Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 355

355 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: تَذَاكَرَ أَبِي وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَذَكَرَ عُرْوَةُ مَسَّ الذَّكَرِ، فَقَالَ أَبِي: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا سَمِعْتُ بِهِ قَالَ عُرْوَةُ: بَلَى، أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» فَقُلْتُ لِمَرْوَانَ فَإِنِّي أَشْتَهِي أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، وَأَنَا شَاهِدٌ رَجُلًا، أَوْ قَالَ حَرَسِيٍّ فَجَاءَ الرَّسُولُ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ: إِنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ»

عبدالله بن ابوبکر کہتے ہیں: میرے والد اور عروہ بن زبیر کے درمیان اس بارے میں بحث ہوگئی کہ کون سے عمل کے بعد وضو کیا جاتا ہے (یعنی وضو کو توڑنے والی چیزیں کون سی ہیں؟) تو عروہ نے ان میں شرمگاہ کو چھونے کا بھی ذکر کیا ،تو میرے والد نے یہ بات بتائی یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں، میں نے کچھ نہیں سناعروہ نے کہا: ایساہی ہے۔ مجھے مردان بن حکم نے یہ بات بتائی ہے کہ اس نے سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: وہ کہتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھولے وہ وضوکرے“۔ تومیں نے مروان سے کہا: میری یہ خواہش ہےتم ان خاتون کو پیغام بھجواو اس نے انہیں پیغام بھجوایا میں اس وقت وہاں موجود تھا ۔شاید اس نے ایک آدمی کو بھیجایا کسی سپاہی کو بھیجا تو اس خاتون کے پاس سے وہ پیغام رساں واپس آیا اور بولا:انہوں نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، جوشخص اپنی شرمگاہ کو چھولے اسے وضو کر لینا چاہئے۔

أَنَّهَا ← حَرَسِيٍّ فَجَاءَ الرَّسُولُ مِنْ عِنْدِهَا ← شَاهِدٌ رَجُلًا، أَوْ ← بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ تَقُولُ: ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّهُ ← عُرْوَةُ: بَلَى، ← بِهِ ← أَبِي: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا ← عُرْوَةُ مَسَّ الذَّ ← تَذَاكَرَ أَبِي وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 355

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 356

356 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ امْرَأَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَاكِرُ حَمْزَةَ الدُّنْيَا فَقَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَإِنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مَتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَاهُ» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ «يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

سیدہ خولہ بنت قیسؓ جوحضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو سنا آپ ﷺحضرت حمزہ ؓکے ساتھ دنیا کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔ آپ ﷺنے ارشادفرمایا: ” بے شک دنیامیٹھی اور سر سبز ہے ،جو اس کےحق کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور الله تعالیٰ کے مال اور اللہ کے رسولﷺکے مال میں تصرف کرنے والے (یعنی ناحق طور پر اسے حاصل کرنے والے) کے لیے اس دن آگ ہوگی جب وہ الله تعالی ٰکی بارگاہ میں حاضر ہوگا“۔ سفيان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "قیامت کے دن"۔

خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ امْرَأَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ: ← عُبَيْدِ سَنُوطَا، ← عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 356

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ كَبْشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 357

357 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّتِهِ كَبْشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ «فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ وَهُوَ قَائِمٌ» قَالَتْ: فَقَطَعْتُ فَمَ الْقِرْبَةِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ كَبْشَةُ أَوْ كُبَيْشَةُ وَأَكْثَرُ ذَلِكَ يَقُولُ كُبَيْشَةُ

سیدہ کبیشہ ؓ بیان کرتی ہیں: ایک دن نبی اکرم ﷺمیرے ہاں تشریف لائے ،تو آپ ﷺنے لٹکے ہوئے مشکیزے کے منہ سے کھڑے ہوکر پانی پیا۔وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے مشکیزے کےمنہ کو کاٹ لیا۔ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات خاتون کا نام کبشہ ذکر کیا ہے اور بعض اوقات کبیشہ ذکر کیا ہے۔ اور اکثر اوقات انہوں نے ان کا نام کبیشہ ذکر کیا ہے۔

جَدَّتِهِ کَبْشَةِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الْأَزْدِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 357

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَمَّةِ حُصَيْنِ بْنِ مُحْصَنٍ رَحِمَهَا اللَّهُ تَعَالَى · حديث 358

358 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَقَالَ «يَا هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟» قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا آلُو إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ؟ قَالَ «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ»

حصین بن محصن اپنی پھوپھی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں کسی کام کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: اے عورت! کیاتم شادی شدہ ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپﷺنے فرمایا: پھرتم اپنے شوہر سے غافل کیوں ہو؟ وہ خاتون کہتی ہیں: میں نے عرض کی: میں اس کے حوالے سے صرف اسی کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہوں؟ جس سے میں عاجز آجاؤں۔نبی اکرم ﷺنے فرمایا تم اس کا خیال کیوں نہیں رکھتی ہو؟ وہ تمہاری جنت ہے اور وہ تمہاری جہنم ہے۔

«فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ» ← فَقُلْتُ: مَا آلُو إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ؟ ← «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟» ← «يَا هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ ← أتيت رسول الله في بعض الحاجة ← عَمَّةٍ لَهُ ← حصين بن مُحْصِن ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 358

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 359

359 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَنْهَى عَنِ الْخَلِيطَيْنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُنْتَبَذَ» قَالَ «انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ»

معبدبن کعب اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:یہ وہ خاتون ہیں ،جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی ہوئی ہے ،وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکودوملی ہوئی چیزوں کے استعمال سے منع کرتے ہوئے سناہے: یعنی کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ تیار کی جائے۔ آپ ﷺنے فرمایا:ان دونوں میں سے ہر ایک کی الگ سے نبیذ تیار کرو۔

«انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ» ← الْخَلِيطَيْنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُنْتَبَذَ» ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← أُمِّهِ وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ: ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 359

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 360

360 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ أَوْ عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَعَلَّمْنَ يَا هَؤُلَاءِ أَنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ»

معبد بن کعب اپنے چچایا شاید اپنی والدہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا فرمان نقل کرتے ہیں: "اے خواتین !تم لوگ یہ بات جان لو۔ لباس میں، تواضع اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے"۔

أُمِّهِ2، ← عَمِّهِ أَوْ ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 360

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 361

361 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ وَهُوَ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَعَلَيْكُمْ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ»

سلیمان بن عمرو اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو بطن وادی سے جمرہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۔ آپ ﷺ اس وقت خچر پر سوار تھے :اے لوگو!اطمینان رکھو تم ایک دوسرے کو تنگ نہ کرو اور تم پر لازم ہے کہ اتنی (چٹکی میں آجانے والی)کنکریاں استعمال کرو۔

«أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَعَلَيْكُمْ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ» ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ وَهُوَ ← أُمِّهِ2، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَص ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 361

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 362

362 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْعِيزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْطُبُ وَهُوَ مَتَلَفِّعٌ بِبُرْدَةٍ، وَعَضَلَتُهُ تَرْتَجُّ "

سیدہ ام حصینؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺکو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا آپ ﷺنے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور آپﷺکے پٹھے حرکت کر رہے تھے (یعنی جوش کا اظہار ہورہا تھا)۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ وَهُوَ مَتَلَفِّعٌ بِبُرْدَةٍ، وَعَضَلَتُهُ تَرْتَجُّ ← أُمِّ الْحُصَيْنِ ← الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 362

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 363

363 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي» فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ»

سیدہ ام عطیہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرم ﷺہمارے پاس تشریف لائے ہم آپ ﷺ کی صاحبزادی کو غسل دینے لگی تھیں۔ آپ ﷺنے فرمایا :تم اسے تین یا پانچ یا اگرتم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دینا اور آخر میں کافوربھی ملا دینا (رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تھوڑا سا کافورملادینا۔ جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھےبتانا ۔(وہ خاتون بیان کرتی ہیں) جب ہم لوگ فارغ ہوئے اور ہم نے نبی اکرم ﷺکو اطلاع دی تو آپ ﷺنے اپنی چادر ہمیں دی اور ارشادفرمایا: اسے اس کے جسم پر لپیٹ دو۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 363

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 364

364 - قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ فِيهِ قَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ

سیدہ ام عطیہ ؓ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ سیدہ ام عطیہ ؓبیان کرتی ہیں۔ "ہم نے ان صاحبزادی کی تین چوٹیاں بنادی تھیں"۔

وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ← النَّبِيِّ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ فِيهِ ← أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَاهُ أَيُّوبُ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 364

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 365

365 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ امْرَأَةٍ عَنْ أُخْتِهَا وَكَانَ زَوْجُهَا قَدْ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَهِيَ مَعَهُ فِي سِتِّ غَزَوَاتٍ مِنْهَا فَقَالَتْ: كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمَى وَنَقُومُ عَلَى الْمَرَضَى، قَالَتْ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلَى إِحْدَانَا جُنَاحٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَشْهَدَ الْعِيدَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا، وَتَشْهَدَ الْعِيدَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ»

حفصہ بنت سیر ین ایک خاتون کے حوالے سے ان کی بہن کا یہ بیان نقل کرتی ہیں۔ ان کے شوہر نے نبی اکرم ﷺکے ساتھ دس سے زیادہ غزوات میں شرکت کی تھی اور وہ خودنبی اکرم ﷺکے ساتھ چھ غزوات میں شریک ہوئی تھیں۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: ہم خواتین زخمیوں کو دوائی دیا کرتی تھیں اور بیماروں کا خیال رکھا کرتی تھیں۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺسے یہ سوال کیا: کیا ہم میں سے کسی ایک (عورت کو) کوئی گناہ ہوگا کہ اگر اس کے پاس چادر نہ ہو تو وہ عید کی نماز میں شریک نہ ہو؟ تونبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اس کی بہن اپنی چادر میں سے کچھ ایسے بھی پہنادے لیکن وہ عورت عید اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو۔

امْرَأَةٌ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 365

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 366

366 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: فَسَأَلْنَا أُمَّ عَطِيَّةَ هَلْ سَمِعْتِ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ بِأَبَا وَكَانَتْ إِذَا حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: بِأَبَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَلْيَشْهَدْنَ الْعِيدَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ»

حفصہ بنت سیر ین بیان کرتی ہیں: ہم نے سیدہ ام عطیہؓ سے دریافت کیا:کیا آپ نے نبی اکرم ﷺکی زبانی یہ بات سنی ہے انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میرے والد کی قسم۔ (راوی خاتون کہتی ہیں) سیدہ ام عطیہؓ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی وہ نبی اکرم ﷺکے حوالے سے کوئی بات بیان کرتی تھیں، تو ساتھ یہ کہتی تھیں میرے والد کی قسم۔(انہوں نے بتایا) میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "عید کے دن جوان پرده دار خواتین کو بھی ( گھروں سے)لے آ ووہ عید اور مسلمانوں کی دعا میں شامل ہوں البتہ حیض والی خواتین مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے الگ رہیں گی"۔

«أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَلْيَشْهَدْنَ الْعِيدَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← بِأَبَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: نَعَمْ بِأَبَا وَكَانَتْ إِذَا ← فَسَأَلْنَا أُمَّ عَطِيَّةَ هَلْ ← حَفْصَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 366

chevron_left Previous
1…474849…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter