Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 523

523 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ الْعَبَّاسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَتَعَجَّبُ مِمَّنَ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ بِالصِّيَامِ وَيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ»

محمد بن حنین بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کوسنا۔ وہ اس شخص پر حیرانگی کا اظہار کررہے تھے، جورمضان کامہینہ شروع کرنے سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓنے فرمایا :نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جب تم اسے(پہلی کے چاندکو)دیکھ لو روزے رکھنا شروع کرو۔ اور جب تم اسے دیکھو تو روزے رکھنا ختم کر دو ۔ اور اگر تم پربادل چھائےہوئے ہوں ، تو تم تیس کی تعدادمکمل کر لو"۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَتَعَجَّبُ مِمَّنَ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ بِالصِّيَامِ وَيَقُولُ: ← مُحَمَّدُ بْنُ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ الْعَبَّاسِ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 523

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 524

524 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ» قَالَ: وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَدْرِي قَالَهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَوْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ رمضان کے مہینے میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے ۔ آپ ﷺنے روزہ رکھا ہوا تھا ۔ جب آپﷺ"کدید" کے مقام پر پہنچے ، تو آپ ﷺروزہ توڑ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺکے آخری طرزعمل کو اختیار کیا جاتا تھا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھےیہ نہیں معلوم کہ زہری نے یہ الفاظ نا عبید اللہ کے حوالے سے نقل کیے ہیں، یا حضرت عبدالله بن عباس ؓکے حوالے سے نقل کیے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 524

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 525

525 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ [ص:452]، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالِيَهُودُ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: «مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟» قَالَ: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ فِيهِ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ»

حضرت عبدالله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺمدینہ منورہ تشریف لائے، تو یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا :تم لوگ اس دن کیوں روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے بتایا:یہ وہ عظیم دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی ٰ ؑ کو نجات عطا کی تھی ۔اور فرعون کے لشکریوں کو اسی دن ڈبو دیا تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے شکر کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم لوگوں کے مقابلے میں ہم حضرت موسی ٰ ؑ کے زیادہ قریب ہیں۔

ما هذا اليوم الذي تصومونه ← ابْنِ عَبَّاسٍ قَدِمَ النَّبِيُّ الْمَدِينَةَ وَالِيَهُودُ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 525

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 526

526 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنْ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهِ الشَّيْطَانُ شَيْئًا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے۔ "اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ! تو ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو رزق (یعنی اولاد ) تو ہمیں عطا کرے گا۔ اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔“ (نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں)"اگر ان کی تقدیر میں(اس صحبت کے نتیجے میں) اولاد ہوئی تو شیطان اسےکسی قسم کانقصان نہیں پہنچا سکے گا"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 526

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 527

527 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا»

حضرت عبدالله بن عباسؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے۔"ثیبہ عورت اپنے ولی کے مقابلے میں اپنی ذات کی زیادہ حقدار ہے اور کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی اس کی خاموشی اس کا اقرار ہوگی۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 527

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 528

528 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا حِينَ لَاعَنَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِيهِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ

حضرت عبدالله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم نے دولعان کرنے والوں کے درمیان لعان کروایا، تو جب وہ پانچویں مرتبہ جملہ کہنے لگا ،تو نبی اکرم ﷺنے ایک شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دے۔ سفیان نامی راوی نے اس روایت میں بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔”بے شک (پانچواں جملہ )واجب کر دے گا (یعنی جھوٹا ہونے کی صورت میں عذاب کو لازم کر دے گا)"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 528

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 529

529 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا» قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں ۔ حضرت عبد الله بن عباس ؓ نے لعان کرنے والے میاں بیوی کا تذکرہ کیا ،تو عبداللہ بن شدادنے ان سےکہا۔ کیا یہی وہ عورت تھی؟ جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺنے یہ فرمایا تھا۔ "اگر میں نے کسی ثبوت کے بغیر کسی کو سنگسار کرنا ہوتا، تو اس عورت کو سنگسار کروادیتا۔" تو حضرت عبدالله بن عباسؓ بولے:"نہیں وہ عورت تو اعلانیہ( گناہ کیا کرتی تھی)"

ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: أَهِيَ الَّتِي ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الزِّنَادِ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 529

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 530

530 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ لِيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ [ص:454] وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَخَيْرُ كِحَالِكُمُ الْإِثْمَدُ؛ إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ»

حضرت عبد الله بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ "تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑے ہیں۔ تمہارے زندہ لوگوں کوو ہی پہننے چاہئیں۔ اور اسی میں تم اپنے مردوں کو کفن دو ۔ اور تمہارے سر موں میں سب سے بہتر اثمد ہے کیونکہ وہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 530

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 531

531 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ غَضَّ النَّاسُ فِي الْوَصِيَّةِ إِلَى الرُّبْعِ لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان فرماتے ہیں اگر لوگ وصیت کے بارے میں ایک چوتھائی حصے پر اکتفاء کریں ،تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہوگا ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا :"ایک تہائی (کے بارے میں وصیت کرنے کی اجازت ہے) ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 531

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 532

532 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْضِهِ عَنْهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے نذر کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا: جوان کی والدہ کے ذمےلا زم تھی ۔ اور ان کی والدہ کا اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے انتقال ہو گیا تھا، تو نبی اکرم ﷺنے ان سے فرمایا۔"تم ان کی طرف سے اسے ادا کر دو“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 532

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 533

533 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺکے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہوا اس نےورثاء میں صرف ایک غلام چھوڑا جسے اس نے آزاد کیا تھا، تونبی اکرم ﷺنے اس شخص کی وراثت اس غلام کو دے دی۔

عَوْسَجَةَ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 533

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 534

534 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ عَنْ تِسْعٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ جب نبی اکرم ﷺکا وصال ہوا۔ اس وقت آپ کی 9ازواج تھیں جن میں سے آپ ﷺ8 ازواج کے لیے وقت تقسیم کیا کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 534

chevron_left Previous
1…616263…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter