Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 403

403 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا»

حضرت زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ”عرایا" کو فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔

وَأَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 403

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 404

404 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ شُرَحْبِيلٍ أَبِي سَعْدٍ قَالَ: أَتَانَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَنَحْنُ فِي حَايِطٍ نَنْصِبُ فِخَاخًا لِلطَّيْرِ وَطَرَدَنَا وَقَالَ «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَيْدِ الْمَدِينَةِ»

شرحبیل بن سعد بیان کرتے ہیں حضرت زید بن ثابت ؓ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت اپنے باغ میں موجود تھے اور پرندوں کے شکار کے لیے تیاری کررہے تھے ،تو انہوں نے ہمیں پرے دھکا دیا اور بولے: "بے شک اللہ کے رسول ﷺنے مدینہ منورہ کے شکار سے منع کیا ہے"۔

أَتَانَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَنَحْنُ فِي حَايِطٍ نَنْصِبُ فِخَاخًا لِلطَّيْرِ وَطَرَدَنَا وَقَالَ ← شُرَحْبِيلٍ أَبِي سَعْدٍ ← زياد بن سعد الخراساني ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 404

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 405

405 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ»

حضرت سہل بن ابوحثمہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جب کوئی شخص سترہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر لے، تو وہ اس کے قریب رہے، تو شیطان اس کی نماز کو منقطع نہیں کرے گا"۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 405

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 406

406 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ حَارِثَةَ قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ يُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا»

حضرت سہل بن ابوحثمہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے کھجور کے عوض میں پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ تاہم آپ نے "عریہ " کی رخصت دی ہے کہ اسے اندازے کے تحت فروخت کیا جاسکتا ہے۔ تاکہ اس کے مالک (یا گھر والے) تازہ کھجوریں کھاسکیں۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ حَارِثَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 406

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 407

407 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ يَقُولُوَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلًا فِي فَقِيرٍ أَوْ قَلِيبٍ مِنْ فُقُرٍ وَقُلُبِ خَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْكُبْرَ الْكُبْرَ» فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَذَكَرَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا وَإِنَّ الْيَهُودَ أَهْلُ كُفْرٍ وَغَدْرٍ فَهُمُ الَّذِينَ قَتَلُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ دَمَ صَاحِبِكُمْ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَحْلِفُ عَلَى مَا لَمْ نَحْضُرْ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ «فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا» قَالُوا: كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ مُشْرِكِينَ؟ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ سَهْلٌ فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهَا

حضرت سہل بن ابوحثمہ ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عبد الله بن سہلؓ خیبر کے ایک کنوئیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک گڑھے کے کنارے مقتول پائے گئے ، تو ان کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن سہل ؓاور ان کے دو چچا حفرت حویصہ بن مسعود ؓ اور حضرت محیصہ بن مسعود ؓنبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبدارحمٰن بات شروع کرنے لگےتو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "پہلے بڑے کو بات کرنے دو۔ پہلے بڑے کو بات کرنے دو"۔ تو حضرت محیصہ ؓنے بات شروع کی انہوں نے حضرت عبداللہ بن سہل ؓکو قتل ہونے کا تذکرہ کیا انہوں نے کہا: یا رسول اللہ(ﷺ) !ہم نے حضرت عبداللہ بن سہل ؓ کومقتول پایا ہے اور یہودی کافر اور بد عہد لوگ ہیں انہی لوگوں نے انہیں قتل کیا ہوگا ، تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا : "پھرتم پچاس آدمی قسم اٹھا کراپنے ساتھی (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اپنے ساتھی کے خون کےمستحق بن جاؤ ،انہوں نے عرض کی :یارسول اللہ(ﷺ)! ہم ان لوگوں کے خلاف کیسے قسم اٹھا سکتے ہیں، جب ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ اور ہم نے اسےدیکھا ہی نہیں ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:پھر یہودیوں کے پچاس آدمی قسم اٹھاکرتم سے بری الذمہ ہو جائیں گے، انہوں نے عرض کی: ہم مشرک قوم کی قسموں کو کیسے قبول کر سکتے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں، تو نبی اکرم ﷺنے اپنے پاس سے انہیں دیت عطا کیا۔ حضرت سہل ؓ بیان کرتے ہیں: ان میں سے ایک جوان اونٹنی نے مجھے ٹانگ بھی ماری تھی۔

بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 407

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 408

408 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَقُولُ: سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ وَحَكَمَ الْحَكَمَانِ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ لَرَدَدْنَاهُ، وَايْمُ اللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا مُنْذُ أَسْلَمْنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلَتْ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ، وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ وَاللَّهِ مَا سُدَّ فِيهِ خُصْمٌ إِلَّا انْفَتَحَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ آخَرُ "

ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں، جنگ صفین کے موقع پر جب دونوں طرف سے ثالثوں نے فیصلہ دیا تو میں نے حضرت سہل بن حنیفؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ "اے لوگو!تم اپنی رائے کو غلط قرار دو۔ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم بھی اس دن نبی اکرم ﷺکے ساتھ تھے۔ جب ابوجندل آئے تھے۔ اگر ہم چاہتے تو ہم نبی اکرم ﷺکی بات قبول نہ کرتے۔ الله کی قسم !جب سے ہم نے اسلام قبول کیا ہے۔ ہم نے اپنی تلواریں اپنے کندھوں پر کسی ایسے معاملے کی وجہ سے نہیں رکھی ہیں جو ہمیں خوفزدہ کردے،مگر یہ کہ اس نے ہمیں اآسان کرکے دوسرے معاملے کی طرف کردیا۔ جس سے ہم واقف تھے۔ جہال تک اس معا ملے تعلق ہے ،تواللہ کی قسم! اگر اس کے ایک حصے کو بند کیا جائے گا ،تو دوسری طرف سے کھل جائے گا"۔

سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← لَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ وَحَكَمَ الْحَكَمَانِ ← شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ أَبَا وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 408

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 409

409 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ» فَتَرَكْنَا ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ قَوْلِهِ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ زمین ٹھیکے پر دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک حضرت رافع بن خدیج ؓ نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺنے اس سے منع کیا ہے، تو ہم نے ان کے بیان کی وجہ سے اس عمل کو ترک کر دیا۔

کُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا حَتَّی زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 409

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 410

410 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الزُّرَقِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ: «كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا وَكُنَّا نَقُولُ لِلَّذِي نُخَابِرُهُ لَكَ هَذِهِ الْقِطْعَةُ وَلَنَا هَذِهِ الْقِطْعَةُ يَزْرَعُهَا لَنَا فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ» فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَّا بِوَرِقٍ فَلَمْ يَنْهَنَا " فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَالِكًا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ وَمَا كَانَ يَرْجُو أَنَّهُ إِذَا كَانَ عِنْدَ يَحْيَى وَيَحْيَى أَحْفَظُهُمَا لَكِنَّا حَفِظْنَاهُ مِنْ يَحْيَى

حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں: انصار میں ہمارے پاس سب سے زیادہ کھیت تھے۔ ہم لوگ جسے ٹھیکے پرز مین دیتے تھے۔ اسے یہ کہہ دیتے تھے کہ تمہیں یہ والا حصہ ملتا ہے اور اس حصے کی پیداوار ہماری ہوگی، تو بعض اوقات اس حصے میں پیداوار ہو جاتی تھی اور اس حصے میں نہیں ہوتی تھی ،تو نبی اکرمﷺنے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ جہاں تک چاندی کے عوض میں(زمین کو ٹھیکے پر دینے کاتعلق ہے) تو نبی اکرم ﷺنے اس سے ہمیں منع نہیں کیا۔ سفیان سے کہا گیا امام مالک نے یہ روایت ربیعہ کے حوالے سے حنظلہ نامی راوی سے نقل کی ہے ،تو وہ بولے: جب یہ یحییٰ کے پاس سے مل سکتی ہے، تو پھر کسی اور کی ضرورت ہی نہیں ہے ،کیونکی یحییٰ زیادہ احتیاط سے کام لیتے ہیں اور ہم نے یہ روایت یحییٰ سے سن کر ہی محفوظ کی ہے۔

حنظلة بن قيس الزرقي ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 410

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 411

411 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَجَاءَ بِهِ فَغَرَسَهُ فِي حَايِطِ أَهْلِهِ فَأَتَى بِهِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَأَرَادَ أَنْ يَقْطَعَهُ فَشَهِدَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثْرٍ» فَأَرْسَلَهُ مَرْوَانُ.

واسع بن حبان بیان کرتے ہیں: ایک غلام نے ایک شخص کے باغ میں سے کھجور کا پودا چوری کیا۔ اور اسے لا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا۔ اسے پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لایا گیا۔ مروان نے اس کا ہاتھ کٹوانے کا ارادہ کیا، تو حضرت رافع بن خدیج ؓ نے گواہی دی کہ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:" پھل یا کثر چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا"۔تومروان نے اس شخص کو چھوڑ دیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 411

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 412

412 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ قَالَ اسْمُ الَّذِي سَرَقَ فِيلٌ

عبد الکریم کہتے ہیں: چوری کرنے والے شخص کا نام"فیل" تھا۔

اسْمُ الَّذِي سَرَقَ فِيلٌ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 412

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 413

413 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَإِنَّ ذَلِكَ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ» أَوْ قَالَ «لِأُجُورِكُمْ»

حضرت رافع بن خدیج ؓنبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں: "فجر کی نماز روشن کر کے پڑھو۔ ،کیونکہ زیادہ اجر کا باعث ہے۔ (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تمہارے لیےزیادہ اجر کا باعث ہے"۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 413

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 414

414 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُوا الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنُذَكِّي بِاللِّيطِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذَكَرْتُمْ عَلَيْهِ اسْمَ اللَّهِ فَكُلُوهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِنٍّ أَوْ ظُفْرٍ فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ مِنَ الْإِنْسَانِ، وَإِنَّ الظُّفْرَ مُدَى الْحَبَشِ»

حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یارسول اللہ(ﷺ)! کل ہمارا دشمن سے سامنا ہوگا ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو کیا ہم درخت کی چھال کے ذریعے جانور ذبح کر لیں؟ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا: "جو چیز خون بہا دے اور جس پرتم نے الله کا نام لیا ہو اسے تم کھالو۔ ماسوائے اس کے جسے سن (یعنی ہڈی) یاظفر (حبشہ کی مخصوص چھری) کے ذریے ذبح کیا گیا ہو"۔ سن انسان کی ہڈی کو کہتے ہیں اور ظفر حبشیوں کی مخصوص چوری ہے (یہ الفاظ شاید راوی کے ہیں)

قُلْنَا ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 414

chevron_left Previous
1…515253…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter