Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 331

331 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ هَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَكْذِبَ أَهْلِي؟ قَالَ: «لَا فَلَا يُحِبُّ اللَّهُ الْكَذِبَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَصْلِحُهَا وَأَسْتَطِيبُ نَفْسَهَا قَالَ: «لَا جُنَاحَ عَلَيْكَ»

عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یارسول اللہ(ﷺ)! اللہ تعالیٰ آپ ﷺپر رحمت نازل کرے کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ جھوٹ بولتا ہوں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا نہیں !لیکن اللہ تعالیٰ جھوٹ کو پسند نہیں کرتا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)!میں اس کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے ایسا کرتا ہوں ۔ یا اسے خوش کرنے کے لیے ایسا کرتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تمہیں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 331

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 332

332 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقُ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ»

سیدہ اسماء بنت عمیسں ؓ بیان کرتی ہیں: انہوں نے عرض کی :یارسول الله (ﷺ)!حضرت جعفرؓ کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے، تو کیا میں انہیں دم کر دیا کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں! اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جاسکتی ،تو نظر لگنا اس سے سبقت لے جاتا۔

أسماء بنت عميس أنها ← عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 332

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 333

333 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: أَتَانِي يَوْمَ الْفَتْحِ حَمَوَانِ لِي فَأَجَرْتُهُمَا فَجَاءَ عَلِيٌّ يُرِيدُ قَتْلَهُمَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّتِهِ بِالْأَبْطَحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ فَلَهِيَ كَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ فَقَالَتْ تُؤْوِينَ الْكُفَّارَ وَتُجِيرِينَهُمْ وَتَفْعَلِينَ وَتَفْعَلِينَ، فَلَمْ أَلْبَثُ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى وَجْهِهِ رَهْجَةُ الْغُبَارِ فَقَالَ «يَا فَاطِمَةُ اسْكُبِي لِي غُسْلًا» فَسَكَبَتْ لَهُ غُسْلًا فِي جَفْنَةٍ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْعَجِينِ فِيهَا ثُمَّ سَتَرَتْ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ «فَاغْتَسَلَ ثُمَّ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيهِ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ» مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجَرْتُ حَمَوَيْنِ لِي، وَإِنَّ ابْنَ أُمِّي عَلِيٌّ أَرَادَ قَتْلَهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ إِنَّا قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ»

سیده ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے موقع پر میرے دودیور میرے پاس آئے میں نے ان دونوں کو پناہ دے دی حضرت علی ؓ آئے تاکہ ان دونوں کو قتل کر دیں ، تومیں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی آپ ﷺ اس وقت مکہ کے بالائی علاقے "ابطح" میں اپنے خیمے میں تشریف فرما تھے وہاں میری نبی اکرمﷺسے ملاقات نہیں ہوئی۔ میرا سامنا سیده فاطمہ ؓ سے ہوا تو وہ میرے لیے حضرت علیؓ سے بھی زیادہ سخت تھیں انہوں نے کہا:تم کفارکوٹھکانہ دے رہی ہو،تم انہیں پناہ دے رہی ہو ،تم یہ کر رہی ہو اور وہ تم کر رہی ہو۔ میں وہیں ٹھہری رہی۔ اسی دوران نبی اکرم ﷺوہاں تشریف لے آئے آپ ﷺکے چہرہ مبارک پر گردوغبار کے اثرات تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اے فاطمہ!تم میرے لیے پانی تیار کرو تو سیده فاطمہؓ نے ایک بڑے ٹب میں نبی اکرم ﷺکے لیے پانی تیار کیا جس میں گندھے ہوئے آٹے کانشان میں دیکھ رہی تھی۔پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺکے لیے پردہ تان دیا۔ نبی اکرم ﷺنے غسل کیا پھر آپ ﷺنے ایک ہی کپڑا اوڑھ کر اس کے مخالف سمتوں کو دونوں کندھوں پر ڈال کر آٹھ رکعات نماز ادا کی۔ میں نے نبی اکرم ﷺکو اس سے پہلے اور بعد میں کبھی یہ نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب آپ ﷺنے نمازمکمل کرلی تو میں نے عرض کی: یارسول اللہ(ﷺ)! میں نے اپنےدو د یوروں کو پناہ دی ہے۔ اور میرے ماں جائے حضرت علی ؓ ان دونوں کوقتل کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ ایسا نہیں کرسکتا ،جسےتم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں اور جس پرتم آمین کہتی ہو اس پر ہم بھی آمین کہتے ہیں۔ (یعنی جو تم قبول کرتی ہواسے ہم بھی قبول کرتے ہیں)

أُمِّ هَانِئٍ ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 333

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 334

334 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ [ص:330] عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفِيهِ»

سیدہ ام ہانی ؓبیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے موقع پر میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے ایک کپڑا اوڑھ کر اسے مخالف سمت میں کندھوں پر ڈال کر آٹھ رکعات نماز ادا کی۔

أُمِّ هَانِئٍ ← [ص:149] ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 334

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 335

335 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ وَلَمْ يَقُلْ لَنَا فِيهِ سَمِعْتُ قَالَ: سَأَلْتُ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَى فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا أَثْبَتَ لِي صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أُمُّ هَانِئٍ قَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا مَرَّةً وَاحِدَةً يَوْمَ الْفَتْحِ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيهِ» 335/م- قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَمُرُّ عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ} [ص: 18] فَأَقُولُ: أَيُّ صَلَاةٍ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ فَهَذِهِ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ

عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عثمان غنیؓ کے عہد خلافت میں چاشت کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ اس وقت صحابہ کرام ؓکی کثیر تعداد موجودتھی لیکن مجھے کوئی ایسا شخص نہیں مل سکا جو مجھے یہ بتا سکے کہ نبی اکرم ﷺنے یہ نماز ادا کی ہے صرف سیده ام ہانیؓ تھیں انہوں نے یہ بتایامیں نے نبی اکرم ﷺکوفتح مکہ کے موقع پر ایک مرتبہ یہ نماز اداکرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ ﷺنے ایک کپڑے کو اس کے کنارے مخالف سمت میں اوڑھ کر آٹھ رکعات ادا کی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں : میں جب یہ آیت تلاوت کرتا ہوں۔ "وہ شام کے وقت اور اشراق کے وقت پاکی بیان کرتی ہیں"۔ تو میں دریافت کرتا ہوں کہ اشراق کی نماز کون کون سی ہے، تو یہ اشراق کی نماز ہے۔

عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 335

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 336

336 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ مُحْتَضِنٌ أَحَدَ بَنِي ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ «وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتُجَهِّلُونَ، وَتُجَبِّنُونَ، وَتُبَخِّلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ بِوَجٍّ»

عمر بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں: ایک نیک خاتون سیدہ خولہ بنت حکیم ؓ جو حضرت عثمان بن مظعونؓ کی اہلیہ ہیں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ،تو آپ ﷺنے اپنے ایک نواسے کو گود میں اٹھایاہوا تھا آپ ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی۔ "تم لوگ (یعنی اولا د ) آدمی کو لا پرواہ کر دیتی ہے ،اسے بزدل بنادیتی ہے ،اسے کنجوس کر دیتی ہے۔ بے شک تم اللہ تعالی ٰکا عطیہ ہو اور بے شک تمام جہانوں کا پروردگار کفار پر آخری گرفت’’وج‘‘ کے مقام پر کرے گا (یہ طائف کےقریب ایک جگہ ہے)“

زعمت المرأة الصالحة خولة بنت حكيم امرأة عثمان بن مظعون ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 336

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 337

337 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ ثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ يَعْنِي ابْنَ إِنْسَانٍ بَطْنٌ مِنَ الْعَرَبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: إِنَّ وَجًّا مُقَدَّسٌ مِنْهُ عَرَجَ الرَّبُّ إِلَى السَّمَاءِ يَوْمَ قَضَى خَلْقَ الْأَرْضِ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ وَجٌّ بِالطَّائِفِ

کعب الاحبار کہتے ہیں:”وج" ایک مقدس جگہ ہے، یہ وہ جگہ ہے کہ جب اللہ تعالی ٰنے زمین کو پیدا کیا تھا ،تو یہا ں سے اللہ تعالی ٰآسمان کی طرف بلند ہو گیا تھا۔حمیدی ؒکہتے ہیں:”وج‘‘ طائف میں ہے۔

الْحُمَيْدِيُّ وَجٌّ بِالطَّائِفِ ← إِنَّ وَجًّا مُقَدَّسٌ مِنْهُ عَرَجَ الرَّبُّ إِلَى السَّمَاءِ يَوْمَ قَضَى خَلْقَ الْأَرْضِ، ← كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ بِشْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ يَعْنِي ابْنَ إِنْسَانٍ بَطْنٌ مِنَ الْعَرَبِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 337

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 338

338 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْحَاقُ قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ تَقُولُ «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» قَالَ مُوسَى وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا

سیدہ ام خالد بنت خالد ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے: موسیٰ بن عقبہ نامی راوی کہتے ہیں : میں نے اور کسی کی زبانی یہ بات نہیں سنی کہ سیدہ ام خالد ؓ کے علاوہ کسی اور نے نبی اکرمﷺکو (قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا: ہو)

مِنْ النَّبِيِّ غَيْرَهَا ← مُوسَى وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ ← رَسُولَ اللَّهِ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ← أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ، تَقُولُ: ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← إِسْحَاقُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 338

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 339

339 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ قَالَتْ: قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأنا جُوَيْرِيَةٌ فَكَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً لَهَا أَعْلَامٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ «سَنَاهُ سَنَاهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ

سیدہ ام خالد ؓ بیان کرتی ہیں: میں حبشہ کی سرزمین سے آئی تو میں کم سن بچی تھی۔ نبی اکرم ﷺنے مجھے ایک چادر اوڑھنے کے لیے دی جس پرنقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺاپنے دست مبارک کے ذریعے ان نقش ونگار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمارہے تھے ۔ یہ کتنے اچھے ہیں۔ یہ کتنے اچھے ہیں۔ امام حمیدی ؒکہتے ہیں: (روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ "سناہ‘‘ کا مطلب)اچھا ہونا ہے۔

أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 339

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 340

340 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] " فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ تَمَّامُ بْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ قَطُّ ذَكَرِ تَمَّامًا، مَا قَالَ لَنَا إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّهِ

حضرت عبد الله بن عباس ؓاپنی والدہ سیدہ ام فضل ؓکا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو مغرب کی نماز میں سور ه و المرسلٰت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔سفیان سے یہ کہا گیا: لوگ تو یہ کہتے ہیں تمام بن عباس ؓنے یہ روایت بیان کی ہے ،تو سفیان نے کہا: میں نے تو ز ہری کوکبھی تمام بن عباس کا ذکر کرتے ہو ئے نہیں سنا۔

أُمِّهِ2، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← لَنَا إِلَّا ← تَمَّامًا، مَا ← الزُّهْرِيَّ قَطُّ ← مَا ← أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 340

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 341

حدثنا الحمیدی، قال: حدثنا سفیان، قال: حدثنا سالم أبو النضر: أنہ سمع عمیراً مولی ام الفضل یحدث، عَنۡ أَمَّ الۡفَضۡل قَالَتۡ: شَکَّٔ النَّاسُ فِی سِیَامِ رَسُولِ اللہﷺ یَوۡمَ عَرَفَۃَ، فَأَرۡسَلۡتُ اِلَیۡہِ بِاِنَاءٍ فِیہِ لَبَنٌ، فَشَربَ۔ وَکَانَ سُفۡیَانَ رُبَمَا قَالَ فِی ھذَا الۡحَدیثِ: یَشُکَّٔ النَّاسُ فیِی صِیَامِ رَسُولِ اللہﷺ یَوۡمَ عَرَفَۃَ، فَأَرسَلَتۡ اِلۡیہِ أَمُّ الۡفَضۡلِ۔۔۔ فَاِذَا وُقِفَ عَلَیۡہِ، قَالَ: ھُوَ عَنۡ أُم الۡفَضۡلِ۔

سیدہ ام فضل ؓ بیان کرتی ہیں: عرفہ کے دن نبی اکرمﷺکے روزہ رکھنے کے بارے میں لوگوں کو شک ہواتو میں نے بنی اکرم ﷺکی خدمت میں ایک برتن بھجوایا جس میں دودھ موجود تھا ۔ نبی اکرم ﷺنے اسے پی لیا۔ سفیان نامی راوی اس روایت میں بعض اوقات یہ ا لفاظ نقل کرتے ہیں۔لوگوں نے نبی اکرم ﷺکے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں شک ظاہرکیا ،تو سیدہ ام فضل ؓنے نبی اکرمﷺکی خدمت میں بھجوایا...... جب سفیان کو اس بات پر تنبیہ کی گئی توانہوں نے کہا:یہ روایت سیدہ ام فضل ؓ سے منقول ہے۔

سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 341

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 342

342 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: نَزَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي»

سیدہ ام ایوب انصار یہ ؓبیا ن کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ ہمارے ہاں ٹھہرے توہم نے آپ ﷺکے لیے کھانے میں سبزی پکائی آپ ﷺکووہ پسند نہیں آئی آپ ﷺنے اپنے ساتھیوں سے کہا:تم لوگ اسے کھا لو، کیونکہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں میں اس بات کو پسندنہیں کرتا کہ میں اپنے ساتھی (یعنی فرشتے) کو اذیت پہنچاوں۔ امام حمیدیؒ کہتے ہیں : سفیان نے یہ بات بیان کی ہے میں نے خواب میں نبی اکرم ﷺکی زیارت کی میں نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺکی کیا رائے ہے؟ اس روایت کے بارے میں جو آپ ﷺکے حوالے سے بیان کی جاتی ہے کہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے اذیت ہوتی ہے ،جس سے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: یہ بالکل درست ہے۔

أَبِي، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 342

chevron_left Previous
1…454647…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter