Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 283

283 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَالِكًا وَغَيْرَهُ يَذْكُرُونَ الْبِتْعَ فَقَالَ: مَا قَالَ لَنَا ابْنُ شِهَابٍ الْبِتْعَ مَا قَالَ لَنَا ابْنُ شِهَابٍ إِلَّا كَمَا قُلْتُ لَكَ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ا ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: ہر وہ مشروب جونشہ پیدا کر دے وہ حرام ہے۔سفیان سے کہا گیا: مالک اور دیگر راویوں نے اس میں بتع (شہد سے بنی ہوئی شراب ) کا تذکرہ کیا ہے ،تو سفیان نے کہا: ابن شہاب نے ہمارے سامنے بتع کا تذ کرہ نہیں کیا ابن شہاب نے ہمارے سامنے وہی الفاظ ذکر کیے تھے جو میں نے تمہارے سامنےبیان کیے ہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 283

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 284

284 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ: «لَقَدَ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ» وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا شَكَّ فِيهِ فَقَالَ: عَنْ عَمْرَةَ أَوْ عُرْوَةَ لَا يَذْكُرُ فِيهِ الْخَبَرَ ثُمَّ ثَبَتَ عَلَى عُرْوَةَ وَذَكَرَ الْخَبَرَ فِيهِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَتَرَكَ الشَّكَّ

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے حضرت ابو موسی ٰاشعری ؓکی قرأت سنی تو ارشادفرمایا:"اسے آل داود کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔"امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: سفیان اس روایت کونقل کرتے ہوئے بعض اوقات اس میں شک کا شکار ہو جاتے تھے اور وہ یہ کہتے تھے کہ یہ عمرہ نامی خاتون سے منقول ہے یا شاید عروه نامی صاحب سے منقول ہے، تاہم وہ اس میں روایت کے الفاظ ذکر نہیں کرتے تھے، پھر اس کے بعد انہوں نے اعتماد کے ساتھ عروہ سے منقول ہونے کا تذکرہ کیا اور پھر کئی مرتبہ اس روایت کو بیان کیاانہوں نے اس شک کو ترک کر دیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 284

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 285

285 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ذَهَبًا كَانَتْ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ وَهِيَ أَكْثَرُ مِنَ السَّبِعَةِ وَأَقَلُّ مِنَ التِّسْعَةِ فَلَمْ يُصْبِحْ حَتَّى قَسَّمَهَا ثُمَّ قَالَ: «مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِرَبِّهِ لَوْ مَاتَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍» قَالَ سُفْيَانُ: أُرَاهَا صَدَقَةً كَانَتْ أَتَتْهُ أَوْ حَقًّا لِإِنْسَانٍ خَشِيَ أَنْ يَتْوَى

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ سونا آیا ،وہ رات کے وقت آپ ﷺکی خدمت میں آیا تھاوہ سات سے زیادہ تھا اورنو سے کم تھا، تو صبح ہونے سے پہلے آپ ﷺنے اسے تقسیم کر دیا۔ آپ ﷺنے ارشادفرمایا:"محمد کا اپنے پروردگار کے بارے میں کیا گمان ہوگا کہ اگر وہ انتقال کر جائے اور یہ سونا اس کے پاس ہو ۔"سفیان کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ زکوة کا سونا تھا جو آپ ﷺکی خدمت میں آیا تھا یا پھر یہ کسی انسان کا حق تھا جس کے بارے میں آپ ﷺکو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ ضائع نہ ہوجائے۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 285

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 286

286 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ وَايِلِ بْنِ دَاوُدَ عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا «يَا عَائِشَةَ إِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَلَمَّ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ، وَاسْتَغَفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ رُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ «إِنْ كُنْتَ بِذَنْبٍ أَلْمَمْتَ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ فَإِنَّ التَّوْبَةَ النَّدَمُ وَالَاسْتِغْفَارُ» وَأَكْثَرُ ذَلِكَ يَقُولُ عَلَى الْأَوَّلِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ان سے فرمایا: اے عائشہ !گرتم نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا، تو تم الله تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو ،کیونکہ جب انسان گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پھرتوبہ کر کے الله تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو الله تعالی اس کی مغفرت کردیتا ہے۔امام حمیدیؒ کہتے ہیں: سفیان نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔"اگرتم نے گناہ کا ارادہ کیا تھا ,تو اللہ تعالی ٰسے مغفرت طلب کرو کیونکہ وہ توبہ ندامت کا اظہار اور استغفار کرنا ہوتا ہے" تاہم سفیان اکثر اوقات پہلے والے الفاظ ہی نقل کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 286

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 287

287 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً، فَقُلْتُ: «مَنْ هَذَا؟» فَقَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ «كَذَالِكُمُ الْبِرُّ، كَذَالِكُمُ الْبِرُّ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: هُوَ عَنْ عَمْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ لَا شَكَّ فِيهِ كَذَلِكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس میں قرأت کی آواز سنی میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے، تو فرشتوں نے بتایا: یہ حارثہ بن نعمان ہیں ،تو نیکی اسی طرح ہوتی ہے نیکی اسی طرح ہوتی ہے۔ سفیان سے کہا گیا:یہ روایت عمرہ نامی راوی سے منقول ہے انہوں نے جواب دیا: جی ہاں اس میں کوئی شک نہیں ہے زہری نے اسی طرح بیان کیا تھا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 287

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 288

288 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَدِّي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِالْحِجْرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيُؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ، فَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ فَلَا يُفْلِتُ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ» فَقَالَ رَجُلٌ لِجَدِّي: فَاشْهَدْ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ وَأنَّ حَفْصَةَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عُمَيْرُ بْنُ قَيْسٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أُمَيَّةَ وَكُنْتُ لَا أَجْتَرِئُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهُ، كَانَ يُجَالِسُ خَالِدَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَيْبَةَ وَكَانُوا مِنْ أَكْبَرِ قُرَيْشٍ يَوْمَئِذٍ وَكَانُوا [ص:304] يَجْلِسُونَ فِي سُوقِ اللَّيْلِ وَهُمْ يَوَمَئِذٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، وَاسْتَعَانَنِي أُمَيَّةُ أَنْظُرُ لَهُ خَالِدَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَمَا أَدْرِي وَجَدْتُهُ لَهُ أَمْ لَا، فَلَمَّا اسْتَعَانَنِي اجْتَرَأْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ

سیدہ حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے: "ایک لشکر اس گھر پر حملہ کرنے کے ارادے سے ضرور آئے گا یہاں تک کہ جب وہ کھلے میدان میں پہنچیں گے ،تو ان کے درمیانی حصے کو زمین دھنسا دیا جائے گا ، تو ان کے ابتدائی حصے کے لوگ پیچھے والوں کو بلند آواز میں پکاریں گے پھر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا صرف وہ شخص بچے گا، جو الگ ہو کر چل رہا تھا اور وہی (دوسرے) لوگوں کو ان لوگوں کے بارے میں بتائے گا۔‘‘ راوی کہتے ہیں: ایک صاحب نے میرے دادا کو یہ کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے سیدہ حفصہ ؓ کےحوالے سے یہ بات غلط بیان نہیں کی ہے اور سیدہ حفصہ ؓ نے نبی اکرمﷺکے حوالے سے غلط بات بیان نہیں کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں : عمیر بن قیس نے روایت امیہ کے حوالے سےنقل کی ہے ، لیکن مجھے یہ جرات نہیں ہوئی کہ میں ان سے اس کے حوالے سے دریافت کروں وہ خالد بن محمد اور عبداللہ بن شعبہ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے یہ اس زمانے میں قریش کے اکابرین میں سے تھے اور یہ لوگ رات کے بازار میں بیٹھا کرتے تھے جو ان دنوں مسجد کے دروازے پر منعقد ہوتا تھا، تو امیہ نے مجھ سے مدد طلب کی کہ میں ان کے لیے خالد بن محمد سے گنجائش حاصل کروں مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا مجھے ان کے لیے یہ چیز مل جائے گی کہ نہیں ملے گی لیکن جب انہوں نے مجھ سے مددطلب کی، تو اس حوالے سے جرات ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیا ،تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔

حفصةَ تقولُ: ← جَدِّي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ← أمية بن صفوان بن عبد الله بن صفوان الجمحي، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 288

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 289

289 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنَالُ مِنْ وَجْهِ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ "

سیده حفصہ ؓبیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺروزے کی حالت میں اپنی کسی زوجہ محترمہ کے چہرے کا(بوسہ) لے لیا کرتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَنَالُ مِنْ وَجْهِ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ← حَفْصَةَ، ← شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ← مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 289

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 290

290 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْ لَا أُحْصِي مِنْ أَصْحَابِ نَافِعٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: وَأَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ»

سیدہ حفصہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺصبح صادق ہو جانے کے بعد (فجر کی) دو رکعات سنت ادا کرتے تھے۔

وَأَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَنْ لَا أُحْصِي مِنْ أَصْحَابِ نَافِعٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 290

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 291

291 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتِبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ» قَالَ سُفْيَانُ انْتَهَى حِفْظِي مِنَ الزُّهْرِيِّ إِلَى هَذَا فَأَخْبَرَنِي بَعْدُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِأُمِّ سَلَمَةَ بَغْلَتَهَا، فَقَالَتْ لِي: يَا نَبْهَانُ كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ مُكَاتَبَتِكَ؟ فقُلْتُ: أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ: فَقَالَتْ: أَفَعِنْدَكَ مَا تُؤَدِّي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْفَعْهَا إِلَى ی فُلَانٍ أَخٌ لَهَا أَوِ ابْنُ أَخٍ لَهَا وَأَلْقَتِ الْحِجَابَ وَقَالَتِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبْهَانُ هَذَا آخِرُ مَا تَرَانِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتِبٌ وَعِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ» فَقُلْتُ: مَا عِنْدِي مَا أُؤَدِّي وَلَا أَنَا مَؤَدٍّی

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جب تم میں سے کسی ایک خاتون کا مکا تب غلام ہو اور اس کے پاس وہ رقم موجود ہو ، جسے وہ ادا کر سکتاہو، تو وہ عورت اس غلام سے پردہ کرے۔" سفیان کہتے ہیں: میری یادداشت کے مطابق یہاں تک ہے ،لیکن اس کے بعد معمر نے زہری کے حوالے سے نیہان نامی راوی کے حوالے سے یہ بات بتائی وہ سیدہ ام سلمہ ؓکے خچر کو لے کر چلا کرتا تھا انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے نیہان! تمہاری کتابت کے معاہدے کی کتنی رقم باقی رہ گئی ہے میں نے جواب دیا: ایک ہزار درہم۔ نیہان کہتے ہیں : سیدہ ام سلمہ ؓنے دریافت کیا: کیاتمہارے پاس وہ رقم موجود ہے ،جسے تم ادا کر دو تو میں نے جواب دیا: جی ہاں ،تو سیدہ ام سلمہؓ نے فرمایا: تم اسے فلاں کی طرف بھجوادو۔ سیدہ ام سلمہؓ نے اپنے بھائی یا ا پنے کسی بھتیجے کا نام لیا اور پھر انہوں نے پردہ ڈال دیا پھر انہوں نے فرمایا: تم پر سلام ہواے نیہان!یہ تم نے آخری مرتبہ مجھے دیکھا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے، جب کسی عورت کا کوئی غلام ہو اور اس غلام کے پاس وہ رقم موجود ہو،جسے وہ ادا کرسکتا ہو، تووہ عورت اس غلام سے حجاب کرے۔تو میں نے کہا : نہ تو میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے ،جسے میں ادا کر سکوں اور نہ ہی میں نے ادا کرنی ہے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 291

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 292

292 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ لَمْ نَجِدْهُ عِنْدَ غَيْرِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ [ص:306] عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَقَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ»

سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرے منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں۔"

أُمِّ سَلَمَةَ ← [ص:149] ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ لَمْ نَجِدْهُ عِنْدَ غَيْرِهِ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 292

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 293

293 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: غَرِيبٌ وَبِأَرْضِ غُرْبَةٍ لَأَبْكِيَنَّهُ يُحَدَّثُ عَنْهُ قَالَتْ: فَتَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ، وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّاهَا وَقَالَ: «تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ، أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ» قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَتَرَكْتُ الْبُكَاءَ فَلَمْ أَبْكِ

سیدہ ام سلمہ ؓبیان کرتی ہیں، جب حضرت ابوسلمہ ؓ کا انتقال ہوا میں نے کہا: یہ غریب الوطن تھے اور غریب الوطنی کے عالم میں انتقال کر گئے ہیں میں ان پرایساروں گی کہ انہیں ،یاد رکھاجائے گا۔ سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے رونے کا پختہ ارادہ کرلیا تو کھلے میدان کی طرف سے ایک عورت میرے پاس آئی وہ بھی رونے میں میرا ساتھ دینا چاہتی تھی جب نبی اکرم ﷺنے اسے ملاحظ فرمایاتو آپ ﷺاس سے ملےآپ ﷺنے فرمایا:کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تم شیطان کو اس گھر میں داخل کر دوجس میں سے اللہ تعالیٰ نے اسے باہر نکال دیا ہے۔ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تم شیطان کو اس گھر میں داخل کر دو جس سے الله تعالی ٰنے اسے باہر نکال دیا ہے۔ سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، تو میں نے رونا ترک کر دیا پھر میں نہیں روئی۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 293

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 294

294 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَحَدَّثَنَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أًمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ لَيْلَةٍ «سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا وَقَعَ مِنَ الْفِتَنِ؟ وَمَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ، فَأَيِقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحِجْرِ فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

سیده ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں، ایک رات نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "سبحان اللہ! کیسے فتنے نازل ہوئے ہیں اور کتنے خزانے کھول دیئے گئے ہیں ،تو حجروں میں رہنے والی خواتین کو بیدار کرو کیونکہ دنیا میں پردے والی بعض عورتیں آخرت میں برہنہ ہوں گی۔“

أُمِّ سَلَمَةَ ← هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ ← الزُّهْرِيِّ، ← أُمِّ سَلَمَةَ وَحَدَّثَنَاهُ مَعْمَرٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 294

chevron_left Previous
1…414243…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter