Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 103

103 - أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّاهِرِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ الْمُؤَدِّبُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِى سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَرْبَعِمِائَةٍ فَأَقَرَّ بِهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِىٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ابْنُ الصَّوَّافِ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فَأَقَرَّ بِهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِىٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا مِنَ النَّخْعِ يُسَمَّى عَمْرًا وَيُكْنَى بِأَبِي مُعَاوِيَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: فَأَيُّ الْكَبَائِرِ أَكْبَرُ؟ قَالَ «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنَ يَأْكُلَ مَعَكَ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ» ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] " الْآيَةَ

حضرت عبد الله بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا: کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: الله تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: پھر نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ میں نے عرض کی : پھر کون سا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میں نے دریافت کیا کون سا کبیرہ گناہ بڑا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ ،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ حیرت عبد اللہؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کی:پھر کون سا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا ،تم اپنی اولا دکو اس اندیشے سے قتل کردو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوگی۔ میں نے عرض کی: پھر کون سا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ پھر نبی اکرم ﷺنے یہ آیت تلاوت کی۔ "اور وہ لوگ الله تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ہیں اور وہ ایسی جانوں کوقتل نہیں کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ لوگ زنا کا ارتکاب نہیں کرتے ہیں جو شخص ایسا کرے گا وہ گناہ تک پہنچ جائے گا“۔

قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ ← أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَکَ ← «ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: فَأَيُّ الْكَبَائِرِ أَكْبَرُ؟ ← «ثُمَّ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ ← «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ اَیُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← شَيْخًا مِنَ النَّخْعِ يُسَمَّى عَمْرًا وَيُكْنَى بِأَبِي مُعَاوِيَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو علي بشر بن موسى ← أسمع فأقر به ← أَبُو عَلِىٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ابْنُ الصَّوَّافِ ← أَسْمَعُ فِى سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَرْبَعِمِائَةٍ فَأَقَرَّ بِهِ ← أَبُو الطَّاهِرِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ الْمُؤَدِّبُ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 103

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 104

104 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»

حضرت عبد الله بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "مسلمان کوگالی دینافسق ہے اور اس کوقتل کرنا کفر ہے“۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 104

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 105

105 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَأَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «النَّدَمُ تَوْبَةٌ» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «النَّدَمُ تَوْبَةُ» 105/م- قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ [ص:213]، وَالَّذِي حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَحَبُّ إِلَيَّ لِأَنَّهُ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي سَعْدٍ

عبداللہ بن معقل میان کرتے ہیں: میں اپنےوالد کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے ان سے کہا: کہ کیا آپ ﷺنے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، ندامت توبہ ہے، تو حضرت عبداللہ ؓنے فرمایا: جی ہاں! میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: ندامت تو بہ ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (امام حمیدی ؒکہتے ہیں) عبدالکریم نے جو روایت ہمیں سنائی ہے ،وہ ہمارے نزدیک زیادہ محبوب ہے، کیونکہ ابوسعدنامی راوی کے مقابلے میں وہ زیادہ بڑے حافظ ہیں۔

بِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَحَبُّ إِلَيَّ لِأَنَّهُ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي سَعْدٍ ← النَّبِيِّ بِمِثْلِهِ [ص:213]، وَالَّذِي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ، ← «النَّدَمُ تَوْبَةُ» 105/م- ← النَّبِيِّ ← «النَّدَمُ تَوْبَةٌ» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ← النَّبِيِّ ← دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَأَنْتَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← زياد بن أبي مريم ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 105

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 106

106 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا فَمَا أَدْرِي بِأَيَّتِهَا خَتَمَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: 50] أَوْ {وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ} [المرسلات: 48] قَالَ: فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنْ جُحْرٍ فَأَفْلَتَتْنَا وَدَخَلَتْ جُحْرًا آخَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا، وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک غار میں موجود تھا آپ ﷺ پر یہ سورت نازل ہوئی:والمرسَلٰت عرفا تو میں نے نبی اکرم ﷺکی زبانی اسے سیکھاحالانکہ آپ ﷺکو اس کی تلاوت کیے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی ،تو مجھےیہ نہیں پتہ چلا کہ آپ ﷺنے ان دونوں میں سے کون سی آیت پراس سورت کوختم کیا تھا۔ "فباى حديث بعده يومنون" "تواس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان رکھیں گے"۔یا پھر اس آیت پرختم ہوئی تھی۔"جب ان سے یہ کہا جاتا ہے تم لوگ رکوع کروتو وہ رکوع نہیں کرتے ہیں"۔ حضرت عبد اللهؓ بیان کرتے ہیں:اسی دوران ایک بل میں سے ایک سانپ نکل کر ہمارے سامنے آیا ہم اسے مارنے کے لیے اٹھے تو وہ دوسرے بل میں داخل ہوگیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تمہیں اس کے شر سے بچالیا گیا ہے اور اسے تمہارے نقصان بچالیا گیاہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 106

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 107

107 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَأَتَانَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ فَقَالَ: مَا لَكُمْ؟ قُلْنَا: نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَيْنَ تَرَوْنَهُ؟ قُلْنَا: فِي الدَّارِ، قَالَ: أَفَلَا أَذْهَبُ فَأُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ؟ [ص:214] قَالَ فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا وَمَعَهُ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنِّي لَأُخْبَرُ بِمَجْلِسِكُمْ فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا»

شفیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا انتظار کررہے تھے یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس آئے انہوں نے فرمایا: کیا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: ہم حضرت عبدالله بن مسعود ؓکا انتظار کر رہے ہیں انہوں نے دریافت کیا :تمہارے خیال میں وہ کہاں ہوں گے؟ ہم نے کہا: گھر میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا: کیا میں جا کر ہمارے ساتھ بلاکرنہ لاوں؟ راوی کہتے ہیں :تو وہ گئے تھوڑی ہی دیر کے بعد حضرت عبداللہؓ باہرتشریف لائے اور ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے ان کے ساتھ یزید بن معاویہ بھی تھے۔حضرت عبداللہ ؓ نے فرما یا : مجھے تمہارے یہاں بیٹھے ہونے کے بارے میں بتایا گیالیکن میں نکل کر تمہارے پاس اس لیے نہیں آیا، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ میں تمہیں اکتاہٹ کا شکار کر دوں گا۔ نبی اکرم ﷺہمیں دنوں کے وقفے کے ساتھ وعظ کیا کرتے تھے کیونکہ آپ ﷺہماری اکتاہٹ کو پسند نہیں کرتے تھے۔

أَفَلَا أَذْهَبُ فَأُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ؟ ← أَيْنَ تَرَوْنَهُ؟ قُلْنَا: فِي الدَّارِ، ← مَا لَكُمْ؟ قُلْنَا: نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ← كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَأَتَانَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ← أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 107

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 108

108 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا كَانَ مِنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ «مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ»

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)!زمانہ جاہلیت میں ہم سے جو کچھ سر زد ہوا تھا کیا اس پر ہمارا مواخذہ ہوگا؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا: تم میں سے جو اچھائی کرے گا، تو زمانہ جاہلیت میں اس نے جوعمل کیا تھا اس پر مواخذاہ نہیں ہو گااور جو شخص برائی کرے گا ، تو اس کے پہلے اور بعد والے (تمام اعمال) کا مواخذہ ہوگا۔

قِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 108

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 109

109 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرمﷺ ے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ "دوآ دمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں، کیونکہ یہ چیز(اس تیسرے شخص کو) غمگین کر دے گی"۔

«لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ» ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 109

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 110

110 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، أَوْ قَالَ لَوْنُهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَتَمَنَّيْتُ أَنِّي كُنْتُ أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَشَدَّ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے کوئی چیز تقسیم کی، تو ایک شخص بولا :یہ ایسی تقسیم ہے، جس میں الله کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ بات بیان کی ہے مجھے اپنے آپ پر قابونہیں رہا۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا تو آپ ﷺکا چہرہ مبارک (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آپ کا رنگ تبدیل ہوگیا۔ حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں : میں نے اس وقت یہ آرزو کی کہ کاش میں اسی دن مسلمان ہوا ہوتا۔ حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حضرت موسیٰ ؑ کو اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا تھا"۔

رَجُلٌ: ← قَسَمَ النَّبِيُّ قَسْمًا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 110

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 111

111 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ يَقُولُ: لَا تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَلَا سُورَةُ كَذَا فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ مَشَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي بَطْنِ الْوَادِي فَلَمَّا أَتَى الْجَمْرَةَ جَعَلَهَا عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ اعْتَرَضَهَا فَرَمَاهَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ «مِنْ هَاهُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ رَمَاهَا»

اعمش کہتے ہیں : میں نے حجاج بن یوسف کو یہ کہتے ہوئے سنا: تم لوگ یہ نہ کہو "سورہ بقرہ"سورہ فلاں۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی سے کیا ،تو انہوں نے بتایا : عبدالرحمنٰ بن یزید نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ وادی کے نشیب میں چل رہے تھے، جب وہ جمرہ کے پاس آئے ،تو حضرت عبداللہؓ نے اسے اپنے دائیں طرف رکھا اور پھر ان کے مد مقابل آگئے پھر انہوں نے اسے کنکریاں ماریں۔ میں نے ان سےکہا: اے ابوعبدالرحمن ٰ!لوگ تو اوپر سے اس پر کنکریاں مارتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم !اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ ہستی جن پر سوره بقره نازل ہوئی تھی میں نے انہیں یہیں سے کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ہے۔

لَا تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَلَا سُورَةُ كَذَا فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ← الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 111

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 112

112 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ الشَّامَ فَقَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ [ص:216]، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَحْسَنْتَ» فَبَيْنَا هُوَ يُرَاجِعُهُ إِذْ وَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُكَذِّبُ بِالْقُرْآنِ؟ لَا أَبْرَحُ حَتَّى تُجْلَدَ فَجُلِدَ

علقمہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ تشریف لائے انہوں نے سورہ یوسف کی تلاوت کی ،تو ایک صاحب نے ان سے کہا:یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی ۔ راوی کہتے ہیں: تو حضرت عبداللہؓ نے فرمایا تمہارا ستیاناس ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)تمہاری بربادی ہو، میں نے نبی اکرم ﷺکے سامنے اسے تلاوت کیا ہے ،تو آپ ﷺنے یہ فرمایاتھا: ابھی ان دونوں حضرات کی بحث چل رہی تھی کہ حضرت عبداللہ ؓکو اس شخص سے شراب کی بومحسوسں ہوئی۔ حضرت عبد اللهؓ نے دریافت کیا: کیا تم شراب پیتے ہو اور قرآن کی تکذیب کرتے ہو؟ میں تمہیں ضرور کوڑے لگواؤں گا، توپھر اس شخص کو کوڑے لگائے گئے ۔

«أَحْسَنْتَ» فَبَيْنَا هُوَ يُرَاجِعُهُ إِذْ وَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ: وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ [ص:216]، ← قدم عبد الله الشام فقرأ سورة يوسف ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 112

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 113

113 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ غَيْرَ مَرَّةٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ لَخَلِيلُ اللَّهِ» يَعْنِي نَفْسَهُ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے : "میں ہر ساتھی کے ساتھ سے بری الذمہ ہوں ،اگر میں نے کسی کوخلیل بنانا ہوتا، تو میں ابوبکر خلیل بناتا لیکن تمہارے آقا اللہ خلیل ہیں"۔ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم ﷺکی اس سے مراد آپ ﷺکی اپنی ذات تھی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْأَعْمَشُ غَيْرَ مَرَّةٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 113

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 114

114 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِوَقْتِهَا إِلَّا بِالْمُزْدَلِفَةِ فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ فِي غَيْرِ وَقْتِهَا» وَقَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي فِي غَيْرِ وَقْتِهَا الَّذِي كَانَ يُصَلِّيَهَا فِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ

حضرت عبد الله بن مسعود ؓبیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺکو نماز ہمیشہ مخصوص وقت پر ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے البتہ مزدلفہ کا معامل مختلف ہے، کیونکہ وہاں نبی اکرم ﷺنے دو نمازیں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ادا کی تھیں اور اس دن آپ ﷺنے صبح کی نماز اس کے مخصوص وقت سے ہٹ کر ادا کی تھی۔ سفیان کہتے ہیں: یعنی اس وقت سے مختلف وقت میں ادا کی تھی جس میں آپ ﷺپہلے اسے ادا کیا کرتے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 114

chevron_left Previous
1…262728…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter