Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 455

455 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوانِ الْكَاهِنِ»

حضرت ا بو مسعود انصاری ؓبیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت ،فاحشہ عورت کے معاوضے اور کاہن کی مٹھائی (یا معاوضے )سے منع کیا ہے۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ← الزهري أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 455

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 456

456 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخَّرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَوْمًا الصَّلَاةَ فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ حَتَّى عَدَّ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ» فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عُرْوَةُ وَانْظُرْ مَا تَقُولُ، قَالَ عُرْوَةُ أَخْبَرَنِيهِ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زہری بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز نے نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جبرئیل ؑ نازل ہوئے انہوں نے میری امامت کی میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ پھر وہ نازل ہوئے انہوں نے میری امامت کی۔ میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ پھر وہ نازل ہوئے انہوں نے میری امامت کی ،تو میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی، یہاں تک کہ راوی نے پانچ نمازوں کا تذکرہ کیا تو عمربن عبدالعزیز نے ان سے کہا:"اللہ سے ڈرو۔ اے عروہ!اور اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو "تو عروہ نے کہا: بشر بن ابومسعود نے اپنے والد (حضرت ابومسعود انصاری ؓ) کے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے، یہ روایت مجھے سنائی ہے۔

أَخَّرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَوْمًا الصَّلَاةَ فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 456

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 457

457 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ» قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ: ثُمَّ لَقْيتُ أَبَا مَسْعُودٍ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ»

حضرت ابومسعود انصاریؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:۔"جو شخص رات کے وقت سورۃبقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کرے ، تو یہ دونو ں اس کے لیے کافی ہوں گی"۔ عبدالرحمن بن یزید نامی راوی کہتے ہیں: بعد میں میری ملاقات طواف کے دوران حضرت ابومسعود انصاری ؓسے ہوئی میں نے ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا ،توانہوں نے مجھے یہ بات بتائی۔ نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جوشخص رات کے وقت سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات تلاوت کرلے ،تو یہ دونوں اس کے لیے کافی ہوں گی"۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 457

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 458

458 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَخَلَّفُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلَانٍ قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ غَضَبُهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَالسَّقِيمَ، وَالضَّعِيفَ، وَذَا الْحَاجَةِ»

حضرت ابومسعود ؓبیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں صبح کی نماز با جماعت میں اس لیے نہیں شریک ہو پایا۔ کونہ فلاں صاحب ہمیں طویل نماز پڑھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : وعظ ونصیحت کرتے ہوئے میں نے نبی اکرم ﷺکو اس دن جتنے غصے میں دیکھا۔ اتنا غصے میں کبھی نہیں دیکھا۔ پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا:"تم میں سے بعض لوگ متنفر کر دیتے ہیں۔ تم میں سے بعض لوگ متنفر کر دیتے ہیں۔ جس شخص نے لوگوں کو نماز پڑھانی ہو۔ وہ مختصر نماز پڑھائے ،کیونکہ لوگوں میں بڑی عمر کا آدمی، بیمار آدمی، کمزور آدمی اور کام کاج والا آدمی بھی ہوتے ہیں"۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبَا مَسْعُودٍ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 458

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 459

459 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ [ص:416]، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ» قَالَ سُفْيَانُ هَكَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ: «لَا تُجْزِئُ لَا تُجْزِئُ»

حضرت ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"ایسی نماز درست نہیں ہوتی جس میں آدمی رکوع اور سجدے کے دوران اپنی پشت کو درست نہیں رکھتا"۔ سفیان کہتے ہیں:اعمش نامی راوی نے یہ روایت اسی طرح بیان کی ہے۔ روایت کے الفاظ لا ترجی اس کی امید نہیں کی جا سکتی، یعنی وہ درست نہیں ہوتی۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَعْمَرٍ [ص:416]، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 459

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 460

460 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: انْكَسَفَ الشَّمْسُ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتٍ وَلَا حَيَاةٍ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَإِلَى الصَّلَاةِ»

حضرت ابو مسعو د ؓ بیان کرتے ہیں۔ جس دن نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابرا ہیم ؓ کا انتقال ہوا۔ اس دن سورج گرہن ہوگیا، تو لوگوں نے کہا: حضرت ابراہیم ؓ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ، تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: "بے شک سورج اور چاند اللہ تعالی ٰ کی دو نشانیاں ہیں : یہ کسی کے جینے یا مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں جب تم انہیں(گرہن کی حالت میں ) دیکھو، تو اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف تیزی سے جاو"۔

اللہِ، وَإِلَی الصِّلاۃِ)) ← النَّاسُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ← انْكَسَفَ الشَّمْسُ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا مَسْعُودٍ، ← قَيْسًا ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 460

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 461

461 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ يَقُولُ: «لَا تَخْتَلِفُوا فَتْخَتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَلْيَلِيَنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَكُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَكُمْ»

حضرت ابو مسعودؓانصاری ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نماز شروع ہونے سے پہلے ہمارے کندھے سیدھے کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے تھے: "تم لوگ آپس میں اختلاف نہ کرو(یعنی آگے پیچھے کھڑے نہ ہو)ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف آجائے گا اور تم میں سے سمجھدار اور تجربہ کار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں ، پھر اس کے بعد وہ لوگ ہوں جو ان کے قریب کے مرتبے کے ہیں پھر وہ لوگ ہوں جو ان کے قریب کے مرتبے کے ہوں "۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُقِيمُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلاةِ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 461

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 462

462 - قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْنَاهُ مِنَ الْأَعْمَشِ وَلَمْ نَجِدْهُ هَاهُنَا بِمَكَّةَ قَالَ وَسَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ رَجَاءٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمَّ رَجُلٌ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ»

حضرت ابو مسعود انصاری ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جواللہ کی کتاب زیادہ اچھے طریقے سے پڑھ سکتا ہو اگر وہ لوگ قرات میں برابر ہوں ،تووہ شخص کرے جوسنت کا زیادہ علم رکھتاہو اگر وہ لوگ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں ،تو وہ شخص کرے ،جس نے ہجرت پہلے کی ہو اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص کرے ،جس کی عمر زیادہ ہو اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی حکومت میں امامت نہ کرے ۔ اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر بیٹھنے۔ البتہ اس کی اجازت کے ساتھ ایساکیا جاسکتا ہے"۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أوس بن ضمعج الحضرمي ← وَسَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ رَجَاءٍ ← سُفْيَانُ حَفِظْنَاهُ مِنَ الْأَعْمَشِ وَلَمْ نَجِدْهُ هَاهُنَا بِمَكَّةَ

Hadith 462

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 463

463 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمْ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجَفَا وَالْقَسْوَةُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ مِنْ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ»

حضرت ابومسعود ؓنبی اکرم ﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "ربیعہ اور مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جواونٹوں کو ان کی دم کی طرف سے ہانک کر لے جاتے ہیں ان میں جفا ، سختی اور شدت پسندی پائی جاتی ہے"۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 463

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter