Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 451

451 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ وَأَثْبَتُّهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثَيْنِ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ لِلْآخَرِ حَدَّثَنَا «أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جِذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ» فَنَزَلَ الْقُرْآنُ فَقَرَءُوا مِنَ الْقُرْآنِ، وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا، فَقَالَ «يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ ثُمَّ أَخَذَ حَصَيَاتٍ فَقَالَ بِهِنَّ عَلَى رِجْلِهِ فَدَحْرَجَهُنَّ فَقَالَ دَحْرَجْتُهُ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، وَيَظَلُّ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَيْسَ فِيهِمْ رَجُلٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ، وَحَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ مَا أَجْلَدَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيُرَدَّنَّهُ عَلَيَّ إِسْلَامُهُ، وَإِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيُرَدَّنَّ عَلَيَّ سَاعِيهِ وَمَا أُبَايِعُ الْيَوْمَ إِلَّا فُلَانًا أَوْ فُلَانًا»

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ہمیں دو حدیثیں بیان کی تھیں ۔ ان میں سے ایک میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں ۔ آپ ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی تھی: "امانت لوگوں کے دلوں کے اندر نازل ہوئی پھر قرآن نازل ہوا تو لوگوں نے قرآن کا علم حاصل کیا اور انہوں نےسنت کا بھی علم حاصل کیا"۔پھر نبی اکرم ﷺنے اس امانت کے اٹھا لیے جانے کے بارے میں ہمیں بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا: "آدمی سوئے گا ،تو اس کے دل میں سے امانت کو اٹھا لیا جائے گا۔ پھر وہ سوئے گا، تو اس کے دل میں سے امانت کو اٹھا لیا جائے گا ،یہاں تک کہ اس کا اس طرح نشان باقی رہ جائے گا، جس طرح آبلے کا نشان ہوتا ہے"۔ پھر حضرت حذیفہؓ نے کچھ کنکریاں پکڑیں اورانہیں اپنے پاوں پر ڈالا اور بولے : جس طرح ایک انگارہ اگرتم اپنے پاوں پرڈالو وہ جگہ پھول جائے گی اور جلن محسوس ہوگی، لیکن اس کے اندر کچھ نہیں ہوگا، تو لوگ لین دین کریں گے لیکن ان میں سے کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا، جوامانت کو ادا کرے، یہاں تک کہ کسی شخص کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ کتنا تیز اور کتنا چالاک اور کتنا عقلمند ہے ،حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابربھی ایمان نہیں ہو گا۔ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں پہلے اس بات کی پروا نہیں کرتا تھا۔ کہ میں کس کے ساتھ سودا کر رہا ہوں ۔ کیونکہ اگر وہ مسلمان ہوتا ،تو اس کا اسلام اسے میرے ساتھ ٹھیک رکھتا۔ اگر وہ یہودی یا عیسائی ہوتا ،تو اس کا حکمران اسے میرے ساتھ ٹھیک رہنے دیتا ،لیکن اب میں صرف فلاں اور فلاں شخص کے ساتھ ہی لین دین کرتا ہوں۔

أَنْتَظِرُ لِلْآخَرِ ← حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْأَعْمَشُ، وَأَثْبَتَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 451

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 452

452 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَسُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَايِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الْفِتْنَةِ» ؟ فَقُلْتُ: أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولَ «فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ، وَالصَّدَقَةُ، وَالصَّوْمُ» فَقَالَ عُمَرُ: «لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُكَ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ» [ص:412] فَقُلْتُ: إِنَّ مِنْ دُونِ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا قَتْلُ رَجُلٍ أَوْ مَوْتُهُ قَالَ «أَيُكْسَرُ ذَلِكَ الْبَابُ أَوْ يُفْتَحُ» ؟ فَقُلْتُ: لَا بَلْ يُكْسَرُ فَقَالَ عُمَرُ: «ذَلِكَ أَجْدَرُ أَنْ لَا يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ فَهِبْنَا حُذَيْفَةَ أَنْ نَسْأَلَهُ أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ أَنَّهُ هُوَ الْبَابُ؟ وَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ: نَعَمْ كَمَا تَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ فَذَاكَ أَنِّي حَدَّثْتُ لَهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عمربن خطاب ؓ نے فرمایا:" فتنے کے بارے میں کون ہمیں حدیث سنائے گا "تو میں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہےکہ " آدی کے لیے آزمائش اس کی بیوی اس کے مال اور اس کے پڑوسی میں ہوتی ہے۔ نماز پڑھنا، صدقہ دینا اور روزہ رکھنا اس کا کفارہ بنتے ہیں" ۔حضرت عمرؓ بولے: میں نے اس کے بارے میں آپ سے دریافت نہیں کیا میں آپ سے اس فتنے کے بارے میں دریافت کر رہا ہوں ۔ جو سمندر کی لہروں کی طرح موجزن ہوگا۔ میں نے کہا: آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ جو ایک صاحب کے قتل ہونے یا انتقال کرنے کی صورت میں ہے۔ حضرت عمرؓ نے دریافت کیا۔ کیا اس دروازے کو توڑ دیا جائے گا یااسے کھولا جائے گا، تو میں نے کہا : نہیں بلکہ اسے توڑا جائے گا ، تو حضرت عمرؓ بولے : پھر تو وہ اس لائق ہوگا کہ قیامت کے دن تک بند نہ ہو ۔ اعمش کہتے ہیں : ہم ہیبت کی وجہ سے حضرت حذیفہ ؓ سے یہ دریا فت نہیں کر سکے ۔ کہ کیا حضرت عمر ؓ یہ بات جانتے تھے کہ دروازے سے مراد وہی ہیں، تو ہم نے مسروق سے یہ کہا انہوں نے حضرت حذیفہ ؓ سے یہ سوال کیا حضرت حذیفہ ؓ بولے :جی ہاں ، جس طرح تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کل سے پہلے آج کی رات آئے گی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے انہیں ایک ایسی حدیث سنائی تھی جس میں غلطی نہیں تھی ۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← أَبِي وَائِلٍ ← جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَسُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 452

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 453

453 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنْتَ تَقُولُ صَلَّى فِيهِ يَا أَصْلَعُ قُلْتُ: نَعَمْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ الْقُرْآنُ، قَالَ حُذَيْفَةُ: هَاتِ مَنِ احْتَجَّ بِالْقُرْآنِ فَقَدْ فَلَجَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى} [الإسراء: 1] فَقَالَ لِي حُذَيْفَةُ: أَيْنَ تَجِدُهُ صَلَّى فِيهِ؟ لَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِبَتْ عَلَيْكُمُ الصَّلَاةُ فِيهِ كَمَا كُتِبَتْ عَلَيْكُمُ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ثُمَّ قَالَ حُذَيْفَةُ: «أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَابَّةٍ طَوِيلِ الظَّهْرِ مَمْدُودٍ يُقَالُ لَهُ الْبُرَاقُ خَطْوُهَا مَدُّ الْبَصَرِ فَمَا زَايَلَا ظَهْرَ الْبُرَاقِ حَتَّى رَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ» [ص:413] قَالَ «وَيُحَدِّثُونَ أَنَّهُ رَبَطَهُ لِمَ أَيَفِرُّ؟ لِمَ أَيَفِرُّ مِنْهُ؟ وَإِنَّمَا سَخَّرَهُ لَهُ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ»

زرین حبیش بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت حذیفہ ؓ سے دریافت کیا۔ کیا نبی اکرمﷺ نے بیت المقدس میں نماز ادا کی تھی ، تو حضرت حذیفہ ؓ بولے : اے آگے سے گنجے !کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ نبی اکرم ﷺ نے اس میں نماز ادا کی تھی ؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ قرآن کرے گا۔ حضرت حذیفہ ؓ بولے :"لے کر او"۔ جو شخص قرآن سے دلیل حاصل کرتا ہے ، وہ کامیاب ہوجاتا ہے ، تو میں نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ "پاک ہے ، وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی "۔ تو حضرت حذیفہ ؓ نے مجھ سے فرمایا :تم نے اس میں کہاں یہ پایا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے وہا ں نماز ادا کی تھی؟ اگر نبی اکرمﷺ نے وہاں نماز ادا کی ہوتی ، تو تم لوگوں پر وہاں نماز ادا کرنا لازم قرار دیا جاتا۔ جس طرح تم پر مسجد الحرام میں نماز ادا کرنا لازم کیا گیاہے۔پھر حضرت حذیفہ ؓ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک جانور پیش کیا گیا۔ جس کی پشت لمبی تھی جسے براق کہاجاتا تھا ۔ اس کا ایک قدم وہاں تک جاتا تھا ، جہاں تک نگاہ جاتی ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ مسلسل براق کی پشت پر سوار رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نےجنت اور جہنم کو ملاحظہ فرمایا ۔ اور آخرت کا وعدہ تو زیادہ جمع کرنے والاہے ۔حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا :لوگ یہ کہتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے اسے باندھ دیا تھا ۔ بھئی کیوں ؟ کیا اس نے نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جانا تھا حالانکہ غیب اور شہادت کا علم رکھنے والی ذات نے اسے نبی اکرم ﷺ کے لیےمسخرکیا تھا۔

زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 453

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 454

454 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رَبِعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْتَدُوا بِالَّذَيْنِ بَعْدِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»

حضرت حذیفہ ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: میرے بعد ان دو لوگوں کی پیروی کرنا، ابوبکر اور عمر اور عمار کی ہدایت پرعمل کرنا اور میرے بعد ابن اُم عبد (یعنی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) کے عہد کو مضبوطی سے پکڑکررکھنا۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيَّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 454

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 455

455 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوانِ الْكَاهِنِ»

حضرت ا بو مسعود انصاری ؓبیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت ،فاحشہ عورت کے معاوضے اور کاہن کی مٹھائی (یا معاوضے )سے منع کیا ہے۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ← الزهري أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 455

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 456

456 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخَّرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَوْمًا الصَّلَاةَ فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ حَتَّى عَدَّ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ» فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عُرْوَةُ وَانْظُرْ مَا تَقُولُ، قَالَ عُرْوَةُ أَخْبَرَنِيهِ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زہری بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز نے نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جبرئیل ؑ نازل ہوئے انہوں نے میری امامت کی میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ پھر وہ نازل ہوئے انہوں نے میری امامت کی۔ میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ پھر وہ نازل ہوئے انہوں نے میری امامت کی ،تو میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی، یہاں تک کہ راوی نے پانچ نمازوں کا تذکرہ کیا تو عمربن عبدالعزیز نے ان سے کہا:"اللہ سے ڈرو۔ اے عروہ!اور اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو "تو عروہ نے کہا: بشر بن ابومسعود نے اپنے والد (حضرت ابومسعود انصاری ؓ) کے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے، یہ روایت مجھے سنائی ہے۔

أَخَّرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَوْمًا الصَّلَاةَ فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 456

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 457

457 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ» قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ: ثُمَّ لَقْيتُ أَبَا مَسْعُودٍ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ»

حضرت ابومسعود انصاریؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:۔"جو شخص رات کے وقت سورۃبقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کرے ، تو یہ دونو ں اس کے لیے کافی ہوں گی"۔ عبدالرحمن بن یزید نامی راوی کہتے ہیں: بعد میں میری ملاقات طواف کے دوران حضرت ابومسعود انصاری ؓسے ہوئی میں نے ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا ،توانہوں نے مجھے یہ بات بتائی۔ نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جوشخص رات کے وقت سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات تلاوت کرلے ،تو یہ دونوں اس کے لیے کافی ہوں گی"۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 457

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 458

458 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَخَلَّفُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلَانٍ قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ غَضَبُهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَالسَّقِيمَ، وَالضَّعِيفَ، وَذَا الْحَاجَةِ»

حضرت ابومسعود ؓبیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں صبح کی نماز با جماعت میں اس لیے نہیں شریک ہو پایا۔ کونہ فلاں صاحب ہمیں طویل نماز پڑھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : وعظ ونصیحت کرتے ہوئے میں نے نبی اکرم ﷺکو اس دن جتنے غصے میں دیکھا۔ اتنا غصے میں کبھی نہیں دیکھا۔ پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا:"تم میں سے بعض لوگ متنفر کر دیتے ہیں۔ تم میں سے بعض لوگ متنفر کر دیتے ہیں۔ جس شخص نے لوگوں کو نماز پڑھانی ہو۔ وہ مختصر نماز پڑھائے ،کیونکہ لوگوں میں بڑی عمر کا آدمی، بیمار آدمی، کمزور آدمی اور کام کاج والا آدمی بھی ہوتے ہیں"۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبَا مَسْعُودٍ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 458

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 459

459 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ [ص:416]، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ» قَالَ سُفْيَانُ هَكَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ: «لَا تُجْزِئُ لَا تُجْزِئُ»

حضرت ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"ایسی نماز درست نہیں ہوتی جس میں آدمی رکوع اور سجدے کے دوران اپنی پشت کو درست نہیں رکھتا"۔ سفیان کہتے ہیں:اعمش نامی راوی نے یہ روایت اسی طرح بیان کی ہے۔ روایت کے الفاظ لا ترجی اس کی امید نہیں کی جا سکتی، یعنی وہ درست نہیں ہوتی۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَعْمَرٍ [ص:416]، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 459

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 460

460 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: انْكَسَفَ الشَّمْسُ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتٍ وَلَا حَيَاةٍ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَإِلَى الصَّلَاةِ»

حضرت ابو مسعو د ؓ بیان کرتے ہیں۔ جس دن نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابرا ہیم ؓ کا انتقال ہوا۔ اس دن سورج گرہن ہوگیا، تو لوگوں نے کہا: حضرت ابراہیم ؓ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ، تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: "بے شک سورج اور چاند اللہ تعالی ٰ کی دو نشانیاں ہیں : یہ کسی کے جینے یا مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں جب تم انہیں(گرہن کی حالت میں ) دیکھو، تو اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف تیزی سے جاو"۔

اللہِ، وَإِلَی الصِّلاۃِ)) ← النَّاسُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ← انْكَسَفَ الشَّمْسُ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا مَسْعُودٍ، ← قَيْسًا ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 460

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 461

461 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ يَقُولُ: «لَا تَخْتَلِفُوا فَتْخَتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَلْيَلِيَنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَكُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَكُمْ»

حضرت ابو مسعودؓانصاری ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نماز شروع ہونے سے پہلے ہمارے کندھے سیدھے کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے تھے: "تم لوگ آپس میں اختلاف نہ کرو(یعنی آگے پیچھے کھڑے نہ ہو)ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف آجائے گا اور تم میں سے سمجھدار اور تجربہ کار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں ، پھر اس کے بعد وہ لوگ ہوں جو ان کے قریب کے مرتبے کے ہیں پھر وہ لوگ ہوں جو ان کے قریب کے مرتبے کے ہوں "۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُقِيمُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلاةِ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 461

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 462

462 - قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْنَاهُ مِنَ الْأَعْمَشِ وَلَمْ نَجِدْهُ هَاهُنَا بِمَكَّةَ قَالَ وَسَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ رَجَاءٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمَّ رَجُلٌ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ»

حضرت ابو مسعود انصاری ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جواللہ کی کتاب زیادہ اچھے طریقے سے پڑھ سکتا ہو اگر وہ لوگ قرات میں برابر ہوں ،تووہ شخص کرے جوسنت کا زیادہ علم رکھتاہو اگر وہ لوگ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں ،تو وہ شخص کرے ،جس نے ہجرت پہلے کی ہو اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص کرے ،جس کی عمر زیادہ ہو اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی حکومت میں امامت نہ کرے ۔ اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر بیٹھنے۔ البتہ اس کی اجازت کے ساتھ ایساکیا جاسکتا ہے"۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أوس بن ضمعج الحضرمي ← وَسَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ رَجَاءٍ ← سُفْيَانُ حَفِظْنَاهُ مِنَ الْأَعْمَشِ وَلَمْ نَجِدْهُ هَاهُنَا بِمَكَّةَ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 462

chevron_left Previous
1…555657…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter