Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مَالِكٍ الْجُشْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 907

907 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْجُشْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرِ وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَرَبُّ إِبِلٍ أَنْتَ، أَوْ رَبُّ غَنَمٍ؟» ، وَكَانَ يُعْرَفُ رَبُّ الْإِبِلِ مِنْ رَبِّ الْغَنَمِ بِهَيْئَتِهِ، فَقُلْتُ: مِنْ كُلٍّ قَدْ أَتَانِيَ اللَّهُ فَأَكْثَرَ، فَقَالَ: «أَلَسْتَ تُنْتِجُهَا وَافِيَهً أَعْيُنُهَا وَآذَانُهَا فَتَجْدَعُ هَذِهِ وَتَقُولُ صُرْمٌ، وَتُهِنُ هَذِهِ فَتَقُولُ بَحِيرَةٌ، وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ، وَمُوسَاهُ أَحَدُّ، لَوْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَكَ بِهَا صَرْمَاءَ فَعَلَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلْامَ تَدْعُو؟ قَالَ: «لَا شَيْءَ إِلَّا اللَّهَ وَالرَّحِمَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بُعِثْتَ بِهِ؟ قَالَ: " أَتَتْنِي رِسَالَةٌ مِنْ رَبِّي فَضِقْتُ بِهَا ذَرْعًا، وَخِفْتُ أَنْ يُكَذِّبَنِي قَوْمِي، فَقِيلَ لِي: لَتَفْعَلَنَّ أَوْ لَنَفْعَلَنَّ كَذَا، وَكَذَا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي، فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهِ، وَلَا أَصِلَهُ، قَالَ: «كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ» [ص:134]، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ أَحَدُهُمَا لَا يَخُونُكَ، وَلَا يَكْتُمُكَ حَدِيثًا، وَلَا يَكْذِبُكَ، وَالْآخَرُ، يَكْذِبُكَ وَيَكْتُمُكَ، وَيْخُونُكَ، أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ» ؟، قُلْتُ: الَّذِي لَا يَكْذِبُنِي، وَلَا يَخُونُنِي، وَلَا يَكْتُمُنِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ»

عوف بن مالک جشمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺنے اوپر سے نیچے تک میرا جائزہ لیا پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا: کیا تم اونٹوں کے مالک ہو؟ کیا تم بکریوں کے مالک ہو؟(راوی کہتے ہیں) اونٹوں کا اور بکریوں کا مالک اپنی مخصوص ہیئت کی وجہ سے شناخت ہو جاتا تھا۔ میں نے عرض کی : مجھے الله تعالیٰ نے ہر چیز عطا کی ہے اور بکثرت عطا کی ہے، تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: کیا اونٹنی اپنے ہاں (پیدا ہونے والے بچے کو)سلامت آنکھوں اور کانوں کے ساتھ جنم نہیں دیتی ہے؟ پھر کسی کا کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو یہ ’’صر ماء "ہے ،کوئی دوسری کمزور ہو جاتی ہے ،تو تم کہتے ہویہ "بحیرہ"ہے۔ تو الله تعالیٰ کا حکم زیادہ پختہ اور اس کی تلقین زبردست ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے کان کٹا ہواہی پیدا کرسکتا تھا۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا: یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ میں نے عرض کی:یارسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺکوکون سے احکام کے ساتھ معبوث کیا گیا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میرے پروردگار کی طرف سے رسالت میری طرف آئی ہے، تو مجھے اس کی وجہ سے مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں میری قوم مجھے جھٹلا نہ دے تو مجھ سے یہ کہا گیا:یا تو آپﷺایسا ،ایسا کریں گے ورنہ پھر ہم یہ ،یہ کر دیں گے۔ میں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ) ! میراچچازاد میرے پاس آتا ہے اور پھر میں قسم اٹھالیتا ہوں کہ میں اسے کچھ نہیں دوں گا اس کے ساتھ صلہ رحمی نہیں کروں گا ،تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تم اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے ،تمہارے دو غلام ہوں ان میں سے ایک تمہارے ساتھ خیانت نہ کرتا ہو اور تم سے کوئی بات نہ چھپاتا ہو اور تمہارے ساتھ جھوٹ نہ بولتا ہوجبکہ دوسر اتمہارے ساتھ جھوٹ بھی بولتاہو تم سے باتیں چھپانا بھی ہو اور تمہارے ساتھ خیانت بھی کرتا ہو، تو ان دونوں میں سے کون تمہارے نزدیک پسندیدہ ہوگا؟ میں نے عرض کی جو میرے ساتھ جھوٹ نہ بولے: میرے ساتھ خیانت نہ کرے اور مجھ سے کوئی بات نہ چھپائے،تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:"اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تم لوگ بھی اسی طرح ہو"۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرِ وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ ← أَبِيهِ ← عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْجُشَمِيِّ ← أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 907

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 908

908 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَزِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ بِالرَّقَّةِ، فَأَخَذَ بِيَدِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ فَأَقَامَنِي عَلَى رَجُلٍ بِالرَّقَّةِ، فَقَالَ: زَعَمَ هَذَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ» وَاسْمُهُ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ

ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں: میں اور زیاد بن ابوجعد"رقہ" میں تھے۔ زیاد بن ابو جعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور’’رقہ" میں موجود ایک صاحب کے پاس لا کے مجھے کھڑا کر دیا۔ انہوں نے بتایا: یہ صاحب یہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ایک شخص کوصف کے پیچھے تنہا کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺنے اسے دوبارہ نماز ادا کرنے کی ہدایت کی۔ ان صاحب کا نام حضرت وابصہ بن معبدؓ تھا۔

هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 908

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 909

909 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَرَأَيْتُهُ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ أَضْجَعَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَبَسَطَهَا، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلَقَةً وَدَعَا هَكَذَا» وَنَصَبَ الْحُمَيْدِيُّ السَّبَّابَةَ، قَالَ وَائِلٌ: «ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فِي الشِّتَاءِ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ»

حضرت وائل بن حجر حضرمیؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکود یکھاجب آپ ﷺنماز کا آغاز کرتے تھے ،تو رفع یدین کرتے تھے جب رکوع میں جاتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے اس وقت بھی رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے آپ ﷺکو دیکھا کہ جب آپ ﷺنماز کے دوران بیٹھتے تھے، تو آپ ﷺاپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑ ارکھتے تھے۔آپ ﷺاپنا بایاں ہاتھ بائیں زانوں پر رکھتے تھے اور اسے کھول کے رکھتے تھے، جبکہ دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھتے تھے، جس میں آپ ﷺدوانگلیوں کو بند کر کے ان کا حلقہ بناتے تھے اور اس طرح دعامانگتے تھے۔ امام حمیدی نے شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بتایا۔حضرت وائل بن حجرؓبیان کرتے ہیں:میں پھر سردی کے موسم میں وہاں آیا، تو میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ لوگ اپنی چادروں کے اندر ہی رفع یدین کررہے تھے۔

وائل بن حجر الحضرمي ← أَبِي ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 909

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 910

910 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَضْمَضَ، ثُمَّ مَجَّهُ فِي الدَّلْوِ مِسِكًا، أَوْ قَالَ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ، وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ»

حضرت وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں زم زم کا ڈول پیش کیا گیا آپ ﷺنے اسے پیا پھر آپﷺنے وضو کیا پھرکلی کی پھر آپ ﷺنے اس کلی کواس ڈول میں انڈیل دیا تو وہ مشک کی مانند تھایا اس سے بھی زیادہ پاکیزہ تھا۔ تاہم آپﷺنے ناک کوڈول سے باہر صاف کیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 910

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 911

911 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: خَذَفَ قَرَابَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عِنْدَهُ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، وَقَالَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، وَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا، وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا، وَإِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ، وَتَكْسَرُ السِّنَّ " فَعَادَ فَخَذَفَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ: «أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْهَا وَتَعُودُ، لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا»

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں:حضرت عبد الله بن مغفل ؓکے کسی قریبی عزیز نے کسی جانور کوکنکری ماری ان کی موجودگی میں ایسا ہوا تو حضرت عبداللہؓ نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا اور یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺنے اس سے منع کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: یہ (کنکری) شکار نہیں کرتی ہے، دشمن کوقتل نہیں کرتی ہے ،یہ صرف آنکھ پھوڑتی ہے اور دانت توڑتی ہے۔اس شخص نے دوبارہ یہ حرکت کی اور کنکری ماری تو حضرت عبد الله بن مغفل ؓنے اس سے کہا: میں نے تمہیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺنے ایسا کرنے سے منع کیا ہے اور تم نے دوبارہ یہ حرکت کی ہے۔ میں تمہارے ساتھ بھی کلام نہیں کروں گا۔

خَذَفَ قَرَابَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عِنْدَهُ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، وَقَالَ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 911

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 912

912 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: «كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلَامًا، فَنَظَرُوا إِلَى مُؤْتَزَرِي، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ»

حضرت عطیہ قرظی ؓبیان کرتے ہیں: جس دن حضرت سعد بن معاذ ؓ کو بنو قریظہ کے بارے میں ثالث مقررکیا گیا تھا اس وقت میں لڑکا تھا۔ لوگوں نے میرے زیرناف حصے کا جائزہ لیا ہاں زیر ناف بال نہیں اگے ہوئے تھے اسی وجہ سے میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 912

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 913

913 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، يَقُولُ: «كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلَامًا، فَشَكُّوا فِي، فَنَظَرُوا إِلَيَّ فَلَمْ يَجِدُوا الْمَواسِيَّ جَرَتْ عَلَيَّ فَاسْتُبْقِيتُ»

مجاہد بیان کرتے ہیں: میں نے کوفہ کی مسجد میں ایک صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا: جس دن حضرت سعد بن معاذؓ کو بنوقریظہ کے بارے میں ثالث مقرر کیا گیا تھا اس دن میں کم سن لڑکا تھا۔ ان لوگوں کو میرے (بالغ ہونے کے بارے میں)شک ہوا تو انہوں نے میراجائزہ لیا انہیں میرے زیرناف بال محسوس نہیں ہوئے اسی وجہ سے میں باقی رہ گیا۔

رَجُلًا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 913

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 914

914 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: مَشَيْتُ مَعَ أَبِي جُحَيْفَةَ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: " هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ "

ابن ابوخالد بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو حجیفہؓ کے ساتھ جمعہ کے لیے جارہاتھا میں نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرمﷺکی زیارت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ حضرت امام حسن بن علیؓ نبی اکرمﷺکے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں۔

نَعَمْ، وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ ← مَشَيْتُ مَعَ أَبِي جُحَيْفَةَ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 914

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 915

915 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَمِسْعَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا آكُلُ مُتَّكِئًا»

حضرت ابوحجیفہ ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ہوں۔

أَبِي جُحَيْفَةَ ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَمِسْعَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 915

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 916

916 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ مِغْوَلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ بِلَالٌ بِفَضْلِ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَأَصَبْتُ مِنْهُ شَيْئًا وَلَمْ آلُ، قَالَ: وَنَصَبَ بِلَالٌ عَنَزَةً، «فَصَلَّى إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ الْكَلْبَ، وَالْمَرْأَةَ، وَالْحِمَارَ، يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ»

عون بن ابوجحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت بلالؓ نبی اکرم ﷺکے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے۔ راوی کہتے ہیں،:لوگ تیزی سے ان کی طرف لپکے۔ اس میں سے کچھ پانی مجھے بھی ملا۔ میں نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت بلال ؓنے نیز ہ گاڑنبی اکرم ﷺنے اس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی، جبکہ کتے، خواتین ، گدھے اس نیزے کے دوسری طرف سے گزر رہے تھے۔

فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَأَصَبْتُ مِنْهُ شَيْئًا وَلَمْ آلُ، ← خَرَجَ بِلَالٌ بِفَضْلِ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 916

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 917

917 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يَقُولُ: ثني دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِمِائَةِ رَاكِبٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ: «يَا عُمْرُ اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُمْ، وَأَعْطِهِمْ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا آصِعٍ مِنْ تَمْرٍ مَا تَقِيظُ عِيَالِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: اسْمَعْ وَأَطِعْ، فَقَالَ عُمْرُ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ، قَالَ: فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى أَتَى عِلْيَةً لَهُ، فَأَخْرَجَ مِفْتَاحًا مِنْ حُجُزَتِهِ فَفَتَحَهَا، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْخُلُوا فَدَخَلُوا، وَكُنْتُ آخِرَ الْقَوْمِ دُخُولًا، فَأَخَذْتُ وَأَخَذْتُ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا مِثْلُ الْفَصِيلِ مِنَ التَّمْرِ

حضرت دکین بن سعیدمزنی ؓبیان کرتے ہیں:ہم400 سواروں کے ہمراہ نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے آپﷺسے کھانے کے لیے مانگا، تو آپ ﷺنے فرمایا:اے عمر!جا وانہیں کھانا کھلاو اورانہیں عطیات دو۔ انہوں نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)! میرے پاس تو کھجوروں کے چند صاع ہیں۔ جو صرف میرے گھر والوں کے اس موسم کی خوراک کے لیے کفایت کریں گے۔ حضرت ابو بکرؓ بولے :تم اطاعت وفرمانبرداری کروتو حضرت عمر ؓنے عرض کی:میں اطاعت وفرمانبرداری کرتا ہوں۔راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمرؓگئے اور اپنے (اناج کے کمرے کے پاس آے) انہوں نے اپنے تہبند باندھنے کی جگہ سے چابی نکالی اس کے دروازے کو کھولا اور حاضرین سے کہا :تم لوگ اندر آو۔ میں اندر داخل ہونے والا سب سے آخری فردتھا۔ میں نے بھی وہاں سے خوراک حاصل کی، میں نے توجہ کی، تو وہاں اتنی کھجوریں تھیں ،جتنا اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے، جس سے دودھ چھڑایا گیا ہو۔

«يَا عُمَرُ، اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُمْ وَأَعْطِهِمْ»، ← أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ فِي أَرْبَعِمِائَةِ رَاكِبٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، ← دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، ← قَيْسًا ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 917

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 918

918 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأَتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَنْ كَتَمَنَا خَيْطًا أَوْ مِخْيَطًا فَمَا سِوَاهُ، فَهُوَ غُلُولٌ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ قَصِيرٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ مِنِّي عَمَلَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا ذَاكَ؟» ، قَالَ: الَّذِي قُلتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا أَقُولُ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى»

و حضرت عدی بن عمیرہ کندیؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "اے لوگو! تم میں سے جس شخص کو ہم کسی کام کے لیے اہلکار مقرر کریں تو وہ تھوڑی یازیادہ جو چیز بھی ہو اسے لے کر آئے۔ جوشخص دھاگے یا سوئی یا اس کے علاوہ جس چیز کوبھی ہم سے چھپائے گا تویہ خیانت ہوگی، جسےساتھ لے کر وہ قیامت کے دن آئے گا"۔ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک سیاہ فام چھوٹے قد کا ایک شخص کھڑا ہوا، وہ منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ اس نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! آپ ﷺنے مجھے جس کام کے لیے اہلکار مقرر کیا تھا میں اس سے دست بردار ہوتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے عرض کی آپ ﷺنے جویہ فرمایا ہے ،اس کی وجہ سے ،تو نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا: میں اب بھی یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم تم میں سے جس کسی کو جس کام کے لیے اہلکار مقرر کریں، تو وہ تھوڑی یا زیادہ(ہر) چیز کو لے آئے۔ جواسے دیا جائے اسے حاصل کر لے اور جس سے اسے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ ← قَيْسًا ← إِسْمَاعِيلُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 918

chevron_left Previous
1…939495…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter