Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 115

115 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ [ص:217]، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَنْكِحْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ہم سے یہ فرمایا۔"اے نوجوانوں کے گروہ !ہات میں سے جو شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرلے ،کیونکہ یہ چیزنگاہ کو زیادہ جھکا کے رکھتی ہے اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرتی ہے اور جو شخص اس کی استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے ،کیونکہ روزے اس کی شہوت کو ختم کردیں گے"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، [ص:545] ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 115

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 116

116 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ أَوْ أُخْبِرْتُ عَنْهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ يَعْنِي عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يَقُولُ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَصَابَ النَّاسَ دُخَانٌ يَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ كَالزَّكْمَةِ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ لِمَا لَمْ يَعْلَمِ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنْ عِلْمِ الْمَرْءِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ: {قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ} [ص: 86] إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ» فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، وَحَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} [الدخان: 11] قَالَ اللَّهُ {إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ} [الدخان: 15] كَانَ هَذَا فِي الدُّنْيَا أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةٍ؟ [ص:218] ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ، وَمَضَى اللِّزَامُ وَمَضَى الْقَمَرُ، وَمَضَى الرُّومُ وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ

مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالله بن مسعود ؓ سے کہا گیا: مسجد میں ایک شخص یہ کہہ رہا ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا، تو لوگوں تک دھواں بن جائے گا، جو کفار کی سماعت کو اپنی گرفت میں لے گا، لیکن اہل ایمان کو اس سے زکام کی سی کیفیت محسوس ہوگی۔راوی کہتے ہیں :حضرت عبداللہ ؓ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور بولے: اے لوگو! تم میں سے جو شخص کسی چیز کا علم رکھتا ہو وہ اس کے مطابق بیان کر دے اور جوعلم نہ رکھتا ہو وہ اپنی لاعلمی کے بارے میں یہ کہہ دے کہ الله بہتر جانتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کے علم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جس چیز کے بارے میں و ہ علم نہیں رکھتاوہ یہ کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے جبکہ الله تعالیٰ نے اپنے نبیﷺسے فرمایا ہے۔" تم یہ فرمادو کہ میں اس پر تم سے اجر طلب نہیں کر رہا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں“۔(پھر حضرت عبداللہ ؓنے بتایا ) جب قریش نبی اکرم ﷺکے پیروکار نہیں بنے تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی: ”اے اللہ توان پر حضرت یوسف کے زمانے کے سے سات سال (قحط سالی کے مسلط کردے)" تو ان لوگوں کو قحط سالی نے گرفت میں لے لیا جس نے ہر چیز کو ختم کر دیا، یہاں تک کہ وہ لوگ ہڈیاں کھانے لگے اور یہ کیفیت ہوگئی کہ ان میں سے ایک شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں محسوس ہوتا تھا، تو الله تعالیٰ نے یہ آیت ارشاد فرمائی۔ "تم اس دن کا خیال کرو کہ جب انسان واضح دھواں لے کر آیا جس نے لوگوں کو ڈھانپ لیا تو یہ دردناک عذاب ہے"۔ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک ہم عذاب کو تھوڑا سا کم کر دیں، تو تم لوگ دوبارہ واپس چلے جاؤ گے“۔تویہ معاملہ تودنیامیں پیش آیا، کیا قیامت کے دن ان کفارسے عذاب کو پرے کیا جائے گا؟ پھر حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: دھواں گزر چکا ہے ،لزام گزر چکا ہے۔ چاند سے متعلق واقعہ گزر چکا ہے۔ روم کا(غالب آنا) گزر چکا ہے اور بطشہ(گرفت ) کا واقعہ بھی گزر چکا ہے۔

((قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: ← مَسْرُوقٍ ← مسلم بن صبيح يعني ← عَنْهُ ← الْأَعْمَشُ أَوْ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 116

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 117

117 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ مَسْرُوقٍ فِي دَارِ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ فَرَأَى مَسْرُوقٌ فِي صُفَّتِهِ تَمَاثِيلَ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ»

مسلم بن صبیح بیان کرتے ہیں: ہم لوگ یسار بن نمیر کے گھر میں مسروق کے ساتھ تھے۔ مسروق نے ان کے گھر میں تصوریریں میں لگی ہوئی دیکھیں ،تو یہ بات بیان کی میں نے حضرت عبد الله بن مسعودؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے :"قیامت کے دن سب سے شدید عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا"۔

مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 117

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 118

118 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا لِأَنَّهُ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلًّا»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "جس بھی شخص کوظلم کے طور پرقتل کیا جائے گا، تو اس کا وبال آدم ؑ کے اس پہلے بیٹے کے سر ہوگا وہ اس میں حصہ دار ہوگا، کیونکہ اس نے قتل کاطریقہ سب سے پہلے ایجاد کیاتھا“۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 118

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 119

119 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ نَفْسٌ بِنَفْسٍ "

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: کسی بھی مسلمان شخص کا، جواس بات کی گواہی دیتا ہو کہ الله تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسولﷺہوں، ایسے مسلمان کا خون تین میں سے ایک صورت میں جائز ہے۔ ایسا شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائے۔ ایسا شخص جومحصن ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرے یا پھر جان کےبدلے میں جان۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 119

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 120

120 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَمَا أَنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ يَعْنِي أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ، فَقِيلَ " جُعِلَتْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ تَحْتَ الْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: " هَلْ تَسْتَزِيدُونِي شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟ فَقَالُوا: وَمَا نَسْتَزِيدُكَ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ مِنْهَا حَيْثُ نَشَاءُ؟ ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اِطِّلَاعَةً فَقَالَ: «هَلْ تَسْتَزِيدُونِي شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟» فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُ لَا بُدَّ أَنْ يَسْأَلُوهُ، قَالُوا: تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقْتَلُ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى " [ص:220]

حضرت عبداللہ بن مسعودؓبیان کرتے ہیں: ہم نے اس بارے میں سوال کیا تھا یعنی شہداء کی ارواح کے بارےمیں سوال کیا تھا، تو یہ بات بتائی گئی کہ یہ سبز پرندوں کے پیٹ میں رکھ دی جاتی ہیں اور عرش کے نیچےقندیلوں میں رہتی ہیں۔ یہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں اڑ کے چلی جاتی ہیں ان کا پروردگار ان کی طرف متوجہ ہوکر دریافت کرتا ہے: کیاتم مجھ سے مزید کسی چیز کے طلبگار ہوتا کہ میں تمہیں وہ مزید چیز عطا کروں؟ تو انہوں نے عرض کی : ہم مزید کسی چیز کے طلبگار ہوں گے؟ جبکہ ہم جنت میں ہیں اور ہم اس میں جہاں چاہیں جاسکتے ہیں۔ پھر ان کا پروردگاران کی طرف متوجہ ہو کرفرمائے گا: کیاتم مزید کسی چیز کے طلبگار ہوتا کہ میں تمہیں وہ مزید چیزبھی عطا کروں؟ جب ان لوگوں نے یہ بات دیکھی کہ انہیں ضرور کوئی نہ کوئی سوال کرنا پڑے گا تو انہوں نے عرض کی : تو ہماری ارواح ہمارے جسموں کو واپس کر دے تاکہ ہمیں ایک مرتبہ پھر تیری بارگاہ میں شہیدکیاجائے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 120

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 121

121 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ وَزَادَ «وَتُقْرِئُ نَبِيَّنَا مِنَّا السَّلَامَ، وَتُخْبِرُ قَوْمَنَا أَنْ قَدْ رَضِينَا وَرُضِيَ عَنَّا»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ "تو ہماری طرف سے ہمارے نبی ﷺتک سلام پہنچا دینا اور ہماری قوم کو یہ بتا دینا کہ ہم راضی ہیں اور (پروردگار)ہم سے راضی ہے"۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 121

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 122

122 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا» ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ

حضرت عبد الله بن مسعود ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ہم سے فرمایا: تم لوگ عمارتیں نہ بناؤ ورنہ تم دنیامیں راغب ہوجاؤ گے۔پھر حضرت عبد اللهؓ نے فرمایا: براذ ان میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے) اور مدینہ میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے)

عَبْدُ اللَّهِ وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ ← لَنَا رَسُولُ اللَّهِ «لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا» ثُمَّ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 122

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 123

123 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ لِي مَسْرُوقٌ، أَخْبَرَنِي أَبُوكَ، «أَنَّ شَجَرَةً أَنْذَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ»

ابوعبیدہ کہتے ہیں: مسروق نے مجھ سے کہا: مجھے تمہارے والد(یعنی حضرت عبدالله بن مسعود ؓنے یہ بات بتائی ہے کہ جنات سے ملاقات کی رات ایک درخت نے نبی اکرمﷺکو ڈرانے کی کوشش کی تھی۔

أَبُوكَ، «أَنَّ شَجَرَةً أَنْذَرَتِ النَّبِيَّ بِالْجِنِّ» ← لِي مَسْرُوقٌ: ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 123

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 124

124 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ [ص:221]، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ «مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَدْ أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ عِلْمَهُ إِلَّا مِنْ خَمْسٍ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ»

حضرت عبد الله بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں: تمہارے نبیﷺ کو ہر چیز کاعلم عطا کیا گیا تھاصرف پانچ چیزوں کا(حکم مختلف ہے) (ارشاد باری تعالیٰ ہے)”بے شک قیامت کا علم الله تعالیٰ کے ہی پاس ہے"۔سورت کے آخر تک ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، [ص:372] ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 124

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 125

125 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الْيَشْكُرِيِّ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعَوْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَلِآمَادٍ مَبْلُوغَةٍ، وَلِأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يَتَقَدَّمُ مِنْهَا شَيْءُ قَبْلَ أَجَلِهِ، وَلَا يَتَأَخَّرُ مِنْهَا شَيْءٌ بَعْدَ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهِ أَنْ يُنْجِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ خَيْرًا أَوْ أَفْضَلَ» قَالَ: وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تَرَاهُمْ مِنْ نَسْلِ الَّذِينَ كَانُوا مُسِخُوا أَوْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ فَقَالَ: «لَا بَلْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا قَطُّ فَيَجْعَلُ لَهُمْ نَسْلًا وَلَا عَاقِبَةً، وَلَكِنَّهُمْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : سیدہ اُم حبیبہؓ نے دعا کی۔”اے اللہ! تو میرے شوہرنبی اکرمﷺ میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی معاد یہ کولمبی زندگی دینا“۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تم نے الله تعالیٰ سے ایسی چیز کے بارے میں دعا کی ہے، جس کا وقت متعین مدت ہے، جس کی آخری حد مقرر ہے اور جس کا رزق مقررشدہ ہے ۔ اس کی متعین مدت سے پہلے کوئی چیز نہیں آسکتی اور کوئی چیز اس سے تاخیر نہیں کر سکتی۔ جب وہ وقت ختم ہوجائے گا۔ اگرتم الله تعالیٰ سے یہ دعامانگتی کہ الله تعالیٰ تمہیں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے نجات دے تو زیادہ بہتر تھا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )افضل تھا ۔راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺسے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں دریافت کیا گیا: آپ ﷺکی کیا رائے ہے کہ یہ ان لوگوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا؟ یا یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا نہیں!یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے ،کیونکہ الله تعالیٰ جب بھی کسی قوم کو ہلاکت کا شکار کرتا ہے ،تو ان کی نسل اور ان لوگوں کا انجام ان لوگوں کی شکل میں ہوتا ہے، جو ان سے پہلےبھی موجود ہوں۔

وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← بِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ← أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← المغيرة اليشكري ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← مُرَّۃُ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 125

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 126

126 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ [ص:222]: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَكُونَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهَ إِلَيْهَ الْمَلَكَ بِأَرْبَعٍ كَلِمَاتٍ فَيَقُولُ اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا، ثُمَّ يَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَلْيَسْبِقْ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلَهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا"

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں۔ بنی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حدیث سنائی آپ ﷺ سچے ہیں اور آپ ﷺ کی تصدیق کی گئی۔(آپ ﷺ نے فرمایا:)"ہر شخص کے نطفے کو اس ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک رکھا جاتا ہے ، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک جمے ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے ، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ چار چیزوں کے ہمرا ہ فرشتے کو اس کی طرف بھیجتا ہے اور فرماتا ہے تم اس کا عمل کی زندگی کی آخری حد، اس کا بد بخت یانیک بخت ہونا تحریر کر دو۔ پھر وہ فرشتہ اس میں روح پھونک دیتا ہے"۔پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، آدمی اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے ۔ تو تقدیر کا لکھا ہو ا اس سے آگے نکل جاتا ہے اور اہل جنت کا سا عمل کرتا اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اور ایک شخص زندگی بھر اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے ،یہاں تک کہ اس کے اور اہل جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے ، تو تقدیر کا لکھا ہوا اس سے آگے نکل جاتا ہے اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہو جاتا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 126

chevron_left Previous
1…272829…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter