Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 343

342 - قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ " وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي يُحَدَّثُ بِهِ عَنْكَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ «فَقَالَ» حَقٌّ " حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: نَزَلْتُ عَلَى أُمِّ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّةِ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ أَيَّهَا قَرَأْتَ أَصَبْتَ»

عبید الله بن ابو یزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدہ ام ایوب انصاریہؓ کے ہاں ٹھہرا تو انہوں نے مجھے بتایانبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:" قرآن سات حروف پرنازل ہوا ہے تم اس میں سے جوبھی قرات کروگے تو وہ ٹھیک ہوگی"۔

سُفْيَانُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 343

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رَقِيقَةَ نَسِيبَةِ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 344

344 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رَقِيقَةَ تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ: «فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ» فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنَا فَقَالَ «إِنِّي لَا أُصَافِحُكُنَّ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ فِيهِ أُمَيْمَةُ بِنْتُ رَقِيقَةَ نَسِيبَةُ خَدِيجَةَ فَقَالَ سُفْيَانُ هِيَ نَسِيبَةُ خَدِيجَةَ وَلَمْ يَقُلْهُ لَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ

سیده امیمہ بنت رقیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:مین چند خواتین سمیت نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:"جہاں تک تمہاری استطاعت ہوگی اور جتنی تم میں طاقت ہو گی (تم ان احکام پر عمل کروگی)" میں نے عرض کی : الله اور اس کا رسول ﷺہمارے لیے ہماری اپنی جان سے زیادہ رحم دل ہے۔ یا رسول اللہ (ﷺ)!آپ ﷺہم سے بیعت لے لیجئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ مصافحہ نہیں کروں گا میرا ایک سو خواتین کے ساتھ گفتگو کرنا اسی طرح ہے، جس طرح میں ایک خاتون کے ساتھ بات کروں۔ امام حمیدی ؒکہتے ہیں: سفیان سے یہ کہا گیا: دوسرے محدثین نے تو یہ بات بیان کی ہے کہ یہ روایت سیدہ امیمہ بنت رقیقہ ؓ سے منقول ہے ،جو سیدہ خدیجہ ؓ کی رشتہ دارتھیں ۔ تو سفیان نے کہا: وہ سیدہ خدیجہؓ کی بہن کی بیٹی (بھانجی)تھیں۔ تاہم ابن المنکدر نے ہمیں یہ روایت سناتے ہوئے ان الفاظ کا تذکرہ نہیں کیا۔

أُمَيْمَةَ بِنْتَ رَقِيقَةَ تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نِسْوَةٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 344

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 345

345 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ؛ أَسْأَلُهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَهَا فَأَتَيْتُهَافَأَخْرَجَتْ إِلِيَّ إِنَاءً يَكُونُ مُدًّا أَوْ مُدَّا وَرُبْعًا بِمُدِّ بَنِي هَاشِمٍ فَقَالَتْ «بِهَذَا كُنْتُ أُخْرِجُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَضُوءَ فَيَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْثِرُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، وَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا» قَالَتْ: وَقَدْ جَاءَنِي ابْنُ عَمَّتِكَ فَسَأَلَنِي عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: مَا عَلِمْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا غُسْلَيْنِ وَمَسْحَتَيْنِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَوَصَفَ لَنَا سُفْيَانُ الْمَسْحَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى قَرْنَيْهِ ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا إِلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا وَوَضَعَهُمَا عَلَى قَرْنَيْهِ مِنْ وَسَطِ رَأْسِهِ، ثُمَّ مَسَحَ إِلَى قَفَاهُ قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ ابْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلًا عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ فَزَادَ فِي الْمَسْحِ قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ مِنْ قَرْنَيْهِ عَلَى عَارِضَيْهِ حَتَّى بَلَغَ طَرَفَ لِحْيَتِهِ، فَلَمَّا سَأَلْنَا ابْنَ عَقِيلٍ عَنْهُ، لَمْ يَصِفْ لَنَا فِي الْمَسْحِ الْعَارِضَيْنِ، وَكَانَ فِي حِفْظِهِ شَيْءٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَلْقَنَهُ

عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: امام زین العابدین ؒ نے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذؓ کی خدمت میں بھیجا تا کہ میں ان سے نبی اکرم ﷺکے وضو کے بارے میں دریافت کروں، کیونکہ نبی اکرم ﷺنے ان کے ہاں وضو کیا تھا میں اس خاتون کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک برتن نکال کر مجھے دکھایا جس میں ایک "مد"یاایک شاید ایک"مد" اور ایک چوتھائی’’مد‘‘ پانی آتا ہوگا۔انہوں نے بتایا: میں اس برتن میں نبی اکرم ﷺکے وضوکا پانی رکھتی تھی۔ نبی اکرم ﷺآغاز کرتے ہوئے پہلے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین مرتبہ دھوتے تھے، پھر آپ ﷺتین مرتبہ کلی کرتے تھے اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھوتے تھے ،پھر دونوں بازو تین مرتبہ دھوتے تھے، پھر اپنے سر مبارک کا آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف مسح کرتے تھے۔ پھر دونوں پاؤں تین ،تین مرتبہ دھوتے تھے۔ پھر اس خاتون نے بتایا ،تمہارے چچازادمیرے پاس آئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا میں نے انہیں بتایا تو وہ بولے : مجھے الله کی کتاب میں صرف دو چیزوں کو دھونے اور دو چیزوں پرمسح کا حکم ملتاہے۔اس خاتون کی مراد حضرت عبداللہ بن عباسؓ تھے۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نے ہمارے سامنے مسح کا طریقہ کر کے دکھایا انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ مانگ کے دونوں اطراف پررکھے پھر ان کے ذریعے اپنی پیشانی تک مسح کیا پھر انہوں نے سر کے درمیان میں مانگ کے دونوں کناروں پر دونوں ہاتھ ر کھے پھر پیچھے گردن تک مسح کیا۔سفیان کہتے ہیں: ابن عجلان نے پہلے یہ روایت ابن عقیل کے حوالے سے سیدہ ربیعؓ سےنقل کی تھی اور انہوں نے مسح کےبارے میں مزید یہ الفاظ نقل کئے۔" پھر وہ اپنے دونوں کناروں کامسح کرتے ہوئے رخساروں تک آئے،یہاں تک کہ داڑھی کے کنارے تک آئے"۔ جب ہم نے ابن عقیل سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نےرخساروں پر مسح کرنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ ان کے حافظے میں کچھ کمزوری تھی اس لیے میں نے انہیں تلقین کرنے کو پسندنہیں کیا۔

أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ؛ أَسْأَلُهَا ← عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 345

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مُحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أَسَدِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 346

346 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ قَيْسِ بِنْتَ مُحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةَ تَقُولُ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ»

سیدہ ام قیس بنت محصن ؓ بیان کرتی ہیں : میں اپنے ایسے چھوٹے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی جو ابھی کھانا تھا اس نے نبی اکرم ﷺ پر پیشاب کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوا کراس پر چھڑک دیا۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 346

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مُحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أَسَدِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 347

347 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتِ مُحْصَنٍ تَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى مَا تَدْغُرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعَلَاقِ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ يُسَعَّطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيَلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ» [ص:339] قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَسَّرَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ اثْنَيْنِ وَلَمْ يُفَسِّرْ لَنَا خَمْسَةً قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: الْعُودُ الْهِنْدِيُّ هُوَ الْقُسْطُ

سیدہ ام قیس بنت محصن ؓبیان کرتی ہیں : میں اپنے بیٹے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے اس کے حلق میں ورم کی وجہ سے اس کا گلا ملا ہوا تھا۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا :تم اس طرح گلا مل کر اپنے بچوں کو کیوں تکلیف پہنچاتی ہو؟تم پر لازم ہے کہ تم عود ہندی استعمال کرو ،کیونکہ اس میں سات قسم کی شفائیں ہیں۔ حلق میں ورم کی صورت میں اسے ناک میں ڈالا جائے گا اور ذات الجنب کی صورت اسے زبان کے نیچے ٹپکایا جائے گا۔ زہری کہتے ہیں : عبید الله نامی راوی نے دو چیزوں کا ذکر کر دیا باقی پانچ کا تذ کرہ نہیں کی(یعنی باقی کون سی پانچ بیماریوں کے لیے شفا ہے؟) امام حمیدی ؒکہتے ہیں : عود ہندی سے مراد "قُسط"ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 347

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 348

348 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا»

سیدہ ام کرز کعبیہؓ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عقیقہ کرتے ہوئے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی۔ وہ مذکر ہوں ی،ا مؤنث ہوں (لین بکرا ہو یا بکری) تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

الْغُلاَمِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لاَ يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمَّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةَ تَقُولُ: ← أَنَّهُ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِي أَنَّهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 348

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 349

349 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ مَيْسَرَةَ الْفِهْرِيَّةِ مَوْلَاتَهُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي الْعَقِيقَةِ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»

سیدہ ام کرزخزاعیہؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں ذبح کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ مُکَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ← فِي الْعَقِيقَةِ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمَّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةَ تَقُولُ: ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ مَيْسَرَةَ الْفِهْرِيَّةِ مَوْلَاتَهُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 349

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 350

350 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةَ تَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ أَطْلُبُ مِنْهُ مِنْ لُحُومِ الْهَدْيِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا»

سیده ام کرزکعبیہؓ بیان کرتی ہیں : میں حدیبیہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تا کہ آپ ﷺسے قربانی کے جانور کا گوشت طلب کروں ،میں نے آپ ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ـپرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو"۔

أَبِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 350

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 351

351 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتٍ يُحَدَّثُ: أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ كُرْزٍ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ» وَكَانَ سُفْيَانُ يُحَدَّثُ بِهَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا زَمَانًا، ثُمَّ حَدَّثَ بِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سِبَاعٍ، عَنْ أُمَّ كُرْزٍ وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يَتْرُكُ إِسْنَادَهَ حَتَّى أَثْبَتَهُ بَعْدُ

سیدہ ام کرزؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: نبوت ختم ہوگئی ہے اوربشارت آمیز خواب باقی رہ گئے ہیں۔(امام حمیدیؒ کہتے ہیں) سفیان ایک طویل عرصے تک اس روایت کوعبید اللہ نامی راوی کے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے "مرسل "حدیث کے طور نقل کرتے رہے۔ پھر انہوں نے یہ روایت اس کے والد کے حوالے سے "سباع‘‘ نامی راوی کےحوالے سے سیده ام کر زؓکے حوالے سے نقل کی۔ پھر انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ پہلے انہوں نے اس کی سند کوترک کیا تھا اور بعد میں اسے ثابت رکھا۔

أُمَّ كُرْزٍ وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يَتْرُكُ إِسْنَادَهَ حَتَّى أَثْبَتَهُ بَعْدُ ← سِبَاعٍ، ← أَبِيهِ ← النَّبِيِّ مُرْسَلًا زَمَانًا، ثُمَّ حَدَّثَ بِهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← بِهَذَا. ← «ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ» وَكَانَ سُفْيَانُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمَّ كُرْزٍ تَقُولُ: ← أَنَّهُ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِي أَنَّهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 351

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ حرَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 352

352 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ: ثنا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ الرَّمِلِيُّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُزَاةَ الْبَحْرِ لِلْمَائِدِ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَلِلْغَرِيقِ أَجْرُ شَهِيدَيْنَ " قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ» فَغَزَتِ الْبَحْرَ فَلَمَّا خَرَجَتْ رَكِبَتْ دَابَّتَهَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ

سیدہ ام حرام ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے بحری جنگ کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا: اس میں جس شخص کا سر چکرائے گا اسے بھی شہید کا اجر ملے گا اور جوشخص ڈوب جائے گا اسے دوشہیدوں کا اجر ملے گا۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ (ﷺ)! آپﷺاللہ تعالی ٰ سے دعا کیجئےکہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ،تو نبی اکرم ﷺنے دعا کی۔ اے اللہ! "تو اسے بھی ان میں شامل کردے"۔ وہ خاتون بحری جنگ میں شریک ہوئیں جب وہ وہاں سے باہر آئیں، تو سواری پر سوار ہوئیں تو اس سے گر کر فوت ہوگئیں۔

فَقُلْتُ: ← رَسُولُ اللَّهِ غُزَاةَ الْبَحْرِ لِلْمَائِدِ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَلِلْغَرِيقِ أَجْرُ شَهِيدَيْنَ ← أُمِّ حَرَامٍ، ← يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ أَبِي ثَابِتٍ، ← هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ الرَّمِلِيُّ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 352

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 353

353 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ»

سیدہ ام شریک ؓبیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے انہیں گرگٹ (یا چھپکلی) کومارنے کی ہدایت کی تھی۔

أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 353

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ بَقِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 354

354 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ بَقِيرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «يَا هَؤُلَاءِ إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ»

سیدہ بکیرہ ؓ جو حضرت قعقاع بن ابو حدردؓ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں :میں نے نبی اکرمﷺکو منبر پر یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا:"اے لوگو! جب تم کسی لشکر کے بارے میں یہ سنو کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ہے ،تو پھر(سمجھ لینا) قیامت قریب ہو گی"۔

«يَا هَؤُلَاءِ إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ» ← رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الْمِنْبَرِ ← بَقِيرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 354

chevron_left Previous
1…464748…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter