Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 199

199 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ» ثُمَّ تَضْحَكُ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرمﷺروزے کی حالت میں اپنی ایک زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کر تے تھے ۔راوی کہتے ہیں : پھر سیدہ عائشہ ؓ مسکرادیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 199

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 200

200 - قَالَ حَدَّثَنَا سُمَيٌّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ ذَلِكَ»

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ(بعض اوقات) صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تھے پھر آپ ﷺغسل کرتے تھے اور اس دن کا روزہ رکھ لیتے تھے۔

أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 200

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 201

201 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ كَانَ يَسْرِدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْرِدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ «إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، حمزہ بن عمرو اسلمی جو مسلسل نفلی روزے رکھا کرتے تھے۔ انہوں نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ) میں مسلسل روزے رکھتا ہوں، تو کیا میں سفر کے دوران بھی روزہ رکھوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگرتم چاہوتو روزہ رکھ لواگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔

عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ كَانَ يَسْرِدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 201

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 202

202 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كِلَاهُمَا عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، عاشورہ کا دن ایسا دن تھا جس میں زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا جاتا تھا ،یہ رمضان کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ،جب رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو اب جوشخص چاہے اس دن میں روزہ رکھ لے اورجو شخص چاہے اس دن میں روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے اس دن میں روزہ نہ رکھے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كِلَاهُمَا ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 202

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 203

203 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ فَذَكَرْتُ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ «أَحَابِسَتُنَا هِيَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا حَاضَتْ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ، قَالَ: «فَلْتَنْفُرْ»

سیده عا ئشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، سیدہ صفیہ بنت حییؓ کوطواف افاضہ کرنے کے بعدحیض آگیا انہوں نے اپنے حیض کا تذکرہ نبی اکرمﷺسے کیا تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: کیا اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟ میں نے عرض کی: یارسول اللہ (ﷺ)!انہیں طواف افاضہ کرنے کے بعد حیض آیا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: پھردہ روانہ ہوجائے۔

أحابستنا هي فقلت ← حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ فَذَكَرْتُ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 203

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 204

204 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ «فَلَا إِذًا»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر کوئی (مسئلہ نہیں ہے)

«فَلَا إِذَا» ← النَّبِيِّ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 204

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 205

205 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ مِنْكُمْ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ» وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ مَعَهُ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ، وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةٍ " [ص:259] قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ غَلَبَنِي الْحَدِيثُ فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے ہمراہ روانہ ہوئے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: تم میں سے جوشخص حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا تلبیہ پڑ ھے تم میں سے جوصرف حج کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا تلبیہ پڑھے اور جو شخص صرف عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا تلبیہ پڑھے۔سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے حج کا تلبیہ پڑھا آپ ﷺکے ساتھ لوگوں نے بھی یہی تلبیہ پڑھا تو کچھ لوگوں نے حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھا کچھ لوگوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پڑھامیں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے صرف عمرے کاتلبیہ پڑھا تھا(یا اس کی نیت کی تھی)سفیان کہتے ہیں: پھر میں اس حدیث کے حوالے سے معذور ہوگیا صرف اس کا یہ حصہ مجھے یاد ہے۔

مَنْ أَرَادَ ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 205

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 206

206 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: تم میں سے جوشخض عمرے کا تلبیہ پڑھناچاہے وہ ایسا کرلے۔ نبی اکرم ﷺنے صرف حج کیا تھا آپ ﷺنے عمرے (کا تلبیہ ) نہیں پڑھا تھا۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← عَلْقَمَةَ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 206

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 207

207 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَتِيمُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ أَفْرَدَ وَمِنَّا مَنْ قَرَنَ وَمِنَّا مَنِ اعْتَمَرَ، فَأَمَّا مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَلَّ، وَأَمَّا مَنْ أَفْرَدَ أَوْ قَرَنَ فَلَمْ يُحِلَّ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے ہمراہ روانہ ہوئے ہم میں سے کچھ نےحج افراد کی نیت کی تھی کچھ نے حج قران کی نیت کی تھی اور کچھ نے عمرہ کرنے کی نیت کی تھی ،تو جس نے عمرہ کرنے کی نیت کی تھی اس نے بیت اللہ کا طواف کرنے اور صفاومروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیا، جس نے حج افراد یاحج قران کی نیت کی تھی اس نے احرام اس وقت تک نہیں کھولا جب تک اس نے جمرہ کی رمی نہیں کر لی۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَتِيمُ عُرْوَةَ، ← أَبُو ضمرة أنس بن عياض الليثي، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 207

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 208

208 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّتِهِ لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِسَرَفٍ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ» مَالَكِ أَنَفِسْتِ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ «إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ» قَالَتْ: «وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ»

عبدالرحمان بن قاسم اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہی: انہوں نے سیدہ عائشہؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ نبی اکرمﷺنے جب حج کیا تھا، تو آپﷺکے ساتھ ہم بھی روانہ ہوئے ہمارا ارادہ صرف حج کرنے کا تھا یہاں تک کہ جب میں"سرف‘‘ کے مقام پر پہنچی یا اس کے قریب پہنچی تو مجھے حیض آگیا نبی اکرم ﷺمیرے پاس تشریف لائے ،تو میں رو رہی تھی آپﷺ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے کیا تمہیں حیض آگیا ہے؟ میں نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے جسے الله تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کا مقدر کر دیا ہے تم و تمام مناسک ادا کرو ،جو حاجی ادا کرتے ہیں ،البتہ تم بیت اللہ کاطواف نہ کرنا۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرمﷺنے اپنی ازواج کی طرف سے گائے قربان کی۔

أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 208

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 209

209 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ» فَلَمَّا كُنَّا بِسَرَفٍ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً» فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ قَالَ يَحْيَى: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْقَاسِمَ فَقَالَ: جَاءَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، ہم لوگ نبی اکرمﷺکے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ذیقعدہ ختم ہونے میں پانچ دن باقی رہ گئے تھے ، ہمارا ارادہ حج کرنےکا تھا ، جب ہم "سرف "کے مقام پر پہنچے یا اس کے قریب پہنچے تو نبی اکرام ﷺ نے یہ حکم دیا جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانورنہیں ہے وہ اسے عمرہ میں تبدیل کرلے پھر جب ہم منی ٰمیں تھے تو گائے ،کا گوشت لایا گیا میں نے دریافت کیا: کہاں سے آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا ہے:نبی اکرم ﷺنے اپنی ازواج کی طرف سے گائے قربان کی ہے۔یحی ٰنامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت قاسم کوسنائی تو وہ بولے :اللد کی قسم ! اس خاتون نے تمہیں یہ روایت بالکل صحیح سنائی ہے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 209

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 210

210 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں اپنے ان دونوں ہاتھوں کے ساتھ نبی اکرمﷺکے قربانی کے جانوروں کے لیے ہار بنایا کرتی تھی پھر اس کے بعد نبی اکرم ﷺایسی کسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے تھے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 210

chevron_left Previous
1…343536…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter