Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 187

187 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو يَعْفُورَ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَأَحْيَا اللَّيْلَ، وَشَدَّ الْمِيزَرَ» قَالَ فَقَالَ غَيْرُهُ: وَجَدَّ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، جب رمضان کا آخری عشرہ آجاتا تو نبی اکرمﷺاپنی اہلیہ کو بیدار کرتے تھےآپ ﷺرات بھر عبادت کرتے تھے آپ ﷺکمر ہمت باندھ لیتے تھے (یہاں ایک راوی نے لفظ مختلف نقل کیا ہے)

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← أَبُو يَعْفُورِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 187

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 188

188 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو يَعْفُورَ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺرات کے ہر حصے میں وتر ادا کرلیا کرتے تھے آپ ﷺکے وتر کا انتہائی وقت صبح صادق (سے کچھ پہلے تک ) ہوتا ہے۔

مِنْ کُلِّ اللَّیْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللہِ فَانْتَھَی وِتْرُہُ إِلَی السَّحَرِ۔ ← عَائِشَةَ ← مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← أَبُو يَعْفُورِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 188

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 189

189 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا أَلْفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحَرَ الْآخِرَ قَطُّ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، میں نے اپنے ہاں نبی اکرمﷺکو صبح صادق کے قریب سوتے ہوئے ہی پایا ہے۔

«مَا أَلْفَى النَّبِيُّ السَّحَرَ الْآخِرَ قَطُّ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا» ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← سَلَمَةَ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 189

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 190

190 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنِ خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ قَعْبًا فِيهِ حَيْسٌ خَبَّأْنَاهُ لَهُ «فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَأَكَلَ» وَقَالَ «أَمَّا أَنَا قَدْ كُنْتُ صَائِمًا»

عائشہ بنت طلہحہ اپنی خالہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کایہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺمیرے ہاں تشریف لائے آپﷺنے فرمایا: کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں میں نے آپ ﷺکی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا جس میں حیسں (مخصوص قسم کا حلوہ) موجود تھا، جسے ہم نے آپﷺکے لیے سنبھال کے رکھا تھا۔ نبی اکرم ﷺنے اپنا دست مبارک رکھا اور اسے کھا لیا پھر آپﷺنے ارشاد فرمایا: میں نے تو (نفلی) روزہ رکھا ہوا تھا۔

خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ← عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 190

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 191

191 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ «هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟» فَقُلْتُ: مَا عِنْدَنَا مِنْ طَعَامٍ قَالَ «فَأَنَا صَائِمٌ»

عائشہ بنت طلحہ اپنی خالہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں۔ ایک دن نبی اکرم ﷺمیرے ہاں تشریف لائے آپﷺنے دریافت کیا : کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟ میں نے عرض کی :ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: تومیں (نفلی) روزہ رکھ لیتا ہوں۔

صَائِمٌ» ← «هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟» فَقُلْتُ: مَا عِنْدَنَا مِنْ طَعَامٍ ← دخل علي رسول الله ذات يوم ← خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ← عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 191

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 192

192 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ قَائِمًا فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى جَالِسًا فَإِذَا بَقِيتْ عَلَيْهِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةَ قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ رَكَعَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺرات کے وقت کھڑے ہوکر نماز ادا کیا کرتے تھے ،جب آپﷺکی عمر زیادہ ہوگی تو آپ ﷺبیٹھ کر نماز ادا کرنے لگے یہاں تک کہ جب تیسں یا چالیس آیات کی تلاوت باقی رہ جاتی تھی ،تو آپ کھڑے ہو کر ان کی تلاوت کرتے تھے، پھر رکوع میں جاتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 192

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 193

193 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: «إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيضِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ وَإِذَا [ص:254] أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي» أَوْ قَالَ «اغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، فاطمہ بنت ابوحبیش کو استحاضہ کی شکایت ہوگئی اس نے نبی اکرم ﷺسے مسئلہ دریافت کیا:نبی اکرمﷺنے اس سے فرمایا: یہ کسی دوسری رگ کا مواد ہے یہ حیض نہیں ہے، جب حیض آجائے، تو تم نماز ترک کر دو اور جب وہ رخصت ہو جائے تو تم غسل کر کے نماز ادا کرنا شروع کر دو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم اپنے آپ سے خون کو دھو کر نماز پڑھنا شروع کر دو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 193

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 194

194 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺنے میرے ہاں عصر کی بعد کی دورکعات کبھی ترک نہیں کیں۔

مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ ← عَائِشَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 194

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 195

195 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ5 رکعات وتر ادا کرتے تھے آپ ﷺان کے آخر میں بیٹھتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 195

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 196

196 - قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ» فَسَمِعْتُ بِذَلِكَ فَاسْتَأَذَنْتُهُ «فَأَذِنَ لِي» ثُمَّ اسْتَأْذَنَتْهُ حَفْصَةُ «فَأَذِنَ لَهَا» ثُمَّ اسْتَأْذَنَتْهُ زَيْنَبُ «فَأَذِنَ لَهَا» قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي مُعْتَكَفِهِ» فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ رَأَى فِي الْمَسْجِدِ أَرْبَعَةَ أَبْنِيَةٍ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: لِعَائِشَةَ [ص:255]، وَحَفْصَةَ، وَزَيْنَبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آلْبِرَّ يُرِدْنَ بِهَذَا؟» فَلَمْ يَعْتَكِفْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْعَشَرَةَ «فَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: آلْبِرُّ تَقُولُونَ بِهِنَّ؟

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺنے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ کیا میں نے اس بارے میں سنا، تو میں نے آپ ﷺسے اجازت مانگی،( کہ میں بھی آپ ﷺکے ساتھ اعتکاف کروں )تو نبی اکرمﷺنے مجھے اجازت عطا کر دی پھر سیدہ حفصہ ؓ نے اجازت مانگی ،تو آپ نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی پھر سیدہ زینب ؓ نے آپ سے اجازت طلب کی، تو آپﷺنے انہیں بھی اجازت عطا کر دی ۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺجب اعتکاف کا ارادہ کرتے تھے، تو آپﷺصبح کی نماز ادا کرنے کے بعداپنے اعتکاف کے مقام پر تشریف لے جاتے تھے (اس موقع پر) جب آپﷺنے صبح کی نماز ادا کی، تو آپ ﷺنے مسجد میں چار خیمے لگے ہوئے دیکھے آپ ﷺنے دریافت کیا: یہ کس کے ہیں؟ لوگوں نے عرض کی : سیدہ عائشہؓ، سیدہ حفصہؓ اور سیدہ زینب ؓ کے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا ان خواتین نے ان کے ذریعے نیکی کا ارادہ کیا ہے ؟(راوی بیان کرتے ہیں :)اس عشرے میں بنی اکرم ﷺ نے اعتکاف نہیں کیا آپ ﷺ نے شوال کےعشرے میں اعتکاف کیا۔امام حمیدی ؒبیان کرتے ہیں:بعض اوقات سفیان نے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ "کیا تم ان خواتین کے بارے میں نیکی کی رائے رکھتے ہو۔“

أراد رسول الله ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 196

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 197

197 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَتَذَاكَرَ الْقَوْمُ الصَّائِمَ يُقَبِّلُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ، وَقَالَ آخَرُ: قَدْ صَامَ سَنَتَيْنِ، وَقَامَ لَيْلَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي هَذِهِ فَأَضْرِبُكَ بِهَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ سَلْهَا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ أَرْفُثُ عِنْدَهَا سَائِرَ الْيَوْمِ، فَسَمِعَتْ مَقَالَتَهُمْ فَقَالَتْ: مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ؟ إِنَّمَا أَنَا أُمُّكُمْ، فَقَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ الصَّائِمُ يُقَبِّلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِأَرَبِهِ»

علقمہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے کچھ لوگوں نے یہ مسلہ چھیڑدیا: آیا روزه دارشخص (اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے؟ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے:جی ہاں! ایک دوسرے صاحب بولے : جو دو سال تک مسلسل نفلی روزے رکھتے رہے تھے ،میں نے ارداہ کیا میں نے اپنی یہ کمان پکڑوں اور اس کے ذریعے تمہیں ماروں (راوی کہتے ہیں ) جب ہم مدینہ منورہ آئے تو سید عائشہ ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے ان لوگو ں نے کہا :اے ابو شبل !تم سیدہ عائشہؓ سے دریافت کرو ، تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی سیدہ عائشہ ؓ کے سامنے کوئی برائی کی بات نہیں کروں گا ۔ سیدہ عائشہ ؓ نے لوگو ں کی گفتگو سن لی انہوں نے دریافت کیا:تم لوگ کس موضوع پر بات کر رہے ہو ؟ میں تمہاری ماں ہوں لوگو ں نے عرض کی :اے ام المومنین ! روزه دارشخص (اپنی بیوی کا)بوسہ لے سکتا ہے، تو سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: نبی اکرمﷺ(اپنی زوجہ محترمہ) کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ان کے ساتھ مباشرت کر لیتے تھے حالانکہ آپﷺنے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا اور نبی اکرم ﷺکو اپنی خواہش پرسب سے زیادہ قا بو حاصل تھا۔

رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ، ← خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَتَذَاكَرَ الْقَوْمُ الصَّائِمَ يُقَبِّلُ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 197

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 198

198 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ؟» فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ

سفیان کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمان بن قاسم سے دریافت کیا : کیا آپ نے اپنے والد کو یہ روایت بیان کرتے ہوئےسنا ہے سیدہ عائشہؓ کا نبی اکرمﷺروزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے تو وہ ایک گھڑی کے لیے خاموش رہے ،پھر انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔

عَائِشَةَ ← قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاکَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 198

chevron_left Previous
1…333435…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter