Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1321

1321 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:349]، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ: «اعْلِفْهُ النَّاضِحَ»

حضرت جابر بن عبدالله ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے پچھنے لگانے والے کی آمدن کے بارے میں فرمایا ہے :تم اس سے اپنے اونٹ کو چارا کھلا دو۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1321

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1322

1322 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَنِي، وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ لَنَا كَأَنَّهُ يَقُولُ: بَطِيءٌ، فَقُلْتُ: وَالَهْفَ أُمَّاهُ، مَا يَزَالُ لَنَا نَاضِحُ سُوءٍ، «فَحَرَسَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مَعَهُ، أَوْ مِحْجَنٍ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ، وَمَا يَكَادُ يَتَقَدَّمُهُ شَيْءٌ»

حضرت جابر ؓبیان کرتے ہیں :میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ تھا آپ ﷺمیرے پاس تشریف لائے میں اس وقت اپنے اونٹ پر سوار تھا۔ حضرت جابر ؓ یہ بیان کرنا چاہ رہے تھے کہ وہ اونٹ سست روی سے چل رہا تھا، میں نے کہا:اس کی ماں روئے یہ ہمیشہ سے برا اونٹ رہا ہے ،تو نبی اکرمﷺنے اپنے ہاتھوں میں موجود چھڑی کے ذریعے اسے مارا ،تو میں نے اس اونٹ کو دیکھا کہ کوئی اور سواری اس سے آگے نہیں نکل سکتی تھی۔

عَلَى نَاضِحٍ لَنَا كَأَنَّهُ ← كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَنِي، ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1322

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1323

1323 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ يُحَدِّثُ أَحَدُكُمْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ؟»

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں:ایک شخص نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺمیں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میری گردن اڑا دی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: شیطان آدمی کے ساتھ (خواب میں) جو مذاق کرتا ہے آدمی کسی کو وہ نہ بتائے۔

جابر أن رجلا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1323

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1324

1324 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ [ص:350]، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «قَضَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَنِي»

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے مجھے ادائیگی کر دی اور آپ ﷺنے مجھے زیادہ ادائیگی کی۔

قَضَانِي رَسُولُ اللَّهِ وَزَادَنِي ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، [ص:90] ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1324

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1325

1325 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْحَجَّ، فَامْتَلَأَتِ الْمَدِينَةُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَمَانِ الْحَجِّ، وَفِي حِينِ الْحَجِّ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ مِنْهَا، وَأَهَلَّ النَّاسُ مَعَهُ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓبیان کرتے ہیں:لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ نبی اکرم ﷺاس سال حج کے لیے تشریف لے جارہے ہیں، تو مدینہ منورہ لوگوں سے بھر گیا۔ نبی اکرم ﷺحج کے مخصوص موقع پر روانہ ہوئے جب آپﷺ"بیداء" کے مقام پر پہنچے، تو آپ ﷺنے وہاں سے تلبیہ پڑھنا شروع کیا آپ ﷺکے ساتھ لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔

«أُذِّنَ فِي النَّاسِ ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1325

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1326

1326 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ صَائِمًا حَتَّى إِذَا كَانَ بِكُرَاعِ الْغَمِيمِ رَفَعَ إِنَاءً، فَوَضَعَهُ عَلَى كَفِّهِ، وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ، فَحَبَسَ مَنْ بَيْنَ يَدَيْهِ، حَتَّى أَدْرَكَهُ مَنْ خَلْفَهُ، ثُمَّ شَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، ثُمَّ بَلَغَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّ نَاسًا صَامُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ»

حضرت جابر بن عبد الله ؓبیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺجب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے ،تو آپ ﷺنے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ ﷺ"کراع غمیم "کے مقام پر پہنچے، تو آپ ﷺنے ایک برتن بلند کیا آپ ﷺنے اسے ہتھیلی پر رکھا آپ ﷺاس وقت اپنی سواری پر سوار تھے آپ ﷺنے اپنے سے آگے والے افراد کو روک لیا یہاں تک کہ پیچھے والے لوگ بھی آپﷺتک آگئے۔ نبی اکرم ﷺنے اس برتن میں سے پی لیالوگ آپﷺکی طرف دیکھ رہے تھے اس کے بعد آپ ﷺکو پتہ چلا کہ کچھ لوگوں نے ابھی بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:وہ لوگ نافرمان ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1326

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1327

1327 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ [ص:351]، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تُرْقِبُوا وَلَا تُعْمِرُوا، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا أَوْ أَعْمَرَهُ فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں:"تم لوگ رقبیٰ کے طور پر کچھ نہ دو اور عمریٰ کے طور پرکوئی چیز نہ د و جوشخص رقبیٰ یا عمریٰ کے طور پرکوئی چیز دیتا ہے، تو اس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے"۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، [ص:162] ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1327

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1328

1328 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ صَالِحٌ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَى أَصْحَمَةَ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: جب نجاشی کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا:آج ایک نیک آدمی فوت ہوگیا ہے تم لوگ اٹھو اور "اصحمہ‘‘ کی نماز جنازہ ادا کرو۔

لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1328

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1329

1329 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَأَنْ لَا يُبَاعَ التَّمْرُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَأَنْ لَا يُبَاعَ إِلَّا بِالدِّينَارِ، أَوِ الدِّرْهَمِ، إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا» وَالْمُخَابَرَةِ: كَرْيُ الْأَرْضِ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبْعِ [ص:352]، وَالْمُحَاقَلَةُ: بَيْعُ السُّنْبُلِ بِالْحِنْطَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ "

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے مزابنہ، محا قلہ اور مخابرہ سے منع کیا ہے اور اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ کھجور کے پک کر تیار ہونے سے پہلے اسے فروخت کیا جائے اور یہ کہ اسے صرف دينار یا درہم کے عوض میں فروخت کیا جائے البتہ آپﷺنے عرایا کے بارے میں اجازت دی ہے۔ مخابرہ سے مراد یہ ہے کہ زمین کو ایک تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض میں کرایہ پر دیا جائے محا قلہ سے مراد یہ ہے کہ گندم کے کھیت میں موجود بالین کو فروخت کر دیا جائے مزابنہ سے مراد یہ ہے کھجور کے عوض میں درخت پرلگی ہوئی کھجور کو فروخت کر دیا جائے۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1329

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1330

1330 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا صَنَعْتُ الَّذِي صَنَعْتُ» ، قَالَ: «وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحِلُّوا» ، فَقَالُوا: حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْحِلُّ كُلُّ الْحِلِّ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں: ہم ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح مکہ گئے نبی اکرمﷺنے فرمایا: مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا وہ پہلے آجاتا ،تو میں وہ طرزعمل اختیار نہ کرتا ،جو میں نے اختیار کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے اپنے ساتھیوں کوحکم دیا کہ وہ احرام کھول دیں لوگوں نے عرض کی :کس حد تک ؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :مکمل طور پر احرام کھول دو۔ عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے۔

حِلُّ مَاذَا؟ ← «وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحِلُّوا» ← النَّبِيُّ «لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا صَنَعْتُ الَّذِي صَنَعْتُ» ← قَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ، ← جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1330

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1331

1331 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: زَنَى رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فَدَكٍ، فَكَتَبَ أَهْلُ فَدَكٍ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ، أَنْ سَلُوا مُحَمَّدًا عَنْ ذَلِكَ، فَإِنْ أَمَرَكُمْ بِالْجَلْدِ، فَخُذُوهُ عَنْهُ، وَإِنْ أَمَرَكُمْ بِالرَّجْمِ، فَلَا تَأْخُذُوهُ عَنْهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «أَرْسِلُوا إِلَيَّ أَعْلَمَ رَجُلَيْنِ فِيكُمْ» ، فَجَاءُوا بِرَجُلٍ أَعْوَرَ يُقَالُ لَهُ ابِنُ صُورِيَّا، وَآخَرَ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمَا أَعْلَمُ مَنْ قِبَلَكُمَا؟» [ص:353]، فَقَالَا: قَدْ نَحَّانَا قَوْمُنَا لِذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا: «أَلَيْسَ عِنْدَكُمَا التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ تَعَالَى؟» ، قَالَا: بَلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأُنْشِدُكُمْ بَالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ، وَأَنْجَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ، وَأَنْزَلَ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ مِنْ شَأْنِ الرَّجْمِ؟» ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا نُشِدْتُ بِمِثْلِهِ قَطُّ، ثُمَّ قَالَا: نَجِدُ تَرْدَادَ النَّظَرِ زَنْيَةً، وَالِاعْتِنَاقَ زَنْيَةً، وَالْقُبَلُ زَنْيَةً، فَإِذَا أَشْهَدَ أَرْبَعَةً أَنَّهُمْ رَأَوْهُ يُبِدِي وَيُعِيدُ كَمَا يَدْخُلُ الْمِيلُ فِي الْمِكْحَلَةِ، فَقَدْ وَجَبَ الرَّجْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ ذَاكَ فَأَمَرَ بِهِ» ، فَرُجِمَ، فَنَزَلَتْ: {فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ} الْآيَةَ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: فدک کے رہنے والے ایک شخص نے زنا کا ارتکاب کیا، تو فدک کے رہنے والے لوگوں نے مدینہ منورہ میں رہنے والے کچھ یہودیوں کو خط لکھا کہ تم لوگ حضرت محمدﷺسے اس بارے میں دریافت کرواگر وہ تمہیں کوڑے مارنے کا حکم دیں، تو تم اسے حاصل کر لینا اور اگر تمہیں سنگسار کرنے کا حکم دیں، تو تم اسے اختیار نہ کرنا ان لوگوں نے نبی اکرمﷺسے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا تم اپنے میں سے دو زیادہ علم رکھنے والے افراد کو میرے پاس بھجوا و،تو لوگ ایک کانے شخص کو لے کر آئے جس کا نام "صور یا" تھا اور ایک اور شخص کو لے کر آئے۔ نبی اکرم ﷺنے ان دونوں سے دریافت کیا: تم دونوں زیادہ علم رکھنے والے ہو؟ ان دونوں نے جواب دیا:ہماری قوم نے اسی لیے ہمیں آپ ﷺکے سامنے پیش کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے ان دونوں سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس تورات میں اللہ تعالیٰ کا حکم موجود نہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تو میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا کو چیر دیا تھا اور جس نے بادلوں کے ذریعے تم پر سایہ کیا تھااور تمہیں فرعون کے ساتھیوں سے نجات عطا کی تھی جس نے بنی اسرائیل پر من وسلویٰ نازل کیا تھا سنگسار کرنے کے بارے میں تم تورات میں کیا پاتے ہو ،تو ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: مجھے اس کی مانند قسم بھی نہیں دی گئی پھر ان دونوں نے جواب دیا: دوسری مرتبہ ڈالنا بھی زنا ہے، گلے لگانا بھی زنا ہے، بوسہ لینا بھی زنا ہے اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں کہ انہوں نے کسی شخص کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے یوں کہ جس طرح سلائی، سرمہ دانی میں داخل ہوتی ہے ،تو سنگسار کرنالازم ہوجاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: یہ وہی ہے۔پھر آپ ﷺکے حکم کے تحت اس شخص کو سنگسار کر دیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی:اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے درمیان فیصلہ دو،یاتم ان سے اعراض کرو ،اگر تم ان سے اعراض کرتے ہو، تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ دیتے ہو تو انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ دو۔‘‘

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1331

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1332

1332 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ} [المائدة: 41] ، «يَهُودُ الْمَدِينَةِ» ، {سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ} [المائدة: 41] «أَهْلُ فَدَكٍ» {لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ} [المائدة: 41] ، " أَهْلُ فَدَكٍ، يَقُولُونَ: إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا الْجَلْدَ فَخُذُوهُ، وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ، فَاحْذَرُوا الرَّجْمَ "

حضرت جابر بن عبداللہ ؓالله تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں:"جھوٹ کوغور سے سننے والے۔‘‘ اس سے مرادمدینہ منورہ کے یہودی ہیں۔"دوسری قوم کے افراد کی باتیں غور سے سننے والے ۔“اس سے مراداہل فدک ہیں۔"وہ تمہارے پاس اس وقت تک نہیں آئیں گے ،جب تک وہ کلمات کو ان کے مخصوص مقام سے تحریف نہیں کر دیتے۔“تو اس سے مراداہل فدک ہیں جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اگر وہ کوڑے لگانے کا حکم دیں ،تو اسے ان کی بات مان لینی چاہئے اور اگر نہ دیں، تو پھر سنگسار کرنے سے بچنا۔

الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1332

chevron_left Previous
1…161718…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter