Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 535

535 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْفَخَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُتَنَفَّسَ فِيهِ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی ا کرم ﷺنے اس بات سے منع کیا ہے، برتن میں پھونک ماری جائے یا اس میں سانس لیا جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 535

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 536

536 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلُ وَكَانَ ثِقَةً قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى فَقِيلَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ فَقَالَ: «ايْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا» فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالَ مَا شَأْنُهُ؟ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ فَرَدُّوا عَلَيْهِ فَقَالَ: «دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ» قَالَ: وَأَوْصَاهُمْ بِثَلَاثٍ فَقَالَ «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» [ص:458] قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ سُلَيْمَانُ لَا أَدْرِي أَذَكَرَ سَعِيدٌ الثَّالِثَةَ فَنَسِيتُهَا أَوْ سَكَتَ عَنْهَا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ جمعرات کا دن بھی کیا تھا۔ پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوزمین پر گرنے لگے ان سے کہا گیا: اے ابوعباس! جمعرات کے دن کیا ہوا تھا، تو انہوں نے بتایا: جمعرات کے دن نبی اکرم ﷺکی تکلیف میں اضافہ ہوگیا تھا۔ آپ ﷺنے ارشادفرمایا: "میرے پاس کوئی چیز لے کرآو تا کہ میں تمہیں ایک تحریرلکھ دوں تم اس کے بعد بھی گمرا ہ نہیں ہوگے"۔ (حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں) تو حاضرین میں اس بارے میں اختلاف ہو گیا۔ حالانکہ نبیﷺ کی موجودگی میں اس طرح کا اختلاف مناسب نہیں ہے۔ کسی صاحب نے کہا۔ نبی اکرم ﷺکا کیا معاملہ ہے۔ کیا آپﷺکی بات غیر واضح ہے تم لوگ نبی اکرم ﷺسے دریافت کرو۔ لوگوں نے نبی اکرم ﷺسے دوبارہ یہی سوال کیا، تو آپﷺنے ارشادفرمایا: "تم مجھے ایسے ہی رہنے دو۔ میں جس حالت میں ہوں یہ اس سے زیادہ بہتر ہے، جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو۔“ حضرت عبد الله بن عباس ؓنے بتایا:نبی اکرم ﷺنے ان لوگوں کو تین باتوں کی تلقین کی۔ آپ ﷺنے فرمایا: "جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو۔ اور وفودکی اسی طرح مہمان نوازی کرنا۔ جس طرح میں ان کی مہمان نوازی کیا کرتا تھا۔"سفیان کہتے ہیں ۔ سلیمان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ مجھےیہ نہیں معلوم کہ سعید نامی راوی نے تیسری بات ذکر کی تھی۔ اور میں اسے بھول گیا ہوں ،یا انہوں نے تیسری بات ذکرہی نہیں کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلُ وَكَانَ ثِقَةً ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 536

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 537

537 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ وَكَانَ مِنَ الثِّقَاتِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ} [القيامة: 17] وَقُرْآنَهُ "

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ۔نبی اکرمﷺپرجب قر آن نازل ہوتا تھا، تو آپ ﷺاسے یاد رکھنے کے لیے اپنی زبان کو اس کے ساتھ حرکت دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "تم اس کے ساتھ اپنی زبان کوحرکت نہ دو۔ تا کہ تم اسے جلدی حاصل کر لو۔ اس کو جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ وَكَانَ مِنَ الثِّقَاتِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 537

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 538

538 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو: عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُعَجِّلُ بِهِ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ} [القيامة: 17] " الْآيَةَ قَالَ: «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْلَمُ خَتْمَ السُّورَةِ حَتَّى يُنْزِلَ عَلَيْهِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) »

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: (اس روایت میں راوی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓکا تذکرہ نہیں کیا) نبی اکرم ﷺپر جب قرآن نازل ہوتا تھا، تو آپ ﷺاسے یاد رکھنے کے لیے اسے جلدی جلدی پڑھتے تھے، تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:"تم اس کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دوک تم جلدی اسے یاد کرلو۔ بے شک اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔“سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺکو سورت کے ختم ہونے کاعلم نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺپر یہ آیت نازل ہوگئی۔ ”بسم الله الرحمن الرحيم"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 538

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 539

539 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ مَشْهَدًا شَهِدَهُ ثُمَّ يَتَنَفَّسُ وَيَبْكِي فِيهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ وَمِقْسَمٌ فَقَالَ لَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: أَكُلُّكُمْ سَمِعَ مَا يُقَالُ فِي الطَّعَامِ فَقَالَ مِقْسَمٌ: حَدِّثِ الْقَوْمَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِ الطَّعَامِ فَكُلُوا مِنْ نَوَاحِيهِ، وَلَا تَأْكُلُوا مِنَ وَسَطِهِ»

سفیان کہتے ہیں : عطاء بن سائب ایک مرتبہ ہمارے ساتھ گفتگو کررہے تھے میں نے انہیں ایک جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا۔ جس میں وہ شریک ہوئے تھے، پر انہوں نے گہرا سانس لیا۔ اور رونے لگے۔ کہ اس میں فلاں صاحب بھی تھے ۔ فلاں صاحب بھی تھے ۔ فلاں صاحب بھی تھے اور مقسم بھی تھے۔ تو سعید بن جبیر بولے : کیا تم میں سے ہر ایک نے وہ بات سنی ہے جوکھانے کے بارے میں کہی گئی ہے تو مقسم نے کہا: اے ابوعبدالله ! حاضرین کو وہ بات بتادیجئے، تو سعید بن جبیر بولے: میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناہے: نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "بے شک برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، تو تم اس کے اطراف میں سے کھایا کرو اور اس کے درمیان میں سے نہ کھاو ۔‘‘

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مِقْسَمٌ: حَدِّثِ الْقَوْمَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ← مَا يُقَالُ فِي الطَّعَامِ ← لَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: أَكُلُّكُمْ ← يَذْكُرُ مَشْهَدًا شَهِدَهُ ثُمَّ يَتَنَفَّسُ وَيَبْكِي فِيهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ وَمِقْسَمٌ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 539

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 540

540 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں ہے اپنے ہبہ کو دوبارہ لینے والا اس کتے کی مانند ہے، جو اپنی قے کو دوبارہ چاٹ لیتا ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 540

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 541

541 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ [ص:460]، وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالَ سُفْيَانُ: الْآنُكُ الرَّصَاصُ

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جوشخص تصویر بناتا ہے۔ اسے عذاب دیا جائے گا اور اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھو نکے حالانکہ وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص جھو ٹا خواب بیان کرے گا۔ اسے عذاب دیا جائے گااور اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جَو کے دانو ں کے درمیان گرہ نہیں لگا سکے گا اور جو شخص چھپ کر کچھ لوگوں کی بات چیت سن لے جسے وہ لوگ پسند نہ کریں ، تو قیامت کے دن اس شخص کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔" سفیان کہتے ہیں ۔ روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ " آنک" سے مرادسیسہ ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 541

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 542

542 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْفَتْحَ يُسْهَمْ لَهُمَا؟ وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَى مَنْ هُمْ؟ فَقَالَ: اكْتُبِ يَا يَزِيدُ فَلَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَى مَنْ هُمْ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَزْعُمُ أَنَّا هُمْ وَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْفَتْحَ هَلْ يُسْهَمُ لَهُمَا بِشَيْءٍ؟ وَإِنَّهُ لَا يُسْهَمُ لَهُمَا، وَلَكِنْ يُحْذَيَانِ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ؟ وَأَنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ حَتَّى يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ «وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ وَأَنْتَ لَا تَقْتُلْهُمْ» إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ

یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں ۔ نجدہ نے حضرت عبدالله بن عباس ؓ کو خط لکھ کر ان سے ایسی عورت اور غلام کا مسئلہ دریافت کیا: جوفتح میں شریک ہوتے ہیں کیا ان دونوں کو حصہ ملے گا اور(جنگ کے دوران )بچوں کوقتل کرنے کے بارے میں دریافت کیا: اور یتیم کے بارے میں دریافت کیا: اس سے یتیم کا نام کب ختم ہوگا اور ذوی القربیٰ کے بارے میں دریافت کیا : اس سے مراد کون لوگ ہیں ،تو حضرت عبدالله بن عباس ؓنے فرمایا: اے یزیدتم لکھو۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ وہ مزیدحماقت کا شکار ہو جائے گا، تو میں اسے خط لکھتا۔ تم یہ لکھو۔ "تم نے مجھے خط لکھ کر مجھ سے یہ دریافت کیا ہے: ذوالقربیٰ سے مراد کون ہے۔ ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں، اس سے مرادہم ہیں ۔لیکن ہماری قوم ہماری ا س بات کو تسلیم نہیں کرتی ۔ تم نے مجھ سے ایسی عورت اور غلام کے بارے میں دریافت کیا ہے :جو فتح میں شریک ہوتے ہیں کیاا نہیں کوئی چیز ملے گی، تو ان دونوں کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ البتہ انہیں ویسے عطیے کے طور پر کوئی چیز دے دی جائے گی۔ تم نے مجھ سے یتیم کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ اس پریتیم کانام کب ختم ہوگا، تو اس پر سے یتیم کا نام اس وقت تک ختم نہیں ہوگا۔ جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتا اور اس سے سمجھداری کے آثار ظاہر نہیں ہوتے۔ تم نے مجھ سے (جنگ کے دوران) بچوں کوقتل کرنے کے بارے میں دریافت کیا ہے تو نبی اکرم ﷺنے ان بچوں کوقتل نہیں کیا اورتم بھی انہیں قتل نہیں کر سکتے ماسوائے اس صورت کے کہ تمہیں ان بچوں کے بارے میں ویساہی علم ہوجیساعلم حضرت موسیٰؑ کے ساتھی حضرت خضرؑ کو اس لڑکے کے بارے میں تھا ، جسے انہوں نے قتل کردیا تھا۔‘‘

اكْتُبِ يَا يَزِيدُ فَلَوْلَا ← ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ ← الْيَتِيمِ، مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ؟ ← قتل الولدان ← الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْفَتْحَ يُسْهَمْ لَهُمَا؟ ← نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ← يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 542

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 543

543 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةِ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسِ أَنَّ عَلِيًّا أَحْرَقَ الْمُرْتَدِّينَ - يَعْنِي الزَّنَادِقَةَ - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ» وَلَمْ أَحْرِقْهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ» قَالَ سُفْيَانُ فَقَالَ عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ - وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ - وَأَيُّوبُ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِنَّ عَلِيًّا لَمْ يَحْرِقْهُمْ إِنَّمَا حَفَرَ لَهُمْ أَسْرَابًا وَكَانَ يُدَخِّنُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا حَتَّى قَتَلَهُمْ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَمَا سَمِعْتَ قَائِلَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الوافر] لِتَرْمِ بِيَ الْمَنَايَا حَيْثُ شَاءَتْ ... إِذَا لَمْ تَرْمِ بِي فِي الْحُفْرَتَيْنِ إِذَا مَا قَرَّبُوا حَطَبًا وَنَارًا ... هُنَاكَ الْمَوْتُ نَقْدًا غَيْرَ دَيْنِ

عکرمہ بیان کرتے ہیں ۔ جب حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو اس با ت کی اطلاع ملی کہ حضرت علیؓ نے کچھ مرتد لوگوں کو یعنی کچھ زند یقوں کو جلا دیاہے، تو حضرت عبداللہ بن عباس ؓبولے :اگر میں انہیں قتل کرتا ہوں ، تو اس کی بنیاد نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان ہے۔ "جو شخص اپنا دین تبدیل کرے تو تم اسے قتل کر دو۔" لیکن میں ان لوگوں کو جلواتا نہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:"کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے، کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب دینے کے طریقے کے مطابق عذاب دے۔"سفیان کہتے ہیں ۔ عمار دہنی اس وقت اس محفل میں یعنی عمروبن دینار کی محفل میں موجود تھے اور ایوب یہ حدیث بیان کررہے تھے ، تو عمار بولے : حضرت علیؓ نے ان لوگوں جلوایا نہیں تھا، عمروبن دینار بولے:کیا تم نے ان کے قائل کایہ شعر نہیں سنا۔"آرزوئیں مجھے جہاں چاہیں پھینک دیں، جب وہ مجھے ان دو گڑھوں میں نہیں پھینکیں گی۔ جن کے قریب لکڑیاں اور آگ کو کردیا تھا۔ وہاں موت نقد مل رہی تھی ۔ کوئی ادھار نہیں تھا۔"

لَمَّا بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 543

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 544

544 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيَّ يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ عَنِ الْبَاذِقِ وَأَنَا وَاللَّهِ أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ فَقَالَ: «سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذِقُ وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ»

ابو جویریہ جرمی بیان کرتے ہیں ۔ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے سوال کیا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے ساتھ پشت لگاکرٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے باذق(شراب کی ایک مخصوص قسم )کے بارے میں دریافت کیا:اللہ کی قسم میں وہ پہلا شخص تھا ۔جس نے ان سے یہ سوال کیاتھا،تو وہ بولے:حضرت محمد(ﷺ)!ہی باذق کے بارے میں فیصلہ دے چکے ہیں ، جو چیز نشہ کرے وہ حرام ہے۔

سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ وَمَا أَسْکَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ← وَاللَّهِ أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ ← الْبَاذَقِ ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَی الْکَعْبَةِ ← أَبَا الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيَّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 544

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 545

545 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِي أَوْ أَصْغَرَ مِنِّي، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ جِبْرِيلَ أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ فَقَالَ: أَتَمَّهُمَا وَأَكْمَلَهُمَا "

حضرت عبدالله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیلؑ سے دریافت کیا:"حضرت موسی ٰؑنے دو مدتوں میں سے کون سی مدت مکمل کی تھی، تو حضرت جبرائیل ؑ بولے : جو تمام اور مکمل تھی۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِي أَوْ أَصْغَرَ مِنِّي، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 545

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 546

546 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ زَمَانِ سُفْيَانَ أَثْبَتَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ ظُلَّةً تَنْطِفُ سَمْنًا وَعَسَلًا وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهُ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنْهُ وَالْمُسْتَقِلُّ [ص:463]، وَرَأَيْتُ سَبَبًا وَاصِلًا إِلَى السَّمَاءِ أَخَذْتَ بِهِ فَأَعَلَاكَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلَا، ثُمَّ آخَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَلَا، ثُمَّ آخَرُ مِنَ بَعْدِهِ فَقُطِعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَعْبُرْهَا، قَالَ «اعْبُرْهَا» قَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ، وَأَمَّا يَنْطِفُ سَمْنًا وَعَسَلًا وَالنَّاسُ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهُ فَهُوَ الْقُرْآنُ وَحَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنْهُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ إِلَى السَّمَاءِ فَهُوَ مَا أَنْتَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ أَخَذْتَ بِهِ فَأَعَلَاكَ اللَّهُ، ثُمَّ آخَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَيَعْلُو، ثُمَّ آخَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو يَا رَسُولَ اللَّهِ ‍ أَصَبْتُ؟ قَالَ: «أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا» قَالَ: أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «لَا تُقْسِمُ يَا أَبَا بَكْرٍ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺجب غزوہ احد سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو ایک صاحب آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی یارسول اللہ(ﷺ)! میں نے ایک بادل دیکھا ہے۔ جس میں سے گھی اور شہد کی بارش ہورہی تھی میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اسے ہتھیلیوں میں حاصل کررہے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ زیادہ حاصل کر رہے تھے کوئی کم حاصل کر رہا تھا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف جاتی ہوئی ایک رسی دیکھی آپ ﷺنے اسے پکڑا اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺکو اوپر لے گیا پھر آپ ﷺکے بعد ایک صاحب نے اسے پکڑا تو وہ بھی اوپر چلے گئے ۔ پھر ان کے بعد ایک اور صاحب نے پکڑا تو وہ بھی اوپر چلے گئے پھر اس کے بعد ایک اور صاحب نے پکڑ لیکن وہ رسی ٹوٹ گئی پھر اسے ملا دیا گیا تووہ بھی اوپر چلے گئے۔حضرت ابو بکرؓبولے یا رسول الله (ﷺ)! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں ۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا تم اس کی تعبیر بیان کرو !انہوں نے عرض کی بادل سے مراد اسلام ہے۔ اور اس سے جو گھی اور شہد برس رہا ہے اور لوگ اسے ہتھیلیوں میں حاصل کررہے ہیں ۔ اس سے مراد قرآن ۔ اس کی تلاوت اور اس کی نرمی ہے، تو کوئی اسے زیادہ حاصل کر رہا ہے اور کوئی کم حاصل کررہا ہے۔ جہاں تک آسان پر جانے والی ری کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ ہے ،جس پر آپ ﷺگامزن ہیں۔ آپﷺنے اسے اختیار کیا ،تو الله تعالیٰ نے آپﷺکو بلندی عطا کی پھر آپﷺکے بعد ایک اورشخص اسے پکڑ لے گا ،تو وہ اس کے ذریعے بلندی حاصل کر لے گا پھر اس کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا تو وہ بھی بلندی حاصل کر لے گا پھر اس کے بعد ایک اورشخص اسے پکڑے گا تویہ منقطع ہو جائے گی، لیکن پھر اس رسی کو اس کے لیے ملا دیا جائے گا تو وہ بھی بلندی اختیار کرے گا۔ یارسول اللہ (ﷺ)! کیا میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم نے کچھ ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ اس میں غلطی کی ہے انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ(ﷺ)! میں آپ ﷺکوقسم دیتاہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اے ابوبکؓر!تم قسم نہ دو"۔

أتى النبي رجل منصرفه من أحد، فقال ← عُبَيْدِ اللَّهِ فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ زَمَانِ سُفْيَانَ أَثْبَتَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 546

chevron_left Previous
1…626364…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter