Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 307

307 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَا: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ شَوَّالٍ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغْلِسُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى» قَالَ سُفْيَانُ وَسَالِمُ بْنُ شَوَّالِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا يُحَدِّثُ عَنْهُ إِلَّا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ هَذَا الْحَدِيثَ

نبی اکرمﷺکی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہؓ بیان کرتی ہیں ،ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے زمانہ اقدس میں یہ کرتے تھے کہ صبح اندھیرے میں ہی مزدلفہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں : سالم بن شوال نامی راوی مکہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں میں نے ایسے کسی شخص کونہیں سنا جس نے ان کے حوالے سے روایات بیان کی ہوں صرف عمرو بن دینار نے ان کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔

عَنْهُ إِلَّا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ هَذَا الْحَدِيثَ ← سُفْيَانُ وَسَالِمُ بْنُ شَوَّالِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا ← «كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ نُغْلِسُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى» ← أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ أَنَّهَا ← سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 307

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 308

308 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ مِنَ الشَّامِ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِصُفْرَةٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَمَسَحَتْ بِهِ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عَنْ هَذَا لَغَنِيَّةٌ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَالِكًا يَقُولُ فِيهِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَعَنْ صَفِيَّةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ [ص:314] فَقَالَ سُفْيَانُ مَا قَالَ لَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى إِلَّا أُمَّ حَبِيبَةَ

سیدہ زینب بنت ابوسلمہؓ بیان کرتی ہیں، جب حضرت ابوسفیانؓ کے انتقال کی اطلاع شام سے آئی تو سیده ام حبیبہؓ نے تیسرے دن زردرنگ منگوایا اور اسے اپنے رخساروں اور کلائیوں پر لگایا اور یہ بات بیان کی مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرم ﷺکویہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے: "الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے ،وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ اس کے شوہرکا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔“ سفیان سےیہ کہا گیا: امام مالک نے اس روایت کے بارے میں یہ کہا ہے ،یہ حمید بن نافع کے حوالے سے سیدہ زینب بنت جحشؓ سے یاسیدہ صفیہ ؓسے یا سیدہ ام جیبہ ؓسے منقول ہے ،تو سفیان نے کہا: ایوب بن موسی ٰ نے ہمیں یہ روایت سناتے ہوئے صرف سیدہ ام حبیبہ ؓکا تذکرہ کیا ہے۔

زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 308

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 309

309 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ «فَأَفْعَلُ مَاذَا» ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: تَنْكِحُهَا قَالَ: «أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ» ؟ قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يُشْرِكُنِي فِيكَ أُخْتِي قَالَ: «فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي» قُلْتُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ: «ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ» ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي لَقَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»

سیدہ زینب بنت ابوسلمؓہ سیدہ بنت ام حبیبہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ(ﷺ)!کیا آپ ﷺکوابوسفیان کی صاجزادی "درہ "میں دلچسپی ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میں کیا کروں؟ سیدہ ام حبیبہؓ نے عرض کی آپ ﷺاس کے ساتھ شادی کر لیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں یہ بات پسند ہے؟ میں نے جواب دیا : میں آپ ﷺ کی اکلوتی بیوی نہیں ہوں میں یہ چاہتی ہوں کہ میری بہن بھی میری شراکت دار ہو جائے ۔ بنی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ میرے لیے حلال نہیں ہے، تو میں نے عرض کی مجھے تو یہ پتہ چلا ہے ، آپ ﷺزینب بنت ابو سلمہ کے لیے نکاح کا پیغام بھیجنے والے ہیں۔ نبی اکرمﷺنے دریافت کیا:ام سلمہ کی بیٹی کے لیے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر وہ میری سوتیلی بیٹی نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی، تو بھی میرے لیے حلال نہ ہو تی کیونکہ مجھے اور اس کے والد کوثویبہ نے دودھ پلایا ہے ،تم لوگ اپنی بیٹیوں یا بہنوں کا رشتہ میرے سامنے نہ پیش کیا کرو۔

أم حبيبة زوج النبي أنها ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 309

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ الْأَسَدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 310

310 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ لَا نَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُولُ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرْبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ؛ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ» وَعَقَدَ سُفْيَانُ عَشَرَةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ» قَالَ سُفْيَانُ: أَحْفَظُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَقَدْ رَأَيْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِهِ أُمُّ حَبِيبَةَ وَزَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَثِنْتَيْنِ رَبِيبَتَاهُ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ وَحَبِيبَةُ بِنْتُ أُمِّ حَبِيبَةَ أَبُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ

سیدہ زینب بنت ابوسلمہؓ سیده حبیبہ بنت ام حبیبہؓ کے حوالے سے ان کی والدہ سیدہ ام حبیبہؓ کے حوالے سے سیدہ زینب بنت جحش ؓکا یہ بیان نقل کرتی ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺنیند سے بیدار ہوئے ،تو آپ ﷺکا چہرہ مبارک سرخ تھا ، اور آپ ﷺیہ فرمارہے تھے۔ "الله تعالی ٰکے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے، عربوں کے لیے اس شر کے حوالے سے بربادی ہے ،جوقریب آچکا ہے آج یاجوج ماجوج کی رکاوٹ کا اتنا حصہ کھل گیا ہے"۔ سفیان نامی راوی نے دس کا نشان بنا کر یہ بات بتائی۔ میں نے عرض کی :یارسول الله (ﷺ)! کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ،جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجود ہوں گے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی ہاں!جب برائی زیادہ ہو جائے گی (توسب لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے) سفیان کہتے ہیں : میری یاداشت کے مطابق اس روایت میں چار خواتین کا تذکرہ ہے اور یہ سب صحابیات ہیں ان میں سے دو نبی اکرم ﷺکی ازواج ہیں سیدہ ام حبیبہؓ ا ور سیدہ زینب بنت جحشؓ اور دو نبی اکرم ﷺکی سوتیلی صاحبزادیاں ہیں یعنی سیدہ زینب بنت ام سلمہ ؓاو رسیده حبیبہ بنت ام حبیبہؓ ۔ ان کے والد کا نام عبیداللہ بن جحش ؓتھا جن کا انتقال حبشہ کی سرزمین پر ہوا تھا۔

اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ نَوْمٍ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ وَهُوَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، ← حَبِيبَةَ بِنْتِ أُمِّ حَبِيبَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيُّ لَا نَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 310

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 311

311 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ قَالَ سُفْيَانَ: هَذَا الْإِسْنَادُ كَانَ يُعْجِبُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ، أَخْبَرَنِي، سَمِعْتُ، أَخْبَرَنِي كَأَنَّهُ اشْتَهَى تَوْصِيلَهُ

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : سیدہ میمونہ ؓ نے مجھے یہ بات بتائی کہ وہ اور نبی اکرم ﷺایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے۔سفیان نے یہ بات بیان کی اس سند کو شعبہ بہت پسند کرتے تھے (جس میں یہ الفاظ ہیں)"میں نے سنا انہوں نے مجھے بتایا ، میں نے سنا انہوں نے مجھے بتایا"۔گویا ,وہ اس بات کے خواہش مند تھے کہ یہ روایت موصول ہو جائے۔

كَأَنَّهُ اشْتَهَى تَوْصِيلَهُ ← سُفْيَانَ: هَذَا الْإِسْنَادُ كَانَ يُعْجِبُ شُعْبَةَ ← أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 311

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 312

312 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْبُوذٌ الْمَكِّيُّ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ مَالِي أَرَاكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ قَالَ: إِنَّ مُرَجِّلَتِي أُمَّ عَمَّارٍ حَايِضٌ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدَيْنِ؟ «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ يَتْلُو الْقُرْآنَ، وَإِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتَقُومُ إِلَيْهِ بِخُمْرَتِهِ فَتَبْسُطُهَا لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا» أَيْ بُنَيَّ ‍‍‍‍‍‍فَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟

منبوذ مکی اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :ہم لوگ سیدہ میمونہؓ کے پاس موجود تھے حضرت عبداللہ بن عباسؓ ان کے ہاں تشریف لائے سیدہ میمونہؓ نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! کیا وجہ ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے ہیں، تو حضرت عبد الله بن عباسؓ نے عرض کی: میرے بال سنوارنے والی ام عمار حیض کی حالت میں ہے ،تو سیدہ میمونہؓ نے فرمایا: اے میرے بیٹے!حیض کا ہاتھوں کے ساتھ کیا واسطہ۔ نبی اکرم اﷺاپنا سر مبارک ہم (ازواج) میں سے کسی ایک کی گود میں رکھ دیتے تھے وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی، لیکن نبی اکرمﷺتلاوت کر لیا کرتے تھے اور ہم میں سے کوئی ایک اپنی چادر لے کر نبی اکرم ﷺکے لیے بچھا دیتی تھی، حالانکہ وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی ،لیکن نبی اکرم ﷺاس چادر پر نماز ادا کر لیتے تھے ۔ اے میرے بیٹے!حیض کا ہاتھ کے ساتھ کیا واسطہ؟

إِنَّ مُرَجِّلَتِي أُمَّ عَمَّارٍ حَايِضٌ ← أَيْ بُنَيَّ مَالِي أَرَاكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ ← كُنَّا عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ ← أُمِّهِ2، ← مَنْبُوذٌ الْمَكِّيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 312

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 313

313 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ أَوْ يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ سُفْيَانَ الَّذِي يَشُكُّ [ص:317] عَنْ مَيْمُونَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمُرِ»

سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺبڑی چادر پر نماز ادا کر لیتے تھے۔

مَيْمُونَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ أَوْ يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ سُفْيَانَ الَّذِي يَشُكُّ [ص:317] ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 313

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 314

314 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: «أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يُحَدِّثُهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُهُ إِلَّا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مِرَارًا

حضرت عبدالله بن عباس ؓسیدہ میمونہؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک چوہا گھی میں گر کر مرگیا ،نبی اکرم ﷺسےاس بارے میں دریافت کیاگیا، آپ ﷺارشاد فرمایا: اسے اوراس کے آس پاک والے(جمے ہوئے)گھی کو پھینک دواور(باقی بچ جانے والے) کو کھالو۔ امام حمیدی ؓکہتے ہیں: سفیان سے یہ کہا گیا:معمر نے یہ روایت زہری کے حوالے سے سعید کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ سے نقل کی ہے ،تو سفیان نے جواب دیا: میں نے تو زہری کو یہی بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ یہ روایت عبیداللہ کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حوالے سے سیدہ میمونہؓ سے منقول ہے اور یہ روایت میں نے ان کی زبانی کئی مرتبہ سنی ہے۔

مِنْهُ مِرَارًا ← النَّبِيِّ وَلَقَدْ ← مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُهُ إِلَّا ← سفيان ما ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو بَكْرٍ: فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يُحَدِّثُهُ، ← أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَکُلُوهُ ← مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ عَنْهَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 314

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 315

315 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِّ [ص:318]، عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ مِرْطٍ كَانَ بَعْضُهُ عَلَيْهِ وَبَعْضُهُ عَلَيَّ، وَأَنَا حَائِضٌ»

سیدہ میمونہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے ایک اونی چادر اوڑھ کر نماز ادا کی جس کا بعض حصہ نبی اکرم ﷺپر تھا، اور بعض حصہ مجھ پر تھا حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں تھی۔

حَائِضٍ ← «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ فِي ثَوْبٍ مِرْطٍ كَانَ بَعْضُهُ عَلَيْهِ وَبَعْضُهُ عَلَيَّ، ← مَيْمُونَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِّ [ص:318]، ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 315

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 316

316 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو سُلَيْمَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ابْنُ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ لَوْ أَرَادَتْ بَهْمَةٌ أَنْ تَمُرَّ مِنْ تَحْتِهِ لَمَرَّتْ مِمَّا يُجَافِي»

سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرم ﷺسجدے میں جاتے ، اگر بکری کا کوئی بچہ آپ ﷺکے نیچے سے گزرنا چاہتا تو وہ گزرسکتا تھایعنی آپ ﷺاپنے بازوؤں کو پہلو سے اتنادور رکھتے تھے۔

مَيْمُونَةَ، ← عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← أَبُو سُلَيْمَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ابْنُ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 316

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 317

317 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيِّتَةً فَقَالَ: «مَا عَلَى أَهْلِ هَذِهِ لَوْ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ، فَانْتَفَعُوا بِهِ» فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّهَا مَيِّتَةٌ، فَقَالَ: «إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا» [ص:319] فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَعْمَرًا لَا يَقُولُ فِيهِ «فَدَبَغُوهُ» وَيَقُولُ: كَانَ الزُّهْرِيُّ يَنْكِرُ الدِّبَاغَ، فَقَالَ سُفْيَانُ: لَكِنِّي قَدْ حَفِظْتُهُ، وَإِنَّمَا أَرَدْنَا مِنْهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ الَّتِي لَمْ يَقُلْهَا غَيْرُهُ «إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا» وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَيْمُونَةَ فَإِذَا وَقَفَ عَلَيْهِ قَالَ فِيهِ مَيْمُونَةُ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓسیدہ میمونہؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا گزر سیدہ میمونہؓ کی کنیز کی بکری کے پاس سے ہوا جو مردہ تھی اور وہ ان کی کنیز کوصدقے کے طور پر دی گئی تھی۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اس کے مالک کوکوئی نقصان نہیں ہوگا اگر وہ اس کی کھال کو حاصل کر کے اس کی دباغت کر کے استعمال کرے انہوں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)!یہ تو مردار ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔ سفیان سے یہ کہا گیا ہے۔ معمر اس روایت کونقل کرتے ہوئے یہ الفاظ استعمال نہیں کرتے۔"وہ اس کی دباغت کرلیں"۔ وہ یہ کہتے ہیں :زہری دباغت کے الفاظ کا انکار کرتے تھے، تو سفیان نے کہا: میں نے تو اسے اسی طرح یاد رکھا ہے اور ہم اس روایت کے ان الفاظ کو بطور خاص توجہ کا مرکز بناتے ہیں جو ان کے علاوہ اور کسی نے نقل نہیں کیے یعنی یہ الفاظ کہ "اسے کھانا حرام قرار دیا گیا ہے"۔سفیان نامی راوی بعض اوقات اس میں سیدہ میمونہ ؓ کا تذکرہ نہیں کرتے جب انہیں اس پر تنبیہ کی گئی ہو، تو انہوں نے کہا : اس میں سیدہ میمونہ ؓ کا تذکرہ ہے۔

مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 317

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 318

318 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ دَلَّكَ بِهَا الْحَايِطَ ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ غَسَلَ رِجْلَيْهِ»

حضرت عبدالله بن عباس ؓسیدہ میمونہؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے غسل جنابت کرتے ہوئے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو دھویا پھر آپﷺنے اپناہاتھ دیوار پر ملا پھر آپﷺنے اسے دھویا پھر آپﷺنے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا جب آپﷺغسل کر کے فارغ ہو گئے، تو آپﷺنے اپنے دونوں پاؤں دھو لیے۔

مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 318

chevron_left Previous
1…434445…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter