Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 379

379 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يَقُولُ: قُلْتُ لِأُبَيٍّ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولَ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ، وَلَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ثُمَّ حَلَفَ أُبَيٌّ لَا يِسْتَثْنِي أَنَّهَا لَلَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ بِأَيِّ شَيْءٍ عَلَّمْتَهُ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ أَوْ بِالْعَلَامَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَخْبَرَنَا أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ صَبِيحَةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَا شُعَاعَ لَهَا»

زربن حبیش کہتے ہیں میں نے حضرت ابی ؓ سے کہا آپ کے بھائی حضرت عبدالله بن مسعود ؓ یہ فرماتے ہیں۔ جو شخص سال بھرنوافل ادا کرتا رہے، وہی شب قدر کو پا سکتا ہے، تو حضرت ابیؓ بولے: الله تعالی ابو عبدالرحمن پررحم کرے ان کا مقصد یہ ہے کہ لوگ( کسی ایک متعین رات ) پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں، ور نہ وہ بھی یہ بات جانتے ہیں کہ یہ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے ،اور یہ ستائیسویں رات ہے، پھر حضرت ابی ؓنے کی استثناء کے بغیر تم اٹھا کر یہ بات بیان کی کہ یہ ستائیسویں رات ہوتی ہے۔ ہم نے ان سے گزارش کی: اے ابوا لمنذ ر! آپ کو اس بات کا کیسے پتہ چلا تو انہوں نے فرمایا: اس نشانی (رادی کوشک ہے شاید ہی الفاظ ہیں ) علامت کی وجہ سے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺنے ہمیں بتایا ہے۔نبی اکرم ﷺنے ہمیں بتایا ہے کہ اس رات کی صبح جب سورج نکلتا ہے ،تو اس میں شعاع نہیں ہوتی۔

قُلْتُ لِأُبَيٍّ ← عاصم ابن بهدلة أنهما سمعا زر بن حبيش ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 379

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 380

380 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ لِي ابْنُ عَمٍّ شَاسِعُ الدَّارِ فَقُلْتُ: لَوِ اشْتَرَيْتُ بَيْتًا قَرِيبًا مْنَ الْمَسْجِدِ أَوْ حِمَارًا قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِيَ مُطْنَبًا بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً مُنْذُ أَسْلَمَ كَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْهَا فَإِذَا هُوَ يَذْكُرُ الْخَطَأَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةِ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ دَرَجَةً»

حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں: میرا ایک چچازادتھا جس کا گھر بہت دور تھا میں نے اس سے کہا: اگر تم مسجد کے قریب کوئی گھر لے لو یا کوئی گدھا لے لو تو یہ مناسب ہوگا ،تو وہ بولا: مجھے یہ بات پسندنہیں ہے کہ میرا گھر نبی اکرمﷺکے گھروں کے درمیان میں ہو۔ حضرت ابیؓ کہتے ہیں : جب سے اس نے اسلام قبول کیا تو اس کی زبانی میں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی تھی جو مجھے اس سے زیادہ بری لگی ہو۔اور اب وہ پیدل چل کے آنے کا ذکر کر رہا تھا۔ میں نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپﷺسے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: مسجد کی طرف چل کر آتے ہوئے وہ جتنے قدم اٹھائے گا اس کے ہر ایک قدم کے عوض میں اسے ایک درجہ ملے گا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 380

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 381

381 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ» قَالَ سُفْيَانُ كَانَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا قَبْلَهُ حَدِيثَ أَنَسٍ ثُمَّ أتْبَعَهُ هَذَا فَقَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ

حضرت ابو ایوب انصاری ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:" کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے یوں کہ کرے یوں کہ جب وہ دونوں ملیں ، تو یہ ادھر منہ کر لے اور وہ ادھر منہ کرلے ان دونوں میں زیادہ بہتر وہ ہوگا ، جو سلا م میں پہل کرے "۔ سفیان کہتے ہیں : ز ہری پہلے یہ روایت حضرت انس ؓکے حوالے سے منقول روایت کے طور پر سناتے تھے لیکن پھر انہوں نے اسے عطاء بن یزید کے حوالے سے سنانا شروع کردیا۔

أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 381

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 382

382 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ [ص:370]، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ نَافِعَ بْنَ عُمَرَ الْجُمَحِيَّ لَا يُسْنِدُهُ، فَقَالَ: لَكِنِّي أَحْفَظُهُ وَأُسْنِدُهُ كَمَا قُلْتُ لَكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْمَكِّيِّينَ إِنَّمَا أَخَذُوا كِتَابًا جَاءَ بِهِ حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ مِنَ الشَّامِ قَدْ كُتِبَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَوَقَعَ إِلَى ابْنِ حَرْحَرَةَ وَكَانَ الْمَكِّيُّونَ يَعْرِضُونَ ذَلِكَ الْكِتَابَ عَلَى ابْنِ شِهَابٍ فَأَمَّا نَحْنُ فَإِنَّمَا كُنَّا نَسْمَعُ مِنْ فِيهِ

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: اخانہ یا پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو۔ بلکہ(مدینہ منورہ کے حساب سے )مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو۔حضرت ابوایوب انصاری ؓبیان کرتے ہیں : ہم لوگ شام آئے ،تو وہاں ہم نے ایسے بیت الخلاء دیکھے۔ جوقبلہ کی سمت میں بنائے گئے تھے، تو ہم ذرا ٹیڑھے ہو کر بیٹھا کرتے تھے اور الله تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ سفیان سے کہا گیا، نافع بن عمر نامی راوی اس کی سند بیان نہیں کرتے ہیں، تو سفيان بولے: مجھے تو یہ روایت یاد ہے اور میں اس کی سند وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے تمہارے سامنے بیان کی ہے۔ پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ مکہ کے رہنے والے جو راوی ہیں انہوں نے ایک تحریر حاصل کی تھی۔ جوحمید نامی راوی شام سے لے کر آئے تھے۔ اور یہ روایات انہوں نے زہری کے حوالے سے نوٹ کی تھی، تو وہ تحریرابن جر جہ تک پہنچی تو اہل مکہ نے اس تحریر کی وجہ سے ابن شہاب سے اعراض کرنا شروع کر دیا تاہم ہم نے تو ابن شہاب کی زبانی یہ بات سنی ہے۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 382

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 383

383 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: امْتَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ بِالْعَرَجِ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ؟ فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ يَغْتَسِلُ، فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلًا جَمَعَ ثِيَابَهُ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَقَالَ «بِيَدَيْهِ فِي رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ» وَقَالَ: هَكَذَا فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمَا فَأَخْبَرْتُهُمَا فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا

ابراہیم بن عبد الله اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں۔ "عرج" کے مقام پر حضرت عبدالله بن عباس ؓاور حضرت مسور بن مخرمہؓ کے درمیان اس بات پر بحث ہوگئی کہ احرام والالشخص اپناسرد ھوسکتا ہے؟ ان حضرات نے مجھے حضرت ابو ایوب انصاری ؓکی خدمت میں بھیج دیا میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں کنوئیں کے کنارے پڑے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے دیکھا۔ جب انہوں نے مجھے آتے ہوئے دیکھا انہوں نے سینے تک اپنے کپڑے اکٹھے کر لیے۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو میں نے گزارش کی ۔ آپ کے بھتیجے حضرت عبد الله بن عباسؓ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تا کہ میں آپ سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم ﷺکو احرام کے دوران اپنا سر دھوتے ہوئے آپ نے کیسے دیکھا ہے تو انہوں نے اپ دونوں ہاتھ ا پنے سر پر رکھے۔اسے آ گے سے پیچھے کیطرف لےگئے پھرپیچھےسے آ گے کی طرف لے کرآے اور بولے: اس طرح اور اس طرح۔ میں ان دونوں صاحبان کے پاس واپس آیا اور ان دونوں حضرات کو اس بارے میں بتایا تو حضرت مسور بن مخرمہؓ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے کہا: میں آپ کے ساتھ کبھی بحث نہیں کروں گا۔

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 383

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 384

384 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ [ص:371]، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ أَوْ قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَهُ قَالَ: اسْكُتْ عَنْهُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں: جوشخص رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے 6 روزہ رکھے تو گویا اس نے ہمیشہ نفلی روزے رکھے۔امام حمیدی ؒ کہتے ہیں میں نے سفیان سے کہا : یا شاید سفیان سے یہ کہا گیا : دیگرلوگ تو اسے "مرفوع "حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں، تو وہ بولے تم اس حوالے سے خاموش رہو میں یہ بات جانتا ہوں۔

اسْكُتْ عَنْهُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ ← أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ أَوْ قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَهُ ← مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ ستا من شوال فكأنما صام الدهر. ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ [ص:371]، ← سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 384

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 385

385 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ» [ص:372]

حضرت ابو ایوب انصاری ؓنبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جوشخص رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے بعد شوال کے 6 روزے رکھ لے ،تو گویا اس نے ہمیشہ نفلی روزے رکھے"۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ وَسَعْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 385

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 386

386 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو ایوب انصاری ؓکے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے منقول ہے۔

النَّبِيِّ بِمِثْلِ ذَلِکَ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إسماعيل بن إبراهيم الصائغ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 386

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 387

387 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا»

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں : میں نے مزدلفہ میں نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں مغرب اور عشاء کی نماز یں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔

«صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا» ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 387

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 388

388 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ الْأَعْمَى يُحَدِّثُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يَقُولُ: خَرَجَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَهُوَ بِمِصْرَ يَسْأَلُهُ عَنْ حَدِيثٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهُ وَغَيْرَ عُقْبَةَ فَلَمَّا قَدِمَ أَتَى مَنْزِلَ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ مِصْرَ فَأُخْبِرَ بِهِ فَعَجَّلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَعَانَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟ فَقَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي وَغَيْرَ عُقْبَةَ فَابْعَثْ مَنْ يَدُلُّنِي عَلَى مَنْزِلِهِ قَالَ فَبَعَثَ مَعَهُ مَنْ يَدُلُّهُ عَلَى مَنْزِلِ عُقْبَةَ فَأُخْبِرَ عُقْبَةُ بِهِ فَعَجَّلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَعَانَقَهُ وَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟ فَقَالَ حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ غَيْرِي وَغَيْرَكَ فِي سَتْرِ الْمُؤْمِنِ قَالَ عُقْبَةُ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى خِزْيِهِ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ: صَدَقْتَ، ثُمَّ انْصَرَفَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَرَكِبَهَا رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا أَدْرَكَتْهُ جَائِزَةُ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ إِلَّا بَعَرِيشِ مِصْرَ

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ایوب انصاری ؓ حضرت عقبہ بن عامر ؓکے پاس گئے ۔ وہ اس وقت مصرمیں تھے۔ انہوں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا: جو انہوں نےنبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی تھی اور اب کوئی بھی شخص ایسا باقی نہیں رہا تھا جس نے نبی اکرمﷺ کی زبانی وہ حدیث سنی ہو۔ صرف حضرت ابو ایوب انصاری ؓاور حضرت عقبہؓ نے وہ حدیث سنی ہوئی تھی۔جب حضرت ابو ایوب انصاری ؓ مصر آئے ،تووہ مسلمہ بن مخلد انصاری کے گھرٹھہر ے۔ جو مصر کا امیر تھا۔ اسے اس بارے میں بتایا گیا، تو وہ تیزی سے نکل کر ان کے پاس آیا۔ اس نے ان کے ساتھ معانقہ کیا۔ پھر بولا:اے ابو ایوب انصاری ؓ!آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟ تو حضرت ابو ایوب ؓ نے بتایا: میں نے نبی اکرمﷺکی زبانی ایک حدیث سنی تھی۔ اب میرے اور عقبہ بن عامر کے علاوہ ایسا کوئی شخص نہیں رہا۔ جس نے نبی اکرم ﷺکی زبانی وہ حدیث سنی ہو، تو تم کسی ایسے شخص کو میرے ساتھ بھیجو جو مجھے ان کے گھر تک پہنچا دے ۔ راوی کہتے ہیں : تو امیر نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے ہمراہ اس شخص کو بھیجا جو انہیں حضرت عقبہ بن عامرکے گھر تک پہنچا دے۔ جب حضرت عقبہؓ کو ان کے بارے میں پتہ چلا تو وہ تیزی سے نکل کر باہرآئے اور ان سے گلے ملے اور دریافت کیا: اے ابو ایوب ؓ! آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے ایک حدیث نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی تھی اب میرے اور آپ کے علاوہ ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہا۔ جس نے نبی اکرم ﷺسے وہ حدیث سنی ہو اور وہ حدیث مومن کی پردہ داری کے بارے میں ہے ،تو حضرت عقبہؓ بولے : "جی ہاں" میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جوشخص دنیا میں کسی مومن کی خامی کی پردہ پوشی کرتا ہے ،تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا"۔ تو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے ان سے کہا: آپ نےسچ بیان کیا ہے ،پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ واپس اپنی سواری کی طرف آئے اس پر سوار ہوئے اور واپس مدینہ منورہ آگئے۔ مسلمہ بن مخلدکی مہمانی مصر کے شہر عریش میں ہی تھی کہ (آپ ؓواپس بھی آ گئے یعنی وہ مہمانی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا)

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبَا سَعْدٍ الْأَعْمَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 388

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 389

389 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ يُصَلِّي أَرْبَعًا وَيَقُولُ: «إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ أَوِ الْجَنَّةِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ»

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺسورج ڈھل جانے کے بعد چار رکعات ادا کرتےتھے اور یہ ارشاد فر مایا کرتے تھے :"سورج ڈھلنے کے وقت آسمان (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں"۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← الْقَرْثَعِ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← عُبَيْدَةَ الضَّبِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 389

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 390

390 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يَقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»

حضرت عبادہ بن صامت ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے۔ "اس شخص کی نماز ( کامل) نہیں ہوتی جواس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھتا"۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 390

chevron_left Previous
1…495051…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter