Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 395

395 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحْ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا غَيْرُكَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ: «مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ أُنْزِلَتْ غَيْرُكَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ»

عطاء بن یسارمصر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے حضرت ابودر داءؓ سےاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا۔"وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے پرہیز گاری اختیار کی ان کے لیے دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے"۔تو حضرت ابودرداء ؓبولے: جب سے میں نے نبی اکرم ﷺسے اس بارے میں دریافت کیا ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک کسی نے تمہارے علا وہ مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ صرف ایک اورشخص نے یہ سوال کیا تھا۔ میں نے نبی اکرم سﷺے اس بارے میں یہ دریافت کیا تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:"جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس وقت سے لے کر اب تک تمہارے علاوہ اور کسی نے بھی اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا۔ صرف ایک شخص نے کیا ہے(اس سے مراد )وہ سچے خواب ہیں ۔ جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے۔ (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو کسی مسلمان کو دکھائے جاتے ہیں"۔

قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ← رجل من أهل مصر، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 395

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 396

396 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: سُفْيَانُ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ رَفِيعٍ فَحَدَّثَنِيهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ [ص:379] عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابودرداءؓ کے حوالے سے منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ [ص:379] ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانُ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ رَفِيعٍ فَحَدَّثَنِيهِ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 396

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 397

397 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُمَلَّكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ»

سیده اُم درداءؓ، حضرت ابو دارداءؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: ”جسے نرمی میں سے حصہ عطا کیا گیا۔ اسے بھلائی میں سے حصہ عطا کیا گیا اور جوشخص نرمی میں سے حصے سے محروم رہا وہ بھلائی میں حصے سے محروم رہا"۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 397

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 398

398 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُمَلَّكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَثْقَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ خُلُقٌ حَسَنٌ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِئَ»

سیده ام درداء ؓ، حضرت ابو درداءؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتی ہیں۔ "میزان میں سب سے وزنی چیز اچھے اخلاق ہیں اور الله تعالٰی برے اخلاق کے مالک بدزبان شخض کو ناپسند کرتا ہے"۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 398

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 399

399 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَبِي يَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ» فَأَضِعْ ذَلِكَ أَوِ احْفَظْهُ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ إِنَّ أُمِّي وَرُبَّمَا قَالَ إِنَّ أُمِّي وَأَبِي

حضرت ابودر داءؓ کے بارے میں منقول ہے: ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے کہا: میرے والد مجھےیہ حکم دے رہے ہیں کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں ،تو حضرت ابو درداءؓ بولے: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے:"والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔(یہ تمہاری مرضی ہے) کہ تم اسے ضائع کر تے ہو یا اس کی حفاظت کرتے ہو"۔ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میری والدہ نے مجھےیہ حکم دیا ہے۔ اور بعض اوقات انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میری والدہ نے (رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے والد نے مجھے یہ حکم دیا ہے۔

إِنَّ أُمِّي وَأَبِي ← سُفْيَانُ إِنَّ أُمِّي وَرُبَّمَا ← «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ» فَأَضِعْ ذَلِكَ أَوِ احْفَظْهُ، وَرُبَّمَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ ← لَهُ: إِنَّ أَبِي يَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا، ← أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 399

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 400

400 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَرَأْتُ بِالشَّامِ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى) فقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: هَكَذَا سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ «سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ {وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى} »

علقمہ بیان کرتے ہیں: میں نے شام میں یہ آیت تلاوت کی:والیل اذا یغشی والنھاراذا تجلی والذکرولا نثی تو حضرت ابودرداء ؓنے دریافت کیا۔ کیا تم نے حضرت عبداللہؓ کو یہ آیت اس طرح تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے میں نے جواب دیا: جی ہاں تو وہ بولے : اور انہوں نے گواہی دے کر یہ بات بیان کی کہ انہوں نے نبی اکرمﷺکو یہ آیت اسی طرح پڑھتے ہوئے سناہے: والذكر والأنثی.

رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ {وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى} ← هو يشهد أنه ← عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ ← أبو الدرداء هكذا ← بالشام والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى والذكر والأنثى ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 400

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 401

401 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ فَقَالَ: أَوَ يَأْكُلُهَا أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: إِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي يَتَحَبَّلُونَهَا فَيَأْكُلُونَهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَكْلُهَا [ص:381]، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: أَلَا أُخْبِرُكَ مِمَّا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ نُهْبَةٍ، وَعَنْ كُلِّ خَطْفَةٍ خَطَفَهُ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ» فَقَالَ سَعِيدٌ صَدَقْتَ

عبداللہ بن یزید سعدی بیان کرتے ہیں : میں نے سعید بن مسیب سے بجو کھانے کے بارے میں دریافت کیا ،تو وہ بولے : کیا کوئی شخص اسے کھا سکتا ہے؟ میں نے کہا: میری قوم سے تعلق رکھنے والے لوگ اس کا شکار کر کے اسے کھاتے ہیں ،تو سعید بولے: اسے کھانا درست نہیں ہے ت،تو ان کے پاس موجود ایک عمر رسیدہ صاحب بولے: کیا میں آپ کو اس چیز کے بارے میں بتاؤں۔ جو میں نے حضرت ابو درداء ؓ کی زبانی سنی ہے میں نے حضرت ابو درداء ؓکو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی اکرم ﷺنے زندہ جانور سے کاٹے جانے والے عضو اور نشانہ بنا کر مارے جانے والے جانور، ہر نوکیلے دانتوں والے جانور کو کھانے سے منع کیا ہے تو سعید بولے: آپ نے سچ کہا ہے۔

سَعِيدٌ: صَدَقْتَ ← كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ ← الْمُجَثَّمَةِ. ← كُلِّ خَطْفَةٍ خَطَفَهُ، ← كُلِّ نُهْبَةٍ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ← شَيْخٌ عِنْدَهُ: أَلَا أُخْبِرُكَ مِمَّا ← سَعِيدٌ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَكْلُهَا [ص:381]، ← أَوَ يَأْكُلُهَا أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: إِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي يَتَحَبَّلُونَهَا فَيَأْكُلُونَهَا، ← أكل الضبع، ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 401

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter