Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 247

247 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نے یہ روایت زہری سے نہیں سنی ہے۔

أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ← النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 247

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 248

248 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِكُمْ»

سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:تمہاری اولا تمہاری سب سے عمدہ کمائی ہے ،تو تم اپنی کمائی میں سے کھالو۔

عَائِشَةَ ← عَمَّةٍ لَهُ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 248

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 249

249 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَجَعَلَ يُحَدِّثُ وَيَقُولُ: اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ [ص:282]، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا، قَالَتْ لِي: يَا ابْنَ أُخْتِي أَلَا تَعْجَبُ إِلَى هَذَا وَإِلَى حَدِيثِهِ «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ أَحْصَاهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّ

عروہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ ؓسیدہ عائشہؓ کے حجرے کے پاس آ کر بیٹھے وہ اس وقت نماز ادا کررہی تھیں حضرت ابو ہریرہؓ نے حدیث بیان کرنی شروع کی اور یہ کہنے لگے: اے اس حجرے کی مالک خاتون! آپ سنیے جب سیدہ عائشہ ؓنے نماز مکمل کی، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے میرے بھانجے ! کیا تمہیں اس شخص پر اور اس کے طرز بیان پر حیرت نہیں ہورہی؟ نبی اکرم ﷺجب کوئی بات کرتے تھے ،تو اگر کوئی گننے والا ( آپ ﷺکے الفاظ کو) گنناچاہتاتو وہ گن سکتا تھا (یعنی نبی اکرم ﷺٹھہر، ٹھہر کر بیان کرتے تھے) امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نے یہ روایت بھی زہری سے نہیں سنی ہے۔

لي: يا ابن أختي! ألا تعجب إلى هذا وإلى حديثه؟ ← وَيَقُولُ: اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ [ص:282]، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا، ← جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَجَعَلَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 249

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 250

250 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ» قَالَتْ: قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قَالُوا؟ قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ: «قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ «وَعَلَيْكُمْ» فَإِذَا وَقَفَ عَلَيْهِ تَرَكَ الْوَاوَ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، کچھ یہودی نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا : اےابوالقاسم سام علیک تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا علیکم (تمہیں بھی آئے) سیدہ عائشہؓ نے انہیں کہا: بلکہ تم کو موت بھی آئے اورتم پرلعنت بھی ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ!الله تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: میں نے عرض کی یارسول اللہ(ﷺ)! کیا آپ ﷺنے سنا نہیں؟انہوں کیا کہا ہے ؟انہوں نے کہا ہے :آپ ﷺکو موت آئے ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تو میں نے یہ کہہ دیا ہے "تمہیں بھی آئے "۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: سفيان بعض اوقات اس روایت میں یہ الفاظ کہتے تھے "اور تمہیں بھی آئے "تو جب انہیں اس پرتنبیہ کی گئی تو انہوں نے حرف "و"کو ترک کر دیا ۔

قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ ← النَّبِيُّ «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ» ← عَائِشَةُ فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، ← النَّبِيُّ «عَلَيْكُمْ»، ← السَّامُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ ← عَائِشَةَ أَنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 250

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 251

251 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ايذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ» أَوْ قَالَ: «أَخُو الْعَشِيرَةِ» فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتُ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ» أَوْ قَالَ «وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ» قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: رَأَيْتُكَ أَنْتَ أَبَدًا تَشُكُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ

سیده عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺکے ہاں ایک صاحب نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا :اسے اندر آنے کی اجازت دے دو! یہ اپنے خاندان کا انتہائی برا شخص ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) جب وہ شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرمﷺنے اس کے ساتھ نرمی سے بات کی جب وہ شخص چلا گیاتو میں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ)! آپﷺنے اس کے بارے میں پہلے ایک بات کہی تھی پھر آپﷺنے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ!قیامت کے دن مرتبے اور مقام کے اعتبارسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ برا وہ شخص ہوگا ،جس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے لوگ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔سفیان کہتے ہیں: میں نے محمد بن منتظر سے کہا:میں نے آپ کا جائزہ لیا ہے ،آپ ہمیشہ اس روایت میں شک کا اظہار کرتے ہیں (یعنی آپ کو اس کے الفاظ میں شک محسوس ہوتا ہے)

رَسُولُ اللَّهِ «ايذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ» أَوْ ← عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ رَجُلٌ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← محمد بن المنكدر أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 251

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 252

252 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا نَفَعَنَا مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِي بَكْرٍ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يَقُولُهُ عَنْ سَعِيدٍ فَقَالَ: مَا سَمِعْنَا مِنَ الزُّهْرِيِّ إِلَّا عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:کسی بھی مال نے ہمیں اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابوبکر کے مال نے ہمیں نفع دیا ہے۔امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان سے کہا گیا: معمر نے یہ روایت سعید کے حوالے سے نقل کی ہے ،تو انہوں نے فرمایا:ہم نے تو یہ روایت زہری سے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہؓ سے منقول روایت کے طور پر ہی سنی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 252

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 253

253 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَتَرْتُ بِقِرَامٍ [ص:284] فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ هَتَكَهُ، وَقَالَ «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» قَالَ سُفْيَانُ فَلَمَّا جَاءَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا بِأَحْسَنَ مِنْهُ وَأَرْخَصَ، وَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُتِرْتُ عَلَى سَهْوَةِ لِي بِقِرَامٍ لِي فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَعَهُ، وَقَالَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ ییان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺمیرے ہاں تشریف لائے میں نے ایک باریک کپڑے کا پردہ بنایا تھا جس میں تصویریں میں بنی ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺنے اسے ملاحظ فرمایا تو آپ ﷺکے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہوگیا پھر آپ ﷺنے اسے سختی سے کھینچا ارشادفرمایا: قیامت کے دن الله تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے شدید عذاب ان لوگوں کو ہوگا، جو الله تعالیٰ کی تخلیق کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہیں۔سفیان کہتے ہیں: جب عبدالرحمان بن قاسم ہمارے پاس آئے، تو انہوں نے یہ روایت اس سے زیادہ بہتر طور پر ہمیں سنائی جس میں زیادہ رخصت پائی جاتی ہے انہوں نے بتایا:میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے ،انہوں نے سیدہ عائشہؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی اکرمﷺتشریف لائے میں نے اپنے اطاق میں پردہ لٹکایا تھا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺنے اسے ملاحظہ فرمایا تو آپﷺنے اسے اتار دیا آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے شدید عذاب ان لوگوں کو ہو گا، جو اس کی مخلوق کے حوالے سے مقابلہ کرتے ہیں سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے اسے کاٹ کے ایک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دو تکیے بنا لیے۔

الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 253

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 254

254 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى الْإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ، أَوْ كَانَتْ بِهِ قُرْحَةٌ أَوْ جُرْحٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا» وَوَضَعَ أَبُو بَكْرٍ سَبَّابَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَهَا «بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺکا یہ معمول تھا کہ جب کسی شخص کو کوئی بیماری لاحق ہوتی یا اسےکوئی پھوڑ انکل آتا یا کوئی زخم لگ جاتاتو نبی اکرم ﷺاپنی انگلی اس طرح رکھتے تھے یہاں پر امام حمیدی ؒ نے اپنی انگلی زمین پر رکھ کر یہ روایت بیان کی، پھر آپ ﷺاسے اٹھاتے تھے اور یہ فرماتے تھے۔"اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے ایک شخص کے لعاب کے ہمراہ ہے،جس کے نتیجے میں ہمارے پروردگار کے اذن کے تحت بیمارکو شفامل جائے گی ۔"

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 254

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 255

255 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ كَانَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُنْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ»

سیدعائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:تم سےپہلے کی امتوں میں "محدث "ہوا کرتے تھے اگر اس امت میں بھی ایسا شخص ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوگا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 255

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 256

256 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ التَّيْمِيُّ [ص:286]، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ حَبَشٌ يَلْعَبُونَ بِحِرَابٍ لَهُمْ فَكُنْتُ أَنْظُرُ مِنْ بَيْنَ أُذُنَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَاتِقِهِ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي صَدَدْتُ، زَادَ يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الشَّيْطَانُ آخِذٌ بِثَوْبِهِ، يَقُولُ: انْظُرْ " فَلَمَّا جَاءَ عُمَرُ تَفَرَّقَتِ الشَّيَاطِينُ قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْعَبُوا يَا بَنِي أَرْفَدَةَ تَعْلَمَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمْ أَحْفَظْ مِنْ قَوْلِهِمْ غَيْرَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ أَبُو الْقَاسِمِ طَيِّبٌ أَبُو الْقَاسِمِ طَيِّبٌ

سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں حبشی لوگ اپنے چھوٹے نیزوں کے ذریعے جنگی کرتب دکھا رہے تھے، تو میں نبی اکرم ﷺکے کانوں اور کندھوں کے درمیان میں سے انہیں دیکھ رہی تھی یہاں تک کہ میں ہی پیچھے ہٹ گئی۔ یعقوب بن زید نے اپنی روایت میں یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے مزید ارشادفرمایا:"ان میں سے ہر ایک کے کپڑے کو شیطان پکڑتا ہے اور کہتا ہے تم دیکھولیکن جب عمر آیا، تو شیاطین ادھرادھر بکھر گئے۔" سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اے بنوارفدہ! تم اپنے کرتب جاری رکھوتا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں گنجائش ہے۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں وہ لوگ جو الفاظ نکال رہے تھے اس میں مجھے صرف یہی بات یاد رہ گئی وہ یہ کہہ رہے تھے"حضرت ابوالقاسم پاکیزہ ہیں، حضرت ابوالقاسم پا کیزہ ہیں“۔

عَائِشَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ التَّيْمِيُّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 256

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 257

257 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْبِطِّيخِ وَالرُّطَبِ فَيَأْكُلُهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺککڑی اورکھجور کو ملا کر کھا لیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 257

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 258

258 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: «يَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ، وَهُوَ أَشَدُّ مَا يَأْتِينِي، وَيَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى فَيَنْبِذُهُ إِلِيَّ فَأَعِيهِ، وَهُوَ أَهْوَنُهُ عَلَيَّ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، حارث بن ہشام نے نبی اکرم ﷺسے دریافت کیا: آپ ﷺپروحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:بعض اوقات وہ مجھ پر گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے ،جب یہ کیفیت ختم ہوجاتی ہے، تو میں اس وحی کو یادکرلیتا ہوں اور یہ مجھ پر آنے والی سب سے سخت ترین کیفیت ہوتی ہے، بعض اوقات فرشتہ میرے سامنے ایک نوجوان کی شکل میں آتا ہے اور وہ کلمات مجھے بتادیتا ہے ،تو میں انہیں محفوظ کر لیتا ہوں اور یہ میرے لیے سب سے آسان صورت ہوتی ہے۔

سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 258

chevron_left Previous
1…383940…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter