Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 235

235 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ وَكَانَ طَوِيلًا فَحَفِظْتُ مِنْهُ هَذَا قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَتْ: «عَلِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ يَنْفُثُ كَمَا يَنْفُثُ آكِلُ الزَّبِيبِ، وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَهُنَّ فِي أَنْ يَكُونَ عِنْدِي فَأَذِنَّ لَهُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ الْعَبَّاسِ فَقَالَ لَمْ تُخْبِرْكَ بِالْآخَرِ؟ فَقُلْتُ: لَا قَالَ الْآخَرُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ

عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ؓسے دریافت کیا: میں نے عرض کیا: اے امی جان!آپ مجھے نبی اکرمﷺکی بیماری کے بارے میں بتایئے جس کے دوران آپ کا وصال ہوا تھا، تو سیدہ عائشہ ؓ نے بتایا:جس بیماری کے دوران نبی اکرم ﷺکا وصال ہوا اس دوران آپﷺیوں سانس لیا کرتے تھے جس طرح کشمش کھانے والا سانس لیتا ہے۔ آپ ﷺاپنی تمام ازواج کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے آپﷺکی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اور تکلیف بڑھ گئی تو آپ ﷺنے ان خواتین سے یہ اجازت لی کہ آپ میرے ہاں رہیں، تو ان خواتین نے آپﷺکو اجازت دی۔ نبی اکرم ﷺمیرے ہاں تشریف لائے تو آپ ﷺنے دو آدمیوں کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ان میں سے ایک حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ تھے۔عبید اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ روایت حضرت عبد الله بن عباس ؓکو سنائی تو انہوں نے دریافت کیا: سیدہ عائشہ ؓنے تمہیں دوسرے صاحب کے بارے میں نہیں بتایا؟ میں نے یہ جواب دیا: جی نہیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ حضرت علی بن ابوطالبؓ تھے۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزهري وحفظته منه وكان طويلا فحفظت منه هذا ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 235

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 236

236 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولَ «قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَاخْتَرْنَهُ، أَوْ كَانَ ذَلِكَ طَلَاقًا»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے اپنی ازواج کو اختیار دیا تھا، تو ان ازواج نے آپ ﷺکواختیار کر لیا تھا، تو کیا یہ چیز طلاق ہوئی تھی؟

عَائِشَةَ تَقُولَ «قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ نِسَاءَهُ فَاخْتَرْنَهُ، أَوْ كَانَ ذَلِكَ طَلَاقًا» ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 236

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 237

237 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ [ص:275]، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ لَهُ النِّسَاءَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک آپ ﷺکے لیےخواتین کو حلال قرارنہیں دیا گیا (یعنی آپ ﷺجتنی چاہیں شادیاں کر سکتے تھے)

مَا مَاتَ رَسُولُ اللهِ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءَ. ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَطَاءٍ، [ص:16] ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 237

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 238

238 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثُونَا عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِشَعِيرٍ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ فَوَقَفَنَا سُفْيَانُ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے اپنی ایک زوجہ محترمہ (کے ساتھ شادی کے بعد) ولیمے میں جو کھلائے تھے۔حمیدی ؒ کہتے ہیں: ہم نے اس پر سفیان کوٹو کا توانہوں نے کہا:میں نے نہیں سنی ہے۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حدثونا ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 238

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 239

239 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا خَالَطَتِ الصَّدَقَةُ مَالًا قَطُّ إِلَّا أَهْلَكَتْهُ» قَالَ: قَدْ يَكُونُ قَدْ وَجَبَ عَلَيْكَ فِي مَالِكَ صَدَقَةٌ فَلَا تُخْرِجُهَا فَيُهْلِكَ الْحَرَامُ الْحَلَالَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالْحَالِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: صدقہ (یعنی زکوٰۃ کامال)جس بھی مال کے ساتھ مل جاتا ہے وہ اسے ہلاکت کا شکار کر دیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا بعض اوقات تمہارے مال میں تم پر زکوٰۃ د ینالازم ہوتا ہے اور اگر تم اسے نہیں نکالتے ہو، تو حرام حلال کو ضائع کردیتا ہے۔

ما خالطت الصدقة مالا قط إلا أهلكته ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 239

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 240

240 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: اخْتَصَمَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي عُتْبَةَ أَوْصَانِي فَقَالَ: إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي، وَوُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ وَقَالَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ» [ص:278] فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَالِكًا يَقُولُ: وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، فَقَالَ سُفْيَانُ لَكِنَّا لَمْ نَحْفَظْ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺکے سامنے سعد بن ابی وقاص ؓاورعبد بن زمعہ نے مقدمہ پیش کیا جوز معد کی کنیز کے بیٹے کے بارے میں تھا۔ حضرت سعدؓ نے عرض کی : یا رسول الله(ﷺ)! میرے بھائی عتبہ نے مجھےو صیت کی تھی اس نے یہ کہا تھا کہ جب تم مکہ جاوتو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کا جائزہ لینا اور اسے اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے تو عبد بن زمعہ نے عرض کی :یارسول الله (ﷺ)!وہ میرا بھائی ہے میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم ﷺنے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت ملاحظ فرمالی لیکن آپ ﷺنے ارشادفرمایا: اے عبدبن زمعہ !یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ فراش والے کوملتا ہے۔اے سودہ! تم اس سے پردہ کرو۔ سفیان سے کہا گیا :امام مالک تو اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کرتے ہیں۔"زنا کرنے والے کومحرومی ملتی ہے۔“تو سفیان نے کہا: ہم نے زہری سے یہ الفاظ یاد نہیں رکھے ہیں کہ انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی بیان کیے ہیں۔

سَعْدٍ، ← قَّاصٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ ← عَائِشَةَ تَقُولُ: اخْتَصَمَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ سَعْدُ بْنُ أَبِي ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 240

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 241

241 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تُرِي أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى زَيْدًا وَأُسَامَةَ وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ "

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،ایک دن نبی اکرم ﷺبہت خوش میرے ہاں تشریف لائے آپ ﷺنے فرمایا : اے عائشہؓ! کیا تمہیں پتہ ہے محزز مدلجی میرے پاس آیا اس نے زید اور اسامہ کودیکھا ان پر چادر پڑی ہوئی تھی جس نے ان کے سروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور ان دونوں کے پاؤں ظاہر تھے؟ تو وہ بولا یہ باپ بیٹے کے پاؤں ہیں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 241

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 242

242 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا وَقَالَ سُفْيَانُ: وَسَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ فِيهِ: «أَلَمْ تَرَى أَنَّ مُحَرِّزًا الْمُدْلِجِيَّ» فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنَّمَا هُوَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ فَانْكَسَرَ وَرَجَعَ

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کیا تم نے محززمد لجی کو دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے کہا: اے ابوالولید اس کا نام محززمد لجی ہے ،تو انہوں نے انکساری کا مظاہرہ کرتےہوئے(اپنی غلطی سے) رجوع کرلیا۔

الزُّهْرِيِّ، ← بِهِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 242

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 243

243 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأُعْتِقَهَا فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ مَوَالِيهَا أَنْ أَعْتِقَهَا وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ فَمَنْ شَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے بریرہ کوخریدنے کا ارادہ کیا تاکہ اسے آزاد کر دوں تو اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ میں اسے آزاد کر دوں گی لیکن ولاءان کے لیے رہے گی میں نے اس کی بارے میں نبی اکرم ﷺسے دریافت کیا، تو آپ ﷺنے فرمایا:تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو ،کیونکہ ولا ءکا حق آزاد کرنے والے کوملتا ہے، پھر نبی اکرم ﷺنے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا:"لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے ،تو جوشخص کوئی ایسی شرط عائد کرے جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو اسےحق نہیں ہوگا اگر چہ اس نے سومرتبہ یہ شرط عائد کی ہو،ولاء کاحق آزاد کرنے والے کوملتا ہے۔“

أَرَدْتُ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 243

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 244

244 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ لِي مِنْهُ إِلَّا مَا أُدْخِلَ بَيْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، ہند بنت عتبہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی: یا رسول الله (ﷺ)!ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے مجھے ان کی طرف سے وہی کچھ ملتا ہے، جو وہ گھر میں لا کر دے دیتے ہیں لیکن مجھے مزید خرچ کی ضرورت ہوتی ہے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:تم اتنا حاصل کر لیا کرو جو تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیےمناسب طور پر کافی ہو۔

عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ: ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 244

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 245

245 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ لَتَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا مِنْ أَجْرٍ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ «نَعَمْ» قَالَ سُفْيَانُ: وَحَفِظَهُ النَّاسُ عَنْ هِشَامٍ كَلِمَةً لَمْ أَحْفَظْهَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمِّي افْتَلَتَتْ نَفْسُهَا فَمَاتَتْ وَلَمْ أَحْفَظْ مِنْ هِشَامٍ إِنَّمَا هَذِهِ الْكَلِمَةُ أَخْبَرَنِيهَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ عَنْ هِشَامٍ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، ایک صاحب نے نبی اکرمﷺکی خدمت میں عرض کی: میری والدہ کاانتقال ہوگیا ہے ان کے بارے میں میرایہ گمان ہے ،اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرنے کے لیے کہتیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کردوں ،تو کیا انہیں اجر ملے گا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔ یہاں سفیان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے لوگوں نے ہشام کے حوالے سے ایک کلمہ یاد رکھا ہے ،جسے میں، یاد نہیں رکھ سکا ان صاحب نے یہ عرض کی تھی میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا لیکن ہشام کے حوالے سے مجھے یہ لفظ یاد نہیں ہیں۔ ایوب سختیانی نے ہشام کے حوالے سے اس لفظ کے بارے میں مجھے بتایا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 245

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 246

246 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ»

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺقرض کے غلبے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 246

chevron_left Previous
1…373839…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter