Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 91

91 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِئْسَ مَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ»

سفیان بیان کرتے ہیں : عطاء بن سائب کے ساتھ ہماری"مکہ" میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا: ہم ابوعبدالرحمن ٰسلمی کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لیے حاضر ہوئے ،تو ان کے غلام نے انہیں دوائی دینے کا ارادہ کیا میں نے اسے منع کر دیا تو وہ بولے: تم اسے کرنے دو ،کیونکہ میں نے حضرت عبد الله بن مسعودؓ کو نبی اکرمﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: "الله تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دوا بھی نازل کی ہے"۔ سفیان نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "اس کی شفاءبھی نازل کی ہے"۔ "تو جس شخص کو اس کا علم ہوتا ہے وہ اسے جان لیتا ہے اور جس کو اس کاعلم نہیں ہوتا وہ اس سے ناواقف رہتا ہے"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← الَّذِي ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 91

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 92

92 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَنْصُورٌ نا ذَرٌّ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فِإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ» فَقَامَتِ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ» ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «مَا وُجِدَ مِنْ نَاقِصِ الْعَقْلِ وَالدِّينِ أَغْلَبَ لِلرِّجَالِ ذَوِي الرَّأْيِ عَلَى أُمُورِهِمْ مِنَ النِّسَاءِ» قَالَ: فَقِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا وَدِينِهَا؟ [ص:205] قَالَ: «أَمَّا نُقْصَانُ عَقْلِهَا فَجَعَلَ اللَّهُ شَهَادَةَ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، وَأَمَّا نُقْصَانُ دِينِهَا فَإِنَّهَا تَمْكُثُ كَذَا يَوْمًا لَا تُصَلِّي لِلَّهِ سَجْدَةً»

ابووائل کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا: تم اس قرآن کو باقاعدگی سے پڑھتے رہو، کیونکہ یہ انسان کے سینے سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ،جتنی تیزی سے چرنے والا جانور اپنی رسی سے نکلتا ہے، پھر انہوں نے بتایا:نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"کسی شخص کا یہ کہناانتہائی برا ہے کہ میں فلاں اور فلاں آیت بھول گیا ،بلکہ وہ اسے بھلا دی گئی"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← وائل بن مهانة ← ذَرٍّ الْهَمْدَانِيِّ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 92

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 93

93 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ {وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] الْآيَةَ "

حضرت عبداللہ بن مسعودؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"اے خواتین کے گروہ !تم صدقہ کیا کروخوا ہ تم اپنے زیورہی صدقہ کرو ،کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے"۔ تو ایک عورت کھڑی ہوئی جو کسی بڑے خاندان کی نہیں تھی اس نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)!اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :اس کی وجہ یہ ہے کہ تم خواتین لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔پھر حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا : ایسی کوئی مخلوق نہیں پائی گئی ، جو عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہو لیکن سمجھدار مردوں کے معاملات میں ان پر غالب آنے کے حوالے سے خواتین سے بڑھ کے ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو دریافت کیا گیا:اے ابوعبدالرحمنٰ!ان کے عقل اور دین میں کیا کمی ہے؟ توانہوں نے فرمایا: جہاں تک ان کی عقل کی کمی کاتعلق ہے ،تو الله تعالیٰ نے دوخواتین کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دی ہے۔ جہاں تک ان کے دین میں کمی کا تعلق ہے ،تو ایک عورت کئی روز تک الله تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے نماز ادانہیں کرسکتی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 93

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 94

94 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ [ص:206]، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّهُ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ» قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا أَجْوَدُ مَا وَجَدْنَا عِنْدَ عَاصِمٍ فِي هَذَا الْوَجْهِ

حضر ت عبداللہ بن مسعود ؓ راویت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص اپنے مال کی زکو ٰۃادا نہیں کرے گا، تو قیامت کے دن اس کے مال کو اس کے لیے گنجے سانپ کی صورت میں تبدیل کر کے اسے طوق کے طور پر پہنایا جائے گا"۔پھر نبی اکرم ﷺنے اس کے مصداق کے طور پراللہ تعالیٰ کی کتاب کی یہ آیت تلاوت کی۔ "اور وہ لوگ جنہیں الله تعالیٰ نے اپنے فضل کے ذریعے عطا کیا ہے اور وہ اس میں بخل سے کام لیتے ہیں ان کے بارے میں تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے، بلکہ یہ ان کے لیے برا ہے، جس چیز کے بارے میں وہ بخل سے کام لیتے ہیں عنقریب قیامت کے دن وہ طوق کے طور پرا نہیں پہنایا جائے گا"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 94

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 95

95 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، وَجَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ} [آل عمران: 77] الْآيَةَ

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں : حبشہ سے آنے سے پہلے ہم نماز کے دوران نبی اکرمﷺکوسلام کرتے تھے ،تو آپ ﷺہمیں جواب دے دیا کرتے تھے، جب ہم (حبشہ) سے واپس آئے تو میں نے نبی اکرمﷺکو سلام کیا آپ ﷺاس وقت نماز ادا کر رہے تھے آپ ﷺنے میرے سلام کا جواب نہیں دیا تومجھے پریشان کن قسم کے خیالات آنے لگے ،میں وہاں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺنے نمازمکمل کی ،تو میں نے عرض کی:یا رسول اللہ(ﷺ)! میں نے آپ ﷺکو سلام کیا تھا، جب آپ ﷺنماز پڑھ رہے تھے آپ ﷺنے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: الله تعالیٰ کسی بھی معاملے میں جو چاہے نیا حکم دے سکتا ہے اور اس بارے میں نیاحکم یہ ہے کہ تم لوگ نماز کے دوران کلام نہ کرو۔ سفیان کہتے ہیں : عاصم سے ہمیں جو روایات ملی ہیں : یہ ان میں سب سے بہترین ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَعْيَنَ وَجَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 95

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 96

96 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَنْصُورٌ غَيْرَ مَرَّةٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ «سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ [ص:207]، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهَا بَعْدَ السَّلَامِ» قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ طَوِيلًا فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:"جوشخص جھوٹی قسم کے ذریعے کی مسلمان کا مال ہتھیا لے گا، تو جب وہ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، تو الله تعالیٰ اس ہر غضبناک ہو گا"۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے اس کے مصداق کے طور پر اللہ تعالی ٰکی یہ آیت ہمارے سامنے تلاوت کی۔ ”بے شک وہ لوگ جو الله تعالیٰ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسم کے عوض میں خریدتے ہیں"۔

إِبْرَاهِيمَ، ← منصور غير مرة هذا الحديث ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 96

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 97

97 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَتَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ ذَيْتَ وَذَيْتَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَإِنِّي قَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَلَمْ أَجِدِ الَّذِي تَقُولُ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ عَلَى أَهْلِكَ مِنْهَا فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: فَادْخُلِي وَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ وَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا قَالَ: فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: " أَمَا قَرَأْتِ {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] " قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: «فَهُوَ ذَلِكَ»

حضرت عبد الله بن مسعود بیٹی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کیا اور یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم ﷺنے سلام کے بعد یہ سجدے کیے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: یہ روایت طویل ہے، تاہم اس کا صرف یہ حصہ مجھے یاد ہے۔

«فَهُوَ ذَلِكَ». ← بَلٰی ← {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ← لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا ← لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: فَادْخُلِي وَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ وَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا ← مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَلَمْ أَجِدِ الَّذِي تَقُولُ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ عَلَى أَهْلِكَ مِنْهَا، ← لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ ذَيْتَ وَذَيْتَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَإِنِّي قَدْ ← عَلْقَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَتَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 97

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 98

98 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَحْوَصِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ تُعْبَدَ الْأَصْنَامُ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ أَوْ بِبَلَدِكُمْ هَذَا، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَاتَّقُوا الْمُحَقَّرَاتِ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْمُوبِقَاتِ أَوَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَثَلِ ذَلِكَ مَثَلُ رَكْبٍ نَزَلُوا فَلَاةً مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ بِهَا حَطَبٌ فَتَفَرَّقُوا فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، وَجَاءَ ذَا بِعَظْمٍ، وَجَاءَ ذَا بِرَوْثَةٍ حَتَّى أَنْضَجُوا الَّذِي أَرَادُوا فَكَذَلِكَ الذُّنُوبُ»

علقمہ بیان کرتے ہیں: بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے ان سے کہا: مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ فلاں، فلاں پر اور جسم گودوانے والی اور گودوانے والی عورتوں پر لعنت کرتے ہیں؟ حالانکہ میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے مجھے اس میں یہ حکم نہیں ملا، جو آپ کہتے ہیں اور میرا خیال ہے آپ کی بیگم بھی ایسا کرتی ہیں، توحضرت عبداللہؓ نے اس خاتون سے کہا :تم جاؤ اور جا کر خود جائزہ لو۔ وہ عورت حضرت عبد الله بن مسعود ؓکے گھر گئی اس نے وہاں کا جائزہ لیا تو اسے وہاں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس عورت سے کہا: کیا تم نے یہ آیت پڑھی ہے: "رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے حاصل کر لو اور جس سے تمہیں منع کر دیں اس سے باز آجاؤ“۔ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں ،تو حضرت عبداللہؓ نے فرمایا: یہ وہی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 98

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 99

99 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَا بِهِ الزُّهْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا أَوْ يُعَلِّمُهَا "

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ تمہاری اس سرزمین پر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تمہارے اس شہر میں بتوں کی عبادت کی جائے تا ہم وہ تم سے تمہارے معمولی اعمال کے حوالے سے راضی ہو جائے گا، تو تم معمولی گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنا ،کیونکہ یہ ہلاکت کا شکار کر دیتے ہیں۔ کیا میں تمہیں اس کی مثال دوں؟ اس کی مثال یوں ہے جیسے کچھ سوارکسی بے آب و گیاہ زمین پر پڑاؤ کرتے ہیں وہاں کوئی لکڑی نہیں ہے ،وہ لوگ بکھر جاتے ہیں، تو ایک شخص عود لے کر آتا ہے ایک ہڈی لے کر آتا ہے ایک مینگنی لے کرآتا ہے ،یہاں تک کہ وہ لوگ جو چاہتے ہیں اسے جمع کر لیتے ہیں، تو گناہ بھی اسی طرح ہوتے ہیں"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بِهِ الزُّهْرِيُّ ← إسماعيل بن أبي خالد بهذا الحديث على غير ما ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 99

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 100

100 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ فًأًرَدْنَا أَنْ نَخْتَصِيَ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ»

حضرت عبد الله بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: حسد (یعنی رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جاسکتا ہے) ایک وہ شخص جسے الله تعالیٰ نے مال عطا کیا ہواور پھر اس شخص کو وہ مال حق کی راہ میں خرچ کرنے کی ،توفیق دی ہویا ایک وہ شخص جسے الله تعالیٰ نے حکمت عطا کی ہو اور وہ اس کے مطابق فیصلہ دیتا ہو یا وہ اس کی تعلیم دیتا ہو"۔

ذَلِكَ ← «كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ فًأًرَدْنَا أَنْ نَخْتَصِيَ فَنَهَانَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← ابْنُ أَبِي خَالِدٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 100

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 101

101 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «اقْرَأْ» فَقَالَ: أَقْرَأُ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي» قَالَ: فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدِ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: 41] اسْتَعْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَّ عَبْدُ اللَّهِ

حضرت عبدالله بن مسعود ؓفرماتے ہیں: ہم نبی اکرم ﷺکے ساتھ جنگ میں شریک ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ خواتین نہیں ہوتی تھیں، تو ہم نے خصی ہونے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرمﷺنے ہمیں اس سے منع کر دیا۔

الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 101

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 102

102 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: سُفْيَانُ: قَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ} [المائدة: 117] "

قاسم بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے حضرت عبد الله بن مسعود ؓسے فرمایا: تلاوت کرو !تو انہوں نے عرض کی: کیا میں تلاوت کروں؟ جبکہ یہ آپﷺپر نازل ہوا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : میں اسے اپنے علاوہ کسی دوسرے کی زبانی سننا چاہتا ہوں۔حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی ، یہاں تک کہ جب یہ آیت تلاوت کی ۔ "تو اس وقت کیا عالم ہوگا کہ جب ہم ہر امت میں سنے ایک گواہ کولے کرا ٓئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے"۔تو نبی اکرمﷺکے آنسو بہنے لگے تو حضرت عبداللہؓ رک گئے۔ حضرت عبداللہ ؓ،نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب تک میں ان کے درمیان تھا میں ان پر گواہ رہا جب تو نے مجھے موت دے دی تو ان کا نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← المسعودي وحدثنا جعفر بن عمرو بن حريث ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 102

chevron_left Previous
1…252627…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter