Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 551

551 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ»

حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں، بنی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "مسلمان کسی کا فرکا وارث نہیں بنے گا اور کافر ، مسلما ن کا وارث نہیں بنے گا۔"

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 551

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 552

552 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطَمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟ إِنِّي لَأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ»

حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ ایک گھر سے جھانک کر دیکھااور ارشاد فرمایا:"کیا تم لوگ وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں ، میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں ۔ جو تمہارے گھروں میں یوں گر رہے ہیں جس طرح بارش کے قطرے گرتے ہیں ۔"

أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى أُطَمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 552

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 553

553 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كَمْ مَرَّةٍ لَا أُحْصِيهِ لَا أَعُدُّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ «كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ؟ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ» قَالَ سُفْيَانُ قَالَ هِشَامٌ «وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ»

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ حضرت اسامہ بن زید ؓ سے سوال کیا گیا میں اس وقت ان کے پہلو میں موجود تھا ۔ وہ عرفہ سے مزدلفہ آنے تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سواری پر بیٹھے رہے تھے ۔ (سوال یہ تھا)نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے تھے ۔ تو آپﷺ کس رفتار سے چلے تھے ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺدرمیانی رفتار سے چلتے رہے تھے ۔ جب کوئی بلندی آتی تھی ، تو آپ ﷺرفتار ذرا تیز کر دیتے تھے۔ سفیان نے ہشام کا یہ قول نقل کیا ہے نص کا لفظ عنق کے مقابلے میں ذرا زیادہ تیز رفتار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كَمْ مَرَّةٍ لَا أُحْصِيهِ لَا أَعُدُّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 553

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 554

554 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى سَعْدٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الطَّاعُونِ وَعِنْدَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ [ص:469] فَقَالَ أُسَامَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى أُنَاسٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَوْ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَهُوَ يَجِيءُ أَحْيَانًا، وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا» فَقَالَ عَمْرٌو: «فَلَعَلَّهُ لِقَوْمٍ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ وَلِقَوْمٍ شَهَادَةٌ» قَالَ سُفْيَانُ «فَأَعْجَبَنِي قَوْلُ عَمْرٍو هَذَا»

عامر بن سعد بیان کرتے ہیں ۔ ایک شخص حضرت سعدؓکی خدمت میں طاعون کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا تو اس وقت ان کے پاس حضرت اسامہ بن زید ؓ بھی موجود تھے حضرت اسامہؓ نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: "یہ عذاب ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)یہ سزاہے۔ جوتم سے پہلے کچھ لوگوں کی طرف بھیجی گئی تھی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجی گئی تھی، تو کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے ،تو جب بی کسی ایسی زمین میں واقع ہو جہاں تم موجود ہو ،تو تم اس جگہ سے فرار اختیارکرتے ہوئے وہاں سے باہرنہ نکلو۔ اور جب تم کسی جگہ کے بارے میں اس کے بارے میں سنوتو تم اس جگہ میں داخل نہ ہو۔ عمرو نامی راوی کہتےہیں: ہو سکتاہے یہ کسی قوم کے لیے عذاب اور گناہ ہو اور کسی دوسری قوم کے لیے شہادت ہو۔ سفیان کہتے ہیں۔ مجھے عمر وکی یہ بات بہت اچھی لگی۔

أُسَامَةُ، ← الطَّاعُونِ وَعِنْدَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ← جاءَ رجلٌ إلى سعدٍ يسألُهُ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 554

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 555

555 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثني عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: " كَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا لَمْ يَرْفَعْهُ؟ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَتَّقِيهِ أَحْيَانًا لِكَرَاهِيَةِ الصَّرْفِ؟ فَأَمَّا مَرْفُوعٌ فَهُوَ مَرْفُوعٌ "

حضر ت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے میں۔ حضرت اسامہ بن زیدؓنے مھے ی بات بتائی ہے۔نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:”سودادھار میں ہوتا ہے۔"ابو بکر حمیدی ؒ کہتے ہیں :سفیان بعض اوقات اس حدیث کو "مرفوع "حدیث کے طور پرنقل نہیں کرتے۔ ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو وہ بولے :بعض اوقات میں بیع صرف کرنا پسند کرنے کی وجہ سے اس روایت کو بیان کرنے سے بچتا ہوں باقی جہاں تک ”مرفوع" روایت کا تعلق ہے تویہ "مرفوع "ہی ہے۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 555

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 556

556 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا تَرَكْتُ بَعْدِي عَلَى أُمَّتِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ»

حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: ”میں نے اپنے بعد اپنی امت کے لیے ایسی کوئی آزمائش نہیں چھوڑی جو مردوں کے لیےخواتین سے بڑھ کے ہو۔"

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانُ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 556

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 557

557 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: قِيلَ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَلَا تُكَلِّمُ عُثْمَانَ؟ فَقَالَ: تَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أَسْمَعَكُمْ؟ إِنِّي لَأُكَلِّمُهُ دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ لِرَجُلٍ إِنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا أَنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى بِرَجُلٍ كَانَ وَالِيًا فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فَيَدُورُ فِي النَّارِ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَا، فَيُجْمَعُ إِلَيْهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ: أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَيَقُولُ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ "

ابووائل بیان کرتے ہیں ۔ حضرت اسامہ بن زیدؓسے کہا گیا: آپ حضرت عثمانؓ کے ساتھ بات نہیں کریں گے، تو وہ بولے :تم یہ سمجھتے ہو کہ میں جب ان کے ساتھ بات کروں گا، تو تمہیں سنا کر کروں گا۔ حالانکہ میں ان کے ساتھ بات کروںگا ۔لیکن یو ں کہ میں کسی دروازے کو کھولنے والا پہلا فرد نہیں ہوں گا۔ پھر حضرت اسامہ ؓنے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺکویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: زبانی ایک بات سنی ہے تو اس کے بعد میں کسی ایسے شخص کے بارے میں جو میرا امیر ہو یہ نہیں کہوں گا کہ یہ سب سے بہتر ہے میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :”(قیامت کے دن )ایک شخص کو لایا جائے گا، جو دنیا میں حکمران تھا، تو اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا، تو اس کی آنتیں اپنی جگہ سے نکل آئیں گی اور وہ جہنم میں یوں چکر کھائے گا۔ جس طرح گدھا چکی کے گرد چکر لگاتا ہے، تو اہل جہنم اس کے پاس اکٹھے ہو کر کہیں گےتم تو نیکی کاحکم نہیں دیا کرتے تھے۔ اورتم ہمیں برائی سے روکتے نہیں تھے تو وہ کہے گا ۔ میں تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا تھا ، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ اور میں تمہیں برائی سے منع کرتا تھا۔ لیکن خود اس کا ارتکاب کیا کرتا تھا۔"

قِيلَ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَلَا تُكَلِّمُ عُثْمَانَ؟ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 557

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 558

558 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَحَدُهُمَا أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ وَقَالَ الْآخَرُ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنْ أُسَامَةَ وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ قَالَ: «دَفَعْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ؟ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ هَرَاقِ الْمَاءَ، ثُمَّ آتَيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ وَضُوءًا خَفِيفًا؟» فَقُلْتُ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ أَمَامَكُمْ فَلَمَّا أَتَى جَمْعًا صَلَّى صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ حَطُّوا رِحَالَهُمْ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ» [ص:472] قَالَ سُفْيَانُ: " لَمْ يَخْتَلِفْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ وَمُحَمَّدٌ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّ ذَا قَالَ كُرَيْبٌ عَنْ أُسَامَةَ وَقَالَ: هَذَا كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ "

حضرت عبد الله بن عباس ؓحضرت اسامہؓ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺکے عرفہ سے مزدلفہ جانے تک حضرت اسامہ ؓ نبی اکرم ﷺکے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ عرفہ سے روانہ ہوا۔ جب نبی اکرم ﷺکے پاس تشریف لائے ،تو آپ ﷺسواری سے اترے۔ وہاں آپﷺنے پیشاب کیا۔ یہاں راوی نے پانی بہانے کا ذکرنہیں کیا۔ پھر میں برتن لے کر آپﷺکے پاس آیا ،تو آپ ﷺنے مختصر وضو کیا۔ میں نے عرض کی :یارسول الله ﷺ! آپ ﷺنماز ادا کریں گے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: ”نماز آگے ہوگی ۔"پھر نبی اکرم ﷺمزدلفہ تشریف لے آئے وہاں آپ ﷺنے مغرب کی نماز ادا کی پھر لوگوں نے اپنے پالان اتارے۔ پھر نبی اکرم ﷺنے عشاء کی نماز ادا کی۔ سفیان کہتے ہیں۔ ابراہیم بن عقبہ اورمحمد نامی راوی نے اس روایت کی کسی بھی چیز میں اختلاف نہیں کیا۔ صرف اتنا اختلاف ہے ،ایک راوی یہ کہتا ہے ،یہ کریب کے حوالے سے حضرت اسامہ ؓ سے منقول ہے ۔جبکہ دوسرا راوی یہ کہتا ہے، کریب کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓکے حوالے سے حضرت اسامہ بن زید ؓسے منقول ہے۔

أُسَامَةَ وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ ← كُرَيْبٍ، ← الْآخَرِ ← أُسَامَةُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← أَحَدُهُمَا ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 558

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter