Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 211

211 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: نا سُفْيَانُ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ يُخْبِرُ بِهِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا مِمَّا يَعْتَزِلُهُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَتْرُكُهُ» قَالَتْ عَائِشَةُ: وَمَا نَعْلَمُ الْحَاجَّ يُحِلُّهُ شَيْءٌ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں اپنے ان دو ہاتھوں کے ذریے نبی اکرمﷺکے قربانی کے جانوروں کے لیے ہار تیار کیا کرتی تھی پھر نبی اکرم ﷺکسی ایسی چیز سے الگ نہیں ہو تے تھے ، جس سے احرام ولاشخص علیحدگی اختیار کرتا ہے اور نبی اکرم ﷺ ایسی کسی چیز کو چھوڑتے نہیں تھے (جسے احرام والا شخص چھوڑتا ہے)سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، ہمارے علم کے مطابق حاجی شخص اسی وقت مکمل طور پر حلال ہوتا ہے ،جب وہ بیت اللہ کا طواف کرلیتا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ يُخْبِرُ بِهِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 211

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 212

212 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَبَسَطَتْ يَدَهَا فَقَالَتْ: «أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ لِحَرَمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الَّذِي نَأْخُذُ بِهِ

عبدالرحمان بن قاسم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ؓ کو سنا انہوں نے اپنے ہاتھ کوپھیلاکرفرمایا: میں نے نبی اکرمﷺکے احرام باندھنے کے وقت اپنے ان دو ہاتھوں کے ذریعے آپ ﷺکو خوشبو لگائی تھی اور آپ ﷺکے بیت الله کا طواف کرنے سے پہلے آپﷺکے احرام کھولنے کے وقت پھر آپ ﷺکوخوشبولگائی تھی۔امام حمیدی ؒ بیان کرتے ہیں: ہم اسی کے مطابق فتوی ٰدیتے ہیں۔

عائشة وبسطت يدها ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 212

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 213

213 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ لِحَرَمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا مِمَّا لَمْ يَكُنْ يُحَدِّثُ بِهِ سُفْيَانُ قَدِيمًا عَنِ الزُّهْرِيِّ فَوَقَفْنَاهُ عَلَيْهِ فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے اپنے ان دو ہاتھوں کے ذریے نبی اکرم ﷺکے احرام باندھنے کے وقت آپ ﷺکو خوشبو لگائی تھی اور آپ ﷺکے بیت الله کا طواف کرنے سے پہلے آپ ﷺکے احرام کھولنے کے وقت آپ ﷺکو خوشبو لگائی تھی۔ امام حمیدی ؒبیان کرتے ہیں : سفیان پہلے اس روایت کو زہری کے حوالے سے نقل نہیں کرتے تھے ایک مرتبہ ہم نے انہیں تنبیہ کی، تو انہوں نے بتایا: میں نے زہری کی زبانی یہ بات سنی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 213

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 214

214 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ، وَذَبَحْتُمْ، وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ» قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَرَمِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ بَعْدَ مَا رَمَى الْجَمْرَةَ، وَقَبْلَ أَنْ يَزُورَ» قَالَ سَالِمٌ: وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ

سالم بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے حضرت عمر بن خطاب ؓکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب تم جمرہ کوکنکریاں مارلواور جانور ذبح کرلواور سر منڈوالو، توجوبھی چیز تمہارے لیے حرام قرار دی گئی تھی، وہ سب تمہارے لیے حلال ہوجائیں گی،صرف خواتین اور خو شبو کا حکم مختلف ہے۔سالم بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کے احرام باندھنے کے وقت نبی اکرمﷺکو خوشبو لگائی تھی اور آپﷺکے جمرہ کی رمی کرنے کے بعد اور طواف زیارت کرنے سے پہلے آپﷺکے احرام کھولنے کے وقت آپ ﷺکو خوشبولگائی تھی۔ سالم کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺکی سنت اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 214

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 215

215 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثني عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعُ عَائِشَةَ تَقُولُ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَرَمِهِ وَحِلِّهِ» قُلْتُ: أَيُّ الطِّيبِ؟ قَالَتْ: بَأَطْيَبِ الطِّيبِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺکے احرام باندھنے کے وقت اور احرام کھولنے کے وقت نبی اکرم ﷺ کو خوشبو لگائی تھی (راوی کہتے ہیں:) میں نے دریافت کیا: کون سی خوشبو؟ انہوں نے فرمایا: سب سے بہترین خوشبو۔

بِأَطْيَبِ الطِّيبِ ← عَائِشَةَ تَقُولُ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ لِحَرَمِهِ وَحِلِّهِ» قُلْتُ: أَيُّ الطِّيبِ؟ ← أَبِي أَنَّهُ ← عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 215

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 216

216 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ فَقَالَ لِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ: مَا يَرْوِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا عَنِّي

سفیان کہتے ہیں : عثمان بن عروہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ ہشا م بن عروہ نے یہ روایت صرف میرے حوالے سے نقل کی ہے۔

سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 216

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 217

217 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ [ص:264]، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺکی مانگ مبارک میں تین دن گزرنے کے بعد بھی میں نے خوشبو کی چمک دیکھی تھی حالانکہ آپ ﷺاس وقت احرام کی حالت میں تھے۔

«رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ» ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ [ص:264]، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 217

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 218

218 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ إِحْرَامِهِ؟ فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا يَنْضَخُ مِنِّي رِيحُ الطِّيبِ، وَلَأَنْ أَتَمَسَّحَ بِالْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْهُ قَالَ أَبِي فَأَرْسَلَ بَعْضُ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَائِشَةَ؛ لِيُسْمِعَ إِيَّاهُ مَا قَالَتْ: فَجَاءَ الرَّسُولُ فَقَالَ: قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَسَكَتَ ابْنُ عُمَرَ

ابراہیم بن محمداپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے حضرت عبد الله بن عمرؓ سے احرام والے شخص کے احرام با ند ھنے کے وقت خو شبو لگانے کے بار میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ،میں احرام کی حالت میں صبح کروں اور مجھ سے خوشبو آرہی ہو میں تارکول لگالوں یہ میرے لیے اس سے زیادہ پسندیدہ ہوگا۔ میرے والد کہتے ہیں: حضرت عبداللہؓ کے صاحبزادوں میں سے کسی نے سیدہ عائشہؓ کو پیغام بھجوایا، تا کہ وہ اپنے والد کو سیدہ عائشہ ؓ کے جواب کے بارے میں بتاسکیں، تو پیغام رساں آیا اور اس نے بتایا: سیدہ عائشہؓ نے یہ بات بیان کی ہے میں نے نبی اکرم ﷺکو خوشبولگائی تھی، تو حضرت عبد الله بن عمرؓخاموش رہے۔

مَا أُحِبُّ ← الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ إِحْرَامِهِ؟ ← سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 218

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 219

219 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ مَرَّةً غَنَمًا» [ص:265] قَالَ الْحُمَيْدِيُّ زَادَنِي أَبُو مُعَاوِيَةَ فِيهِ «فَقَلَّدَهَا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے ایک مرتبہ ہدی میں بکریاں بھجوائی تھیں۔امام حمیدی ؒکہتے ہیں: ابومعاو یہ نامی راوی نے اس روایت میں یہ الفاظ اضاف نقل کیے ہیں۔"نبی اکرمﷺنے انہیں ہار پہنائے تھے۔“

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 219

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 220

220 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نبی اکرمﷺکی قربانی کی بکریوں کے لیے ہار بنایا کرتی تھی پھرآپ ﷺکسی ایسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے تھے ،جس سے احرام والالشخص اجتناب کرتا ہے۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 220

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 221

221 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَرَأْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: 158] فَقُلْتُ: مَا أُبَالِي أَلَّا أَطَّوَّفَ بِهِمَا، قَالَتْ: بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: 158] «فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ» قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَكَانَتْ سُنَّةً، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ يَقُولُونَ: إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرِينِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ [ص:266]، وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ نُؤْمَرْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158] " قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَلَعَلَّهَا نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ

عروہ بیا ن کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہؓ کے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ "بے شک صفاومروہ الله تعالی کی نشانیاں ہیں، تو جوشخص بیت اللہ کاحج کرے یاعمرہ کرے تو اس پرکوئی گناہ نہیں ہوگا اگرتو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے۔“تو میں نے کہا: میں اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اگر میں ان دونوں کا طواف نہیں کرتا۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: اے میرےبھانجےتم نے بہت غلط بات کہی ہے:۔جوشخص "مثلل" میں موجود "منات طاغیہ"سے احرام باندھتا تھاوہ صفا مروہ سعی نہیں کیا کرتا تھا ۔(یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے)تو اللہ تعالی ٰنے یہ آیت نازل کی : "بے شک صفا مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان دونوں کا طواف کرلیتا ہے۔"تو نبی اکرم ﷺنے (ان دونوں کا)طواف کیا ہے اور مسلمانوں نے بھی ان کا طواف کیا ہے۔سفیان کہتے ہیں:مجاہد نے یہ بات بیان کی ہے:سنت ہے۔زہری کہتے ہیں : میں نے یہ روایت ابوبکر بن عبدالرحمان کو سنائی تو وہ بولے : یہ علم ہے میں نے کئی اہل علم کویہ کہتے ہوئے سنا ہے، جوعرب صفاومروہ کا طواف نہیں کیا کرتے تھے وہ اس بات کے قائل تھے کہ ہماراان دو پتھروں (یعنی پہاڑوں) کا طواف کرنازمانہ جاہلیت کا کام ہے۔جبکہ کچھ انصار کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں بیت الله کا طواف کرنے کاحکم دیا گیا ہے ہمیں صفاومروہ کا چکر لگانے کاحکم نہیں دیا گیا تو اللہ تعالی ٰ نے یہ آیت نازل کی :"بشک صفاومروہ اللہ تعالی ٰ کی نشانیاں ہیں۔"ابو بکر بن عبدالرحمان نے فرمایا: شاید یہ آیت ان لوگوں اور ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 221

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 222

222 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: حَضَرْتُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ فِي الْجَنَازَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَجَلَسْتُ بَيْنَهُمَا فَبَكَى النِّسَاءُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ لِلْمَيِّتِ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: صَدَرْنَا مَعَ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ نُزُولٍ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَقَالَ: اذْهَبْ يَا عَبْدَ اللَّهِ فَانْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ فَالْحَقْنِي قَالَ: فَذَهَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا صُهَيْبٌ مَوْلَى ابْنِ جُدْعَانَ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيَلْحَقْنِي، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثُ عُمَرُ أَنْ طُعِنَ فَجَاءَ صُهَيْبٌ وَهُوَ يَقُولُ وَا أُخَيَّاهُ وَا صَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ مَهٍ يَا صُهَيْبُ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] "

ابن ابوملیکہ کہتے ہیں: میں حضرت عثمان غنیؓ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں شریک ہوا جنازے میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓاور حضرت عبداللہ بن عباس ؓبھی تھے میں ان دونوں حضرات کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ خواتین نے رونا شروع کیا ،تو حضرت عبداللہ بن عمؓ بولے: زنده شخص کے میت پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں:حضرت عبداللہ بن عباس ؓنے بتایا: (ایک مرتبہ )ہم لوگ امیر المومنین حضرت عمرؓکے ساتھ (مکہ سے ) واپس آرہے تھے ۔ جب ہم "بیداء"کے مقام پر پہنچے ، تو وہاں کچھ سوار ایک درخت کےپڑاو کیے ہوے تھےحضرت عمرؓفرمایا:اے عبداللہ اتم جاؤ اور جا کر دیکھو کہ یہ سوار کون ہیں؟ پھر میرے پاس آؤ حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: میں گیا میں نے واپس آکر بتایا کہ وہ حضرت صہیب ؓ ہیں ،تو حضرت عمر ؓنے فرمایا: تم ان سے کہو کہ وہ ہمارے ساتھ آملیں ، جب یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچے ، تو کچھ ہی عرصے بعد حضرت عمرؓ کو زخمی کر دیا گیا حضرت صہیبؓ آئے وہ یہ کہہ رہے تھے: ہائے میرا بھائی !ہانے میرا ساتھی، تو حضرت عمر ؓبولے :رک جاؤ اے صہیب !میت کوزندہ شخص کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بتایا:میں سیدہ عائشہ ؓکی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولیں:الله تعالی حضرت عمرؓ پررحم کرے نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے :”بے شک الله تعالی کافر کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے۔"(یعنی عذاب کے ساتھ اسے اپنے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بھی تکلیف ہوتی ہے)جبکہ الله تعالی نے یہ فیصلہ دے دیا ہے۔"کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔"

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 222

chevron_left Previous
1…353637…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter