Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 319

319 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ السَّبَّاقِ أَنَّهُ سَمِعَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: «هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟» فَقُلْتُ: لَا إِلَّا عَظْمٌ قَدْ أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيًّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي لَيْسَ هِيَ الْآنَ صَدَقَةً

عبيد بن سباق بیان کرتے ہیں :انہوں نے سیدہ جویریہ بنت حارثؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے :ایک دن نبی اکرم ﷺمیرے ہاں تشریف لائے آپ ﷺنے دریافت کیا: کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟ میں نے عرض کی:جی نہیں ! صرف ایک ہڈی (والا گوشت ہے) جو ہماری کنیز کوصدقے کے طور پر دیا گیا تھا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:وہی لے آؤ کیونکہ وہ اپنی جگہ تک پہنچ گیاہے۔امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: یعنی اب اس کی حیثیت صدقے کی نہیں رہی ہے۔

عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 319

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 320

320 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصِلُهَا؟ قَالَ «نَعَمْ» قَالَ سُفْيَانُ وَفِيهَا نَزَلَتْ {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ} [الممتحنة: 8] الْآيَةَ

سیدہ اسماء بنت ابو بکرؓ بیان کرتی ہیں: قریش کے عہد میں میری والدہ (جو مسلمان نہیں ہوئی تھی) میرے پاس ( کچھ مالی امداد)کے لیے تشریف لائیں میں نے نبی اکرم ﷺسے دریافت کیا: کیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کروں؟ نبی اکرم ﷺنے جواب دیا: جی ہاں۔سفیان کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :"الله تعالی ٰتمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تمہارے ساتھ جنگ نہیں کرتے ہیں"۔

الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ} [الممتحنة: الْآيَةَ ← سُفْيَانُ وَفِيهَا نَزَلَتْ {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ ← نَعَمْ ← أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَصِلُهَا؟ ← أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ← أَبَاهُ ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 320

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 321

321 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يَنَلْ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»

فاطمہ بنت منذر اپنی دادی سیده اسما ؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشادفرمایا ہے: "آدمی کے پاس جو کچھ نہ ہو ،اسے اپنے پاس موجود ظاہر کرنے والا اسی طرح ہے، جس طرح اس نے جھوٹ کے دوکپڑے پہنے ہوئے ہیں"۔

جدتها أسماء ← امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 321

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 322

322 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: ثنا بِشْرٌ قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تَقُولُ: إِنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ رُشِّيهِ بِالْمَاءِ وَصَلِّي فِيهِ»

فاطمہ بنت منذر بیان کرتی ہیں. انہوں نے سیدہ اسماء بنت ابوبکرؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک خاتون نے نبی اکرم ﷺ سے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا: جو کپڑے پرلگ جاتا ہے، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: تم اسے کھرچ دواور پھر پانی کے ذریعےدھو دو پھراس پر پانی چھڑ کو اور اس میں نماز ادا کرلو۔

دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ← أسماء بنت أبي بكر تقول أن امرأة سألت رسول الله ← امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ أَنَّهَا ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرٌ، ← مُحَمَّدٍ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 322

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 323

323 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تَقُولُ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ تَقُولُ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَأَمْرَقَ شَعْرُهَا، وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا أَفَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ»

سیدہ اسماء ؓبیان کرتی ہیں: ایک خاتون نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میری بیٹی کو بخار ہوا جس کے نتیجے میں اس کے بال گر گئے اب میں نے اس کی شادی کرنی ہے کیا میں اسے مصنوعی بال لگوادوں؟ نبی اکرم ﷺنےارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے مصنوعی بال لگائے جائیں ان پر لعنت کی ہے۔

أَسْمَاءَ تَقُولُ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تَقُولُ ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 323

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 324

324 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ قَالَتْ: «نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ»

سیده اسما ءؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺکے زمانہ اقدس میں ہم نے ایک گھوڑ اذبح کیا تھا، اور اسے کھا لیا تھا۔

«نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَأَكَلْنَاهُ» ← جدتها أسماء ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 324

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 325

325 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: 1] أَقْبَلَتِ الْعَوْرَاءُ أُمُّ جَمِيلٍ بِنْتُ حَرْبٍ وَلَهَا وَلْوَلَةٌ وَفِي يَدِهَا فِهْرٌ وَهِيَ تَقُولُ: مُذَمَّمٌ أَبَيْنَا، وَدِينَهُ قَلَيْنَا، وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَرَأَ قُرْآنًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَقْبَلَتْ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تَرَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا لَنْ تَرَانِي» وَقَرَأَ قُرْآنًا اعْتَصَمَ بِهِ، كَمَا قَالَ وَقَرَأَ {وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا} [الإسراء: 45] فَأَقْبَلَتْ حَتَّى وَقَفَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي فَقَالَ: لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا هَجَاكِ قَالَ: فَوَلَّتْ وَهِيَ تَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي بِنْتُ سَيِّدِهَا [ص:324] قَالَ فَقَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ: تَعَثَّرَتْ أُمُّ جَمِيلٍ وَهِيَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ: تَعِسٌ مُذَمَّمٌ فَقَالَتْ أُمُّ حَكِيمِ ابْنَةُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: إِنِّي لَحَصَانٌ فَمَا أُكَلَّمُ، وَثَقَافٌ فَمَا أُعَلَّمُ، فَكِلْتَانَا مِنْ بَنِي الْعَمِّ قُرَيْشٍ بَعْدُ أَعْلَمُ

سیدہ اسماءبنت ابو بکر ؓ بیان کرتی ہیں :جب یہ آیت نازل ہوئی:"ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں۔" تو ام جمیل بنت حرب (جوا بو جہل کی بیوی تھی)بڑ ے غصے میں آئی اس نے ہاتھ میں مٹھی بھر پتھر پکڑے ہوئے تھے اورکہہ رہی تھی۔”وہ قابل مذمت ہیں، جن کا ہم نے انکار کر دیا ہے اور ان کے دین کو ہم نے چھوڑ دیا ہے اور ان کے معاملے کی ہم نے نافرمانی کی ہے"۔نبی اکرم ﷺاس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺنے قرآن کی تلاوت کی آپ ﷺکے ساتھ حضرت ابوبکرؓ بھی تھے حضرت ابوبکر ؓنے جب اس عورت کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! یہ عورت آرہی ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ ﷺکو دیکھ لے گی(اور بدتمیزی کا مظاہرہ کرے گی) نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا : وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی پھر آپ ﷺقرآن پڑھنے لگے۔ آپ ﷺاس کے ذریعے مضبوطی حاصل کررہے تھے، جس طرح آپ ﷺنے ارشادفرمایا تھا،آپﷺنےیہ آیت پڑھی:"اور جب تم قرآن پڑھو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان ،جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، ایک مستور پرده ڈال دیں گے"۔وہ عورت آئی وہ حضرت ابوبکر ؓکے پاس آکر ٹھہرگئی اسے نبی اکرم ﷺنظر نہیں آئے وہ بولی:اے ابوبکر ! مجھے پتہ چلا ہے تمہارے آقا ﷺنے ہماری ہجو بیان کی ہے۔ حضرت ابو بکرؓبولے : جی نہیں! اس گھر کے پروردگار کی قسم !انہوں نے تمہاری ہجوبیان نہیں کی ہے۔حضرت ابوبکرؓ کہتے ہیں: تو وہ عورت مڑگئی جاتی ہوئی دہ یہ کہہ رہی تھی: قریش یہ بات جانتے ہیں کہ میں ان کےسردارکی بیٹی ہوں۔یہاں ولید نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں:یا شاید دوسرے کسی راوی نےنقل کیے ہیں: "تو ام جمیل غصے میں تھی وہ اپنی چادر اوڑھ کر بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی اس نےکہا وہ شخص برباد ہو جائے جس کی مذمت کی گئی ہے "تو جناب عبدالمطلب کی صاجزادی ام حکیم نے کہا: "میں پاکدامن ہوں مجھ پرالزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ میں سمجھدار ہوں مجھے تعلیم نہیں دی جاسکتی ہم دونوں خواتین چچازاد ہیں اور قریش اس بات سے بخوبی واقف ہیں"۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ تَدْرُسَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 325

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 326

326 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُمْ قَالُوا لَهَا: مَا أَشَدَّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامُوا إِلَيْهِ، وَكَانُوا إِذَا سَأَلُوا عَنْ [ص:325] شَيْءٍ صَدَقَهُمْ، فَقَالُوا: أَلَسْتَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ: «بَلَى» فَتَشَبَّثُوا بِهِ بِأَجْمَعِهِمْ فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ صَاحِبَكَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا، وَإِنَّ لَهُ غَدَايِرَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ يَقُولُ: وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ، قَالَ: فَلَهَوْا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فَجَعَلَ لَا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَايِرِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ وَهُوَ يَقُولُ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

سیدہ اسماء بنت ابوبکر ؓ بیان کرتی ہیں:لوگوں نے ان سے دریافت کیا: آپ نے مشرکین کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ سخت سلوک کیا دیکھا ہے ،تو انہوں نے بتایا مشرکین مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے وہ نبی اکرم ﷺ کا اور اپنے معبودوں کے بارے میں نبی اکرم ﷺکی رائے کا تذکرہ کررہے تھے وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺتشریف لائے وہ لوگ اٹھ کر نبی اکرمﷺ کے پاس گئے جب وہ لوگ نبی اکرم ﷺسے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے تھے تو نبی اکرم ﷺان کی بات کو سچ قرار دیتے تھے۔ "انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ ﷺنے ایسی ایسی بات نہیں کہی ہے؟ نبی اکرمﷺنے جواب دیا : جی ہاں ،تو وہ سب لوگ مل کر نبی اکرم ﷺپر جھپٹ پڑے تو کسی شخص نے بلند آواز میں حضرت ابوبکرؓ کو پکارا ان سے کہا گیا: آپ اپنے آقاﷺکے پاس پہنچیں تو حضرت ابو بکر ؓ ہمارے ہاں سے نکلے اس وقت ان کے لمبے لمبے بال تھے۔وہ مسجد میں داخل ہوئے اور یہ کہتے جارہے تھے : تمہارا ستیانا س ہو کیا تم ایک ایسے صاحب کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتے ہیں :تو ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو چھوڑا اور حضرت ابو بکر ؓ کی طرف متوجہ ہوگئے (اور ان پر حملہ کر دیا)جب حضرت ابو بکر ؓ ہمارے ہاں تشریف لائے ،تو ان کے جس بھی بال کو ہاتھ لگایا جاتا و ہ ہاتھ میں آجاتاتھا، لیکن حضرت ابوبکرؓ یہی کہہ رہے تھے"اے جلال ادرا کرام والے ،تو برکت والا ہے"۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ تَدْرُسَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 326

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 327

327 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «يَا أَسْمَاءُ لَا تُوكِي فَيُوكَا عَلَيْكِ»

سیدہ اسماء بنت ابوبکر ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺنے ان سے فرمایا۔ "اے اسماء !تم (الله کی راہ میں) خرچ کرنے سے نہ رکوورنہ تم سے رزق کو روک لیا جائے گا"۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 327

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 328

328 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ [ص:326]: لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّهْ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْصَانِي بِكِ، فَهَلْ لَكِ مِنْ حَاجَةٍ؟ قَالَتْ: مَالِي مِنْ حَاجَةٍ وَلَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ وَلَكِنِّي أُمُّ الْمَصْلُوبِ عَلَى رَأْسِ الثَّنِيَّةِ وَلَكِنِ انْتَظِرْ أُحَدِّثْكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ يَعْنِي الْمُخْتَارَ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ فَقَالَ الْحَجَّاجُ: مُبِيرٌ لِلْمُنَافِقِينَ

ابومحیاۃ اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓکو شہید کر دیا تو حجاج ،سیدہ اسماء بنت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے گزارش کی:اے اماں جان! امیر المومنین نے مجھے آپ کے بارے میں تلقین کی ہے ،تو کیا آپ کو کوئی ضر ورت ہے؟ سیدہ اسماءؓ نے کہا: مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے اور میں تمہاری ماں نہیں ہوں ۔ میں اس شخص کی ماں ہوں، جسے گھاٹی کے سرے پرمصلوب کیا گیا ہے۔تم رکو!میں تمہیں وہ بات بتاتی ہوں جو میں نے نبی اکرم ﷺکی زبانی سنی ہے(نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے:) "ثقيف قبیلے سے ایک نبوت کا جھوٹا دعوے دار اور ایک قتل و غارت گری کرنے والا پیدا ہوگا"۔ جہاں تک جھوٹےکاتعلق ہے، تو اسے تو ہم دیکھ چکے ہیں۔سیدہ اسماءؓکی مراد مختار ثقفی تھا،اور جہاں تک خون بہانے والے کا تعلق ہے، تووہ تم ہو، تو حجاج بولا:میں منافقوں کا خون بہانے والا ہوں۔

أُمِّهِ2، ← أبو المحياة ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 328

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 329

329 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَخُو الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَرْفَعَنَّ امْرَأَةٌ مِنْكُنَّ رَأْسَهَا قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ الْإِمَامُ رَأْسَهُ؛ مِنْ ضِيقِ ثِيَابِ الرِّجَالِ»

سیدہ اسماء بنت ابوبکر ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: "اے مومن خواتین کے گروہ!کوئی بھی عورت اپنا سر امام کے اٹھنے سے پہلے نہ اٹھائے (نبی اکرمﷺ نے یہ بات اس لیے فرمائی) کیونکہ مردوں کے کپڑے چھوٹے ہوتے تھے"۔

أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تَقُولُ ← مَنْ ← أَخُو الزُّهْرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 329

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 330

330 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: أَخْبَرُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ» قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْكَاشِحُ الْعَدَوُّ

سیدہ ام کلثوم بنت عقبہؓ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے: "سب سے افضل صدقہ وہ ہے ،جو دشمنی رکھنے والے رشتے دار پرکیا جائے"۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ز ہری سے نہیں سنی ہے۔ امام حمیدی ؒکہتے ہیں:(روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ)"کا شح"کا مطلب دشمن ہے۔

أَبُو بَكْرٍ: الْكَاشِحُ الْعَدَوُّ ← سُفْيَانُ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ← أفضل الصدقة على ذي الرحم الكاشح ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَخْبِرُونِي ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 330

chevron_left Previous
1…444546…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter