوی کا بھی تم پرحق ہے۔ اگر تم ا یسا کروگے ، تو تمہاری نظر کمزور ہو جائے گی۔تم خود کمزور ہو جاؤ گے۔تم نوافل بھی پڑھا کرو۔ اور سوبھی جایا کرو۔ نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو۔ اور چھوڑ بھی دیا کرو۔“

«أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ» قُلْتُ: إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِكَ، ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← [ص:149] ← أَبَا الْعَبَّاسِ الأَعْمَى، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 601

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 602

602 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَابُوسَ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"رحم کرنے والوں پررحمن ٰ بھی رحم کرتا ہے۔ تم لوگ اہل زمین پررحم کرو۔ آسمان والے تم پررحم کریں گے۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو قَابُوسَ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 602

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 603

603 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَابُوسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ»

حضرت عبد الله بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے :"رحم،رحمنٰ سے ماخوذ ہے ،جوشخص اسے ملاتا ہے الله تعالیٰ اسے ملاتا ہے۔ جوشخص اسے کاٹ دیتا ہے الله تعالیٰ اس کے ٹکڑے کر دیتا ہے۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو قَابُوسٍ، أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 603

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 604

604 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: بَشِيرُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ قَيْسِ بْنِ السَّائِبِ [ص:505]، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَمَرَ بِشَاةٍ فَذُبِحَتْ، فَقَالَ لِقَيِّمِهِ: هَلْ أَهْدَيْتَ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ شَيْئًا؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيْوَرِّثُهُ»

قیس بن سائب بیان کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓکے حکم کے تحت ایک بکری ذبح کی گئی انہوں نے اپنے ملازم سے یہ کہا :تم ہمارے یہودی پڑوسی کوبهی تحفہ بھجوادو۔ کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: ”جبرئیلؑ پڑوسی کے بارے میں مجھے مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔“

مُحَرَّرِ بْنِ قَيْسِ بْنِ السَّائِبِ ← مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ، ← بشير بن سليمان أبو إسماعيل ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 604

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 605

605 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا بَشِيرُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، وَفِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ الْخَيَّاطُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا»

حضرت عبد الله بن عمرو ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "بدلہ دینےو الاصلہ رحمی کرنے والانہیں ہوتا۔ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہوتا ہے، جب اس کے رشتے کے حق کو پامال کیاجائے ،تو وہ اس وقت رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھے۔“

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← بَشِيرُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، وَفِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ الْخَيَّاطُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 605

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 606

606 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا عِنْدَهُ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُحَدِّثْنِي عَنِ الْعَدْلَيْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيْدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ» ، أَوْ قَالَ: «مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ» [ص:507]

امام شعبی بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو ؓکی خدمت میں حاضر ہو ا میں اس وقت ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آ کر حضرت عبداللہ ؓ کے سامنے بیٹھ گیا۔ وہ بولا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنا ئیے۔جوآپ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو۔ آپ دو عادل راویوں کے حوالے سے مجھے حدیث نہ سنائیے گا، تو حضرت عبداللہ بن عمروؓبولے: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں اورمہاجر وہ شخص ہے ،جو برائی سے لاتعلقی اختیار کرے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جس چیز سے اللہ تعالٰی نے منع کیا ہے اس سے لاتعلقی اختیار کرے۔"

«مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ» [ص:507] ← «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيْدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ» أَوْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الْعَدْلَيْنِ، ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَا تُحَدِّثْنِي ← بِشَيْءٍ ← عِنْدَهُ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 606

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter