Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 943

943 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ، أَوْشَكَ أَنْ يُواقِعَ الْحَرَامَ، وَإِنَّ لِكُلٍ مَلِكٍ حِمًى، وَحِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ»

حضرت نعمان بن بشیر ؓنے منبر پر یہ بات ارشادفرمائی :میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:’’حلال واضح ہے ،حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، تو جو شخص ایسی چیز کو ترک کر دے جس کے گناہ ہونے کا شبہ ہو تو وہ اس چیز کو بدرجہ اولی ٰترک کرے گا، جو واضح طور پر گناہ ہے۔ اور جو شخص مشکوک معاملے کے بارے میں جرات کا مظاہرہ کرے ،تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ آگے چل کر حرام میں مبتلا ہو جائے۔ ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ چراگاہ وہ امور ہیں، جنہیں اس نے گناہ قرار دیا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 943

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 944

944 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُجَالِدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَكُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَنْتُ أَنِّي لَا [ص:164] أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَبَاذُلِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ، كَمَثَلِ الْإِنْسَانِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوٌ مِنْ أَعْضَائِهِ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ»

حضرت نعمان بن بشیر ؓنے منبر پر یہ بات بیان کی:میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "اہل ایمان کے باہمی تعلق ان کی ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے پررحم کرنے کی مثال اس انسان کی طرح ہے ،جس کے اعضاء میں سے کوئی ایک عضو بیمار ہو جائے تو پورا جسم بخار اور تجگے کا شکار ہوجاتا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ثُمَّ ← رَسُولَ اللَّهِ ظَنَنْتُ أَنِّي لَا [ص:164] أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ ← الشَّعْبِيُّ: وَكُنْتُ إِذَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 944

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 945

945 - قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةٌ، إِذَا هِيَ صَلُحَتْ وَسَلِمَتْ سَلِمَ لَهَا سَائِرُ الْجَسَدِ، وَصَحَّ، وَإِذَا هِيَ سَقِمَتْ سَقِمَ لَهَا سَائِرُ الْجَسَدِ وَفَسَدَ، وَهِيَ الْقَلْبُ»

حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "انسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح وسالم ر ہے، تو سارا جسم صحیح و سالم رہتا ہے۔ اگر وہ بیمار ہو جائے ،تو سارا جسم بیمار اور خراب ہوجاتا ہے۔ وہ دل ہے۔"

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 945

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 946

946 - وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُدْهِنُ فِي حُقُوقِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا، وَالْقَائِمِ عَلَيْهَا، كَمَثَلِ ثَلَاثَةٍ رَكِبُوا سَفِينَةً وَاسْتَهَمُوا مَنَازِلَهَا، فَصَارَ لِأَحَدِهِمْ أَسْفَلُهَا وَأَوْعَرُهَا وَشَرُّهَا، وَكَانَ مُخْتَلَفُهُ وَمُهْرَاقُ مَائِهِ عَلَيْهِمْ، فَبَيْنَا هُمْ فِيهَا لَا يُفْجَأُهُمْ بِهِ إِلَّا [ص:165] وَقَدْ أَخَذَ الْقَدُومَ، فَقَالُوا لَهُ: أَيَّ شَيْءٍ تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: أَخْرِقُ فِي حَقِّي خَرْقًا فَيَكُونُ أَقْرَبَ لِي مِنَ الْمَاءِ وَيَكُونَ فِيهِ مُخْتَلَفِي وَمُهْرَاقُ مَائِي، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتْرُكُوهُ أَبْعَدَهُ اللَّهُ يَخْرِقُ فِي حَقِّهِ مَا شَاءَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَدَعُوهُ يَخْرِقُهَا، فَيَهْلِكُنَا وَيُهْلَكُ نَفْسَهُ، فَإِنْ هُمْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ نَجَا وَنَجَوْا مَعَهُ، وَإِنْ هُمْ لَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ هَلَكَ وَهَلَكُوا مَعَهُ "

حضرت نعمان بن بشیرؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے والا اور ان کی خلاف ورزی کرنے والا ایسے افراد کی مانند ہیں جو ایک کشتی میں حصے کر لیتے ہیں کچھ لوگ اوپر والے حصے میں چلے جاتے ہیں اور کچھ نیچے والے حصے میں چلے جاتے ہیں جوکم بہتر ہے۔ کشتی والوں کے گزرنے کی جگہ اور پانی کے حصول کی جگہ نیچے والا حصہ ہے۔ نیچے والے لوگ جب اپنی جگہ پر آتے ہیں ،تو وہ کلہاڑا لیتے ہیں دوسرے لوگ اس سے پوچھتے ہیں:تم کیا کرنے لگے ہو؟ تو وہ کہتا ہے: میں اپنی مخصوص جگہ میں سوراخ کرنے لگا ہوں تا کہ میں پانی کے قریب ہو جاؤں اور میری گزرگاہ اور پانی کے بہاؤ کی جگہ دستیاب ہو (تو دوسرے لوگوں میں سے )کچھ یہ کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو۔ اللہ تعالیٰ اسے دور کرے یہ اپنے حصے میں جو چیز چاہے توڑ دے ،لیکن دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں تم اسے ایسے نہ چھوڑو کہ یہ اسے توڑ دے ،ورنہ یہ ہمیں اور خود کو ہلاکت کا شکار کر دے گا۔(نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں:) اگر وہ دوسرے لوگ اسے روک دیتے ہیں تو وہ شخص بھی نجات پائے گا اور اس کے ساتھ دوسرے لوگ بھی نجات پائیں گے، لیکن اگر وہ لوگ اسے روکتے نہیں ہیں تو وہ شخص بھی ہلاکت کا شکار ہوگا اور اس کے ساتھ دوسرے لوگ بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔

