Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 367

367 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَدِمَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْكُوفَةَ عَلَى أَخِيهَا الضَّحَاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَ عَامِلًا عَلَيْهَا، فَأَتَيْنَاهَا فَسَأَلْنَاهَا، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، وَخَرَجَ إِلَى الْيَمَنِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ وَطَلَبْتُ النَّفَقَةَ فَقَالَ بِكُمِّهِ هَكَذَا وَاسْتَتَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ، وَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ كُمَّهُ فَوْقَ رَأْسِهِ، «اسْمَعِي مِنِّي يَا بِنْتَ آلِ قَيْسٍ، إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَلَا سُكْنَى لَهَا وَلَا نَفَقَةَ» ثُمَّ قَالَ لِي: «اعْتَدِّي عِنْدَ أُمِّ شَرِيكٍ بِنْتِ أَبِي الْعَكَرِ» ثُمَّ قَالَ: «تِلْكَ امْرَأَةٌ يُتَحَدَّثُ عِنْدَهَا، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ فَتَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَلَا يَرَاكِ»

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ بنت قیس ؓ کوفہ تشریف لائیں وہ اپنے بھائی ضحاک بن قیس کے ہاں آئی تھیں جو وہاں کے گورنر تھے ،تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے اس خاتون سے سوال کیا ،تو انہوں نے بتایا: میں عمرو بن حفص کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق دی تو طلاق بتہ دے دی ورخودیمن چلے گئے میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضرہوئی میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺسے کیا اور خرچ کا مطالبہ کیا تو نبی اکرم ﷺنے اپنی آستین کو اس طرح کرتے ہوئےفرمایا۔ نبی اکرم ﷺنے اس خاتون سے پردہ کیا تھا۔ امام حمیدی ؒ نے اپنی آستین اپنے سر پر بلند کر کے (یہ کر کے دکھایا) (نبی اکرمﷺنے فرمایا:) اے قیس کی اولاد! کی صاحبزادی ۔ رہائش اور خرچ کا حق اس عورت کو ملتا ہے، جب اس کے شوہر کو اس سے رجوع کرنے کا حق ہو ،لیکن جب شوہر کے لیے اس سے رجوع کرنے کا حق نہ ہو، تو عورت کو رہائش اور خر چ کا حق نہیں ملے گا۔پھر نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا: تم ام شریک بنت ابوالعکر ؓکے ہاں عدت بسرکرو۔ پھر نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: وہ ایک ایسی عورت ہے ،جس کے ہاں لوگوں کی آمد ورفت رہتی ہے تو ابن ام مکتوم کے ہاں عد ت بسر کرو ،کیونکہ وہ ایک نا بیناشخص ہے۔اگرتم اپنی چادر اتار دوگی، تو بھی وہ تمہیں دیکھ نہیں سکے گا۔

الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 367

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 368

368 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَدِمَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةُ الْكُوفَةَ عَلَى أَخِيهَا الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَ قَدِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْهَا فَأَتَيْنَاهَا نَسْأَلُهَا فَقَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَخْطُبْكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَكِنْ لِحَدِيثٍ حَدَّثَنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ مَنَعَنِي سُرُورُهُ الْقَايِلَةَ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ عَنْ بَنِي عَمٍّ لَهُ أَنَّهُمْ أَقْبَلُوا فِي الْبَحْرِ مِنْ نَاحِيَةِ الشَّامِ فَأَصَابَتْهُمْ فِيهِ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَلْجَأَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ فَإِذَا هُمْ فِيهَا بِدَابَّةٍ أَهْدَبَ الْقُبَالِ ? فَقُلْنَا: مَا أَنْتِ يَا دَابَّةُ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ فَقُلْنَا: أَخْبِرِينَا، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلَا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ شَيْئًا، وَلَكِنْ فِي هَذَا الدَّيْرِ رَجُلٌ بِالْأَشْوَاقِ إِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَتُخْبِرُونَهُ، فَدَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ أَعْوَرَ مَوْثُوقٍ بِالسَّلَاسِلِ يُظْهِرُ الْحُزْنَ كَثِيرَ التَّشَكِّي، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: أَفَاتَّبَعْتُمْ، فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قُلْنَا عَلَى حَالِهَا تَسْقِي أَهْلَهَا مِنْ مَائِهَا وَتَسْقِي زَرْعَهُمْ [ص:357]، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عَمَّانَ وَبَيْسَانَ؟ فَقَالُوا: يُطْعِمُ جَنَاهُ كُلَّ عَامٍ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ قَالُوا: يَشْرَبُ مِنْهَا أَهْلُهَا، وَيَسْقُونَ مِنْهَا مَزَارِعَهُمْ قَالَ: فَلَوْ يَبِسَتْ هَذِهِ أَنْفَلِتُ مِنْ وَثَاقِي هَذَا فَلَمْ أَدَعْ بِقَدَمَيَّ هَاتَيْنِ مَنْهَلًا إِلَّا وَطِئْتُهُ إِلَّا الْمَدِينَةَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِلَى هَذَا انْتَهَى سُرُورِي» ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْهَا شُعْبَةٌ إِلَّا وَعَلَيْهَا مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ يَرُدُّهُ مِنْ أَنْ يَدْخُلَهَا» قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَلَقِيتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ «وَمَكَّةَ» وَقَالَ: مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ قَالَ الشَّعْبِيُّ فَلَقِيتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیده فاطمہ بنت قیںؓ کوفہ میں اپنے بھائی حضرت ضحاک بن قیس ؓکے ہاں تشریف لائیں جنہیں وہاں کا گورنر بنایا گیا تھا۔ تو ہم اس خاتون کی خدمت میں ان سے دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے اس خاتون نے بتایا:نبی اکرم ﷺنے عین دوپہر کے وقت ہمیں خطبہ دیا۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں کسی چیز کی رغبت دلانے کے لیے یا کسی چیز سے ڈرانے کے لیے خطبہ نہیں دیا بلکہ ایک واقعے کی وجہ سے میں تمہیں خطبہ دے رہا ہوں جو تمیم داری نے مجھے بتایا ہے۔ اور اس خوشی کی وجہ سے میں نے دوپہر کو آرام نہیں کیا۔ تمیم داری نے اپنے چچازاد کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ وہ لوگ سمندر میں سفر کرتے ہوئے شام کی طرف جارہے تھے۔ اسی دوران تیز ہو ا چلنے لگی ، تو ان لوگوں نے سمندر میں موجود ایک جزیرے میں پناہ لی تو وہاں ایک جانور تھا جس کی بھنویں لمبی تھیں ہم نے کہا: اے جانور !تم کیا چیز ہواس نے جواب دیا: میں جثاثہ ہوں ہم نے کہا :تم ہم کو کچھ بتاؤ۔ اس نے کہا: نہ تو میں تمہیں کچھ بتاو ں گی اور نہ ہی میں تم سے کچھ معلوم کرنا چاہتی ہوں۔تاہم اس عبادت گاہ میں ایک شخص ہے ،جو اس بات کا مشتاق ہے کہ وہ تمہیں کچھ بتائے اورتم اسے کچھ بتاؤ۔(وہ صاحب کہتے ہیں)ہم اس عبادت گاہ میں داخل ہوئے ،تو وہاں ایک کا ناشخص موجودتھا جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، اورغم کا اظہار کر رہا تھا وہ شکایت بکثرت کر رہا تھا، جب اس نے ہمیں دیکھا تو بولا: کیا تم لوگوں نے نبی اکرم ﷺکی پیروی کر لی ہے؟ ہم نے اسے اس بارے میں بتایا۔اس نے دریافت کیا: بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: وہ اپنی اصل حالت میں ہے اس کے آس پاس کے لوگ اس کےپانی سے سیراب ہوتے ہیں اور اپنے کھیتوں کوبھی سیراب کرتے ہیں۔اس نے دریافت کیا: عمان اور بیسان کے درمیان موجود کھجوروں کے باغ کا کیا حال ہے؟ تو ان لوگوں نے بتایا:وہ ہر سال اپنا پھل دیتے ہیں اس نے دریافت کیا: "زرع‘‘ کے چشمے کا کیا حال ہے؟لوگوں نے کہا: وہاں کے لوگ اس کا پانی پیتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ تو وہ بولا : اگر یہ خشک ہو جائے ،تو میں اپنی ان زنجیروں سے آزاد ہو جاؤں گا اور پھر میں پوری روئے زمین کو اپنے قدموں تلے رونددوں گاصرف مدینہ میں نہیں جاسکوں گا۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: "اس بات پر میں بہت خوش ہواہوں"۔ پھر آپﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم !جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہاں (یعنی مدینہ منورہ) کے ہر ایک راستے پر ایک فرشتہ تلوار سونت کر کھڑا ہوا ہے، جو اس (دجال)کو اس میں داخل ہونے سے روک دے گا۔ امام شعبی یہ کہتے ہیں: بعد میں میری ملاقات حضرت ابو ہریرہ ؓ کے صاحبزادے محرر سے ہوئی تو انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکے حوالے سےیہی حدیث مجھے سنائی تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ ز ائد نقل کیے (کہ وہ مکہ میں بھی داخل نہیں ہو سکےگا) انہوں نے یہ بات بھی بیان کی یہ مشرق کی سمت سے ہو گا اور وہ کیا ہے ،جومشرق کی سمت سے ہوگا وہ کیا ہے؟ امام شعبی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی تو انہوں نے سیدہ عائشہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺسے اسی کی مانند روایت نقل کی۔

الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 368

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 369

369 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ تَقُولُ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ فَقَرَّبَ أَمْرَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْجِنُ لِأَهْلِيَ الْعَجِينَ فَمَا أَظُنُّ أَنْ يَبْلُغَ حَتَّى يَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

سیدہ اسماء بنت یزید ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ہمیں دجال کے بارے میں بتایاتو آپ ﷺنے اس کے معاملے کو قریب کر کے ظاہر کیا۔ میں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! میں اپنے گھر والوں کے لیے آٹا گوندھ کے آئی ہوں اور مجھے یوں لگ رہا ہے کہ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی دجال نکل آئےگا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر وہ اس وقت ظاہر ہوا جب میں تمہارے ان کے درمیان موجود ہوا تو میں تمہاری طرف سے اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو میری جگہ الله تعالی ٰہر مسلمان کا نگہبان ہوگا۔

الدَّجَّالِ فَقَرَّبَ أَمْرَهُ، فَقُلْتُ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ تَقُولُ: ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّهُ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 369

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 370

370 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ» قُلْتُ: وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ؟ قَالَ «لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنِسُ، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ [ص:359] عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا وَيَرْزُقُهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَكْفُرَهَا، فَتَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ مَكَانَ يَوْمٍ بِخَيْرٍ قَطُّ»

سیدہ اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺمیرے پاس سے گزرے میں کچھ خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺنے ہمیں سلام کیا پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا :تم لوگ انعام دینے والوں کی ناشکری سے بچو۔ میں نے دریافت کیا: انعام دینے والوں کی ناشکری سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت بیوہ یا مطلقہ ہو جانے کے بعد ،یا شادی سے پہلے، ایک طویل عرصے تک اپنے ماں باپ کے ہاں رہتی ہے ،پھر الله تعالی ٰاسے شوہر عطا کر دیتا ہے اور الله تعالی ٰاس شوہر کی طرف سے اسے مال اور اولاد عطا کرتا ہے ،لیکن (کسی موقع )پر اس کو غصہ آجاتا ہے اور وہ اس کی ناشکری کرتی ہے اور یہ کہتی ہے: میں نے تمہاری طرف سے ایک بھی دن بھلائی کا کبھی نہیں دیکھا۔

«إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ» قُلْتُ: وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ؟ ← فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 370

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 371

371 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: أَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ فَقَرَّبَتْ إِلِيَّ قِنَاعًا فِيهِ تَمْرٌ أَوْ رُطَبٌ، فَقَالَتْ: كُلْ، فَقُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَصَاحَتْ بِي كُلْ فَإِنِّي أَنَا الَّتِي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَجْلَسْتُهَا عَنْ يَمِينِهِ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا وَطَأْطَأَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ، فَقُلْتُ: خُذِي مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْ فَشَرِبَتْ ثُمَّ قَالَ لَهَا «نَاوِلِي تِرْبَكِ» فَقُلْتُ: بَلْ أَنْتَ فَاشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ نَاوِلْنِي فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَأَدَرْتُ الْإِنَاءَ لِأَضَعَ فَمِي عَلَى مَوْضِعِ فِيهِ ثُمَّ قَالَ «أَعْطِي صَوَاحِبَاتِكِ» فَقُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا» قَالَتْ: فَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ: «أَتُحِبِّينَ أَنْ يُسْوِرَكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ» قَالَتْ: فَأَعْتَوْنَا عَلَيْهِ حَتَّى نَزَعْنَاهُ فَرَمَيْنَا بِهِ فَمَا نَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ؟ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ جُمَانًا مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تَأْخُذَ شَيْئًا مِنْ زَعْفَرَانَ فَتُدِيفَهُ ثُمَّ تُلَطِّخَهُ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ»

شہربن حوشب بیان کرتے ہیں: میں سیدہ اسماء بنت یزیدرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک تھال میری طرف بڑھایا جس میں خشک اور تاز ہ کجھوریں تھیں انہوں نے فرمایا تم کھاؤ! میں نے گزارش کی مجھے اس کی خواہش نہیں ہے ،تو انہوں بلند آوازمیں مجھ سے فرمایا:تم کھاو !میں نےگزارش کی مجھے اس کی خواہش نہیں ہے'تو انہوں نے بلند آواز میں مجھ سےفرمایا:تم کھاو !میں وہ عورت ہوں 'جس نے سیدہ عائشہ ؓکو (شادی کے موقع پر)نبی اکرم ﷺکے لیے تیار کیا تھا۔ میں سیدہ عائشہ ؓ کو ساتھ لے کر نبی اکرمﷺکے پاس آئی میں نے انہیں نبی اکرم ﷺکے دائیں طرف بٹھادیا پھرنبی اکرم ﷺکی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں دودھ موجودتھا نبی اکرم ﷺنے اسے پیا پھر آپ ﷺنے سیدہ عائشہ ؓکی طرف بڑھایا تو انہوں نے اپنا سر جھکا لیا اور وہ شرما گئیں۔ میں نے کہا: آپ نبی اکرم ﷺکے ہاتھ سے اسے حاصل کر لیں انہوں نے اسے لیا اور پی لیا پھر نبی اکرم ﷺنے ان سے فرمایا: تم اسے اپنی ہم عمرلڑ کیوں کی طرف بڑھادو۔ میں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! آپ ﷺاسے نوش فرمالیں پھر مجھے عطا کر دیئجے گا، تو نبی اکرم ﷺنے اسے پیاپھرآپ ﷺنے مجھے عطا کیا ،تو میں نے برتن کو گھمایا ،تاکہ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھوں جہاں نبی اکرم ﷺنے رکھا تھا۔ پھرنبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: تم اپنی سہیلیوں کو بھی دو۔ ان خواتین نے عرض کی :ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غلط بیانی اور بھوک کو جمع نہ کرو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے ان لڑکیوں میں سے ایک خاتون کے ہاتھ میں سونے کے کنگن دیکھے تو ارشاد فرمایا:کیاتم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالی ٰاس جگہ آگ سے بنے ہوئے کنگن تمہیں پہنائے؟وہ خاتون بیان کرتی ہیں'تو ہم نے اسے اتار دیا اور ایک طرف رکھ دیا، ہمیں نہیں معلوم کہ اب وہ کہاں ہوگا؟ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: کیا کسی عورت کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ چاندی کا بنا ہوادانہ حاصل کرے ،پھر تھوڑا سا زعفران لے اور وہ دانہ اس میں ملادے اور اسے اس میں لت پت کر دے تو وہ سونے کی مانند ہو جائے گا۔

الَّتِي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَجْلَسْتُهَا ← كُلْ، فَقُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَصَاحَتْ بِي كُلْ فَإِنِّي ← أَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ فَقَرَّبَتْ إِلِيَّ قِنَاعًا فِيهِ تَمْرٌ أَوْ رُطَبٌ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 371

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 372

372 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ: «فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنَا فَقَالَ: «إِنِّي لَا أُصَافِحُكُنَّ إِنَّمَا آخُذُ عَلَيْكُنَّ مَا أَخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»

شہربن حوشب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ اسماء بنت یزیدؓکو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں نے چند خواتین سمیت نبی اکرمﷺ کی بیعت کی آپﷺ نے ارشادفرمایا: جہاں تک تمہاری استطاعت اور طاقت ہوگی (تم ان احکام پر عمل کروگی) ہم نے عرض کی :یا رسول ﷺ !آپ ﷺہم سے بیعت لے لیں ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ مصافہ نہیں کروں گا۔ میں نے تم سے وہ عہد لیا ہے ،جو الله تعالی ٰنے لینا تھا(یا جس کا اللہ تعالی ٰنے حکم دیا تھا)

«فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ» فَقُلْنَا: ← أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نِسْوَةٍ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّهُ ← ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 372

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 373

373 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، يَقُولُ: اكْشِفُوا عَنِّي سَجْفَ الْقُبَّةِ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلَّا أَنْ تَتَّكِلُوا عَنِ الْعَمَلِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ يَقِينًا مْنِ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَلَمْ تَمَسَّهُ النَّارَ»

حضرت جابر بن عبد ؓ بیان کرتے ہیں : مجھے ان صاحب نے یہ بات بتائی ہے جو حضرت معاذ بن جبل ؓ کےانتقال کے وقت ان کے پاس موجود تھے۔حضرت معاذ بن جبل ؓ نے فرمایا: تم لوگ خیمے کا پردہ ایک طرف کرو تا کہ میں تمہیں ایک حد یث سناؤں جو میں نے نبی اکرم ﷺکی زبانی سنی تھی ۔ یہ حدیث میں نے تمہیں پہلے اس لیے نہیں بیان کی تھی کہ کہیں تم عمل کے حوالے سے لا پرواہ نہ ہو جاؤ، میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "جوشخص دل کے اخلاص کے ساتھ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دل کے یقین کے ساتھ ”لا الہ الا اللہ" پڑھے وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ اسے آگ نہیں چھوئے گی“۔

مَنْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← الْعَمَلِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلَّا أَنْ تَتَّكِلُوا ← اكْشِفُوا عَنِّي سَجْفَ الْقُبَّةِ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا ← مَنْ، شَهِدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 373

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 374

374 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرَقَانِ الْأَهْوَازِيُّ أَبُو هَمَّامٍ قَالَ: ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هَصَّانِ بْنِ كَاهِلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ»

حضرت معاذ بن جبل ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "جوشخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ﷺہوں اور وہ یقین رکھنے والے دل کے ساتھ (دنیا سے) واپس جائے تو اللہ تعالی اس کی مغفرت کردےگا"۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← هِصَّانَ بْنِ كَاهِلٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرَقَانِ الْأَهْوَازِيُّ أَبُو هَمَّامٍ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 374

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 375

375 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ؛ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَامَ مُوسَى خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُ، فَعَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ فَقَالَ: «إِنَّ لِي عَبْدًا بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ» قَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ فَكَيْفَ لِي بِهِ؟ قَالَ: «تَأْخُذُ حُوتًا فَتَجْعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ ثُمَّ تَنْطَلِقُ، فَحَيْثُمَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوثَمَّ» فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ ثُمَّ انْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ فَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى الصَّخْرَةِ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا فَنَامَا وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ فَخَرَجَ مِنْهُ فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ {فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا} [الكهف: 61] وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِ الْحُوتِ جَرْيَةَ الْمَاءِ فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلَ الطَّاقِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مُوسَى نَسِيَ صَاحِبُهُ أَنْ يُخْبِرَهُ بِالْحُوتِ فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيِلَتِهِمَا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ {آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا} [الكهف: 62] [ص:364] قَالَ وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ {أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا} [الكهف: 63] قَالَ وَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَلِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا فَقَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ {ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا} [الكهف: 64] قَالَ رَجِعَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى إِذَا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّا ثَوْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى فَقَالَ الْخَضِرِ وَأَنَّى بِأَرِضِكَ السَّلَامُ قَالَ أَنَا مُوسَى قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ أَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا، قَالَ الْخَضِرِ: إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعْيَ صَبْرًا يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَّمَنِيهِ لَا تَعْلَمُهُ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا أَعْلَمُهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى {سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا} [الكهف: 69] قَالَ الْخَضِرُ {فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا} [الكهف: 70] فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَمَرَّتْ بِهِمْ سَفِينَةٌ فَكَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمْ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُمْ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمَّا رَكِبَا السَّفِينَةَ لَمْ يُفْجَأْ مُوسَى إِلَّا وَالْخَضِرُ قَدْ قَلَعَ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ بِالْقَدُّومِ فَقَالَ مُوسَى: قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغَرِقَ أَهْلَهَا {لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا} [الكهف: 71] قَالَ الْخَضِرُ: {أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 72] [ص:365] قَالَ لَهُ مُوسَى {: لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا} [الكهف: 73] قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا، قَالَ: وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ نَقْرَةً فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ: مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمِكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ مَا نَقَصَ الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ ثُمَّ خَرَجَا مِنَ السَّفِينَةِ فَبَيْنَمَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ إِذْ أَبْصَرَ الْخَضِرُ غُلَامًا يَلْعَبُ فِي الْغِلْمَانِ فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَاقْتَلَعَهُ بِيَدِهِ فَقَتَلَهُ، قَالَ لَهُ مُوسَى: {أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا} [الكهف: 74] {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 75] وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى {قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُّنِّي عُذْرًا} [الكهف: 76] قَالَ {فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنَقَضَّ} [الكهف: 77] قَالَ: مَائِلٌ، فَقَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَقَامَهُ، فَقَالَ مُوسَى قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ وَلَمْ يُطْعِمُونَا وَلَمْ يُضَيِّفُونَا {لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا} [الكهف: 77] {قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا} [الكهف: 78] قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِمَا» قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ (وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا) وَكَانَ يَقْرَأُ (وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ)

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے کہا: نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ جن حضرت موسی ٰؑکی حضرت خضرؑ کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔ وہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے حضرت موسیٰؑ نہیں ہیں بلکہ یہ کوئی دوسرے حضرت موسی ٰؑہیں، تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔ حضرت ابی بن کعبؓ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ایک مرتبہ حضرت موسی ٰؑ بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ دے رہے تھے ان سے سوال کیا گیا لوگوں میں سے سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟ انہوں نے جواب دیا:میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں ،تو اس بات پر الله تعالیٰ نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا ،کہ انہوں نے اس علم کی نسبت اللہ تعالی ٰکی طرف کیوں نہیں کی (یعنی اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ علم رکھتا ہے)الله تعالیٰ نے فرمایا:دو سمندروں کی جگہ پر میرا ایک بندہ ہے ،جوتم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔حضرت موسی ٰؑنے عرض کی: اے میرے پروردگار!میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ الله تعالیٰ نے فرمایا:تم ایک مچھلی لو،اسے ایک برتن میں رکھو اور پھر تم چل پڑو جہاں تم مچھلی کو کھودوو گے وہی جگہ ہوگی۔تو حضرت موسی ٰؑ نے مچھلی لی اسے ایک برتن میں رکھا اور روانہ ہو گئے ۔ ان کے ساتھ ان کے نوجوان ساتھی حضرت یوشع بن نون ؑبھی تھے ۔یہاں تک کہ جب وہ چٹان کے پاس پہنچے، تو ان دونوں حضرات نے اپنا سر رکھا اور سو گئے وہ مچھلی اس برتن میں مضطرب ہوئی اور اس سے نکلی اور سمندر میں گرگئی۔(جس کا تذکرہ قرآن نے ان الفاظ میں کیا ہے) "تو اس نے سمندر میں اپنا راستہ بنالیا"۔اللہ تعالیٰ نے اس مچھلی کے لیے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ سمندر اس کے لیے طاق کی مانند ہوگیا۔جب حضرت موسیٰؑ بیدار ہوئے ،تو ان کے ساتھی انہیں مچھلی کے بارے میں بتانا بھول گئے یہ دونوں حضرات اس دن کابقیہ حصہ اور آگے آنے والی رات بھر تک چلتے رہے۔یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا، تو حضرت موسی ٰؑ نے اپنے ساتھی سے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے)"تم ہمارا کھانا لے کر آؤ ہمیں اپنے اس سفرسے بڑی مشقت کا سامنا کرناپڑا ہے (یا تھکاوٹ لاحق ہوگئی ہے)"نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں: حالانکہ حضرت موسی ٰؑنے تھکاوٹ اس وقت تک محسوس نہیں کی جب تک وہ اس مقام سےآگے نہیں گزر گئے جس کے بارے میں الله تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔تو ان کے ساتھی نے ان سے گزارش کی (جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے) "آپ نے ملاحظ فرمایا، جب ہم چٹان کے پاس آئے تھے ،تو وہاں میں پچھلی بھول گیا تھا، اور یہ بات شیطان نے مجھے بھلائی تھی کہ میں اس کا تذکرہ کرتا۔ اس نے حیران کن طریقے سے سمندر میں راستہ بنالیا تھا"۔ نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں :مچھلی کیلے یہ راستہ تھا، اور حضرت موسی ٰ ؑ کے لیے اوران کے ساتھی کے لئے یہ حیران کن بات تھی۔ حضرت موسی ٰؑ نے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) "ہم وہی تو چاہتے تھے،تو یہ دونوں الٹے قدموں وہاں سے واپس آئے"۔نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں: یہ دونوں حضرات اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس لوٹے اور اس چٹان تک آگئے ،تو وہاں ایک شخص موجود تھا جس نے اپنے اوپر چادر تانی ہوئی تھی۔حضرت موسی ٰؑ نے اسے سلام کیا، تو حضرت خضر ؑبو لے تمہاری اس جگہ یہ سلام کہاں سے آگیا؟ حضرت موسی ؑبولے: میں موسی ٰؑ ہوں ۔ انہوں نے دریافت کیا: بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے حضرت موسیٰ ؑ؟حضرت موسی ٰؑنے جواب دیا: جی ہاں۔میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے اس چیز کی تعلیم دیں جس بھلائی کی آپ کوتعلیم دی گئی ہے ،تو حضرت خضر ؑ بولے: (جس کا ذکر قرآن میں ہے)"آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے"۔اے حضرت موسیٰؑ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم عطا کیا گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے۔ آپ اس سے واقف نہیں ہیں اور آپ کو الله تعالیٰ کی طرف سے ایک ایساعلم عطا کیا گیا ہے ،جو الله تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے میں اس سےواقف نہیں ہوں تو حضرت موسی ؑ نے ان سے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ہے)"اگر اللہ نے چاہاتو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا“۔تو حضرت خضرؑ بولے:(جس کا ذکر قرآن میں ہے)"اگر آپ نے میرے ساتھ رہنا ہے ،تو پھر آپ نے کسی چیز کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کرنا جب تک میں خود اس کے بارے میں آپ کو بیان نہیں کر دیتا" یہ دونوں حضرات سمندر کے کنارے چلتے ہوئے روانہ ہوئے۔ ان کے پاس سے ایک کشتی گزری ان حضرات نے کشتی والوں سے بات چیت کی کہ وہ ا نہیں بھی سوار کر لیں، تو حضرت خضر ؑ کو پہچان گئے اور کسی معاوضے کے بغیر انہوں نے ان حضرات کو سوار کرلیا۔جب یہ دونوں حضرات سوار ہوئے ،تو اس کے تھوڑی دیر بعد حضرت خضر ؑ نے ایک کلہاڑی کے ذریعےکشتی کی ایک تختی کوتوڑ دیا تو حضرت موسٰی ؑ بولے :ان لوگوں نے کسی معاو ضے کے بغیر ہمیں سوار کیا ہے اور آپ نے ان کی کشتی کوتوڑ دیا ہے؟(آگے کے الفاظ قرآن کے ہیں)"تاکہ آپ ان کشتی والوں کوڈبودیں۔ آپ نے ایک غلط حرکت کی ہے"۔حضرت خضرؑبولے:(جس کا ذکر قرآن میں ہے) "کیامیں نےیہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لے سکیں گے؟" تو حضرت موسیٰؑ نے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ہے)"میں جو بات بھول گیا تھا آپ اس پر میرا مواخذہ نہ کریں اور میرے معا ملے تنگی کا شکارنہ کریں“۔راوی بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:حضرت موسی ٰؑکی طرف سے پہلی بھول تھی۔نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:اسی دوران ایک چڑیا آئی اورکشتی کے کنارے پر آ کر بیٹھ گئی اس نے سمندر میں سے ایک چونچ میں پانی لیا تو حضرت خضر ؑ نے حضرت موسیٰؑ سے کہا: میراعلم اور آپ کاعلم الله تعالیٰ کے علم میں وہ کمی بھی نہیں کرتا جو اس چڑیا نے اس سمندر میں کی ہے۔یہ دونوں حضرات کشتی سے نکلے اور یہ دونوں حضرات ساحل پر چلتے ہوئے جارہے تھے، تو اسی دوران حضرت خضر ؑنے ایک لڑکے کو دیکھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔حضرت خضر ؑ نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے اس کا سر مروڑ کے اسے قتل کردیا۔حضرت موسی ٰؑ نے ان سے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے)"کیا آپ نے ایک بے گناہ و جود کوکسی جان کے بدلے کے بغیرقتل کردیا ہے آپ نے ایک قابل انکارحرکت کی ہے"۔تو حضرت خضر ؑ بولے:"کیامیں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کرصبر نہیں کرسکیں گے؟"نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: یہ تنبیہ پہلی کے مقابلے میں زیادہ شدیدتھی، تو حضرت موسیٰ ؑ بولے: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) "اگر میں نے اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ میرے ساتھ نہ رہیے گا۔ میری طرف سے آپ کوعذرپہنچ گیا ہے"۔(ارشاد باری تعالیٰ)تویہ چلتے ہوئے ایک بستی تک آئے اورا نہوں نے ان سےکھانے کے لیےکچھ مانگا ،تو انہوں نے انہیں مہمان بنانے سے انکار کردیا ان دونوں نے اس میں ایک دیوار پائی جو گرنے کے قریب تھی"راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ گرنے والی تھی) تو خضر ؑنے اپنے ہاتھ کے ساتھ اس طرح کیا اور اسے کھڑا کر دیا تو حضرت موسی ٰؑ بولے: یہ ایسے لوگ ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے لیکن انہوں نے ہمیں کھانا نہیں کھلایااور ہمیں مہمان نہیں بنایا۔(اگلے الفاظ قرآن کے ہیں)"اگر آپ چاہیں,تو اس پران سے معاوضہ وصول کر سکتے ہیں"۔ تو حفرت خضرؑ بولے :(جس کا ذکر قر آن میں ہے )"میرے اور آپ کے درمیان یہ فرق ہے جن کاموں پرآپ صبر نہیں کر سکے میں ان کی حقیقت آپ کو بتاتا ہوں“۔راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:ہماری یہ خواہش تھی کہ حضرت موسی ٰ صبر سے کام لیتے تا کہ ان دونوں کے واقعے کی مزید تفصیلات ہمارے سامنے آ جاتیں۔سعید بن جبیر کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ "اس سے پرے ایک بادشاہ تھاجو ٹھیک کشتی کوغصب کر لیا کرتا تھا"۔انہوں نے بھی پڑھا۔"جہاں تک لڑکے کا معاملہ ہے ،وہ کافرتھا، اور اس کے ماں باپ مومن تھے"۔

قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 375

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 376

376 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ الزَّرَّادِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا} [الكهف: 82] قَالَ: «حَفِظَهُمَا بِصَلَاحِ أَبِيهِمَا مَا ذَكَرَ مِنْهُمَا صَلَاحًا»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اللہ تعالی ٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔"ان دونوں کا باپ نیک آدمی تھا"۔حضرت ابن عباس ؓفرماتے ہیں :حضرت خضرؑ نے ان دونوں بچوں کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ان دونوں کی حفاظت کی تھی حضرت ابن عباسؓ نے ذکر نہیں کیا وہ دونوں بچے نیک ہیں۔

مِنْهُمَا صَلَاحًا» ← «حَفِظَهُمَا بِصَلَاحِ أَبِيهِمَا مَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا} [الكهف: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ الزَّرّاد ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 376

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 377

377 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَحْفَظُ بِحِفْظِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ وَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ وَدُوَيْرَتَهُ الَّتِي فِيهَا وَالدُّوَيْرَاتِ حَوْلَهُ فَمَا يَزَالُونَ فِي حِفْظٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» [ص:367] قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَنِي فِيهِ «وَسِتْرٍ»

محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں: الله تعالیٰ کسی نیک آدمی کی وجہ سے اس کی اولاد، اور اس کی اولاد کی اولاد اس کے گھر کو ،اس کے آس پاس کے گھروں کومحفوظ رکھتا ہے۔ اور وہ سب لوگ الله تعالیٰ کی طرف سے حفاظت میں ہوتے ہیں۔سفیان کہتے ہیں : میرے استاد نے میرے سامنے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:"اور وہ پردے میں ہوتے ہیں"۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 377

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 378

378 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَحْكِيهِمَا مِنَ الْمُصْحَفِ قَالَ إِنِّي سَأَلَتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قِيلَ لِي «قُلْ» فَقُلْتُ: فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے حضرت ابی بن کعبؓ سے معوذتین کے بارے میں دریافت کیا: میں نے کہا: اے ابوالمنذر! آپ کے بھائی حضرت عبد الله بن مسعود ؓنے ان دونوں سورتوں کوقرآن سے نکال دیا ہے تو حضرت ابیؓ نے جواب دیا: میں نے نبی اکرم ﷺسے یہ سوال کیا ،تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: مجھے یہ کہا گیا ہے: تم پڑھو تو میں نے پڑھ لیا۔ (حضرت اُبیؓ نے فرمایا:) ہم ویسا ہی کہیں گے جونبی اکرم ﷺنے فرمایا ہے۔

قِيلَ لِي «قُلْ» فَقُلْتُ: فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا ← إني سألت رسول الله ← الْمُعَوِّذَتَيْنِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَحْكِيهِمَا مِنَ الْمُصْحَفِ ← سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ ← عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 378

chevron_left Previous
1…484950…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter