Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 559

559 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْزِلَ ثَمَّ - يَعْنِي الْأَبْطَحَ - وَلَكِنِّي أَنَا ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ ثُمَّ جَاءَهُ فَنَزَلَ»

حضرت ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں پڑاؤ کروں ۔یعنی وادی ابطح میں پڑاؤ کروں تاہم میں نے وہاں خیمہ لگالیا تھا۔ نبی اکرم ﷺتشریف لائے اور آپ ﷺنے وہاں پڑاؤ کیا۔

ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ ثُمَّ جَاءَهُ فَنَزَلَ» ← «لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ أَنْ أَنْزِلَ ثَمَّ يَعْنِي الْأَبْطَحَ وَلَكِنِّي ← أَبِي رَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 559

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 560

560 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانَ وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ فَلَمَّا قَدِمَ صَالِحٌ عَلَيْنَا قَالَ لَنَا عَمْرٌو: اذْهَبُوا إِلَيْهِ فَاسْأَلُوهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ

سفیان کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے یہ روایت صالح بن کیسان کے حوالے سے نقل کی ہے۔ جب صالح ہمارے ہاں تشریف لائے ،تو انہوں نے ہم سے کہا۔ تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرو۔

هَذَا الْحَدِيثَ ← لَنَا عَمْرٌو: اذْهَبُوا إِلَيْهِ فَاسْأَلُوهُ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ فَلَمَّا قَدِمَ صَالِحٌ عَلَيْنَا ← بِهَذَا الْحَدِيثِ ← سُفْيَانَ وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 560

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 561

561 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعْ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ لَا نَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ» [ص:474] قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَحْفَظُ لِأَنِّي سَمِعْتُهُ أَوَّلًا؟ وَقَدْ حَفِظْتُ هَذَا أَيْضًا

عبید الدین ابورافع اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں۔"میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ہر گز ایسی حالت میں نہ پاوں کہ وہ اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہواہو۔ اس کے پاس ہمارے احکام میں سے کوئی حکم آئے جوحکم ہم نے دیاتھا جس چیز سے ہم نے منع کیا تھا ،تو وہ یہ کہے :مجھے نہیں معلوم ہمیں اللہ کی کتاب میں نہیں ملا۔ ورنہ ہم اس کی پیروی کر لیتے“۔ حمیدی ؒکہتے ہیں ۔ سفیان نے یہ بات بیان کی ہے ابن منکدر کی روایات کو میں نے زیادہ اچھے طریقے سے یاد رکھا ہوا ہے، میں نے سب سے پہلے یہ روایت ان سے سنی تھی اور میں نے یہ روایت یاد بھی رکھی ہے۔

سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ مُرْسَلًا ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 561

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 562

562 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يَقُولُ: أَخَذَ الْمِسْوَرُ بْنُ الْمَخْرَمَةِ بِيَدِي فَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَخَرَجْتُ مَعَهُ وَإِنَّ يَدَهُ لَعَلَى أَحَدِ مَنْكِبَيَّ فَجَاءَ إِلَيْهِ أَبُو رَافِعٍ فَقَالَ لِلْمِسْوَرِ: أَلَا تَأْمُرُ هَذَا - يَعْنِي سَعْدًا - يَشْتَرِي مِنْ بَيْتِي الَّذِي فِي دَارِهِ فَقَالَ سَعْدٌ: لَا وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ إِمَّا قَالَ مُقَطَّعَةً، وَإِمَّا قَالَ مُنَجَّمَةً قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو رَافِعٍ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَمْنَعُهَا مِنْ خَمْسِمِائَةِ دِينَارٍ نَقْدًا؟ وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا بِعْتُكَ»

عمرو بن شر ید بیان کرتے ہیں ۔ حضرت مسور بن مخرمہ ؓنے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے :تم میرے ساتھ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکے پاس چلو۔ میں ان کے ساتھ گیا۔ ان کا ایک ہاتھ میرے کندھے پر تھا۔ حضرت ابورافع ؓان کے پاس آئے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے کہا۔ کیا آپ انہیں یعنی حضرت سعد ؓکو یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنے محلے میں موجود میرا گھر خرید لیں ،تو حضرت سعد ؓ بولے :نہیں ! اللہ کی قسم میں چارسودینار سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا۔ اور وہ ادائیگی بھی قسطوں میں ہوگی (یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) راوی کہتے ہیں: تو حضرت ابورافع ؓ نے ان سے کہا۔ اللہ کی قسم میں تو پانچ سودینارنقد میں منع کر چکا ہوں۔ اگر میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہوتا۔ "پڑوسی اپنی قریبی جگہ کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔“ تو میں یہ آپ کوفروخت نہ کرتا۔

عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 562

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 563

563 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُمَا سَمِعَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ أَسْمَعْ إِلَّا هَذَا

حضرت حکیم بن حزامؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺسے کچھ مانگا آپ ﷺنے وہ مجھے عطا کر دیا میں نے پھر آپ ﷺسے مانگا آپ ﷺنے مجھے وہ عطا کر دیا میں نے پھر آپ ﷺسے مانگا آپ ﷺنے مجھے عطا کر دیا۔ پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا:"یہ مال سر سبز اور میٹھا ہے۔ جوشخص دل کی خوشی کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جوشخص لالچ کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی ہے اور اس کی مثال اس طرح ہوتی ہے۔ جوشخص کھانے کے باوجود سیرنہیں ہوتا اور اوپر والاہاتھ نیچےوالے ہاتھ سے بہتر ہے۔"سفیان کہتےہیں: میں نے صرف یہی الفاظ(اپنے استادسے)سنے ہیں۔

سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُمَا سَمِعَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 563

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 564

564 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ. . . . . قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْتَقْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرْبَعِينَ مُحَرَّرًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَبَقَ مِنْ خَيْرٍ»

حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول الله ! میں نے زمانہ جاہلیت میں چالیس غلام آزاد کیے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا:"تم نے پہلے جو نیکیاں کی تھیں اسی وجہ سے تم نے اسلام قبول کیا ہے۔"

قُلْتُ ← حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 564

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 565

565 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأنَا أَحْمَدُ، وَأنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ»

محمد بن جبیرا پنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ "میرے کچھ نام ہیں ۔ میں محمد ہوں میں احمد ہوں ۔ میں ماحی (مٹانے والا) ہوں ۔ میرے ذریعے کفر کو مٹایا گیا۔ میں حاشر ہوں لوگوں کو میرے قدموں میں جمع کیا جائے گا۔ میں عاقب ہوں ۔ وہ عاقب (بعد میں آنے والا ) جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا‘‘

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 565

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 566

566 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ «سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ» [ص:477] قَالَ سُفْيَانُ: قَالُوا فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِنَّ جُبَيْرًا قَالَ: «سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُشْرِكٌ فَكَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ» وَلَمْ يَقُلْهُ لَنَا الزُّهْرِيُّ

محمد بن جبیر بن معطم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺکو مغرب کی نماز میں سورہ طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سفیان نے یہ بات بیان کی ہے۔ محدثین نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں، حضرت جبیرؓ یہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو اس وقت سنا تھا۔ جب میں مشرک تھا۔ اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرا دل اڑ جائے گا (یعنی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ) تا ہم زہری نے یہ الفاظ ہمارے سامنے بیان نہیں کیے۔

«سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ ← فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِنَّ جُبَيْرًا ← سُفْيَانَ، ← رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ» [ص:477] ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 566

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 567

567 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ» قَالَ سُفْيَانُ «تَفْسِيرُهُ قَاطِعُ رَحِمٍ»

محمد بن جبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "قطعہ رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ "سفیان کہتے ہیں ۔ اس سے مراد قطعہ رحمی کرنے والا ہے۔

سُفْيَانُ «تَفْسِيرُهُ قَاطِعُ رَحِمٍ» ← لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 567

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 568

568 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ أَبِيهِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ مُطْعَمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى أَوْ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى لَأَطْلَقْتُهُمْ لَهُ - يَعْنِي أُسَارَى بَدْرٍ -» وَكَانَ سُفْيَانُ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ؟ فَذَكَرَ فِيهِ الْخَبَرَ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا يَدَعُهُ، وَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْخَبَرَ فَرُبَّمَا قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ

محمد بن جبیر اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ "اگر معلم بن عدی اب زندہ ہوتا اور پھر وہ ان قیدیوں کے بارے میں مجھ سے بات چیت کرتا ،تو میں انہیں چھوڑدیتا ۔"نبی اکرم ﷺ کی مراد بدر کے قیدی تھے۔(امام حمیدیؒ کہتے ہیں) جب سفیان اس نوعیت کی حدیث بیان کرتے تھے اور اس میں حدیث کے الفاظ بھی ذکر کرتے تھے، تو وہ انشاء اللہ ضرور کہا کرتے تھے۔ وہ اسے ترک نہیں کرتے تھے۔ لیکن اگر وہ اس میں روایت کے الفاظ بیان نہیں کرتے تھے ،تو بعض اوقات انشاء اللہ کہہ دیتے تھے اور بعض اوقات انشاء اللہ نہیں کہتے تھے۔

أَبِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيُّ وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 568

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 569

569 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ فَقُلْتُ: هَذَا مِنَ الْحُمْسِ مَا شَأْنُهُ هَاهُنَا قَالَ سُفْيَانُ: وَالْأَحْمَسُ الشَّدِيدُ عَلَى دِينِهِ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُسَمَّى الْحُمْسَ وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدِ اسْتَهْوَاهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ إِنْ عَظَّمْتُمْ غَيْرَ حَرَمِكُمُ اسْتَخَفَّ النَّاسُ بِحَرَمِكُمْ فَكَانُوا لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الْحَرَمِ "

محمد بن جبیر ؓاپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہوگیا۔ میں اس کی تلاش میں عرفہ آیا، تو میں نے نبی اکرمﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺلوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف کیے ہوئے ہیں۔ میں نے سوچا ان کا تعلق خمس(یعنی قریش) کے ساتھ ہے۔ یہ یہاں کیا کررہے ہیں؟سفیان کہتے ہیں : احمس اس شخص کو کہا جاتا ہے، جو دینی اعتبار سے سخت ہو قریش کا نام "حمس"رکھا گیاتھا ۔ کیو نکہ شیطان نے انہیں ایک غلط فہمی کا شکار کردیا تھا۔ اس نے انہیں یہ کہا۔ کہ اگرتم لوگ اپنے حرم سے باہر کی جگہ کی تعظیم کرو گے، تو لوگ تمہارے حرم کی حدود کوکم تر محسوس کرنا شروع کردیں گے۔ اس لیے وہ لوگ حرم کی حدود سے باہرنہیں جاتے تھے۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 569

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 570

570 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا حُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَعْرَجُ أَخُو عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقِفُ سِنِيهِ كُلِّهَا بِعَرَفَةَ»

مجاہد بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ہمیشہ عرفہ میں ہی وقوف کیا ہے۔

مُجَاهِدٍ ← حُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَعْرَجُ أَخُو عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 570

chevron_left Previous
1…646566…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter