Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 475

475 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا» فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ [ص:428] فَقَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِكَ

حضر عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺکی اقتدا ءمیں مدینہ منورہ میں آٹھ رکعات ایک ساتھ اور سات رکعات ایک ساتھ ادا کی ہیں۔عمرو بن دینارمکی نامی راوی کہتے ہیں: میں نے(اپنے استاد ) جابر بن زید سے دریافت کیا: اے ابوشعثاء! میرا خیال ہے۔ نبی اکرم ﷺنے ظہر کی نماز تاخیر سے ادا کی ہوگی اور عصر کی نمازجلدی ادا کر لی ہوگی اور مغرب کی نماز تاخیر سے ادا کی ہوگی۔ اور عشاء کی نمازجلدی ادا کرلی ہوگی، تو وہ بولے : میرا بھی یہی خیال ہے۔

جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 475

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 476

476 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابِنْ عَبَّاسٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ سَفَرٍ وَلَا خَوْفٍ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا» قُلْتُ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ قُلْتُ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

حضرت عبد الله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں کسی سفر کے علاوه (یعنی حضر کی حالت میں)اور خوف کے بغیر آٹھ رکعات ایک ساتھ اور سات رکعات ایک ساتھ ادا کی ہیں۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا:نبی اکرم ﷺنے ایسا کیوں کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: میرا خیال ہے نبی اکرم ﷺیہ چاہتے تھے۔ کہ آپ ﷺاپنی امت کو حرج میں مبتلا نہ کریں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 476

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 477

477 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ «فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا، وَجَعَلَ يَصِفُهُ وَيُقَلِّلُهُ» فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ «فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» [ص:429]،

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں رات کے وقت اپنی خالہ سیدہ میمونہؓ کے ہاں ٹھہر گیا۔ نبی اکرم ﷺرات کے وقت بیدار ہوئے آپ ﷺنے لٹکے ہوئے مشکیزے سے وضو کیا، جو مختصرتھا۔ پھر حضرت عبد الله بن عباس ؓنے اس کی صفت بیان کرتے ہوئے بتایا: وہ تھوڑا سا تھا ،تو میں بھی اٹھا۔ اور میں نے بھی اسی طرح کیا ۔ جس طرح نبی اکرم ﷺنے کیا تھا۔ پھر میں آیا اور نبی اکرم ﷺکے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺنے مجھے اپنے پیچھے سے گزار کر اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا۔ پھر آپ ﷺنے نماز ادا کی پھر آپ ﷺلیٹ گئے اور سو گئے ،یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے۔پھر حضرت بلالؓ آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ کو نماز کے لیے بلایا اور آپ ﷺتشریف لے گئے۔آپ ﷺنے نماز ادا کی اور سر نو وضو نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 477

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 478

478 - وَقَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَكَانَ فِي الْمَجْلِسِ هِيهِ زِدْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فَقَالَ عَطَاءُ: مَا هِيهِ؟ هَكَذَا سَمِعْتُ فَقَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ «ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓکے حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے ،جس میں یہ ا لفاظ ہیں:"نبی اکرم ﷺنے اپنے پیچھے کی طرف سے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیا اور نماز ادا کی"۔ جب عطاء بن ابی رباح نے یہ روایت بیان کی ،تو وہاں عمرو بن دینارمکی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ پھرانہوں نے کہا: اے شیخ ابومحمد! آپ مزید روایت بھی تو بیان کیجئے، تو عطاء نے کہا اور کیا بیان کرتا ہے؟ میں نے تویہ اسی طرح سنی ہے، تو عمرو نے بتایا۔ کریب نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓکے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا تھا۔ پھر نبی اکرمﷺلیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے۔ پھر حضرت بلال ؓ آپﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺکو نماز کے لیے بلایا تو نبی اکرم ﷺنے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← كُرَيْبٍ، ← عَمْرٍو، ← عَطَاءُ: مَا هِيهِ؟ هَكَذَا ← لَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَكَانَ فِي الْمَجْلِسِ هِيهِ زِدْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ← يَمِينِهِ فَصَلَّى ← ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 478

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 479

479 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: فَقَالَ سُفْيَانُ: هَذَا لِلنَّبِيِّ خَاصَّةً لِأَنَّ النَّبِيَّ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ

سفیان بن عیینہ کہتے ہیں:یہ حکم نبی اکرم ﷺکے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺکی آنکھیں سو جایا کرتی تھیں آپﷺ کا قلب مبارک نہیں سوتا تھا۔

فَقَالَ سُفْيَانُ: هَذَا لِلنَّبِيِّ خَاصَّةً لِأَنَّ النَّبِيَّ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 479

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 480

480 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ وَلِأَنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: «رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ» وَقَرَأَ {إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ} [الصافات: 102]

سفیان کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے عبيد بن عمیر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے انبیائے کرام کے خواب وحی ہوتے ہیں ۔ اور انہوں نے (دلیل کے طور پر) یہ آیت تلاوت کی۔"میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں"۔

«رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ» وَقَرَأَ {إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ} [الصافات: ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَنَّهُ ← سُفْيَانُ وَلِأَنَّ عَمْرًا ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 480

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 481

481 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِ فَنَزَلْنَا فَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ، وَدَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمْ يَقُلْ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں: میں اور حضرت فضل بن عباسؓ ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے ۔ نبی اکرم ﷺاس وقت عرفہ میں تھے۔ ہم ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرے۔ ہم اس سے اترے اور ہم نے اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ہم نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں نماز میں شامل ہو گئے، تو نبی اکرم ﷺنے ہمیں کچھ بھی نہیں کہا۔

جِئْت ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيَّ وحَفِظْتُهُ مِنْهُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 481

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 482

482 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ، ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ» وَمَعَهُ بِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ هَكَذَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَأنَّهُ يَتَلَقَّى بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ، وَالْخِرْصَ، وَالشَّيْءَ

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ میں نبی اکرم ﷺکے بارے میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ آپﷺنے عید کے دن خطے سے پہلے نماز ادا کی تھی پھر خطبہ دیا تھا۔ پھر آپ ﷺنے یہ محسوس کیا، شاید آپ ﷺنے خواتین تک آواز نہیں پہنچائی تو آپ ﷺان کے پاس تشریف لے گئے آپ ﷺنے انہیں وعظ نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺکے ساتھ حضرت بلال ؓ تھے ،جنہوں نے اپنے کپڑے کو اس طرح پھیلایا ہوا تھا۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: یعنی انہوں نے اپنے کپڑے کو پھیلایا ہوا تھا، تو خواتین نے اپنی انگوٹھیاں، بالیاں اور دیگر چیزیں اس میں ڈالنا شروع کیں۔

أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 482

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 483

483 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي ص وَلَيْسَتْ مِنْ عَزَايِمِ السُّجُودِ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکوسورة ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے، تاہم یہ لازمی سجدہ نہیں ہے۔

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَسْجُدُ فِي ص وَلَيْسَتْ مِنْ عَزَايِمِ السُّجُودِ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 483

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 484

484 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ» فَقِيلَ لَهُ أَلَا تَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: «لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأُ»

حضرت عبد الله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺکے پاس موجود تھے ۔ آپ ﷺقضائے حاجت کر کے تشریف لائے ۔ آپ ﷺکی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو عرض کی گئی کہ آپ ﷺوضو نہیں کریں گے؟ تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "میں نمازتو نہیں پڑھنے لگا، جو وضو کروں“۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 484

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 485

485 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ أَتَى الْغَائِطَ ثُمَّ خَرَجَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ لَهُ أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: «إِنَّمَا أَسْتَطِيبُ بِشِمَالِي وَإِنَّمَا آكُلُ بِيَمِينِي»

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ۔ جب وہ واپس تشریف لائے ،تو ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ ان سے کہا گیا: آپ وضونہیں کریں گے ،تو وہ بولے : میں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذر یعےطہارت حاصل کی تھی اور دائیں ہاتھ کے ذریعے اسے کھانا ہے۔

هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 485

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 486

486 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ» [ص:432] قَالَ عَمْرٌو فَذَكَرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ لِأَبِي مَعْبَدٍ فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ فَقُلْتُ: بَلَى قَدْ حَدَّثْتَنِيهِ قَبْلَ هَذَا قَالَ سُفْيَانُ كَأَنَّهُ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ

حضرت عبد الله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر کے ذریعے چلتاتھا۔ عمرو بن دینار نامی راوی یہ کہتے ہیں: میں اپنے استاد ابو معمر کے سامنے بعد میں یہ روایت ذکر کی، تو انہوں نے اس کا انکار کردیا اور بولے:میں نے تو یہ حدیث سنائی ہےمیں نے کہا:جی ہاں۔آپ اس سے پہلے یہ حدیث مجھے سنا چکے ہیں۔ سفیان کہتے ہیں۔ گویا انہیں اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ تھا۔

سُفْيَانُ كَأَنَّهُ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ ← لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ فَقُلْتُ بَلَى قَدْ حَدَّثْتَنِيهِ قَبْلَ هَذَا ← عَمْرٌو فَذَكَرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ لِأَبِي مَعْبَدٍ فَأَنْكَرَهُ، ← «مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ» [ص:432] ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مَعْبَدٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 486

chevron_left Previous
1…575859…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter