Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 223

223 - ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ [ص:268] أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهَا «إِنَّ أَهْلَهَا الْآنَ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے ایک یہودی عورت کے بارے میں فرمایا تھا حالانکہ اس کے گھر والے اس پر رورہے تھے (آپ ﷺنے فرمایا تھا:) "اس وقت اس کے گھر والے اس پررور ہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔"

عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّمَا ← عَمْرَةَ [ص:268] أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 223

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 224

224 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ - رَضِيعٌ لِعَائِشَةَ - عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَبْلُغُوا أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُوا لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"جس بھی شخص کا انتقال ہوجائے اور اس پرلوگوں کا اتنا گروہ نماز جنازہ ادا کر لے جو ایک سو تک پہنچتے ہو'تو وہ اگراس میت کے لئے سفارش کری'تو ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔"

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٌ لِعَائِشَةَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 224

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 225

225 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ حُمَّ أَصْحَابُهُ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ يَعُودُهُ فَقَالَ: «كَيْفَ تَجِدُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: [البحر الرجز] كُلُّ امْرِئٍ مُصَبِّحٌ فِي أَهْلِهِ ... وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَدَخَلَ عَلَى عَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ فَقَالَ «كَيْفَ تَجِدُكَ» فَقَالَ: [البحر الرجز] وَجَدْتُ طَعْمَ الْمَوْتِ قَبْلَ ذَوْقِهِ ... إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ [ص:269] كَالثَّوْرِ يَحْمِي جِلْدَهُ بِرَوْقِهِ قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَى بِلَالٍ فَقَالَ «كَيْفَ تَجِدُكَ؟» فَقَالَ: [البحر الطويل] أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَخٍّ - وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ - بِوَادِي ... وَحَوْلِي إِذْخَرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ ... وَهَلْ يَبْدُوَنَّ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةَ مِثْلَ مَا دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا» قَالَ سُفْيَانُ وَأَرَى فِيهِ «وَفِي فَرَقِنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْهَا إِلَيْنَا مِثْلَ مَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَانْقُلْ وَبَاءَهَا وَحُمَّاهَا إِلَى خُمٍّ أَوْ إِلَى الْجُحْفَةِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، جب نبی اکرم ﷺمدینہ منورہ(ہجرت کر کے) تشریف لائے، تو آپﷺکے ساتھیوں کو بخارر ہنے لگا تو نبی اکرمﷺحضرت ابو بکؓر کی عیادت کرنے کے لیے ان کے باس تشریف لائے آپ ﷺ نے فرمایا :ابو بکر تمہارا کیا حال ہے؟تو حضرت ابوبکرؓنے عرض کی ۔"ہر شخص اپنے گھر میں صبح کرتا ہے ، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔"پھر نبی اکرم ﷺحضرت عامر بن فہیرہ ؓ (کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس )تشریف لے گئے آپﷺنےدریافت کیا:تمہارکیا حال ہے؟ تو انہوں نے عرض کی ۔"میں نے موت کو چکھنے سے پہلے ہی اس کا ذائقہ چکھ لیا ہے بے شک بزدل کی موت اس پر سے ایسے نکلتی ہے جیسے بیل اپنی کھال کو اپنے گوبر سے بچاتا ہے۔"سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺحضرت بلالؓ کے پاس تشریف لے گئے آپﷺنے فرمایا: تمہارا کیاحال ہے؟ تو انہوں نے عرض کی۔"کیا بھی ایسا وقت بھی آئے گا، جب میں فح ( مکہ مکرمہ کی ایک وادی)میں رات بسر کروں گا۔ (یہاں سفیان نامی راوی نے بعض اوقات لفظ وادی نقل کیا ہے)اور میرے اردگرد" اذخر"اور "جلیل"( مکہ کرمہ کی گھاس کے مخصوص نام ) ہوں گی اور کیا کسی دن مجنہ کاپانی نظر آئے گا اور کیا کسی دن میرے سامنے شامہ اوطفیل (نامی پہاڑ ) ظاہر ہوں گے۔"راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرمﷺنے دعا کی۔"اے اللہ! بے شک حضرت ابراہیم ؑ تیرے بندے اورخلیل تھے۔ انہوں نے اہل مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی میں تیر ا بندہ اور تیرا رسول ﷺ ہوں میں اہل مدینہ کے لیے تجھ سے دعا کرتا ہوں ، اسی کی مانند جو انہوں نے اہل مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی ۔ اے اللہ ہمارے "صاع "میں برکت دے ہمارے "مد"میں برکت دیدے ہمارے مدینے میں برکت دیدے ۔"سفیان نامی راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ۔ "ہمارےبرتنوں میں برکت دیدے اے اللہ!اس ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کرد ے جس طرح تو نے مکہ کوہمارے نزدیک محبوب کیا تھا، یا اس سے بھی زیادہ کردےاور یہاں کی آب و ہوا کو صحت افزاءکردے اور یہاں کی وباء اور بخار کو خم (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )جحفہ کی طرف منتقل کر د ے۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 225

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 226

226 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَقٌّ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ {إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى} [النمل: 80] "

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نےیہ بات ارشادفرمایا: ان لوگوں کو اب یہ بات پتہ چل گئی ہے ،میں دنیا میں ان سے جو کہا کرتا تھاوہ سچ تھا۔تواللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا۔ ”بے شک تم مردوں کونہیں سنا سکتے ہو۔“

"إِنَّمَا ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 226

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 227

227 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهِ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهِ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَلِقَاؤُهُ اللَّهَ بَعْدَ الْمَوْتِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص الله تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ، الله تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جوشخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے الله تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضری مرنے کے بعد ہوتی ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 227

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 228

228 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَبَسِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ» قَالَتْ: وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَنَادَى فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَسْمَعُ إِلَى مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلِ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَالِكًا لَا يَرْوِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِنَّمَا يَرْوِيهِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ [ص:272] فَقَالَ سُفْيَانُ: لَكِنَّا قَدْ سَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ كَمَا قَصَصِنَاهُ عَلَيْكُمْ

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ،رفاعہ قرظی کی اہلیہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یارسول اللہ (ﷺ)!میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق دی اور طلاق بتہ دے دی میں نے عبدالرحمان بن زبیر کے ساتھ شادی کر لی لیکن اس کا ساتھ چادر کے پلو کی طرح ہے ،تو نبی اکرم ﷺمسکرا دیئے اور فرمایا: کیاتم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں(ایسا اس وقت تک نہیں ہوسکتا)جب تک تم اس کاشہد نہیں چکھ لیتی اور وہ تمہارا شہد نہیں چکھ لیتا ہے۔ سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں، اس وقت حضرت ابوبکرؓ نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے اور حضرت خالد بن سعیدؓ دروازے پرانتظارکررہے تھے کہ انہیں اندرآنے کی اجازت دی جائے انہوں نے بلند آواز میں کہا: اے ابوبکر ؓ کیا آپ سن نہیں رہے ہیں، یہ عورت نبی اکرم ﷺکی موجودگی میں بلند آواز میں کیسی باتیں کر رہی ہے؟سفیان نامی راوی سے یہ کہا گیا:امام مالک نے اس روایت کو زہری سے نقل نہیں کیا ہے انہوں نے اسے مسور بن رفاعہ سےنقل کیا ہے، تو سفيان بولے :لیکن ہم نے یہ روایت زہری سے سنی ہے، جس طرح ہم نے تمہارے سامنے بیان کی ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 228

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 229

229 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَقَالَ سُفْيَانُ لَمْ يَقُلْ لَنَا هَذَا الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ، إِنَّمَا قَالَهُ لَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:"الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائزنہیں ہے وہ کسی میت پر تین دن سےزیادہ سوگ کرے البتہ شوہرکاحکم مختلف ہے۔“سفیان سے دریافت کیا گیا:وہ عورت شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی؟سفیان نے کہا: زہری نے اپنی روایت میں یہ الفاظ ہمارے سامنے بیان نہیں کیے یہ الفاظ ایوب بن موسیٰ نے اپنی روایت میں ہمارے سامنے بیان کیے ہیں۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ؛ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 229

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 230

230 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمُزَنِيُّ قَالَا: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جوبھی عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے،تو اس کا نکاح باطل ہو گا اس کا نکاح باطل ہوگا اس کا نکاح باطل ہوگا اگر مرد اس عورت کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے ،تو عورت کو مہر ملے گا کیونکہ مرد نے اس کی شرمگاہ کو استعمال کیاہے اور اگر ان لوگوں کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے، تو جس کا کوئی ولی نہ ہوحاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمُزَنِيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 230

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 231

231 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ فَقَالَ «إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ» [ص:273]

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میرے رضاعی چچاافلح بن ابوقعیس آئے اور انہوں نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی یہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے میں نے انہیں اجازت نہیں دی۔ نبی اکرم ﷺتشریف لائے اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ ﷺنے فرمایا: وہ تمہارا چچا ہے تم اسے اجازت دے دو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 231

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 232

232 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ أَنَّهَا قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرِبَتْ يَمِينُكِ هُوَ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! مجھے ایک عورت نے دودھ پلایا ہے مجھے مردنے دودھ نہیں پلایا ہے ،تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو اتمہارا چچاہےتم اسے اجازت دے دو۔

فَقُلْتُ: ← النَّبِيِّ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ أَنَّهَا ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 232

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 233

233 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَكَانَ مِنْ جَيِّدِ مَا يَرْوِيهِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺنے جب میرے ساتھ شادی کی، تو اس وقت میں چھ سال کی(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)سات سال کی تھی اور جب میری رخصتی ہوئی اس وقت میں نو سال کی تھی۔

بِنْتُ تِسْعٍ» ← بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ، وَبَنَى بِي ← تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَكَانَ مِنْ جَيِّدِ مَا يَرْوِيهِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 233

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 234

234 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيَّ حَوْفٌ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ تَزَوَّجَنِي فَأَلْقَى عَلَيَّ الْحَيَاءَ» قَالَ سُفْيَانُ: وَالْحَوْفُ ثِيَابٌ مِنْ سُيُورٍ تُلْبِسُهُ الْأَعْرَابُ أَبْنَاءَهُمْ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، جب نبی اکرم ﷺنے میرے ساتھ شادی کی، تو میں نے خوف (مخصوص قسم دیہاتی لباس)پہنا ہوا تھا، جب آپ ﷺنے میرے ساتھ شادی کی، تو میں اپنے آپ میں سمٹ گئی۔سفیان کہتے ہیں :حوف مخصوص قسم کا لباس ہے ،جسے دیہاتی اپنے بچوں کو پہناتے ہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزِبَانِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 234

chevron_left Previous
1…363738…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter