Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 583

583 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ ابْنِ الْخَوَّارِ مَوْلَى لِبَنِي عَامِرٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ [ص:488]: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ فِي الْمَوْسِمِ يُنَادِي فِي النَّاسِ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»

حضرت حارث بن مالک ؓحج کے دنوں میں لوگوں میں اعلان کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "جو شخص کوئی جھوٹی قسم اٹھا کر اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرے تو جب وہ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو الله تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا ۔‘‘

سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← الْحَارِثَ بْنَ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ فِي الْمَوْسِمِ يُنَادِي فِي النَّاسِ ← [ص:149] ← عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ← ابْنِ الْخَوَّارِ مَوْلَى لِبَنِي عَامِرٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 583

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 584

584 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: ثنا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهًى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» قَالَ: ثُمَّ مَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُهُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» قَالَ الزُّهْرِيُّ «وَالْأَسْوَدُ الْحَيَّةُ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَنْهَشَ تَنْتَصِبُ هَكَذَا» وَرَفَعَ الْحُمَيْدِيُّ يَدَهُ ثُمَّ تَنْصَبُّ، قَالَ سُفْيَانُ حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: لَا تُبَالِي أَلَّا تَسْمَعَ هَذَا مِنِ ابْنِ شِهَابٍ

حضرت کرزبن علقہ خزاعی ؓ بیان کرتے ہیں۔ایک شخص نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا۔ اس عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)!کیا اسلام کی کوئی انتہا ء ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :"جی ہاں "۔عرب یا عجم سے تعلق رکھنے والا جو بھی گھرانہ ہو ، جس کے بارے میں الله تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے ،تو اللہ تعالیٰ ان پر اسلام کو داخل کر دیتا ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! پھر کیا ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کے بعد فتنے ہوں گے۔ یوں جیسے وہ بادل ہوتے ہیں۔ ان صاحب نے عرض کی: اللہ کی قسم! یارسول الله (ﷺ)! ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اگر اللہ نے چاہا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:ایسا ہوگا، اس ذات کی قسم!جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ،اس وقت میں لوگوں کے بہت سے گروہ اس کی طرف مائل ہو جائیں گے اور وہ آپس میں قتل و غارت گری کرنے لگیں گے۔ زہری کہتے ہیں : اسود سے مراد سانپ ہے۔ جب وہ کسی کو نگلنےکا ارادہ کرتا ہے، تو یوں کھڑا ہوتا ہے۔ پھرحمیدی ؒنے اپنا ہاتھ اٹھا کر اسے کھڑا کر کے دکھایا۔ سفیان جب یہ روایت بیان کرتے تھے، تو ساتھ یہ کہا کرتے تھے۔ تمہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ اگر تم نے یہ روایت ابن شہاب کی زبانی نہیں سنی( یعنی میں نے اسے من وعن تمہارے سامنے بیان کر دیا ہے۔)

سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 584

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ثُمَّ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 585

585 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ»

حضرت ابوشریح کعبی ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "جوشخص الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ جوشخص الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے۔"

أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 585

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ثُمَّ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 586

586 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَجَايِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوَى عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوشریحؓ کے حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ "مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے، جواس سے زیادہ ہوگی دو صدقہ ہوگا ۔مہمان کا اہتمام کے ساتھ کھانا ایک دن اور ایک رات کیا جائے گا اور مہمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے ، وہ میزبان کے ہاں اتنا عرصہ مقیم رہے ،کہ اسے حرج میں مبتلا کر دے۔"

اَبِیْ شُرَیْحٍ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 586

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ ابْنِ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 587

587 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ أَخْوَالِهِ مِنَ الْأَزْدِ يُقَالَ لَهُ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ فِي مَكَانٍ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ: «كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ اثْبُتُوا وَرُبَّمَا قَالَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ»

حضرت یزید بن شیبان ؓبیان کرتے ہیں۔ حضرت ابن مربع انصاریؓ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت عرفہ میں ایسی جگہ وقوف کیے ہوئے تھے۔ جو نبی اکرم ﷺکے وقوف کی جگہ سے دور تھی انہوں نے بتایا: میں اللہ کے رسول ﷺکی طرف سے پیغام رساں کے طور پر تمہارے پاس آیا ہوں۔ آپ ﷺنے یہ ارشادفرمایا ہے: "تم اپنے اسی مقام تک رہنا کیونکہ تم حضرت ابراہیم ؑکی وراثت کے وارث ہو۔" امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفيان نامی راوی بعض اوقات یہ کہا کرتے تھے۔ کہ تم ان الفاظ کو یاد رکھو اور بعض اوقات یہ کہتے تھے: تم اپنے جد امجد حضرت ابراہیم ؑ کے وارث ہو۔

عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 587

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 588

588 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَبِي وَدَاعَةَ يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطُّوَّافِ سُتْرَةٌ»

حضرت مطلب بن ابوداعہ ؓبیان کرتے ہیں ۔ میں نے نبی اکرم ﷺکو بنو سہم کے دروازے کے قریب نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ لوگ آپ ﷺکے سامنے سے گزر رہے تھے آپ ﷺکے اور طواف کرنے والوں کے درمیان سترہ نہیں تھا۔

جده المطلب بن أبي وداعة ← بعض أهله أنه ← كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 588

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 589

589 - قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا أَوَّلًا عَنْ كَثِيرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ فَلَمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ قَالَ: لَيْسَ هُوَ عَنْ أَبِي إِنَّمَا أَخْبَرَنِي بَعْضُ أَهْلِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الْمُطَّلِبِ

سفیان کہتے ہیں :این جر یج نے پہلے یہ روایت کثیر کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے نقل کی تھی۔ پھر جب میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولے : یہ میرے والد کے حوالے سے منقول نہیں ہے میرے گھر کے ایک فرد نے یہ بات بیان کی ہے۔ انہوں نے حضرت مطلب بن ابو وداعہ ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔

بَعْضُ أَهْلِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الْمُطَّلِبِ ← أَبِي إِنَّمَا ← لَيْسَ هُوَ ← الْمُطَّلِبِ فَلَمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ← أَبِيهِ ← کَثِيرٍ ← أَوَّلًا ← سُفْيَانُ وَكَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 589

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ النَّوْفَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 590

590 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ: تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّهَا سَوْدَاءُ وَإِنَّهَا وَإِنَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ»

حضرت عقبہ بن حارثؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے ابوابؓ کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی تو ایک سیاہ فام عورت آئی اور بولی۔ میں نے تم دونوں (میاں، بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔ (حضرت عقبہؓ کہتے ہیں) میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں دائیں طرف سے حاضر ہوا۔ میں نے آپ ﷺسے یہ سوال کیا، تو آپ ﷺنے مجھ سے اعراض کیا۔ پھر میں بائیں طرف سے آپ ﷺکے سامنے آیا، تو آپ ﷺنے پھر مجھ سے اعراض کیا۔ پھر میں سامنے کی طرف سے آپ ﷺکے آگے آیا۔ اور آپ ﷺسے یہ مسئلہ دریافت کیا: میں نے عرض کی یارسول اللہﷺ! وہ ایک سیاہ فام عورت ہے اور وہ ہے ،تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "جب بات بیان کر دی گئی ہے ،تو پھر اب کیا ہوسکتا ہے۔"

يَسَارِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: ← يَمِينِهِ فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ ← إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ مِنْ ← تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 590

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 591

591 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وَقَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: " هَذَا مِمَّا حَفِظْتَ مِنَ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: نَعَمْ كَأَنَّهُ يَسْمَعُهُ إِلَّا أَنَّهُ طَوِيلٌ فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْهُ «فَقَالَ لَهُ بُلَيْلٌ فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ لَمْ أَحْفَظْهُ فَقَالَ» صَدَقَ لَمْ أَحْفَظْهُ كُلَّهُ وَأَمَّا هَذَا فَقَدْ أَتْقَنْتُهُ "

حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا۔ اس نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)!میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تم اب رمی کر لو۔ کوئی حرج نہیں ہے۔ایک اور صاحب آئے انہوں نے عرض کی۔میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوالیا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :تم اب قربانی کرلو ۔کوئی حرج نہیں ہے۔ سفیان سے یہ کہا گیا: آپ نے زہری کی زبانی یہ روایت یاد کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! گویا کہ وہ اس وقت بھی اسےسن رہے تھے۔ تاہم یہ روایت طویل ہے۔ میں نے اس میں سے صرف اس حصے کو یاد رکھا ہے۔ تو بلبل نے ان سے کہا: (ایک قول کے مطابق اس کا نام بلیل بن حرب ہے) عبدالرحمنٰ بن مہدی تو آپ کے حوالے سے یہ کہتے ہیں، آپ نے یہ بات بیان کی ہے، مجھے یہ روایت یاد نہیں ہے۔ تو وہ بولے: اس نے ٹھیک کہا ہے مجھے یہ روایت مکمل طور پریادنہیں ہے ،تاہم جہاں تک اس حصے کاتعلق ہے، تویہ مجھے یقینی طور پریادہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 591

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 592

592 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْزِعُهُ مِنْ قُلُوبِ الرِّجَالِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُهُ بِقَبْضِ [ص:495] الْعُلَمَاءِ فَإِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا فَسَأَلُوهُمْ فَأَفْتَوْهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا» قَالَ عُرْوَةُ: " ثُمَّ لَبِثْتُ سَنَةً، ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَنِي بِهِ

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو یوں قبض نہیں کرے گا کہ اسے لوگوں کے دلوں میں سے نکال لے گا بلکہ وہ اسے علماء کوقبض کر کے قبض کرے گا۔ پھروہ کسی عالم کوباقی نہیں رہنے دے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوابنا لیں گے وہ ان سے مسئلے دریافت کریں گے، تو وہ لوگ علم نہ ہونے کے باوجودانہیں جواب دیں گے۔ وہ لوگ خودگمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ عروہ کہتے ہیں۔ پھر کئی سال گزر گئے۔ پھر میری ملاقات طواف کے دوران حضرت عبد الله بن عمروؓ سے ہوئی۔ میں نے ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے مجھے اس کے بارے میں بتایا۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 592

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 593

593 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْعَاصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً «فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں۔ جب نبی اکرم ﷺنے مخصوص برتنوں سے منع کر دیا، تو عرض کی گئی : یارسول اللہ (ﷺ)!ہر شخص کے پاس مشکیزہ نہیں ہوتا ، تو نبی اکرم ﷺنے لوگوں کو ایسا مٹکا استعمال کرنے کی اجازت دی جومزفت نہ ہو۔

الأوعية قيل: ← لَمَّا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أبى العاص ← مُجَاهِدٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 593

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 594

594 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَصْلَتَانِ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» قَالُوا: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتُكَبِّرُ عَشْرًا، وَتَحْمَدُ عَشْرًا، وَتُسَبِّحُ عِنْدَ مَنَامِكَ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: أَحَدُهُنَّ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَذَلِكَ مِائَتَانِ وَخَمْسِينَ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفَانِ وَخَمْسِمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: «فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلِهِ أَلْفَيْ سَيِّئَةٍ وَخَمْسِمِائَةِ سَيِّئَةٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا قَالَ: «يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ لَهُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَقُومَ وَلَمْ يَقُلْهَا» [ص:497] قَالَ سُفْيَانُ: «هَذَا أَوَّلُ شَيْءٍ سَأَلْنَا عَطَاءً عَنْهُ، وَكَانَ أَيُّوبُ أَمَرَ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَةَ أَنْ يَأْتُوهُ فَيَسْأَلُوهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ»

حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "دو عادات ایسی ہیں جو آسان ہیں، لیکن ان پرعمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں، جو بھی مسلمان ان کو باقاعدگی سے سرانجام دے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ لوگوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)!وہ دونوں کون سی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "ہر نماز کے بعد 10 مرتبہ سبحان اللہ پڑھنا، 10 مرتبہ الله اکبر پڑھنا، 10 مرتبہ الحمدللہ پڑھنا۔ اور سوتے وقت 33 مرتبہ سبحان اللہ پڑھنا۔ 33 مرتبہ الحمدللہ پڑھنا اور 34 مرتبہ الله اکبر پڑھنا۔“پھر سفیان نے یہ بات بیان کی ان میں سے کوئی ایک کلمہ 34مرتبہ ہے ، تو یوں یہ روزانہ زبان کے اعتبار سے 250کلمات ہو جائیں گے اور نامہ اعمال میں 2500 کلمات ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓبیان کرتے ہیں ۔ میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے اپنے دست مبارک کے ذریعے گنتی کرکے یہ بتایا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :کون شخص ایسا ہے ، جو روزانہ 2500گناہ کرتاہے۔ لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ (ﷺ )!انہیں باقاعدگی سے پڑھا کیوں نہیں جاسکتا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے اور اسے کہتا ہے فلاں چیز یاد کرو، یہاں تک کہ آدمی اٹھ جاتا ہے (یعنی نماز کے بعد اٹھ جاتا ہے اور ان کلمات کونہیں پڑھتا ہے"۔ یہ وہ پہلی روایت ہے، جس کے بارے میں ہم نے عطاءسے سوال کیا تھا۔ جب عطاء بصرہ آئے توایوب نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کی خدمت میں جائیں اور ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کریں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 594

chevron_left Previous
1…666768…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter