Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 391

391 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخُولَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ: «تُبَايِعُونِي أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا الْآيَةَ فَمَنْ وَفَّا مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ» قَالَ سُفْيَانُ كُنَّا عِنْدَ الزُّهْرِيِّ فَلَمَّا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَشَارَ إِلِيًّ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ أَنْ أَحْفَظَهُ فَكَتَبْتُهُ فَلَمَّا قَامَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرْتُ بِهِ أَبَا بَكْرٍ

حضرت عبادہ بن صامت ؓبیان کرتے ہیں: ہم ایک محفل میں نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے۔ آپﷺنے ارشادفرمایا:"تم میری بیعت کرو کہ تم کسی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراو گے تم چوری نہیں کرو گے ۔تم زنا نہیں کرو گ ۔ تم میں سے جو شخص اسے پورا کر لے گا ،تو اس کا اجر الله تعالیٰ کے ذمے ہوگا۔ اور جوشخص ان میں سے کسی ایک جرم کا مرتکب ہوجائے اور اسے سزادے دی جائے، تو یہ اس کے لیے کفارہ بن جائے گی۔ اور جو شخص ان میں سے کسی ایک جرم کا مرتکب ہو اور الله تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے ،تو اس کا معاملہ الله تعالیٰ کے سپرد ہوگا۔ اگر وہ چاہے تو اس کی مغفرت کر دے اور اگر چاہے، تو اسے عذاب دے"۔

أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 391

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 392

392 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ الْمُخْدَجِيِّ قَالَ لِعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةَ كَذِبَ أَبُو مُحَمَّدٍ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ فَمَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا لِلْقَادِرِينَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ»

مخدجی بیان کرتے ہیں: حضرت عبادہ بن صامت ؓسے کہا گیا: ابو محمد یہ کہتے ہیں: وتر واجب ہیں، تو حضرت عبادہ ؓبولے : ابومحمد نے غلط کہا ہے۔ میں نے نبی اکرم ﷺکویہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "پانچ نمازیں ہیں جنہیں الله تعالیٰ نے دن اور رات میں بندوں پر لازم قرار دیا ہے۔ جو انہیں ادا کرے۔ اور ان کے حق میں سے کسی چیز کی کوئی کمی نہ کرے ،تو الله تعالیٰ پر یہ بات لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے اور جوشخص انہیں ادا نہیں کرتا ،تو اس کے بارے میں الله تعالیٰ کے پاس کوئی عہد نہیں ہوگا۔ اگر وہ چاہے گا، تو اس کی مغفرت کر دے گا اگر چاہے گا ،تو اسے عذاب دے گا“۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُبَادَةُ کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ← الوتر واجب ← لِعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ الْمُخْدَجِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 392

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 393

393 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالَيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُ مَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَوْمَةَ لَائِمٍ»

حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺکے دست اقدس پر تنگی اور آسانی۔ خوشی اور ناخوشی (ہر حالت میں) اطاعت وفرمانبرداری کی بیعت کی۔ اور یہ کہ ہم حکمرانوں سے ان کی حکومت کے بارے میں جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گےحق کے مطابق بات کہیں گے اور الله تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 393

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 394

394 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ [ص:377]، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالُوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ حَتَّى خَصَّ الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَهُوَ رِبًا»

حضرت عبادہ بن صامت ؓکرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے :"سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر، برابر ہو گا۔ چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر، برابر ہوگا۔ کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین برابر ،برابر ہوگا ۔ گندم کے عوض میں گندم کا لین دین برابر، برابر ہوگا ۔ جو کے عوض میں جوکا لین دین برابر، برابر ہوگا، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺنے بطور خاص نمک کے عوض میں نمک کے لین دین کابھی ذکر کیا (اور یہ فرمایا )جو شخص زیادہ ادائیگی کرے یا زیادہ ادائیگی کا طلبگار ہو ، تویہ سود ہوگا"۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ [ص:377]، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 394

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 395

395 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحْ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا غَيْرُكَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ: «مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ أُنْزِلَتْ غَيْرُكَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ»

عطاء بن یسارمصر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے حضرت ابودر داءؓ سےاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا۔"وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے پرہیز گاری اختیار کی ان کے لیے دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے"۔تو حضرت ابودرداء ؓبولے: جب سے میں نے نبی اکرم ﷺسے اس بارے میں دریافت کیا ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک کسی نے تمہارے علا وہ مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ صرف ایک اورشخص نے یہ سوال کیا تھا۔ میں نے نبی اکرم سﷺے اس بارے میں یہ دریافت کیا تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:"جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس وقت سے لے کر اب تک تمہارے علاوہ اور کسی نے بھی اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا۔ صرف ایک شخص نے کیا ہے(اس سے مراد )وہ سچے خواب ہیں ۔ جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے۔ (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو کسی مسلمان کو دکھائے جاتے ہیں"۔

قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ← رجل من أهل مصر، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 395

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 396

396 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: سُفْيَانُ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ رَفِيعٍ فَحَدَّثَنِيهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ [ص:379] عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابودرداءؓ کے حوالے سے منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ [ص:379] ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانُ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ رَفِيعٍ فَحَدَّثَنِيهِ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 396

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 397

397 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُمَلَّكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ»

سیده اُم درداءؓ، حضرت ابو دارداءؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: ”جسے نرمی میں سے حصہ عطا کیا گیا۔ اسے بھلائی میں سے حصہ عطا کیا گیا اور جوشخص نرمی میں سے حصے سے محروم رہا وہ بھلائی میں حصے سے محروم رہا"۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 397

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 398

398 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُمَلَّكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَثْقَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ خُلُقٌ حَسَنٌ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِئَ»

سیده ام درداء ؓ، حضرت ابو درداءؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتی ہیں۔ "میزان میں سب سے وزنی چیز اچھے اخلاق ہیں اور الله تعالٰی برے اخلاق کے مالک بدزبان شخض کو ناپسند کرتا ہے"۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 398

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 399

399 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَبِي يَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ» فَأَضِعْ ذَلِكَ أَوِ احْفَظْهُ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ إِنَّ أُمِّي وَرُبَّمَا قَالَ إِنَّ أُمِّي وَأَبِي

حضرت ابودر داءؓ کے بارے میں منقول ہے: ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے کہا: میرے والد مجھےیہ حکم دے رہے ہیں کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں ،تو حضرت ابو درداءؓ بولے: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے:"والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔(یہ تمہاری مرضی ہے) کہ تم اسے ضائع کر تے ہو یا اس کی حفاظت کرتے ہو"۔ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میری والدہ نے مجھےیہ حکم دیا ہے۔ اور بعض اوقات انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میری والدہ نے (رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے والد نے مجھے یہ حکم دیا ہے۔

إِنَّ أُمِّي وَأَبِي ← سُفْيَانُ إِنَّ أُمِّي وَرُبَّمَا ← «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ» فَأَضِعْ ذَلِكَ أَوِ احْفَظْهُ، وَرُبَّمَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ ← لَهُ: إِنَّ أَبِي يَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا، ← أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 399

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 400

400 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَرَأْتُ بِالشَّامِ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى) فقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: هَكَذَا سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ «سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ {وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى} »

علقمہ بیان کرتے ہیں: میں نے شام میں یہ آیت تلاوت کی:والیل اذا یغشی والنھاراذا تجلی والذکرولا نثی تو حضرت ابودرداء ؓنے دریافت کیا۔ کیا تم نے حضرت عبداللہؓ کو یہ آیت اس طرح تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے میں نے جواب دیا: جی ہاں تو وہ بولے : اور انہوں نے گواہی دے کر یہ بات بیان کی کہ انہوں نے نبی اکرمﷺکو یہ آیت اسی طرح پڑھتے ہوئے سناہے: والذكر والأنثی.

رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ {وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى} ← هو يشهد أنه ← عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ ← أبو الدرداء هكذا ← بالشام والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى والذكر والأنثى ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 400

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 401

401 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ فَقَالَ: أَوَ يَأْكُلُهَا أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: إِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي يَتَحَبَّلُونَهَا فَيَأْكُلُونَهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَكْلُهَا [ص:381]، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: أَلَا أُخْبِرُكَ مِمَّا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ نُهْبَةٍ، وَعَنْ كُلِّ خَطْفَةٍ خَطَفَهُ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ» فَقَالَ سَعِيدٌ صَدَقْتَ

عبداللہ بن یزید سعدی بیان کرتے ہیں : میں نے سعید بن مسیب سے بجو کھانے کے بارے میں دریافت کیا ،تو وہ بولے : کیا کوئی شخص اسے کھا سکتا ہے؟ میں نے کہا: میری قوم سے تعلق رکھنے والے لوگ اس کا شکار کر کے اسے کھاتے ہیں ،تو سعید بولے: اسے کھانا درست نہیں ہے ت،تو ان کے پاس موجود ایک عمر رسیدہ صاحب بولے: کیا میں آپ کو اس چیز کے بارے میں بتاؤں۔ جو میں نے حضرت ابو درداء ؓ کی زبانی سنی ہے میں نے حضرت ابو درداء ؓکو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی اکرم ﷺنے زندہ جانور سے کاٹے جانے والے عضو اور نشانہ بنا کر مارے جانے والے جانور، ہر نوکیلے دانتوں والے جانور کو کھانے سے منع کیا ہے تو سعید بولے: آپ نے سچ کہا ہے۔

سَعِيدٌ: صَدَقْتَ ← كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ ← الْمُجَثَّمَةِ. ← كُلِّ خَطْفَةٍ خَطَفَهُ، ← كُلِّ نُهْبَةٍ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ← شَيْخٌ عِنْدَهُ: أَلَا أُخْبِرُكَ مِمَّا ← سَعِيدٌ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَكْلُهَا [ص:381]، ← أَوَ يَأْكُلُهَا أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: إِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي يَتَحَبَّلُونَهَا فَيَأْكُلُونَهَا، ← أكل الضبع، ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 401

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 402

402 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنْ حَجَرٍ الْمُدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ»

حضرت زید بن ثابت ؓکا بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے عمری ٰکو وارث کو دینے کا فیصلہ دیا ہے۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← حُجْرٍ الْمَدَرِيُّ، ← طَاوُسًا ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 402

chevron_left Previous
1…505152…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter