Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 805

805 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} [الزخرف: 77] "

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکومنبر پر یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے:"اور وہ ندادیں گے:اے مالک!"

النَّبِيَّ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} [الزخرف: ← أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 805

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 806

806 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَحُمِلْتُ فِيهَا عَلَى بَكْرٍ، وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلِي فِي نَفْسِي، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ عَلَى يَدِهِ، فَانْتَزَعَهَا مَنْ فِيهِ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ، وَأَهْدَرَهَا» [ص:43]

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم ﷺکے ہمراہ غزوہ تبوک میں شریک ہوا میں نے اس جنگ میں اللہ کی راہ میں ایک جوان اونٹ دیا تھا جو میرے نزدیک میرا سب سے بہترین عمل تھا۔ میں نے اس شخص کو ملازم رکھا اس کی ایک اورشخص کے ساتھ لڑائی ہوگئی۔ اس نے اس کے ہاتھ پر کاٹا تو دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو پہلے شخص کے سامنے کے دانت گر گئے۔ وہ نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہواتونبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:"کیا وہ اپنے ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا؟ تاکہ تم اسے یوں چبالیتے۔ جس طرح اونٹ چباتا ہے"۔ تو نبی اکرم ﷺنے اس کے نقصان کو کالعدم قراردیا۔

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 806

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 807

807 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى، وَلَمْ يُسْنِدْهُ، وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا ضَمَّهُمَا فَأَدْرَجَ فِيهِ الْإِسْنَادَ، فَإِذَا فَصَلَهُمَا جَعَلَ حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ مُسْنَدًا، وَجَعَلَ حَدِيثَ عَمْرٍو مُرْسَلًا

ایک سند کے ساتھ یہ روایت عطاء نے بیان کی ہے اور انہوں نے اس کی سند بیان نہیں کی ۔ سفیان نامی راوی بعض اوقات ان دونوں روایات کو ایک ساتھ ذکر کر دیتے ہیں اور اس کی سند میں ادراج کرتے ہیں، لیکن جب وہ ان دونوں روایات کو الگ سے نقل کرتے ہیں:تو وہ ابن جریج سے منقول روایت کو "مسند" روایت کے طور پرنقل کرتے ہیں: اور عمرو سے منقول روایت کو ”مرسل "روایت کے طور پرنقل کرتے ہیں۔

عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 807

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 808

808 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَةٌ يَعْنِي جُبَّةً وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَهَذِهِ عَلَيَّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ؟» ، فَقَالَ: كُنْتُ أَغْسِلُ هَذَا الْخُلُوقَ، وَأَنْزِعُ هَذِهِ الْمُقَطَّعَةَ [ص:44]، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے ساتھ "جعرانہ‘‘ کے مقام پر موجود تھے۔ ایک شخص آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا۔ اور وہ خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا ہے اور یہ پہنا ہوا ہے ،تو نبی اکرمﷺنے ارشاد فر مایا:"تم نے حج کرنا ہوتا، تو تم کیا کرتے؟ " اس نے عرض کی۔ پھر میں اس خوشبو کو دھو لیتا اور اس قبےکو اتار دیتا (اور ان سلالباس پہنتا) تونبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: "جو تم نے اپنے حج میں کرنا ہوتا ہے۔ وہی اپنے عمرے میں کرو۔"

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 808

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 809

809 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ دَعَانِي عُمَرُ، فَأَتَيْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى ثَوْبًا فَكَشَفَ لِي عُمَرُ وَجْهَهُ، فَإِذَا هُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ» ، وَقَدْ كَانَ جَاءَهُ رَجُلٌ قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا هُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَةٌ، فَقَالَ: إِنِّي أَحْرَمْتُ وَعَلَيَّ هَذِهِ، فَقَالَ السَّائِلُ: هَا أَنَا ذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ؟» ، قَالَ: كُنْتُ أَغْسِلُ هَذَا الْخُلُوقَ، وَأَنْزِعُ هَذِهِ الْمُقَطَّعَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓسے یہ کہا: میری یہ خواہش ہے ،میں نبی اکرمﷺکو اس وقت دیکھوں جب نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہورہی ہوتی ہے۔ حضرت یعلیٰ ؓ کہتے ہیں ۔ ہم "جعرانہ" کے مقام پر موجود تھے حضرت عمر ؓنے مجھے بلوایا۔ میں ان کے پاس آیا ،تو نبی اکرمﷺپراس وقت چادر ڈال دی گئی تھی، تو حضرت عمر ؓنے نبی اکرم ﷺکے چہرے سے کپڑا ہٹا کر مجھے دکھایا ،تو آپ ﷺکا چہرہ مبارک سرخ ہورہا تھا۔ جب نبی اکرم ﷺکی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپﷺنے یہ ارشادفرمایا:سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس سے پہلے ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ وہ خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا۔ اور اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس نے عرض کی تھی ۔ میں نے یہ جبہ پہن کر احرام باندھا ہے (حضرت یعلیٰؓ بیان کرتے ہیں) اس سائل نے عرض کی۔ میں یہاں ہوں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تم اپنے حج میں کیا کرتے ؟ وہ بولا: میں اس خوشبو کو دھو لیتا اور جبے (یعنی سلے ہوئے کپڑے )کو اتار دیتا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:”جوتم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو۔“

قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنِّي أَشْتَهِي ← أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 809

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter