Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 487

487 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِدَلُوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَنُزِعَ لَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ»

حضر ت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ۔آپ ﷺ کے حکم کے تحت آب زم زم کا ڈول نکالا گیا۔ آپ ﷺنے اسے کھڑے ہوکر پیا۔

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَمَرَ بِدَلُوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَنُزِعَ لَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 487

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 488

488 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَالَتِي مَيْمُونَةَ وَمَعَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: أَلَا نُقَدِّمُ إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْئًا أَهْدَتْهُ لَنَا أُمُّ غُفَيْقٍ فَأَتَتْهُ بِضِبَابٍ مَشْوِيَّةٍ «فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَلَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا، وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ» ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدٌ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّرْبَةُ لَكَ يَا غُلَامُ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا» فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِسُؤْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَبْدِلِنَا مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ؛ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرُهُ "

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ اپنی خالہ میمونہؓ کے ہاں گیا۔ ہمارے ساتھ حضرت خالد بن ولیدؓ بھی تھے۔ سیدہ میمونہؓ نے آپﷺکی خدمت میں گزارش کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا ہم آپ ﷺکی خدمت میں وہ چیز کھانے کے لیے پیش نہ کریں۔ جواُم عفیق نے ہمیں تحفے کے طور پر دی ہے ،وہ کچھ بھوئی ہوئی گوہ لے آ ئیں جب نبی اکرم ﷺنے انہیں ملاحظہ کیا، تو تین مرتبہ تھوک پھینکا ،لیکن آپ ﷺنے انہیں کھایانہیں۔ آپ ﷺنے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم اسے کھالیں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا۔ جس میں دودھ موجود تھا۔ نبی اکرم ﷺنے اسے نوش فرمایا۔ میں آپ ﷺکے دائیں طرف موجود تھا، اور حضرت خالدؓ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے، تو نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا: "لڑ کے پینے کا حق تو تمہارا بنتا ہے اگر تم چاہو تو خالد کے لیےایثار کر دو“۔میں نے عرض کی: میں، اللہ کے رسول ﷺکے بچائے ہوئے کے بارے میں ،کسی کے لیےایثار نہیں کروں گا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: "جب اللہ تعالیٰ کسی کو کھانے کے لیے کچھ عطا کرے ،تو وہ یہ پڑھے: "اے اللہ تو ہمارے لیے اس میں برکت دے اور ہمیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ بہتر عطا کر"۔ اور جس شخص کو الله تعالی پینے کے لیے دودھ عطا کرے، تو وہ یہ پڑ ھے: ”اے اللہ تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا کر اور ہمیں یہ مزید عطا کر"۔ (نبی اکرمﷺنے فرمایا:) "میرے علم کے مطابق اس (دودھ)کے علاوہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے ،جو کھانے اور پینے(یعنی بھوک اور پیاس )دونوں کےلیے کافی ہو"۔

لَهُ مَيْمُونَةُ: أَلَا نُقَدِّمُ إِلَيْكَ ← دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عَلَى خَالَتِي مَيْمُونَةَ وَمَعَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمْر بن حرملة، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 488

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 489

489 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو: قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «إِنَّكُمْ مُلَاقُوا اللَّهَ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا»

حضرت عبدالله بن عباس ؓکا بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکومنبر پرخطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہو ئے سناہے: "تم لوگ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں پیدل برہنہ پاؤں برہنہ جسم اور ختنے کے بغیر حاضر ہو گئے"۔

«إِنَّكُمْ مُلَاقُوا اللَّهَ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا» ← رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 489

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 490

490 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ»

حضرت عبد الله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میرے علم کے مطابق نبی اکرم ﷺنے کبھی کسی مخصوص دن کی فضیلت کو اہتمام سے حاصل کرنے کے لیے اس دن روزہ نہیں رکھا صرف یہ ایسا دن ہے ۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی مراد عاشورہ کا دن تھا ۔ یا یہ مہینہ ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی مراد رمضان کا مہینہ تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 490

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 491

491 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَإِنْ بَقِيتُ لَآمُرَنَّ بِصِيَامِ يَوْمٍ قَبْلَهُ أَوْ يَوْمٍ بَعْدَهُ» يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ

داود بن علی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اگر میں زندہ رہ گیا، تو میں اس سے ایک دن پہلےیا ایک دن بعد روزہ رکھنے کا حکم ضرور دوں گا“۔ نبی اکرم ﷺکی مراد عاشورہ کا دن تھا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدَ بْنِ عَلِي، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 491

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 492

492 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانَ قَالَ: ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ وَعْلَةَ الْمِصْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جس چمڑے کی دباغت کر لی جائے وہ پاک ہو جاتا ہے"۔

"أَيُّمَا إهاب دبغ فقد طهر" ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ ← زيد بن أسلم أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 492

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 493

493 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ الشَّعْبِيِّ الْمَسْجِدَ فَقَالَ هَلْ تَرَى أَحَدَا مِنْ أَصْحَابِنَا نَجْلِسُ إِلَيْهِ؟ هَلْ تَرَى أَبَا حُصَيْنٍ؟ قُلْتُ: لَا ثُمَّ نَظَرَ فَرَأَى يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ فَقَالَ هَلْ لَكَ أَنْ تَجْلِسَ إِلَيْهِ؛ فَإِنَّ خَالَتَهُ مَيْمُونَةُ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الضَّبِّ «لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ» فَغَضِبَ فَقَالَ: مَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا أَوْ مُحَرِّمًا وَقَدْ أُكِلَ عِنْدَهُ

شیبانی بیان کرتے ہیں: میں شعبی کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوا تو وہ بولے: کیا تمہارے علم میں کوئی ایاصاحب علم ہے، جس کے پاس جا کر ہم بیٹھیں۔ کیاتم ابوحصین کے پاس جانا چاہو گے میں نے جواب دیا :جی نہیں۔ پھر انہوں نے جائزہ لیا تو ان کی نظر یزید بن اصم پر پڑی تو وہ بولے: کیا تم ان کے پاس جا کر بیٹھنا چاہو گئے ،کیونکہ سیدہ میمونہ ؓ ان کی خالہ ہیں، تو ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے ،تو یزید بن اصم نے بتایا:حضرت عبدالله بن عباسؓ کے سامنے گوہ کے بارے میں نبی اکرم ﷺکافرمان ذکر کیا گیا۔" کہ میں اسے کھاتا بھی نہیں ہوں اور اسے حرام بھی قرارنہیں دیتا"۔تو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ غضبناک ہوئے اور بولے : نبی اکرم ﷺ کو صرف حلال چیزیں بیان کرنے کے لیے اور حرام چیزیں بیان کرنے کے لیے معبوث کیا گیاتھا، اور یہ نبی اکرمﷺ کی موجودگی میں کھائی گئی ہے ۔(اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حلال ہے )

الشَّيْبَانِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 493

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 494

494 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ أَنَّهُمَا سَمِعَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى بِالْمَقْتُولِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ يَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا حَتَّى يَنْتَهِيَ بِهِ إِلَى الْعَرْشِ فَيَقُولُ: رَبَّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا مُنْذُ أَنْزَلَهَا

سالم بن ابو جعد بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جوکسی مومن کو جان بوجھ کرقتل کر دیتا ہے ،پھر وہ توبہ کر کے ایمان لے آتا ہے ،وہ نیک عمل کرتا ہے ،پھر وہ ہدایت حاصل کر لیتا ہے ،تو حضرت عبدالله بن عباس ؓنے فرمایا: اسے ہدایت کہاں سے مل سکتی ہے؟ میں نے تمہارے نبی ﷺکوبید ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: "قیامت کے دن مقتول کو ایسی حالت میں لایا جائے گا کہ وہ قاتل کے ساتھ ہوگا اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگاوہ اسے ساتھ لے کر عرش کے پاس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگارا اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا؟‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ بات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل کی تھی پھر جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے کسی چیز نے اس منسوخ نہیں کیا۔

يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ أَنَّهُمَا سَمِعَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 494

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 495

495 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے پردہ ہٹایالوگ حضرت ابوبکرؓ کے پیچھے صفیں بنا کر کھڑے ہوئے تھے آپ ﷺنے ارشادفرمایا:اب نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جواسے دکھائے جاتے ہیں خبردار! مجھے اس بات سے منع کر دیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے کے دوران قرات کروں۔ جہاں تک رکوع کا تعلق ہے تو اس میں تم اپنے پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے ،تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو وہ اس لائق ہوگئی کہ اسے قبول کرلیا جائے۔

كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 495

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 496

496 - " قَالَ سُفْيَانُ أَخْبَرَنِيهِ زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ فَقُلْتُ لَهُ: أُقْرِئُ سُلَيْمَانَ مِنْكَ السَّلَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَقْرَيْتُهُ مِنْهُ السَّلَامَ وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ

سفیان کہتے ہیں: یہ روایت زیاد بن سعد نے بھی مجھے سنائی تھی یہ اس سے پہلے کی بات ہے کہ جب میں نے یہ روایت سلیمان سے سنی۔ میں نے ان سے دریافت کیا: میں سلیمان بن سحیم کو آپ کی طرف سے سلام کہہ دوں وہ بولے:جی ہاں۔ جب میں مدینہ منورہ آیا، تو میں نے سلیمان کو زیادکی طرف سے سلام پیش کیا اور ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا: (تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی)

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 496

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 497

497 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَيْهِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا» [ص:438] قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّمَا حَدَّثَنَاهُ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ فَقَالَ عَمْرٌو: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عَطَاءٍ يُحَدِّثُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ عَلَيْنَا جَابِرٌ مَكَّةَ قَالَ سُفْيَانُ: وَإِنَّمَا لَقِيَ عَمْرٌو وَعَطَاءٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى جَابِرًا فِي سَنَةٍ جَاوَرَ فِيهَا

عطاء بن ابی رباح حضرت عبد الله بن عباس ؓکے حوالے سے نبی اکرمﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب کوئی شخص کچھ کھائے ،تو اپنا ہا تھ ( کپڑے یا کسی اور چیز کے ساتھ) اس وقت تک نہ پونچھے جب تک وہ اسےچاٹ نہ لے یا کسی دوسرے سے چٹوانہ لے"۔ سفیان کہتے ہیں: عمرو نے ان سے کہا: اے ابومحمد! یہ روایت عطاء نے حضرت جابرؓ کے حوالے سے بیان کی ہے ،تو عمر و بولے : اللہ کی قسم !میں نے یہ روایت عطا کی زبانی سنی ہے ، جسے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓکے حوالے سے نقل کیا تھا، اور یہ حضرت جابر ؓکے ہمارے ہاں مکہ آنے سے پہلے کی بات ہے۔ سفیان کہتے ہیں: عمرو بن قیس اور عطا ء کی ملاقات حضرت جابر ؓ سے اس سال ہوئی تھی جس سال حضرت جابرؓنےمکہ میں رہائش اختیار کی تھی (یا وہاں اعتکاف کیا تھا)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 497

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 498

498 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيِّتَةً قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَلَى أَهْلِ هَذِهِ لَوْ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ وَانْتَفَعُوا بِهِ» فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ «إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا» وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا ذَكَرَ فِيهِ مَيْمُونَةَ وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْهُ فَنَحْنُ نَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر سیدہ میمونہ ؓ کی کنیزکی مردہ بکری کے پاس سے ہوا جو اس کنیز کوصدقے کے طور پر دی گئی تھی۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: "اس کے مالک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اگر وہ اس کی کھال حاصل کر کے اس کی دباغت کر کے اس سے نفع حاصل کریں"۔ لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! یہ مردار ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات اس میں سیدہ میمونہ ؓکا تذکرہ کیا ہے اور بعض اوقات ان کا تذکرہ نہیں کیا، تو ہم اس طرح اور اس طرح (دونوں طرح)اسے ذکر کر رہے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 498

chevron_left Previous
1…585960…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter