Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 291

291 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتِبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ» قَالَ سُفْيَانُ انْتَهَى حِفْظِي مِنَ الزُّهْرِيِّ إِلَى هَذَا فَأَخْبَرَنِي بَعْدُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِأُمِّ سَلَمَةَ بَغْلَتَهَا، فَقَالَتْ لِي: يَا نَبْهَانُ كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ مُكَاتَبَتِكَ؟ فقُلْتُ: أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ: فَقَالَتْ: أَفَعِنْدَكَ مَا تُؤَدِّي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْفَعْهَا إِلَى ی فُلَانٍ أَخٌ لَهَا أَوِ ابْنُ أَخٍ لَهَا وَأَلْقَتِ الْحِجَابَ وَقَالَتِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبْهَانُ هَذَا آخِرُ مَا تَرَانِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتِبٌ وَعِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ» فَقُلْتُ: مَا عِنْدِي مَا أُؤَدِّي وَلَا أَنَا مَؤَدٍّی

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جب تم میں سے کسی ایک خاتون کا مکا تب غلام ہو اور اس کے پاس وہ رقم موجود ہو ، جسے وہ ادا کر سکتاہو، تو وہ عورت اس غلام سے پردہ کرے۔" سفیان کہتے ہیں: میری یادداشت کے مطابق یہاں تک ہے ،لیکن اس کے بعد معمر نے زہری کے حوالے سے نیہان نامی راوی کے حوالے سے یہ بات بتائی وہ سیدہ ام سلمہ ؓکے خچر کو لے کر چلا کرتا تھا انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے نیہان! تمہاری کتابت کے معاہدے کی کتنی رقم باقی رہ گئی ہے میں نے جواب دیا: ایک ہزار درہم۔ نیہان کہتے ہیں : سیدہ ام سلمہ ؓنے دریافت کیا: کیاتمہارے پاس وہ رقم موجود ہے ،جسے تم ادا کر دو تو میں نے جواب دیا: جی ہاں ،تو سیدہ ام سلمہؓ نے فرمایا: تم اسے فلاں کی طرف بھجوادو۔ سیدہ ام سلمہؓ نے اپنے بھائی یا ا پنے کسی بھتیجے کا نام لیا اور پھر انہوں نے پردہ ڈال دیا پھر انہوں نے فرمایا: تم پر سلام ہواے نیہان!یہ تم نے آخری مرتبہ مجھے دیکھا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے، جب کسی عورت کا کوئی غلام ہو اور اس غلام کے پاس وہ رقم موجود ہو،جسے وہ ادا کرسکتا ہو، تووہ عورت اس غلام سے حجاب کرے۔تو میں نے کہا : نہ تو میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے ،جسے میں ادا کر سکوں اور نہ ہی میں نے ادا کرنی ہے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 291

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 292

292 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ لَمْ نَجِدْهُ عِنْدَ غَيْرِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ [ص:306] عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَقَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ»

سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرے منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں۔"

أُمِّ سَلَمَةَ ← [ص:149] ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ لَمْ نَجِدْهُ عِنْدَ غَيْرِهِ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 292

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 293

293 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: غَرِيبٌ وَبِأَرْضِ غُرْبَةٍ لَأَبْكِيَنَّهُ يُحَدَّثُ عَنْهُ قَالَتْ: فَتَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ، وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّاهَا وَقَالَ: «تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ، أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ» قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَتَرَكْتُ الْبُكَاءَ فَلَمْ أَبْكِ

سیدہ ام سلمہ ؓبیان کرتی ہیں، جب حضرت ابوسلمہ ؓ کا انتقال ہوا میں نے کہا: یہ غریب الوطن تھے اور غریب الوطنی کے عالم میں انتقال کر گئے ہیں میں ان پرایساروں گی کہ انہیں ،یاد رکھاجائے گا۔ سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے رونے کا پختہ ارادہ کرلیا تو کھلے میدان کی طرف سے ایک عورت میرے پاس آئی وہ بھی رونے میں میرا ساتھ دینا چاہتی تھی جب نبی اکرم ﷺنے اسے ملاحظ فرمایاتو آپ ﷺاس سے ملےآپ ﷺنے فرمایا:کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تم شیطان کو اس گھر میں داخل کر دوجس میں سے اللہ تعالیٰ نے اسے باہر نکال دیا ہے۔ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تم شیطان کو اس گھر میں داخل کر دو جس سے الله تعالی ٰنے اسے باہر نکال دیا ہے۔ سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، تو میں نے رونا ترک کر دیا پھر میں نہیں روئی۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 293

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 294

294 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَحَدَّثَنَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أًمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ لَيْلَةٍ «سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا وَقَعَ مِنَ الْفِتَنِ؟ وَمَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ، فَأَيِقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحِجْرِ فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

سیده ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں، ایک رات نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "سبحان اللہ! کیسے فتنے نازل ہوئے ہیں اور کتنے خزانے کھول دیئے گئے ہیں ،تو حجروں میں رہنے والی خواتین کو بیدار کرو کیونکہ دنیا میں پردے والی بعض عورتیں آخرت میں برہنہ ہوں گی۔“

أُمِّ سَلَمَةَ ← هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ ← الزُّهْرِيِّ، ← أُمِّ سَلَمَةَ وَحَدَّثَنَاهُ مَعْمَرٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 294

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 295

295 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا بَشَرِهِ شَيْئًا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ قِيلَ لِسُفْيَانَ: إِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ قَالَ: لَكِنِّي أَنَا أَرْفَعُهُ

سیدہ ام سلمہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: (جب ذوالحجہ کا پہلاعشرہ) آجائے اور کسی شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، تو وہ اپنے بال اور اپنی جلد میں سے کوئی چیز نہ کٹوائے (یعنی ناخن نہ تراشے اور بال بھی نہ کٹوائے) امام حمیدی ؒکہتے ہیں: سفیان سے کہا گیا ہے:بعض محدثین نے اس روایت کو"مرفوع"حدیث کے طور نقل نہیں کیا ہے ،تو انہوں نے کہا: میں، تو اس کو"مرفوع" حدیث کے طور نقل کروں گا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 295

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 296

296 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضُفُرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغَسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تُحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِي» أَوْ قَالَ: «فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ»

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرمﷺسے سوال کیا میں نے عرض کی میں ایک ایسی عورت ہوں جو اپنی مینڈیاں مضبوطی سے باندھتی ہوں ،تو کیا میں غسل جنابت کے لیے انہیں کھول لیا کروں ،تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے اتنا کافی ہے ،تم تین مرتبہ اپنے سر پر پانی کے تین لپ بہا لیا کرو پھر تم اپنے جسم پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤ گی (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تواس طرح تم پاک ہو جاؤ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 296

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 297

297 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَرَى الْقَدَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: قَدِمَ [ص:308] مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ قَالَ لِكَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ: اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَلْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ، وَبَعَثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ مَعَنَا فَقَالَ: اذْهَبْ فَاسْمَعْ مَا تَقُولُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَجَاءَهَا فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَاسْأَلْهَا فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى عِنْدِي رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ أَكُنْ أَرَاهُ يُصَلِّيهِمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ أَكُنْ أَرَاكَ تُصَلِّيهَا قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيَّ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَوْ صَدَقَةٌ فَشَغَلُونِي عَنْهُمَا فَهُمَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ»

ابوسلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابوسفیانؓ مدینہ منورہ آئے وہ منبر پر موجود تھے۔انہوں نے کثیر بن صلت سے کہا:تم ام المومنین سیدہ عائشہ ؓکے پاس جاؤ اور ان سے نبی اکرم ﷺکی اس نماز کے بارے میں دریافت کروجو آپﷺعصرکے بعد دورکعات ادا کرتے تھے۔ابوسلمہ کہتے ہیں:کثیر بن صلت کے ساتھ میں بھی چلا گیا حضرت عبد الله بن عباس ؓ نے عبداللہ بن حارث کو ساتھ بھیج دیا انہوں نے فرمایا:تم جاؤ !ام المومنین تمہیں جوکہیں گی اسے سن لینا۔ابوسلمہ کہتے ہیں: وہ صاحب ان کے ہاں آئے اور ان سے یہ دریافت کیا، تو سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے، تم سیدہ ام سلمہؓ کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو ،تو کثیر کے ساتھ میں بھی سیدہ ام سلمہؓ کے پاس گیا انہوں نے سیدہ ام سلمہؓ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدہ ام سلمہؓ نے بتایا: ایک دن نبی اکرم ﷺعصر کے بعد میرے ہاں تشریف لائے آپ ﷺنے میرے ہاں دو رکعات نماز ادا کی میں نے آپ ﷺکو اس سے پہلے یہ دو رکعات ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ،تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! آج آپ ﷺنے یہ کیسی نماز ادا کی ہے؟ میں نے پہلے آپﷺادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ظہر کے بعد دورکعات ادا کرتا ہوں، بنوتمیم کا وفد میرےپاس آ گیا تھا (راوی کوشک ہے شاید الفاظ ہیں) زکوٰۃ کا مال آیا تھا، تو اس وجہ سے میں مصروف رہا تو یہ وہی دورکعات ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَرَى الْقَدَرَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 297

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 298

298 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَيُّكُمْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِشَيْءٍ فَلَا يَأْخُذْ بِهِ؛ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»

سیدہ زینب بنت ابوسلمہؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "میں بھی ایک انسان ہوں تم لوگ اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو ،ہوسکتا ہے ،تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی دلیل پیش کرنے میں دوسرے کے مقابلے میں تیز زبان ہو، تو جس شخص کےحق میں، میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں ،تو وہ اسے حاصل نہ کرے کیونکہ میں نے اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہوگا۔‘‘

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 298

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 299

299 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ [ص:309]، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ فَسَمِعَهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إُمَيَّةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكُمْ بِابْنَةِ غَيْلَانَ؛ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ» قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ اسْمُهُ هَيْتٌ

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 299

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 300

300 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مْنَ الْحَقِّ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَاءَ فَلْتَغْسِلْ» فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَبِمَ يَكُونُ الشَّبَهُ؟

سیدہ زینب بنت ابوسلمہ ؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لائے وہاں ایک ہیجڑا موجود تھا۔ نبی اکرم ﷺنے اسے عبد الله بن ابوامیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:اے عبداللہ!اگر الله تعالیٰ نے آئندہ تمہارے لیے طائف کوفتح کر دیا توتم غیلان کی بیٹی کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ بڑی صحت مند(اور خوبصورت جسم کی مالک) ہے راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:یہ (ہیجڑے ) تمہارے ہاں نہ آیا کریں ۔سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے یہ بات بیان کی اس ہیجْرے کا نام"ہیت‘‘ تھا۔

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 300

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 301

301 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ مَوْلَى لِأُمِّ سَلَمَةَ [ص:310]، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ الصُّبْحِ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مَقْبُوَلًا»

سیدہ زینب بنت ابوسلمہؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں۔ سیدہ ام سلمہؓ نے نبی اکرمﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: انہوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)!الله تعالیٰ حق بات سے حیانہیں کرتا اگر عورت کو احتلام ہو جائے ،تو کیا اس پر غسل کر نالا زم ہوگا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی عورت پانی دیکھتی ہے، تو اسے غسل کرنا پڑے گا ۔سیدہ ام سلمہؓ نے عرض کی: کیا عورت کوبھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو پھر (بچے کی اس کے ساتھ) مشابہت کس بنیاد پر ہوتی ہے؟

أُمِّ سَلَمَةَ ← مَوْلَى لِأُمِّ سَلَمَةَ [ص:310]، ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 301

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 302

302 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ - رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ - أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ خَاصَمَ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ» فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا قَضَى لَهُ لِأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَلَا وَرِبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [النساء: 65]

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺصبح کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ "اے اللہ !میں تجھ سے نفع دینے والے علم ،پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔"

سَلَمَةُ، رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 302

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter