Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 259

259 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوُ الْبَارِدُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺکے نزدیک سب سے پسندیدہ مشروب وہ تھا، جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔

کَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَی رَسُولِ اللهِ الْحُلْوُ الْبَارِدُ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 259

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 260

260 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْتَصِرًا مِنْ مَظْلِمَةٍ ظُلِمَهَا قَطُّ مَا لَمْ تُنْتَهَكْ مَحَارِمُ اللَّهِ فَإِذَا انْتُهِكَ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ شَيْءٌ كَانَ أَشَدَّهُمْ فِي ذَلِكَ غَضَبًا، وَمَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ مَأْثَمًا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے کبھی نبی اکرمﷺکونہیں دیکھا کہ آپ ﷺنے اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی کے خلاف مدد طلب کی ہو، تا وقتیکہ کہ الله تعالیٰ کی حرمت کو پامال نہ کیا گیا ہو اور جب الله تعالیٰ کی حرمت میں سے کسی چز کو پامال کیا جائے ،تو آپ ﷺاس بارے میں انتہائی شدید غضبناک ہوا کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺکو جب بھی دو معاملوں میں اختیار دیا گیا تو آپ ﷺنے ان میں سے زیادہ آسان کو اختیار کیا، بشرطیکہ وہ کوئی گناہ کا کام نہ ہو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 260

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 261

261 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا كَذَا وَكَذَا يُخَيَّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي أَهْلَهُ وَلَا يَأْتِيهِمْ قَالَتْ: فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: " يَا عَائِشَةُ أَعَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلِي، وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلِي لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا بَالُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ قَالَ: وَفِيمَ؟ قَالَ: فِي جَفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ [ص:288] فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ قَالَتْ: فَجَاءَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ «هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ» قَالَتْ: فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي تَنَشَّرْتَ فَقَالَ «أَمَا وَاللَّهِ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَمَّا أَنَا فَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا» قَالَتْ وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ [ص:289] قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ نَلْقَى هِشَامًا فَقَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ عُرْوَةَ فَلَمَّا قَدِمَ هِشَامٌ حَدَّثَنَاهُ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، کچھ دن تک نبی اکرمﷺکی یہ کیفیت رہی کہ آپ ﷺکو یہ محسوسں ہوتا تھا کہ آپ ﷺنے شاید اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کی ہے، حالانکہ آپ ﷺنے ایسا نہیں کیا ہوتا تھا۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں ،ایک دن نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اے عائشہ!کیا تمہیں پتہ ہے، میں نے الله تعالیٰ سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا:اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بارے میں جواب دے دیا ہے میرے پاس دوآ دمی آئے ان میں سے ایک میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے سرہانے بیٹھ گیا توجوشخص میرے پاؤں کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے میرے سرہانے موجودشخص سے دریافت کیا: ان صاحب کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا: ان پر جادو کیا گیا ہے پہلے نے دریافت کیا ان پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا :لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے دریافت کیا:کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: نرکھجور کے شگوفے میں ایک کنگھی میں اورکنگھی کے دوران نکلنے والے بالوں میں جوذ روان کے کنویں کے کنارے پڑے ہوئے پتھر کے نیچے رکھے ہوئے ہیں۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ وہاں تشریف لے گئے آپ ﷺنے ارشادفرمایا : یہی وہ کنواں ہے ،جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا، تو وہاں کھجور کے درخت کے سریوں تھے جیسے شیاطین کے سر ہوتے ہیں اور اس کا پانی یوں تھاجیسےاس میں مہندی گھول دی گئی ہو۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺکے حکم کے تحت انہیں وہاں سے نکالا گیا۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ)! آپ ﷺنے ایسا کیوں نہیں کیا سفیان نامی راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے، آپ ﷺ نے اس با ت کو پھیلایا کیوں نہیں (ابن حجر نے یہ بات بیان کی ہے اس سے مراد یہ ہے ،آپ ﷺ نے وہ علاج کیوں نہیں کروایا جو جادو کے بعد کروایا جاتا ہے) تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:جہاں تک اس بات کا تعلق ہے، تو الله تعالیٰ نے مجھے شفا عطا کردی ہے اور میں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ میں اس حوالے سے لوگوں پر شر پھیلاوں۔سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں لبید بن اعصم ،بنوزریق سےتعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو یہودیوں کا حلیف تھا۔ سفیان کہتے ہیں :عبدالملک بن جریج نے پہلے یہ روایت سنائی تھی یہ بات ہماری ہشام سے ملاقات سے پہلے کی ہے انہوں نے یہ کہا تھا کہ آل عروہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے مجھے یہ روایت سنائی ہے، لیکن جب ہشام تشریف لے آئے، توانہوں نے ہمیں یہ روایت سنائی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 261

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 262

262 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ الْعَبُ بِهَذِهِ الْبَنَاتِ، وَكُنَّ جَوَارِيَ يَأْتِيَنِّي يَلْعَبْنَ مَعِي بِهَا، فَلَمَّا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَمَّعْنَ «فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلِيَّ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں ان گڑیاؤں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی میری سہیلیاں میرے پاس آیا کرتی تھیں اور وہ بھی میرے ساتھ ان کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں جب وہ نبی اکرم ﷺکو دیکھتی تھیں تو جا کر چھپ جاتی تھیں، تو نبی اکرم ﷺانہیں میری طرف بھجوا دیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 262

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 263

263 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا حَمَلْتُ مِنَ اللَّحْمِ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ هَذِهِ بِتِلْكَ»

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، ایک مرتبہ میں نے نبی اکرمﷺکے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا، تو میں آگے نکل گئی پھرجب میرا وزن زیادہ ہو گیا تو نبی اکرم ﷺنے میرے ساتھ مقابلہ کیا، تو آپ ﷺمجھ سے آگے نکل گئے آپﷺنے فرمایا: اے عائشہ ! یہ اس کا بدلہ ہے۔

«يَا عَائِشَةُ هَذِهِ بِتِلْكَ» ← سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا حَمَلْتُ مِنَ اللَّحْمِ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 263

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 264

264 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي خَبِيثُ النَّفْسِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ إِنِّي لَقِسُ النَّفْسِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓکرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:کوئی بھی شخص یہ نہ کہے ، میرا نفس خبیث ہو گیا ہے بلکہ وہ یہ کہے میں تھکاوٹ کا شکار ہو گیا ہوں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 264

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 265

265 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ: «يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كَانَ أَبَوَاكَ لَمِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أصَابَهُمُ الْقَرْحُ. . . . . أَبُو بَكْرٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ»

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے فرمایا: تمہارے دو باپ (یعنی تمہارے دادا اور تمہارے نانا)ان لوگوں میں شامل ہیں ، جن کا ذکر اس آیت میں ہے ۔"یہ وہ لوگ ہیں ، جہنوں نے مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پکار پر لبیک کہا۔" (تمہارے وہ دونوں اجداد) حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت زبیر بن عوام ؓہیں۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 265

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 266

266 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ امْرَأَةٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الْأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ الْأَرْضِ بَأْسَهُ» [ص:291] قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَنَهْلِكُ وَفِينَا أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ قَالَ: «نَعَمْ ثُمَّ تَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب برائی پھیل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پرسختی نازل کرتا ہے۔سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی:کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ،جبکہ ہمارے درمیان الله تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والے لوگ بھی موجود ہوں گے، نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: جی ہاں! پھرتم لوگ اللہ تعالی ٰکی رحمت کی طرف چلے جاؤ گے۔

عَائِشَةَ ← امْرَأَةٌ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 266

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 267

267 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ [ص:292]، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنْ صِبْيَانِ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّي عَلَيْهِ فَقُلْتُ: طُوبَى لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا قَطُّ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ ذَنْبٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک انصاری بچے کو لایا گیا، تا کہ آپﷺاس کی نماز جناز ہ اداکریں، تو میں نے کہا : یہ کتنا خوش نصیب ہےیہ جنت کی چڑ یاہے ،جس نے کبھی کوئی برا عمل نہیں کیا اور اسے گناہ پہنچا ہی نہیں ، تو نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمایا : عائشہ ؓ اس سے مختلف بھی تو ہو سکتا ہے ، بے شک اللہ تعالٰی جنت کو پیدا کیا ہے اور اس کے اہل پیدا کیے ہیں اس نے ان اہل کو اس وقت پیدا کیا جب وہ اپنے آباؤ اجدادکی پشتوں میں تھے اور اس نے جہنم کو پیدا کیا ہے اور اس کے اہل پیدا کیے ہیں اس نے ان کو اس وقت پیدا کیا ہے، جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔

خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ← عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 267

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 268

268 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى عَائِشَةَ أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ مَنْ يَعْمَلْ بِغَيْرِ طَاعَةِ اللَّهِ يَعُودُ حَامِدُهُ مِنَ النَّاسِ ذَامًّا»

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ ؓ نے سیدہ عائشہؓ کو خط لکھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز جوابی خط میں لکھیں جو آپ نے نبی اکرمﷺکی زبانی سنی ہو، تو سیدہ عائشہ ؓنے انہیں جوابی خط میں تحریر کیا میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جو شخص اللہ تعالی ٰ کی نافرمانی کرتا ہے تو لوگوں میں سے جو لو گ اس کی تعریف کرتے ہو ں وہ اس کی مذمت کرنے والے بن جاتے ہیں۔"

مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى عَائِشَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 268

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 269

269 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَطُّ فِيهِمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ»

سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں ،نبی اکرمﷺنے جب بھی کوئی مہم روانہ کی جس کے افراد میں زید بن حارثہ بھی ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ان لوگوں کا امیر مقرر کیا۔

عَائِشَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 269

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 270

270 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي» فَقُلْتُ: أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ «لَا» ثُمَّ قَالَ «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي» فَقُلْتُ أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ قَالَ «لَا» ثُمَّ قَالَ «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي» فَقُلْتُ: أَلَا نَدْعُو لَكَ ابْنَ عَمِّكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: «لَا» ثُمَّ قَالَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي» فَقُلْتُ: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ فَسَكَتَ، قَالَتْ: فَأَمَرْتُ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَهُ خَلَا بِهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَلَوَّنُ [ص:295] قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثُونِي، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَهْلَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: فَلَمْ أَحْفَظْ مِنْ قَوْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ «وَإِنْ سَأَلُوكَ أَنْ تَنْخَلِعَ مِنْ قَمِيصٍ قَمَّصَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَفْعَلْ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری خواہش ہے، میرے پاس میرے ساتھیوں میں سے کوئی فرد ہو، تو میں نے عرض کی: کیا ہم حضرت ابوبکرؓکو آپ ﷺکے پاس بلوالیں؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر آپ ﷺنے فرمایا: میری خواہش ہے ،میرے اصحاب میں سے کوئی فرد میرے پاس موجود ہو، تو میں نے عرض کی: کیا ہم حضرت عمر ؓ کو بلوالیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر آپ ﷺنے فرمایا: میری یہ خواہش ہے، میرےاصحاب سے تعلق رکھنے والا فرد میرے پاس ہو ؟ تو میں نے عرض کی : کیا ہم آپ ﷺکے چچا زاد حضرت علی ابو طالب ؓ کو بلوا لیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں! پھر آپ ﷺنے فرمایا: میری خواہش ہے ،میرے اصحاب سے تعلق رکھنے والاکو ئی فرد میرے پاس ہو،تومیں نے عرض کی: کیا ہم حضرت عثمان ؓکو بلوالیں، تو نبی اکرم ﷺخاموش رہے۔سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: میں نے انہیں بلوانے کی ہدایت کی جب وہ تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺان کے ساتھ خلوت میں بیٹھ گئے۔ نبی اکرم ﷺنے انہیں کچھ کہنا شروع کیا، تو حضرت عثمانؓ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہونے لگا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: ایک اور سند کےساتھ یہ بات منقول ہے، سیدہ عائشہ ؓ نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ان سے یہ فرمایاتھا۔ "اگر وہ لوگ تم سے یہ مطالبہ کریں کہ تم اس قمیص کواتار دو جو الله تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے تو تم ایسانہ کرنا۔“

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أبي سهلة ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 270

chevron_left Previous
1…394041…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter