مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مَالِكٍ الْجُشْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 907
907 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْجُشْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرِ وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَرَبُّ إِبِلٍ أَنْتَ، أَوْ رَبُّ غَنَمٍ؟» ، وَكَانَ يُعْرَفُ رَبُّ الْإِبِلِ مِنْ رَبِّ الْغَنَمِ بِهَيْئَتِهِ، فَقُلْتُ: مِنْ كُلٍّ قَدْ أَتَانِيَ اللَّهُ فَأَكْثَرَ، فَقَالَ: «أَلَسْتَ تُنْتِجُهَا وَافِيَهً أَعْيُنُهَا وَآذَانُهَا فَتَجْدَعُ هَذِهِ وَتَقُولُ صُرْمٌ، وَتُهِنُ هَذِهِ فَتَقُولُ بَحِيرَةٌ، وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ، وَمُوسَاهُ أَحَدُّ، لَوْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَكَ بِهَا صَرْمَاءَ فَعَلَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلْامَ تَدْعُو؟ قَالَ: «لَا شَيْءَ إِلَّا اللَّهَ وَالرَّحِمَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بُعِثْتَ بِهِ؟ قَالَ: " أَتَتْنِي رِسَالَةٌ مِنْ رَبِّي فَضِقْتُ بِهَا ذَرْعًا، وَخِفْتُ أَنْ يُكَذِّبَنِي قَوْمِي، فَقِيلَ لِي: لَتَفْعَلَنَّ أَوْ لَنَفْعَلَنَّ كَذَا، وَكَذَا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي، فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهِ، وَلَا أَصِلَهُ، قَالَ: «كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ» [ص:134]، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ أَحَدُهُمَا لَا يَخُونُكَ، وَلَا يَكْتُمُكَ حَدِيثًا، وَلَا يَكْذِبُكَ، وَالْآخَرُ، يَكْذِبُكَ وَيَكْتُمُكَ، وَيْخُونُكَ، أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ» ؟، قُلْتُ: الَّذِي لَا يَكْذِبُنِي، وَلَا يَخُونُنِي، وَلَا يَكْتُمُنِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ»
عوف بن مالک جشمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺنے اوپر سے نیچے تک میرا جائزہ لیا پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا: کیا تم اونٹوں کے مالک ہو؟ کیا تم بکریوں کے مالک ہو؟(راوی کہتے ہیں) اونٹوں کا اور بکریوں کا مالک اپنی مخصوص ہیئت کی وجہ سے شناخت ہو جاتا تھا۔ میں نے عرض کی : مجھے الله تعالیٰ نے ہر چیز عطا کی ہے اور بکثرت عطا کی ہے، تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: کیا اونٹنی اپنے ہاں (پیدا ہونے والے بچے کو)سلامت آنکھوں اور کانوں کے ساتھ جنم نہیں دیتی ہے؟ پھر کسی کا کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو یہ ’’صر ماء "ہے ،کوئی دوسری کمزور ہو جاتی ہے ،تو تم کہتے ہویہ "بحیرہ"ہے۔ تو الله تعالیٰ کا حکم زیادہ پختہ اور اس کی تلقین زبردست ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے کان کٹا ہواہی پیدا کرسکتا تھا۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا: یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ میں نے عرض کی:یارسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺکوکون سے احکام کے ساتھ معبوث کیا گیا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میرے پروردگار کی طرف سے رسالت میری طرف آئی ہے، تو مجھے اس کی وجہ سے مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں میری قوم مجھے جھٹلا نہ دے تو مجھ سے یہ کہا گیا:یا تو آپﷺایسا ،ایسا کریں گے ورنہ پھر ہم یہ ،یہ کر دیں گے۔ میں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ) ! میراچچازاد میرے پاس آتا ہے اور پھر میں قسم اٹھالیتا ہوں کہ میں اسے کچھ نہیں دوں گا اس کے ساتھ صلہ رحمی نہیں کروں گا ،تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تم اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے ،تمہارے دو غلام ہوں ان میں سے ایک تمہارے ساتھ خیانت نہ کرتا ہو اور تم سے کوئی بات نہ چھپاتا ہو اور تمہارے ساتھ جھوٹ نہ بولتا ہوجبکہ دوسر اتمہارے ساتھ جھوٹ بھی بولتاہو تم سے باتیں چھپانا بھی ہو اور تمہارے ساتھ خیانت بھی کرتا ہو، تو ان دونوں میں سے کون تمہارے نزدیک پسندیدہ ہوگا؟ میں نے عرض کی جو میرے ساتھ جھوٹ نہ بولے: میرے ساتھ خیانت نہ کرے اور مجھ سے کوئی بات نہ چھپائے،تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:"اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تم لوگ بھی اسی طرح ہو"۔
أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرِ وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ ← أَبِيهِ ← عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْجُشَمِيِّ ← أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،
Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 907
