مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَمَّةِ حُصَيْنِ بْنِ مُحْصَنٍ رَحِمَهَا اللَّهُ تَعَالَى · حديث 358
358 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَقَالَ «يَا هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟» قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا آلُو إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ؟ قَالَ «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ»
حصین بن محصن اپنی پھوپھی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں کسی کام کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: اے عورت! کیاتم شادی شدہ ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپﷺنے فرمایا: پھرتم اپنے شوہر سے غافل کیوں ہو؟ وہ خاتون کہتی ہیں: میں نے عرض کی: میں اس کے حوالے سے صرف اسی کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہوں؟ جس سے میں عاجز آجاؤں۔نبی اکرم ﷺنے فرمایا تم اس کا خیال کیوں نہیں رکھتی ہو؟ وہ تمہاری جنت ہے اور وہ تمہاری جہنم ہے۔
«فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ» ← فَقُلْتُ: مَا آلُو إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ؟ ← «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟» ← «يَا هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ ← أتيت رسول الله في بعض الحاجة ← عَمَّةٍ لَهُ ← حصين بن مُحْصِن ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،
Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 358