لَهُ: أَيَّ شَيْءٍ تَصْنَعُ؟

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 946

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 947

947 - قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَاكَ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهُ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ، يُوشِكُ أَنْ يُواقِعَ الْحَرَامَ، كَمَنْ رَتَعَ إِلَى جَانِبِ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، وَإِنَّ لِكُلِ مَلِكٍ حِمًى، وَحِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ»

حضرت نعمان بن بشیرؓبیان کرتے ہیں ،میں نے نبی اکرم ﷺکویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، تو جوشخص ایسی چیز کو ترک کر دے جس کے گناہ ہونے کا شبہ ہو ،تو وہ واضح گناہ کو بدرجہ اولیٰ ترک کرے گا اور جو شخص مشکوک چیز کے بارے میں واضح جرأت کا مظاہرہ کرے ،تو وہ آگے چل کر حرام میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ جیسے کوئی شخض چراگاہ کے اردگرد جانور چرارہا ہو، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ جانور چراگاہ کے اندر داخل ہوجائیں۔ بے شک ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالی کی مخصوص چراگاہ وہ امور ہیں ،جنہیں اس نے گناہ قرار دیا ہے۔

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 947

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 948

948 - قَالَ: وَسَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا، فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: إِيتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ، فَقَالَ: «أَكَلَ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا؟» ، قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ» وَأَبَى أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْهِ

حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے ایک غلام مجھے عطیے کے طور پر دیا تو میری والدہ سیدہ عمرہ بنت رواحہ رضی الله عنہا نے ان سے گزارش کی آپ نبی اکرم ﷺکے پاس جا کر انہیں گواہ بنالیں، تو میرے والد نبی اکرمﷺکی خدمت میں آپ ﷺکو گواہ بنانے کے لیے حاضر ہوئے، آپﷺنے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی ہراولا کو اس کی مانند عطیہ دیا ہے انہوں نے عرض کی:جی نہیں۔نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میں صرف حق بات پر گواہ بن سکتا ہوں، تو نبی اکرم ﷺنے اس بات پر گواہ بننے سے انکار کر دیا۔

لَا۔ ← «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا؟» ← لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: إِيتِ النَّبِيَّ فَأَشْهِدْهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ لِيُشْهِدَهُ، ← نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا، ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 948

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 949

949 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: كَانَ سُفْيَانُ يَغْلَطَ فِيهِ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا إِذَا وَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ»

حضرت نعمان بن بشیر ؓبیان کرتے ہیں: (امام حمیدی کہتے ہیں :سفیان اس روایت میں غلطی کرتے ہیں) "نبی اکرم ﷺنے عید کی نماز میں سورہ الاعلیٰ اور سورہ الغاشیہ کی تلاوت کی تھی۔ جب جمعہ کے دن عید آئی تھی اس دن بھی نبی اکرم ﷺنے انہی دو سورتوں کی تلاوت کی تھی"۔

الْحُمَيْدِيُّ: كَانَ سُفْيَانُ يَغْلَطَ فِيهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِيهِ ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 949

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 950

950 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمْ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ مَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: عَنْ أَبِيهِ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

أَبِيهِ ← النَّبِيِّ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 950

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 951

951 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ نَحْلًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَارْدُدْهُ»

حضرت نعمان بن بشیرؓبیان کرتے ہیں: ان کے والد نے انہیں کوئی عطیہ دیا پھر وہ بی اکرم ﷺکی خدمت میں آپﷺکو گواہ بنانے کے لیے حاضر ہوئے، تو نبی اکرمﷺنے دریافت کیا: کیا تم نے اپنی ہر اولاد کو اسی کی مانند عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے عرض کی:جی نہیں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: پھرتم اسے واپس لے لو۔

فَارْدُدْهُ ← لَا۔ ← النَّبِيُّ «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا» ← أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ نَحْلًا، فَأَتَى النَّبِيَّ لِيُشْهِدَهُ، ← حميد بن عبد الرحمن ومحمد بن النعمان أنهما سمعا النعمان بن بشير ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 951

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter