Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 295

295 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا بَشَرِهِ شَيْئًا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ قِيلَ لِسُفْيَانَ: إِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ قَالَ: لَكِنِّي أَنَا أَرْفَعُهُ

سیدہ ام سلمہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: (جب ذوالحجہ کا پہلاعشرہ) آجائے اور کسی شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، تو وہ اپنے بال اور اپنی جلد میں سے کوئی چیز نہ کٹوائے (یعنی ناخن نہ تراشے اور بال بھی نہ کٹوائے) امام حمیدی ؒکہتے ہیں: سفیان سے کہا گیا ہے:بعض محدثین نے اس روایت کو"مرفوع"حدیث کے طور نقل نہیں کیا ہے ،تو انہوں نے کہا: میں، تو اس کو"مرفوع" حدیث کے طور نقل کروں گا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 295

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 296

296 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضُفُرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغَسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تُحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِي» أَوْ قَالَ: «فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ»

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرمﷺسے سوال کیا میں نے عرض کی میں ایک ایسی عورت ہوں جو اپنی مینڈیاں مضبوطی سے باندھتی ہوں ،تو کیا میں غسل جنابت کے لیے انہیں کھول لیا کروں ،تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے اتنا کافی ہے ،تم تین مرتبہ اپنے سر پر پانی کے تین لپ بہا لیا کرو پھر تم اپنے جسم پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤ گی (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تواس طرح تم پاک ہو جاؤ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 296

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 297

297 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَرَى الْقَدَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: قَدِمَ [ص:308] مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ قَالَ لِكَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ: اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَلْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ، وَبَعَثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ مَعَنَا فَقَالَ: اذْهَبْ فَاسْمَعْ مَا تَقُولُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَجَاءَهَا فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَاسْأَلْهَا فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى عِنْدِي رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ أَكُنْ أَرَاهُ يُصَلِّيهِمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ أَكُنْ أَرَاكَ تُصَلِّيهَا قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيَّ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَوْ صَدَقَةٌ فَشَغَلُونِي عَنْهُمَا فَهُمَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ»

ابوسلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابوسفیانؓ مدینہ منورہ آئے وہ منبر پر موجود تھے۔انہوں نے کثیر بن صلت سے کہا:تم ام المومنین سیدہ عائشہ ؓکے پاس جاؤ اور ان سے نبی اکرم ﷺکی اس نماز کے بارے میں دریافت کروجو آپﷺعصرکے بعد دورکعات ادا کرتے تھے۔ابوسلمہ کہتے ہیں:کثیر بن صلت کے ساتھ میں بھی چلا گیا حضرت عبد الله بن عباس ؓ نے عبداللہ بن حارث کو ساتھ بھیج دیا انہوں نے فرمایا:تم جاؤ !ام المومنین تمہیں جوکہیں گی اسے سن لینا۔ابوسلمہ کہتے ہیں: وہ صاحب ان کے ہاں آئے اور ان سے یہ دریافت کیا، تو سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے، تم سیدہ ام سلمہؓ کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو ،تو کثیر کے ساتھ میں بھی سیدہ ام سلمہؓ کے پاس گیا انہوں نے سیدہ ام سلمہؓ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدہ ام سلمہؓ نے بتایا: ایک دن نبی اکرم ﷺعصر کے بعد میرے ہاں تشریف لائے آپ ﷺنے میرے ہاں دو رکعات نماز ادا کی میں نے آپ ﷺکو اس سے پہلے یہ دو رکعات ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ،تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! آج آپ ﷺنے یہ کیسی نماز ادا کی ہے؟ میں نے پہلے آپﷺادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ظہر کے بعد دورکعات ادا کرتا ہوں، بنوتمیم کا وفد میرےپاس آ گیا تھا (راوی کوشک ہے شاید الفاظ ہیں) زکوٰۃ کا مال آیا تھا، تو اس وجہ سے میں مصروف رہا تو یہ وہی دورکعات ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَرَى الْقَدَرَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 297

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 298

298 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَيُّكُمْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِشَيْءٍ فَلَا يَأْخُذْ بِهِ؛ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»

سیدہ زینب بنت ابوسلمہؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "میں بھی ایک انسان ہوں تم لوگ اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو ،ہوسکتا ہے ،تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی دلیل پیش کرنے میں دوسرے کے مقابلے میں تیز زبان ہو، تو جس شخص کےحق میں، میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں ،تو وہ اسے حاصل نہ کرے کیونکہ میں نے اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہوگا۔‘‘

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 298

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 299

299 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ [ص:309]، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ فَسَمِعَهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إُمَيَّةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكُمْ بِابْنَةِ غَيْلَانَ؛ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ» قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ اسْمُهُ هَيْتٌ

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 299

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 300

300 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مْنَ الْحَقِّ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَاءَ فَلْتَغْسِلْ» فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَبِمَ يَكُونُ الشَّبَهُ؟

سیدہ زینب بنت ابوسلمہ ؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لائے وہاں ایک ہیجڑا موجود تھا۔ نبی اکرم ﷺنے اسے عبد الله بن ابوامیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:اے عبداللہ!اگر الله تعالیٰ نے آئندہ تمہارے لیے طائف کوفتح کر دیا توتم غیلان کی بیٹی کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ بڑی صحت مند(اور خوبصورت جسم کی مالک) ہے راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:یہ (ہیجڑے ) تمہارے ہاں نہ آیا کریں ۔سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے یہ بات بیان کی اس ہیجْرے کا نام"ہیت‘‘ تھا۔

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 300

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 301

301 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ مَوْلَى لِأُمِّ سَلَمَةَ [ص:310]، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ الصُّبْحِ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مَقْبُوَلًا»

سیدہ زینب بنت ابوسلمہؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں۔ سیدہ ام سلمہؓ نے نبی اکرمﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: انہوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)!الله تعالیٰ حق بات سے حیانہیں کرتا اگر عورت کو احتلام ہو جائے ،تو کیا اس پر غسل کر نالا زم ہوگا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی عورت پانی دیکھتی ہے، تو اسے غسل کرنا پڑے گا ۔سیدہ ام سلمہؓ نے عرض کی: کیا عورت کوبھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو پھر (بچے کی اس کے ساتھ) مشابہت کس بنیاد پر ہوتی ہے؟

أُمِّ سَلَمَةَ ← مَوْلَى لِأُمِّ سَلَمَةَ [ص:310]، ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 301

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 302

302 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ - رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ - أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ خَاصَمَ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ» فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا قَضَى لَهُ لِأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَلَا وَرِبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [النساء: 65]

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺصبح کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ "اے اللہ !میں تجھ سے نفع دینے والے علم ،پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔"

سَلَمَةُ، رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 302

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 303

303 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ - رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَسْمَعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فِي الْهِجْرَةِ بِشَيْءٍ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى} [آل عمران: 195] " الْآيَةَ

سیدہ ام سلمہ ؓ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سلمہ بیان کرتے ہیں: حضرت زبیر بن عوام ؓ ٰ کا ایک شخص کے ساتھ جھگڑا ہوگیا وہ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کے حق میں فیصلہ دے دیا تو وہ شخص بولا :آپ ﷺنے ان کے حق میں اس لیے فیصلہ دیا ہے کیو نکہ یہ آپ ﷺ کے پھوپھی زاد ہیں،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے اختلافی معاملات میں تمہیں حاکم تسلیم نہیں کرتے اور پھر تم نے جو فیصلہ دیا ہو اس کے بارے میں اپنے من میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتےاوراسے مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتے ہیں۔"

أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← سَلَمَةُ، رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 303

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 304

304 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ [ص:311]، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ «إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ وَأَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا أَوْ قَدْرَ حَيْضَتِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَدْفَرَتْ بِثَوْبٍ وَصَلَّتْ»

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ )! میں نے یہ نہیں سنا کہ الله تعالیٰ نے ہجرت کے حوالے سے خواتین کا تذکرہ کیا ہو،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا کوقبول کیا ،تو میں تمہارے عمل کرنے والوں میں سے کسی کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مذکرر ہو یا مؤنث۔"

كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ [ص:447]، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 304

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 305

305 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا فُضَيلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ، أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ»

سیدہ ام سلمہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺجب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تھے، تویہ پڑھتے تھے۔ ”اے اللہ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں پھسل جاؤں ،یا مجھے گمراہ کر دیا جائے یا میں ظلم کروں ،یا میرے اوپر ظلم کیا جائے یا میں جہالت کا مظاہرہ کروں ، یا میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کیا جائے ۔"

أُمِّ سَلَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 305

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 306

306 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَإِنَّهَا تَشْتَكِي عَيْنَهَا، أَفَتَكْتَحِلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ لَتَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ الْآنَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ» قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِحُمَيِدِ بْنِ نَافِعٍ مَا قَوْلُهُ: إِنْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ لَتَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ؟ فَقَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَلْبَسُ مِنْ ثِيَابِهَا أَطْمَارَهَا مِنْ أَدْنَى ثِيَابِهَا ثُمَّ تَدْخُلُ أَدْنَى بُيُوتِهَا فَإِذَا كَانَ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ أَخَذَتْ بَعْرَةً فَرَمَتْ بِهَا عَلَى ظَهْرِ غَيْرِهَا كَذَا وَرُبَّمَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِلَى خَلْفٍ وَقَالَتْ: قَدْ حَلَلْتُ

سید ہ ز ینب بنت ابو سلمہ ؓاپنی والدہ سیدہ ام سلمہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : ایک خاتون نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! میری بیٹی کا شو ہر انتقال کر گیا ہے اور میری بیٹی کی آنکھوں میں تکلیف ہے، تو کیا وہ سرمہ لگا لے ،تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: پہلے کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکتی تھی (یعنی ایک سال بعد اس کی عدت ختم ہوتی تھی) یہ تو چار ماہ دس دن ہیں۔ یحییٰ کہتے ہیں : میں نے حمید بن نافع سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺکی ان الفاظ سے مراد کیا ہے، پہلے کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعدمینگنی پھینکتی تھی ،تو انہوں نے بتایا: زمانہ جاہلیت میں کوئی عورت (سوگ کے دوران) انتہائی برے کپڑے پہن لیتی تھی پھر وہ گھر کے دور دراز کے کمرے میں چلی جاتی تھی ایک سال گزر جانے کے بعد وہ مینگنی لے کر اسے اپنی پشت کے پچھے پھینکتی تھی یہاں امام حمیدیؒ نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں وہ اپنے پیچھے پھینکتی تھی اور یہ کہتی تھی میں حلال ہوگئی ہوں۔

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ: ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 306

chevron_left Previous
1…424344…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter